
النھج السوی فی معنیٰ المولیٰ والولی
کتاب کا نام: النھج السوی فی معنیٰ المولیٰ والولی
موضوع:
مصنف: علامہ شیخ محسن علی نجفی قدس سره
ناشر: جامعہ الکوثر اسلام آباد
سال اشاعت:
زبان: عربی
اس کتاب میں حدیث غدیر میں لفظ مذکور مولیٰ اور لفظ ولی پر حاصل بحث کی گئی ہے۔
یہ کتاب مفسر قرآن علامہ شیخ محسن علی نجفیؒ کا عظیم اور اولین قلمی شاہکار ہے جسے آپ نے نجف اشرف میں طالبعلمی کے ابتدائی ایام میں مکمل کیا۔ بہت جلد ی اس کتاب نے علمی حلقوں میں مقبولیت حاصل کر لی۔ جناب علامہ سید مرتضیٰ رضوی اور جناب علامہ آفتاب حسین جوادی نے اس کی تحقیق و تخریج کا کام بھی انجام دیا ہے۔اب تک یہ کتاب تین مرتبہ زیور طبع سے آراستہ ہوکر شائع ہوچکی ہے۔ النھج السوی کی اہمیت و افادیت کے پیش نظر فارسی میں اس کے ترجمے کی ضرورت محسوس کی گئی۔یہ کام بھی محقق سید مرتضیٰ رضوی کے ہاتھوں پایہ تکمیل کو پہنچا جو فارسی میں ”سبز راہ آسمان“ کے نام سے شائع اور منصہ شہود پر آیا ہے۔ دیگر کتب کے برخلاف یہ کتاب دو طرح سے بالکل ممتاز اور منفرد ہے۔
ایک یہ کہ مصنف وہ پہلے پاکستانی طالبعلم ہیں جنہوں نے حوزہ علمیہ نجف میں نہایت سرعت کے ساتھ عربی زبان میں تالیف کا کام کیا۔ دوسرا یہ کہ اس کا موضوع بالکل نیا تھا جس پر چودہ صدیوں میں کوئی الگ رسالہ یا کتاب منظر عام پر نہیں آیا۔
کتاب کی وجہ تالیف:
اس موضوع پر خامہ فرسائی کی درج ذیل وجوہات ہوسکتی ہیں۔
1۔ موضوع کی اہمیت و ضرورت: اس بارے میں مصنف لکھتے ہیں: میں نے ایک ایسے موضوع کے بارے میں سوچ بچار کیا جو سب سے زیادہ اہمیت کا حامل ہو کیونکہ ہر موضوع کی اہمیت اس سے حاصل ہونے والے فائدے کے حساب سے معلوم ہوتی ہے ۔میرے نزدیک لفظ مولیٰ اور ولی کے معنیٰ سب سے بڑھ کر اہم ٹھہرے کیونکہ ان دو الفاظ کے معانی ولایت عظمیٰ اور امامت کبریٰ پر نص کو ثابت کرتے ہیں۔
2۔ تاویلات کا جواب: مصنف جب اس نتیجے پر پہنچے کہ لوگوں کے لیے حدیث غدیر کے پیغمبر اکرم] سے صادر ہونے کو ماننا ضروری ہوا تو انہوں نے اپنے مفاد کی خاطر اس میں تاویلات شروع کریں انہوں نے اس کے معنی میں تصرف کرنا چاہا تو حق عیاں کرنے کے لیے قلم مصنف نے آزمائی کی حاجت محسوس کی۔
3۔ آسان اور معیاری الفاظ کا استعمال: کسی بھی تحریر کی جاذبیت میں بنیادی کردار الفاظ کا ہی ہوتا ہے ۔مسودات میں اجنبی اور مشکل لفظوں کا چناؤ قاری کی طبیعت پر گراں گزرتا ہے جس کے نتیجے میں تحریر اپنے مقاصد کھو دیتی ہے۔ النھج السوی میں الفاظ کی روانی کے ساتھ سہل اور عمدہ الفاظ کا انتخاب کیا گیا ہے۔ اس کتاب کا یہ اعزاز ہے کہ آقائے بزرگ طہرانی نے اس پر تقریظ رقم کی ہے جس میں وہ اس کتاب کی اہمیت و افادیت کو اجاگر کرتے ہوئےرقمطراز ہیں:
”میں نے اس عمدہ اور نفیس کتاب کی سرسری طور پر ورق گردانی کی جبکہ میری نظر کمزور ہے، مطالعہ باعث مشقت ہے۔ لیکن ان سب مشکلوں کے باوجود کتاب میں الفاظ کی روانی، مطالب کے وضوح اور قلم کی صفائی کا مشاہدہ کرکے مجھے ذرہ برابر تھکاوٹ یا اکتاہٹ محسوس نہیں ہوئی۔“
یہ کتاب بنیادی طور پر لفظ مولیٰ اور ولی کے معنی کے لغوی بحث پر مشتمل ہے کتاب میں ان دونوں الفاظ کے کلام عرب میں حقیقی اور متبادر معانی کو بیان کیا گیا۔ جن پر ولایت امیر المؤمنینG پر استدلال منحصر ہے۔ کتاب میں بحث اس چیز کے بارے میں ہے کہ یہاں مولیٰ، اولیٰ بالتصرف کے معنیٰ میں ہے۔ دوسرا لفظ مولیٰ مشترک لفظی نہیں بلکہ مشترک معنوی ہے اور بالفرض اگر مشترک لفظی تسلیم کر بھی لیا جائے تو اس سے مراد وہی اولیٰ بالتصرف ہوگا اس پر بیس قرائن کو پیش کیا گیا ہے۔مصنف اپنے مدعا پر تفصیل سے استدلال کرتے ہیں آپ جگہ جگہ شواہد کے طور پر دسیوں آیات، اقوال،اشعار عرب اور احادیث نقل کرتے ہوئے تفصیل سے جوابات دیتے ہیں۔بعض جگہ تو منطقی اور عقلی استدلال کے بہترین نمونے بھی دیکھنے کو ملتے ہیں۔ کتاب کے فارسی مترجم سید مرتضیٰ رضوی اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے لکھتے ہیں:”میں مکمل یقین و اطمینان سے کہتا ہوں کہ مولیٰ و ولی کے معنیٰ کوصحیح بیان کرنے کے لئے اسلام کی پوری تاریخ میں جتنی کتب لکھی گئی ہیں یہ ان میں سے بہترین کتاب ہے۔ اس میں مخالفین کے نظریات اور آراء کو روشن دلائل اور واضح براہین کے ساتھ رد کیا گیا ہے۔“ علاوہ ازیں یہ کتاب مختلف تحقیقی مجلات مثلاً العقیدہ،تراثنااور تحقیقی ویب پر شائع ہونے والے آرٹیکلز میں مرجع و مصدر کی حیثیت رکھتی ہے۔




