تصانیف و تالیفات

بلاغ القرآن

کتاب کا نام: بلاغ القرآن
موضوع: قرآن ترجمہ و مختصر تفسیر
مترجم: مفسر قرآن علامہ شیخ محسن علی نجفی مد ظلہ العالی
ناشر: بلاغ القرآن اسلام آباد
سال اشاعت: ۲۰۰۰
زبان: اردو

حجۃ الاسلام والمسلمین علامہ شیخ محسن علی نجفی دام عزہ کی ساری زندگی دین مبین اسلام کی سربلندی اور مکتب اہلبیت کی ترویج میں گزری آپ متعدد کتابوں کے مؤلف ہیں اور آپ کی ان علمی خدمات کو تمام عالم اسلام کے علم دوست افراد انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ بطور خاص آپ نے قرآن اور قرانیات پر خاص توجہ مرکوز رکھی قرآن کریم کا اردو زبان میں ایک شاہکار ترجمہ کر کے آپ نے اردو بولنے والے افراد پر ایک عظیم احسان کیا ہے۔ یہ بات روز روشن کی طرح آشکار ہے کہ ’’ترجمہ‘‘ انتہائی مشکل کام ہے اور بطور خاص علمی کتابوں کا ترجمہ تو عام افراد کے بس کی بات ہی نہیں ہے قرآن کریم جو اللہ کا کلام ہے ایک خاص اسلوب اور بلند و بالا مفاہیم پر مشمتل ایسی عظم کتاب ہے کہ جو آج ہی معجزہ خالدہ کے طور پر اپنی بلندی و رفعت پر قائم و دائم ہے۔

واضح رہے کہ قرآن کریم کا ترجمہ کرنا ہر کس و نا کس کے بس کی بات نہیں چونکہ اس کے لیے کسی علوم پر مہارت اور دسترس کا ہونا ضروری ہے ادبیات عرب سے مکمل آشنائی، عربی زبان پر تسلط، قلم میں روانی کے ساتھ ساتھ خداوند متعال کی عنایات خاصہ انسان کے شامل حال ہونی چاہیں تب جا کر انسان اس کام میں کامیابی سے ہمکنار ہو سکتا ہے۔ عام طور پر اردو زبان میں موجود ترجمے کئی مشکلات سے دو چار نظر آتے ہیں کہ کبھی تو مترجم کا ترجمے کے دوران ہدف اور مقصد یہ ہوتا ہے کہ اردو کی ادبی جہات کو مدنظر رکھے اور ساری توانائی اسی مقصد کے حصول پر ہی صرف کرنا اور اسکا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ غیر محسوس طور پر قرآن کے متن اور پیغام سے دور ہوجاتا ہے جبکہ ادبی جہات کی حفاظت کے ساتھ ساتھ متن قرآن اور پیغام قرآن سے جڑا رہنا انتہائی ضروری ہے چونکہ ترجمہ میں اصل مقصد یہی ہوتا ہے کہ خدا کے کلام کو کسی بھی کمی پیشی کے بغیر قاری تک منتقل کیا جائےاور کہیں اس مشکل کا ترجموں میں مشاہدہ کیا جاتا ہے کہ مترجم تحت اللفظی ترجمہ کرنا ہے کہ اس کے نتیجے میں قاری قرآن کے پیغام کو بھیجنے میں دشواری محسوس کرتا ہے۔

اس ترجمے کی خاص بات یہی ہے کہ ایک طرف سے تو ادبی جہات کو تاحد امکان مد نظر رکھا گیا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ متن قرآن اور پیغام قرآن کو دقیق انداز میں منتقل کرنے کی پوری کوشش کی گئی ہے اور دوسری طرف سے قاری کو تحت اللفظی ترجمے کے شکنجے میں قید نہیں کیا گیا ہے اور یہ دونوں باتیں اس ترجمے کے حسن کو چار چاند لگاتے ہیں۔ اس ترجمے کی ایک خاص بات ہر صفحے کے حاشیہ پر تفسیر نکات کا ذکر کیا جاتا ہے ہر صفحہ پر ترجمے سے متعلقہ تفسیری مطالب کو خلاصہ کی صورت میں پیش کیا گیا ہے بہت ہی کم عرصے میں اس ترجمے کے متعدد ایڈیشن کا چھپنا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ یہ ترجمہ علمی و عوامی حلقوں میں یکساں مقبول ہونے کے ساتھ مختلف مکاتب فکر کے نزدیک انتہائی قابل اعتماد ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button