تصانیف و تالیفات

علی امام بنص ذاتہ وخصائص صفاتہ

جب کوئی انسان قرآن و احادیث کے دلائل کو تسلیم نہ کرے یا پھر اس کے بارے میں اس کے شکوک و شبہات کا ازالہ نہ ہو سکے تو قرآن و حدیث کے علاوہ ایک دوسرا راستہ بھی ہے۔ گویا مؤلف نے اس دوسرے راستے کو واضح دلائل کے نور سے ضیاء بخشتے ہوئے متلاشیان حق کے لئے اسے کھول دیا ہے، تاکہ وہ خود اپنی فکر کو بروئے کار لا کر اپنی منزل مقصود کو پا لے۔ اس مقصد کے لئے مولف نے علی امام بنص صفاتہ و خصائص ذاتہ“ کے نام سے یہ کتاب تحریر فرمائی۔
اس کتاب کی خصوصیات
1۔ کتاب خالص علمی و تحقیقی انداز میں لکھی گئی ہے، اس میں تحقیق کے اصولوں کا مکمل طور پر لحاظ رکھا گیا ہے۔ اس کتاب کو جدید ترین روش تحقیق اپناتے ہوئے مرتب کیا گیا ہے۔
2۔ کتاب میں دلائل کا سہارا لیتے ہوئے مد مقابل کو دشمن سمجھنے کی بجائے دینی بھائی کہا گیا ہے۔ ایک ایسا دینی بھائی جس کا حق یہ ہے کہ حق بات واضح طور پر اس تک پہنچائی جائے نیز اسے لاجواب و بے بس کرنے کی بجائے قائل کیا جائے اور اس کے عقیدے کی توہین کرنے کی بجائے اسے درست عقیدے تک رسائی کا موقع دیا جائے۔
3۔ سنہ 2020 میں محسن ملت کا یہ علمی تحفہ موسسۃ الکوثر نجف اشرف کی کوششوں سے حرم مطہر حضرت باب الحوائج ابی الفضل العباسG کے پرنٹنگ پریس دار الکفیل سے چھپ کر منظر عام پر آیا۔
4۔ یہ کتاب چونکہ جدلی انداز میں نہیں لکھی گئی اس لئے دوسروں کے نظریات پر کسی قسم کی بحث نہیں کی گئی ہے بلکہ جو مدعا تھا اسے ٹھوس علمی بنیادوں پر ثابت کرتے ہوئے قاری کو یہ موقع دیا گیا ہے کہ وہ خود غور و فکر کرے اور حق و حقیقت تک پہنچنے کی کوشش کرے۔
5۔ جو نام مؤلف7 نے اپنی اس کتاب کے لئے چنا وہ نہایت پُرمعنیٰ اور متاثر کن ہے۔ نص صفات“ کی تعبیر اس سے پہلے کہیں نہیں ملتی۔ یہ مولف 7 کے بہترین ذوق علمی اور خوبصورت سلیقہ انتخاب کی دلیل ہے۔
6۔ یہ کتاب مولائے متقیان کے فضائل و مناقب پر لکھی گئی ہے، تاہم ایک خاص زاویے سے لکھی گئی ہے۔یہ امام نسائی کی خصائصِ علیG کی طرح صرف امام علیG کی خصوصی صفات کے بیان پر نہیں لکھی گئی ہے بلکہ ان صفات کے ذریعہ خدا اور رسول کی حکمت کو بھی عیاں کرتی ہے کہ وہ اپنے نبی] کے ذریعہ کس طرح امام علیG کی تربیت کا خاص انتظام فرماتا ہے کیونکہ رسول خدا] کے بعد تمام انسانوں کے امام اور قائد علیG ہی تھے۔
7۔ 407 صفحوں کی اس کتاب میں مصنف نے مسلمانوں کے ہاں مستند و معتبر 196 سے زائد کتب حدیث و تاریخ و سیرت سے حوالے دئے ہیں۔
8۔ کتاب کا بنیادی نکتہ یہی ہے کہ امام و رہنما کی جو بھی شرعی و عقلی شرائط ہوں ان تمام شرائط پر اگر کوئی ہستی مکمل طور پر پورا اترتی نظر آتی ہے تو وہ علی ابن ابی طالبG کی ذات والا صفات ہے۔
9۔ کتاب کے نام میں نص صفاتہ “ کی تعبیر بھی بہت دلچسپ اور معنی خیز ہے۔ دلائل کی دنیا میں نص ظاہر کے مقابلے میں آتا ہے۔ ظاہر کی تاویل وغیرہ کی جا سکتی ہے مگر نص اسے کہتے ہیں کہ جس میں تاویل کی گنجائش نہیں ہوتی کیونکہ اس میں کوئی اور احتمال موجود ہی نہ ہوتا۔ نص صفاتہ“ كہنے کا مطلب یہ ہے کہ تم خود علی کی ذات کو دیکھو، اسکی صفات کا مشاہدہ کرو، علی کی ذات اور صفات ایسی ہیں کہ ان میں کسی قسم کی تاویل توجیہ کا امکان ہی نہیں ہے۔
10۔ نص تکوینی: اسی طرح مولف نے ایک خاص تعبیر اپنی کتاب میں استعمال کی ہے جسے آپ سے پہلے شاید کسی نے اس طرح استعمال کیا ہو، اور وہ ہے نص تکوینی چنانچہ کتاب کے مقدمے میں آپ فرماتے ہیں: ھذا جھد متواضع لالقاء الضوء علی مسئلۃ الامامۃ عن طریق النص التکوینی اضافۃ علی النص التشریعی“ یہ کتاب نص تشریعی کے علاوہ نص تکوینی کی مدد سے مسئلہ امامت کو روشن کرنے کی ایک ادنی سی کوشش ہے۔
11۔ در اصل تشریع کے مقابلے میں تکوین کی اصطلاح معروف ہے۔ یعنی شریعت کے معاملات میں جو کچھ شارع مقدس نے ارشاد فرمایا ہے وہ تشریع کہلاتا ہے جبکہ بطور خالق جو کچھ خدا نے خلق فرما یا ہو وہ تکوین کہلاتا ہے۔ نص تشریعی کو آیات و روایات کے لئے استعمال سب نے کیا ہے مگر مولائے کائنات کے حق امامت کو ثابت کرنے کے لئے مؤلف نے خود آپG کی ذات مبارکہ کو اس طریقے سے پیش کیا ہے کہ اگرقرآن و سنت سے کوئی دلیل نہ ہو تو بھی خود ذات علیG کو دیکھ کر یقین آ جائے کہ رسول خدا کے بعد اگر کوئی خلائق کا امام ہو سکتا ہے تو وہ علیG کی ذات ہے۔اس طرز استدلال کو مولف علیہ الرحمہ نے نص تکوینی کے نام سے یاد کیا ہے۔
12۔ یہ کتاب عربی زبان میں لکھی گئی ہے اور اس کا اردو میں ترجمہ بھی ہو چکا ہے، البتہ اردو ترجمہ ابھی زیور طبع سے آراستہ نہیں ہوا۔ ان شاء اللہ بہت جلد یہ قیمتی سرمایہ صاحبان علم و معرفت اور موالیان حیدر کرار کے ذوق معرفت کی تسکین اور عشق مولا کو مہمیز کرنے کے لئے دستیاب ہوگا۔
13۔ یہ کتاب مولف علیہ الرحمہ کی اس حکمت عملی کا نتیجہ ہے کہ اپنے مقابل کے سامنے ہمیشہ دفاعی پوزیشن اختیار نہ کرو کہ وہ اعتراض کرتا رہے اور تم ہمیشہ جواب دیتے رہو، بلکہ کوشش کرو کہ تم خود حملہ کرنے کی پوزیشن میں ہو۔ تم سوال کرو اور اسے جواب دینے کا موقع دو۔ مکتب اہل بیت Dکا ماننے والا کسی بھی قسم کا معذرت خواہانہ رویہ اختیار کرنے پر مجبور نہیں ہے۔ معذرت خواہانہ رویہ تو ان لوگوں کو اپنانا چاہئے جنہوں نے ثقلین سے تمسک نہیں کیا اور جو درِ اہل بیت Dسے دور ہو گئے ہیں۔

ڈاؤن لوڈ کریں

آن لائن پڑھیں

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button