دار القرآن الکریم
کسی بھی قوم کی ترقی کا راز اس کی علمی و فکری بالیدگی میں پوشیدہ ہے، اور اسلامی دنیا میں یہ بالیدگی قرآن مجید کے علم اور اس کی صحیح تفہیم کے ذریعے ممکن ہے۔ محسن ملت آیت اللہ محسن علی نجفی7 نے قرآن کے علوم کی ترویج اور اس کی صحیح تفہیم کے لیے دار القرآن کے ذریعے جو خدمات انجام دیں، وہ علمی میدان میں ایک سنگ میل ثابت ہوئیں۔ ادارہ دار القرآن کا قیام قرآن کی تفسیر اور ترجمہ کی نشر و اشاعت کے لیے ایک اہم ادارہ ثابت ہوا۔
بلاغ القرآن
محسن ملت7 نے ترجمہ ”بلاغ القرآن“ اور ”الکوثر فی تفسیر القرآن“ کی اشاعت کے آغاز میں ایک مفصل مقدمہ تحریر فرمایا۔ جس میں قرآن کی تدوین، وحی کی حقیقت، معجزات، جمع قرآن، نسخ اور مختلف علوم قرآن جیسے اہم موضوعات پر روشنی ڈالی۔ آپ کا یہ مقدمہ علمی حلقوں میں بڑی پذیرائی کا حامل ہے کیونکہ آپ نے قرآن کی پیچیدگیوں کو سادہ اور واضح انداز میں پیش کیا تاکہ قارئین قرآن کی گہرائی تک پہنچ سکیں۔ ”بلاغ القرآن“ آپ کا ایک جامع ترجمہ ہے، جو اپنی سادہ، عام فہم اور روان زبان کی بدولت بہت مقبول ہوا۔ اس ترجمے کی اشاعت کی کامیابی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ دار القرآن نے اس کی چودہ بار اشاعت کے ذریعے ہزاروں نسخے عوام تک پہنچائے، جہاں حواشی اور تشریحات آیات کے پس منظر کو واضح کرنے اور آیات قرآنی کے صحیح سمجھنے میں مدد فراہم کرتی ہیں۔ اس ترجمہ کی دیگر خصوصیات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس کے آخر میں مختلف طرح کی آیات کی موضوع بندی بھی کی گئی ہے تاکہ قارئین کرام کے موضوعاتی مطالعہ میں آسانی ہو۔
الکوثر فی تفسیر القرآن
محسن ملت مفسر قرآن آیت اللہ محسن علی نجفی 7 ”الکوثر فی تفسیر القرآن“ کی تکمیل پر خود رقم طرز ہیں کہ:
وانى لارجو ان يكون هذا الاتفاق ای تفاق الفراغ من كتابة هذا التفسير فى ليلة القدر سببا لقبول هذه الخدمة الضئيلة عند الباري عز و جل۔
مجھے امید ہے کہ یہ اتفاق، یعنی شب قدر میں اس تفسیر کی تحریر کو مکمل کرنے کا اتفاق، بلند وبالا خالق قادر مطلق کی طرف سے اس کم تر خدمت کو قبول کرنے کا سبب بنے گا۔
اس تفسیر کے لکھنے کا مبارک کام سنہ ۱۹۸۷ء میں شروع ہوا تھا، چوبیس سال میں ماہ مبارک رمضان کی ۲۳ویں شب، شب قدر، شب نزول قرآن سنہ ۱۴۳۲ ہجری بمطابق ۲۴ اکتوبر ۲۰۱۱ء کو رات ۱۲ بجے اپنے اختتام کو پہنچا۔ابتدا میں اس کا نام”روح القرآن“ رکھا گیا، بعد ازاں، جناب سیدہ فاطمہ Eسے والہانہ محبت کی وجہ سے اس کا نام ”تفسیر الکوثر“ رکھا گیا۔اس تفسیر کا اسلوب ”ترتیبی“ ہے، یعنی شروع سے آخر تک آیات کی تفسیر ترتیب سے کی گئی تھی۔اس میں آیات کا مفہوم اس کے پس منظر میں بیان کیا گیا، اور س میں پہلے مشکل الفاظ کی تشریح کی گئی، بعد ازاں تفسیر آیات کو بیان کیا گیا، اور آخر میں اس آیت کے ضمن میں اہم نکات کو بیان کیا گیا تاکہ ہر سطح کے قارئین اس سے استفادہ کر سکیں۔تفسیر الکوثر دار القرآن کی پلیٹ فارم سے پانچ بار اشاعت ہوئی اس کے علاوہ بھی دیگر پبلشرز نے دیگر اشاعتیں کی ہیں۔اس کی مقبولیت نے اس کو علمی و تحقیقی میدان میں نمایاں جگہ دی۔مختلف یونیورسٹیز میں اس پر پی ایچ ڈی اور ایم فل سطح کے تحقیقی مقالے لکھے گئے، جو کلامی مباحث، مباحث سیرت، اور سائنسی موضوعات اور تفسیر کے منہج و اسلوب جیسے موضوعات پر مبنی ہیں۔محسن ملت7 نے احادیث کی نقل میں بھی احتیاط کا خاص خیال رکھا، تاکہ ان کی صحت اور اصل مفہوم کا تحفظ ہو۔