واٹر پروجیکٹ
صاف پانی کی فراہمی میں محسن ملت7 کا انقلابی اقدام
پانی کی فراہمی اسلام میں ایک نہایت عظیم عمل شمار کیا جاتا ہے، جیسا کہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ۔
اور ہم نے ہر زندہ چیز کو پانی سے پیدا کیا۔
پانی کا انتظام کرنا یا پانی پلانا حیات بخشنے کے مترادف ہے۔ اس کی مزید تاکید امام جعفر صادقG کے اس فرمان سے ہوتی ہے:
أفضل الصدقة إبراد الكبد الحري، ومن سقى كبدا حرى من بهيمة أو غيرها أظله الله عز وجل يوم لا ظل إلا ظله۔
سب سے افضل صدقہ یہ ہے کہ کسی پیاسے جگر کو ٹھنڈا پانی پلایا جائے، اور جو بھی کسی جاندار یا انسان کے پیاسے جگر کو سیراب کرے گا، اللہ عزوجل اسے اس دن اپنے سایے میں رکھے گا جس دن کوئی سایہ نہ ہوگا۔
انہی تعلیمات کی روشنی میں محسن ملت آیت اللہ شیخ محسن علی نجفی 7 نے واٹر پروجیکٹ کا آغاز کیا، جو پاکستان کے مختلف علاقوں میں صاف پانی کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے ایک انقلابی قدم ہے۔ اس منصوبے نے آلودہ پانی سے پیدا ہونے والے صحت کے سنگین مسائل کو کم کرنے کے ساتھ ساتھ ہزاروں خاندانوں کو زندگی کی امید اور صحت مند مستقبل فراہم کیا ہے۔
منصوبے کی ابتدا اور دائرہ کار
محسن ملت7 نے 1990 کی دہائی میں اس منصوبے کا آغاز کیا، جس کا مقصد پینے کے صاف پانی کی فراہمی کو ممکن بنانا تھا۔ یہ منصوبہ ابتدا میں محدود پیمانے پر شروع ہوا لیکن وقت کے ساتھ اس کا دائرہ کار پورے پاکستان تک پھیل گیا۔ گلگت بلتستان سے کراچی اور کوئٹہ تک، یہ منصوبہ ان علاقوں میں بھی پہنچا جہاں صاف پانی ایک نایاب نعمت تھی۔ اس منصوبے کے تحت گہرائی میں بورنگ کر کے قدرتی صاف پانی تک رسائی حاصل کی جاتی ہے اور پھر اسے مقامی آبادی تک پہنچایا جاتا ہے۔ ایک بورنگ کے ذریعے اوسطاً دو سو خاندانوں کو پانی فراہم کیا جاتا ہے۔
طریقہ کار
اس منصوبے کا کام مقامی افراد کے تعاون سے شروع کیا جاتا ہے، جو علاقے کے مسائل بتاتے ہیں اور پروجیکٹ کی ٹیم تحقیق کے بعد آبادی کے مرکز میں بورنگ کرتی ہے۔ پانی ذخیرہ کرنے کے لیے ٹینکیاں لگائی جاتی ہیں، اور 24 گھنٹے پانی کی دستیابی یقینی بنائی جاتی ہے۔ جہاں بجلی کا مسئلہ ہو، وہاں سولر سسٹم نصب کیا جاتا ہے۔ منصوبے کی حفاظت کے لیے مقامی انجمنوں اور کمیٹیوں کی خدمات لی جاتی ہیں تاکہ پانی کے استعمال کا منصفانہ نظام بنایا جا سکے۔
مشکلات اور چیلنجز
واٹر پروجیکٹ کے دوران کئی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ دور دراز علاقوں میں سامان کی ترسیل، مشینری اور ماہر مزدوروں کی دستیابی سب سے بڑی مشکلات ہیں۔ سامان اور کارکنوں کو ان علاقوں تک پہنچانا، جہاں سڑکوں کی سہولت بھی محدود ہو، ایک بڑا چیلنج ہوتا ہے۔ تاہم، محسن ملت7 کی قیادت، حوصلہ افزائی اور منظم عملی اقدامات کی وجہ سے تمام مشکلات کے باوجود کام کو کامیابی انجام دیا گیا۔
فوائد اور اثرات
اس منصوبے کے نتیجے میں ہزاروں خاندانوں کی زندگیوں میں انقلابی تبدیلی آئی ہے۔ ان علاقوں میں جہاں لوگ آلودہ پانی پینے پر مجبور تھے اور مختلف بیماریوں کا سامنا کرتے تھے، وہاں اب صاف اور پینے کے قابل پانی دستیاب ہے۔ پانی کی دستیابی نے نہ صرف بیماریوں میں کمی کی بلکہ بچوں اور خواتین کو زندگی کی دیگر سرگرمیوں میں حصہ لینے کا موقع فراہم کیا۔ پہلے بچے پانی بھرنے کے لیے دور دراز علاقوں تک جاتے تھے، لیکن اب ان کی زندگی میں آسانی اور خوشی آ گئی ہے۔ اب تک تقریباً دو ہزار سے زائد بورنگ اور ٹیوب ویل مکمل کیے جا چکے ہیں، جن پر کروڑوں روپے خرچ کیے گئے ہیں۔ ان منصوبوں نے مقامی آبادی کو بیماریوں سے نجات دلانے اور ان کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔