دار التحقیق للرد علی شبھات الملحدین
محسن ملت7 کی فکر اور ردِ الحاد کی تحریک
جب آیۃ اللہ علامہ شیخ محسن علی نجفی 7 نجف اشرف سے واپس پاکستان تشریف لائے تو معاشرہ فکری انحرافات کے کئی چیلنجز کا شکار تھا۔ خاص طور پر کمیونزم جیسے الحادی نظریات نے نوجوانوں کو اپنے اثر میں لے لیا تھا۔ آپ نے ہمیشہ معاشرتی خطرات کو گہرائی سے سمجھا اور ان سے نمٹنے کے لیے عملی اقدامات کو ترجیح دی۔
آپ کی زندگی کا یہ پہلو بہت نمایاں تھا کہ آپ مسائل کے حل کے لیے دوسروں پر انحصار کرنے یا خیالی منصوبے بنانے کے بجائے فوری اور موثر اقدامات فرماتے تھے۔ اسی روش کو اپناتے ہوئے، آپ نے الحادی فکر کے خطرے کو نہ صرف بھانپا بلکہ اس کے سدباب کے لیے عملی اقدامات کیے۔
الحاد کے خلاف جدوجہد کا آغاز
محسن ملت7 الحادی افکار کے فروغ سے شدید پریشان تھے اور اسے ایک سنگین فکری بیماری سمجھتے تھے۔ آپ نے اپنے تربیت یافتہ خطیب شاگردان، کہ جو مجالس عزاء سے خطاب کی کرتے ہیں، کو تاکید کی کہ وہ اپنے خطابات میں الحاد کے مسئلے کی طرف عوام کو متوجہ کریں اور اس کے نقصانات وخطرات سے آگاہ کریں۔ مگر آپ نے صرف اس سطح پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ اس سنگین مسئلے کے مستقل حل کے لیے ایک ادارہ قائم کرنے کا اعلان کیا، جو اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے مضبوط علمی بنیاد فراہم کرے۔
دار التحقیق کا قیام
آپ کے اعلان کے نتیجے میں جامعۃ الکوثر اسلام آباد میں ”دار التحقیق للرد علی شبہات الملحدین“ کے نام سے ایک تحقیقی ادارہ قائم کیا گیا۔ یہ ادارہ الحادی نظریات کا تفصیلی تجزیہ، ان کے منابع کا جائزہ، اور ان شبہات کے مدلل جوابات فراہم کرنے کے لیے سرگرم عمل ہے۔
دار التحقیق کے مرکزی دفتر کو جامعۃ الکوثر اسلام آباد میں قائم کیا گیا ہے، جہاں محققین علمی اور تحقیقی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ اس کے تحت الحادی شبہات کے مدلل جوابات فراہم کرنے کے لیے طلبہ کی تربیت کا اہتمام کیا جاتا ہے، جبکہ عوام الناس تک دین اسلام کی حقیقی تصویر پہنچانے کے لیے سیمینارز، کانفرنسز، اور ورکشاپس منعقد کروانا بھی منصوبے کا حصہ ہیں۔ مزید برآں، ملحدین کے اعتراضات کا گہرائی سے جائزہ لے کر تحقیقی مضامین اور کتابیں شائع کرنا بھی اہداف میں شامل ہے، تاکہ ان شبہات کے مؤثر اور مستند دلائل کے ساتھ جوابات فراہم کیے جا سکیں۔
اغراض و مقاصد
ادارے کے بنیادی مقاصد میں یہ شامل ہے کہ نوجوان نسل کو دین اسلام سے جوڑنے کے لیے اسلام کی حقیقی تعلیمات کو جدید زبان اور موجودہ زمانے کے تقاضوں کے مطابق اس انداز میں پیش کیا جائے جو ان کے لیے قابلِ فہم ہو۔ اس کے ساتھ، الحادی افکار کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ان اعتراضات کا مدلل اور منطقی جواب فراہم کیا جائے جو عقلی، فلسفی، یا سائنسی بنیادوں پر اٹھائے جاتے ہیں۔ مزید برآں، نوجوانوں کو حقیقی اسلام کی اخلاقیات، تاریخ، اور فلسفی پہلوؤں سے روشناس کرانا بھی ایک اہم مقصد ہے، تاکہ وہ دین کی اصل روح کو سمجھ سکیں۔ ان تمام مقاصد کے حصول کے لیے جدید تحقیق پر مبنی مواد کی تیاری کو بھی ترجیح دی گئی ہے، تاکہ اسلامی نظریات کی وضاحت کے ساتھ ساتھ الحادی افکار کا مؤثر تجزیہ اور ان کا جواب پیش کیا جا سکے۔
عملی کامیابیاں
الحمدللہ، ادارہ نے اپنے آغاز سے ہی کئی اہم اور کامیاب اقدامات اٹھائے ہیں، جس میں بک بینک کی تیاری بھی ہے جس میں اردو، فارسی اور انگریزی زبانوں میں مواد کا ذخیرہ کیا گیا ہے، اور ہر کتاب کی زبان، نوعیت اور دیگر کیٹالاگ کے مطابق تفصیل سے فہرست بندی کی گئی ہے، اس کے علاوہ کانفرنسز اور ورکشاپس میں شرکت بھی شامل ہے۔ ان میں سب سے نمایاں ”یاد نامہ امام جعفر صادقG“ پر پیش کیا جانے والا تحقیقی مقالہ تھا، جس میں امام جعفر صادقG کی تعلیمات کی روشنی میں الحادی افکار کے تدارک پر تفصیل سے گفتگو کی گئی۔ مزید تین کتابیں تحقیق کے مراحل میں ہیں۔ اس ادارے کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ مختلف تعلیمی اداروں میں جدید الحادی شبہات کے حوالے سے ورکشاپس منعقد کی جائیں اور باقاعدہ نصاب بنا کر کورسز کا انعقاد کیا جائے۔اس مقصد کے لیے کئی ورکشاپس ہو چکی ہیں جن میں حالیہ ایام کی اسوہ کیڈت کالج میں کرائی گئی ورکشاپس بھی شامل ہیں، جن میں ۵۰۰ سے زائد طلبہ نے فعال شرکت کی۔ دار التحقیق ابھی اپنے ابتدائی مراحل میں ہے اور الحادی شبہات کو تجزیاتی وتحلیلی مطالعہ اور ان کے مدلل جوابات پر کام کر رہا ہے۔