خدماتسماجی خدمات

حسینی فاؤنڈیشن

محسن ملت کا خدمت انسانیت کے لیے مثالی قدم

محسن ملت آیت اللہ شیخ محسن علی نجفی 7کا شمار ان عظیم شخصیات میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی زندگی کو دکھی انسانیت کی خدمت کے لیے وقف کر دیا۔ آپ نے اسلامی تعلیمات کے عملی نمونے پیش کرتے ہوئے زندگی کے ہر شعبے میں اپنی خدمات سرانجام دیں۔ ہر جگہ آپ کا کردار ایک رہنما کی حیثیت سے نمایاں رہا۔

شیخ صاحب کا دل ہر مظلوم اور بے سہارا انسان کے لیے دھڑکتا تھا۔ آپ ہمیشہ ان لوگوں کی مدد کے لیے پیش پیش رہتے جنہیں زندگی کے کسی بھی شعبے میں مشکلات کا سامنا ہو۔ ان کی قیادت میں حسینی فاؤنڈیشن جیسے عظیم فلاحی ادارے کی بنیاد رکھی گئی، جس کا مقصد قدرتی آفات اور دیگر ہنگامی حالات میں متاثرین کو سہارا دینا تھا۔

حسینی فاؤنڈیشن کا قیام ایک عظیم انسانی خدمت

محسن ملت7 آیت اللہ شیخ محسن علی نجفی 7کی قیادت میں 8 اکتوبر 2005 کے تباہ کن زلزلے کے فوراً بعد ”حسینی ریلیف فنڈ“ کی بنیاد رکھی گئی، جس کا نام بعد میں”حسینی فاؤنڈیشن“ رکھا گیا۔ اس تنظیم کا قیام انسانی ہمدردی کے جذبے کے تحت متاثرین کی فوری مدد کے لیے عمل میں لایا گیا۔ یہ ایک ایسا وقت تھا جب آزاد کشمیر اور شمالی پاکستان میں زلزلے نے بے پناہ تباہی مچا دی تھی، اور لاکھوں لوگ بے گھر اور بے سہارا ہو گئے تھے۔

محسن ملت شیخ محسن علی نجفی 7نے محسوس کیا کہ قدرتی آفات کے شکار ان بے بس انسانوں کو فوری امداد کی ضرورت ہے۔ ان کی رہنمائی میں حسینی فاؤنڈیشن نے نہایت منظم اور مؤثر انداز میں اپنے کام کا آغاز کیا۔ ابتدا میں یہ تنظیم زلزلہ متاثرین کے لیے خیمہ بستیاں آباد کرنے، خوراک اور دیگر ضروری اشیاء کی فراہمی تک محدود تھی، مگر وقت کے ساتھ ساتھ اس کے دائرہ کار کو وسیع کیا گیا اور اسے ایک جامع فلاحی ادارہ بنایا گیا، جو نہ صرف قدرتی آفات بلکہ دیگر سماجی اور معاشرتی مسائل کے حل کے لیے بھی سرگرم عمل ہے۔

خیمہ بستیاں اور امدادی سامان کی فراہمی

زلزلے کے فوراً بعد حسینی فاؤنڈیشن نے ہنگامی بنیادوں پر تین خیمہ بستیاں قائم کیں، جہاں 1800 سے زائد خاندانوں کو چھ ماہ تک مکمل کفالت فراہم کی گئی۔ ان بستیوں میں خواتین اور بچوں کے لیے علیحدہ اور محفوظ رہائشی انتظامات کیے گئے۔ ان بستیوں کے قیام کا بنیادی مقصد ان بے گھر خاندانوں کو فوری پناہ فراہم کرنا تھا، تاکہ وہ موجودہ گرمی کے شدید اثرات سے بچ سکیں اور بعد میں آنے والی سردی اور بارش جیسے سخت موسمی حالات میں بھی محفوظ رہیں۔

متاثرین کو روزمرہ کی ضروریات جیسے خوراک، لباس، جوتے، اور ادویات کی فراہمی حسینی فاؤنڈیشن کی اولین ترجیحات میں شامل تھی۔ تنظیم نے منظم طریقے سے امدادی سامان کی تقسیم کو یقینی بنایا، تاکہ ہر خاندان کی ضروریات پوری ہو سکیں۔

رہائشی مکانات کی تعمیر

مستقل بحالی کی جانب ایک قدم

زلزلہ متاثرین کے لیے فوری مدد کے ساتھ ساتھ حسینی فاؤنڈیشن نے ان کی مستقل بحالی پر بھی توجہ دی۔ اس مقصد کے تحت 14000 سے زائد مکانات تعمیر کیے گئے، جن میں تمام بنیادی سہولیات موجود تھیں۔ ہر گھر میں باورچی خانہ، باتھ روم، اور مناسب کمرے فراہم کیے گئے، تاکہ متاثرین ایک باوقار زندگی گزار سکیں۔

محسن ملت شیخ محسن علی نجفی 7کا یہ اقدام نہ صرف ایک وقتی امداد تھی بلکہ ان متاثرہ خاندانوں کو دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کی ایک منظم کوشش تھی۔

دیگر فلاحی اقدامات

حسینی فاؤنڈیشن کا مقصد ہر اس شعبے میں خدمات فراہم کرنا ہے جہاں انسانی زندگی کو سہارا دینے کی ضرورت ہو۔ اس فاونڈیشن نے سماج کے ان طبقوں کو ترجیح دی ہے جو غربت، یا بنیادی سہولتوں کی عدم دستیابی کے سبب مشکلات کا شکار بنتے ہیں۔

تعلیم کا فروغ : جہاں تعلیم کی روشنی پہنچانا ناممکن سمجھا جاتا تھا، وہاں حسینی فاؤنڈیشن نے علم کی شمع روشن کی۔ اندرون سندھ، آزاد کشمیر، اور دیگر علاقوں میں 200 سے زائد دینیات سینٹرز اور مساجد کا قیام عمل میں آیا۔ مزید برآں، 2000 سے زائد بچوں کو تعلیمی میدان میں مدد فراہم کی گئی تاکہ وہ ایک بہتر مستقبل کی بنیاد رکھ سکیں۔

صحت کی سہولیات:

زلزلے کے بعد متاثرہ علاقوں میں صحت کے مسائل بھی شدید ہو گئے تھے۔ حسینی فاؤنڈیشن نے ان مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے موبائل میڈیکل کیمپس کا انعقاد کیا، جہاں ماہر ڈاکٹروں نے مریضوں کا علاج کیا اور مفت ادویات فراہم کیں۔ ان کیمپس میں ملیریا، ٹائیفائیڈ، اور دیگر امراض کی تشخیص کے ساتھ ساتھ ان کا علاج بھی کیا گیا۔ حسینی فاؤنڈیشن نے ان علاقوں میں، جہاں صحت کے مسائل سب سے زیادہ تھے، جدید طبی سہولیات فراہم کیں۔ اس کی بہترین مثال پارا چنار میں تھیلیسیمیا بلڈنگ کا قیام، ہنگو میں الزہراء E ہسپتال کی تعمیر، اور دور دراز علاقوں میں میڈیکل کیمپس کا انعقاد ہے۔ ان اقدامات نے نہ صرف مریضوں کو معیاری علاج فراہم کیا بلکہ ان کی زندگیوں میں امید کی ایک نئی شمع بھی روشن کی۔

میڈیکل کیمپس کا انعقاد اور سیلاب زدگان کے لیے صحت کی بحالی کا جامع نظام

آیۃ اللہ شیخ محسن علی نجفی 7 کی صحت کے شعبے میں خدمات سیلاب زدگان کی بحالی تک محدود نہیں رہیں بلکہ ان کے لیے خصوصی موبائل میڈیکل کیمپس کا انعقاد بھی کیا گیا۔ یہ کیمپ متاثرہ علاقوں میں ایک موبائل اسپتال کی حیثیت رکھتے تھے، جہاں ماہر ڈاکٹروں اور تربیت یافتہ عملے نے جدید تشخیصی مشینری کے ذریعے فوری طبی سہولیات فراہم کیں۔ ان کیمپوں میں ملیریا، ٹائیفائڈ، ہیپاٹائٹس، اور شوگر سمیت مختلف بیماریوں کے ٹیسٹ کیے گئے اور ہر مریض کو مکمل تشخیص کے بعد معیاری دوائیں فراہم کی گئیں، جس سے ان کی صحت کی بحالی ممکن ہوئی۔

پنجاب کے متاثرہ علاقوں جیسے تونسہ، ڈیرہ غازی خان، راجن پور، اور جام پور میں ایک ماہ کے دوران 27 مقامات پر میڈیکل کیمپس لگائے گئے۔ سندھ میں 40 سے زائد اور بلوچستان میں 15 کیمپس کا انعقاد کیا گیا، جہاں ادویات بہترین معیار کی فراہم کی گئیں، اور ضرورت مندوں کی بڑی تعداد نے ان سہولیات سے فائدہ اٹھایا۔ یہ کیمپس سیلاب زدگان کی بحالی کے لیے صحت کی سہولیات فراہم کرنے میں سنگ میل ثابت ہوئے، جنہوں نے نہ صرف بیماریوں کی تشخیص کی بلکہ ان کے علاج کے ذریعے لوگوں کو ایک نئی امید بھی دی۔

معاشرتی فلاح:

غریبوں، یتیموں، اور بیوگان کے لیے مستقل بنیادوں پر مدد فراہم کرنا حسینی فاؤنڈیشن کا طرۂ امتیاز رہا ہے۔ 2000یتیموں اور بیوگان کی ماہانہ کفالت، صاف پانی کی فراہمی کے لیے متعدد پروجیکٹس، اور مستحقین کو خوراک اور لباس کی فراہمی ان خدمات کے نمایاں پہلو ہیں۔

حسینی فاؤنڈیشن شیخ محسن علی نجفی 7 کی بے مثال قیادت اور خدمت خلق کے جذبے کا ایک عملی نمونہ ہے۔ اس تنظیم نے قدرتی آفات کے شکار لاکھوں افراد کی زندگیاں بدل دیں اور انہیں جینے کا نیا حوصلہ دیا۔ ان کی یہ میراث آج بھی زندہ ہے اور خدمت کے میدان میں روشن مثال بنی ہوئی ہے۔

Related Articles

Back to top button