تبلیغی خدماتخدمات

تحقیقی مجلات کی اشاعت

ماہنامہ الزہراء E
علمی، ادبی اور دینی افکار کا ترجمان

ماہنامہ الزہراء E، ایک علمی، ادبی، دینی، اور تاریخی مجلہ، جس کا آغاز شوال ۱۳۹۸ ہجری میں محسن ملت آیت اللہ شیخ محسن علی نجفی 7 کے مبارک ہاتھوں ہوا، اپنی نوعیت کا ایک منفرد اور بے مثال رسالہ تھا۔ یہ رسالہ جامعہ اہل بیت کے تحت الزہراء Eپبلیکیشنز کے پلیٹ فارم سے شائع ہوتا اور اپنے قارئین تک ایک علم و حکمت کا خزینہ پہنچاتا تھا۔ یہ محض ایک رسالہ نہیں بلکہ ملت کی فکری و تہذیبی نشوونما کا ایک روشن مینار تھا، جو نہ صرف ملکی قارئین بلکہ دنیا بھر کے اہلِ علم کے لیے ایک قیمتی اثاثہ ثابت ہوا۔

الزہراء Eکی اشاعت اور اثرات

ماہنامہ الزہراء Eکی اشاعت کا دائرہ اس کے ابتدائی دنوں میں ہی وسیع تھا۔ یہ رسالہ ہر ماہ ۲۵۰۰ کاپیوں کی تعداد میں شائع ہوتا اور ملک کے طول و عرض میں پڑھا جاتا تھا۔ اس کی قیمت محض ۲ روپے رکھی گئی تھی، تاکہ ہر طبقے کے قارئین اسے خرید سکیں۔ رسالہ عموما تقریباً پچاس پر مشتمل ہوتا تھا، کبھی کبھار تو خاص نمبر والے شمارے ۸۵ صفحات تک ہوتے تھے۔ اس ضخیم مواد میں علم، ادب، تاریخ، اور دینی مضامین کا ایک ایسا خزانہ سمویا ہوتا جو قارئین کو مطالعے کی گہرائیوں میں لے جاتا۔ کبھی کبھار تو خاص نمبر والے شمارے ۸۵ صفحات تک ہوتے تھے۔

محسن ملت7 کا کہنا تھا کہ یہ رسالہ ” خریداروں کے لیے نہیں بلکہ قارئین کے لیے ہے۔“ وہ اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ الزہراء Eکے ذریعے اسلام کا پیغام ان لوگوں تک پہنچایا جائے جو اس کو سمجھنے اور دوسروں تک پہنچانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

موضوعات کی ہمہ گیری

الزہراء Eکے صفحات میں تنوع اس کی سب سے بڑی خوبی تھی۔ اس میں نہ صرف فقہی اور دینی مسائل کا احاطہ کیا جاتا بلکہ حالاتِ حاضرہ پر بھی روشنی ڈالی جاتی۔ ملکی اور بین الاقوامی معاملات پر مضامین، تفسیری نکات، فلسفیانہ مباحث، اور تاریخِ اقوامِ عالم پر تحقیقی تحریریں رسالے کی زینت بنتی تھیں۔

معاشرتی مسائل، خاندانی امور، اسلامی قانون، اور تعزیرات جیسے پیچیدہ موضوعات کو آسان زبان میں پیش کیا جاتا۔ طلبہ و طالبات کی رہنمائی کے لیے خصوصی سیکشنز تھے، جن میں تعلیمی و تربیتی مضامین اور عملی زندگی کے لیے قیمتی مشورے شامل کیے جاتے۔ الزہراء میں اسلامی اصولوں اور اخلاقیات پر مبنی احادیث بھی شامل کی جاتیں، جو قارئین کے لیے نہ صرف علم کا ذریعہ بنتیں بلکہ ان کی روحانی تربیت کا باعث بھی۔

الزہراء نے خواتین کی تعلیم و تربیت کو بھی خصوصی اہمیت دی۔ ”صفحۂ نسواں“ کے عنوان سے ایک مخصوص حصہ خواتین کے لیے مختص تھا، جہاں ان کی تعلیم، معاشرتی کردار، اور تربیتی پہلوؤں پر مبنی مضامین شائع کیے جاتے۔ یہ سیکشن نے خواتین کو معاشرتی ترقی میں اپنا مؤثر کردار ادا کرنے کی ترغیب دینے کے لیے تھا۔

رسائل و جرائد میں قارئین کی شرکت کو ہمیشہ اہمیت دی جاتی ہے، اور الزہراء اس روایت کا بہترین عکاس تھا۔”آپ بھی پوچھیے“ کے نام سے ایک سلسلہ تھا، جس میں قارئین کے سوالات کے مدلل جوابات دیے جاتے۔ یہ حصہ قارئین میں بے حد مقبول تھا اور ان کے ذہنوں میں اٹھنے والے سوالات کے جوابات فراہم کرکے انہیں مطمئن کرتا تھا۔

ملت کی تعمیر و ترقی میں کردار

محسن ملت7 کی بصیرت اور ان کے عملی اقدامات کا عکس الزہراء کے ہر صفحے پر جھلکتا تھا۔ وہ ملت کو خوددار، تعلیم یافتہ، اور فکری طور پر مضبوط دیکھنے کے خواہشمند تھے۔ یہ رسالہ ان کے خواب کی تعبیر تھا، جس کے ذریعے انہوں نے قوم کی تعمیر و ترقی کی بنیاد رکھی۔الزہراء کا شمار ان رسائل میں ہوتا ہے جنہوں نے قوم کی فکری اور روحانی ترقی میں نمایاں کردار ادا کیا۔ یہ رسالہ نہ صرف ایک دور کی یادگار ہے بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے علم و شعور کا ایک نایاب خزانہ بھی۔ محسن ملت7 کی یہ علمی کاوش آج بھی ان کے اخلاص، محبت، اور قوم کے لیے بے پناہ قربانیوں کی یاد دلاتی ہے۔

سہ ماہی تحقیق مجلہ ثقلین

سہ ماہی تحقیقی مجلہ ثقلین 1995 میں معصوم پبلیکیشنز کے پلیٹ فارم سے اسلام آباد سے شائع ہونا شروع ہوا۔ یہ مجلہ سہ ماہی بنیادوں پر تقریباً 2000 کاپیوں کی تعداد میں شائع کیا جاتا تھا اور آٹھ سال تک جاری رہا۔

مقبولیت اور قارئین

یہ مجلہ اپنے مستقل قارئین میں بے حد مقبول تھا، جو اسے بڑی دل چسپی اور انہماک کے ساتھ پڑھتے تھے۔ اس کے ممبران ملک کے طول و عرض میں موجود تھے، اور یہ مجلہ با قاعدگی سے ان تک پہنچایا جاتا تھا۔ اس کی تقسیم اسلام آباد اور کراچی کے مراکز سے کی جاتی تھی، جہاں سے یہ اپنے قارئین تک پہنچتا تھا۔

اغراض و مقاصد

مجلہ ثقلین کے پس منظر اور اغراض و مقاصد حدیث ثقلین سے جڑے ہوئے تھے۔ اس کے مضامین اور تحقیقی مقالے قرآن و اہل بیت کی تعلیمات کی روشنی میں مختلف معاشرتی، عقائدی اور اسلامی تاریخی موضوعات پر مبنی ہوتے تھے۔ تاہم، اس کی خاص پہچان حدیث ثقلین کے موضوع پر تحقیقی کام تھا، جو اس مجلے کی ایک اہم خصوصیت تھی۔

علمی و تحقیقی خدمات

اس مجلے میں اعلیٰ تعلیم یافتہ اسلامی اسکالرز، پروفیسرز، اور اساتذہ کے تحقیقی مضامین اور مقالے شامل کیے جاتے تھے، جو اسلامی تعلیمات کے مختلف پہلوؤں پر بصیرت انگیز مضامین تحریر کیا کرتے تھے۔ یہ محسن ملت آیت اللہ محسن علی نجفی 7 کی تبلیغی و ابلاغی فکر کا ایک عملی مظہر اور قوم کی تعلیم و تربیت کے لیے ان کی کاوشوں کا آئینہ دار تھا۔

محسن ملت کی فکر کا عملی مظہر

سہ ماہی مجلہ ثقلین محسن ملت کے تعلیم بالغاں کے اقدامات میں سے ایک اہم پہلو تھا۔ یہ ان کی احیائے علوم قرآن و اہل بیت کے لیے کی گئی کوششوں کا واضح عکس تھا اور ملت کی فکری و روحانی ترقی میں ایک نمایاں کردار ادا کرتا رہا۔

ماہنامہ معصوم

ماہنامہ معصوم محسن ملت، شیخ محسن علی نجفی 7 کی بچوں سے خاص محبت و شفقت اور ان کی تعلیم و تربیت کی اہمیت کا ایک نمایاں شاہکار ہے۔ ملت کے ننھے نونہالوں کے لیے یہ رسالہ ان کی مخلصانہ کاوشوں کا ایک منفرد تحفہ تھا۔ یہ ان کی خلوص نیت کا ہی نتیجہ تھا کہ یہ رسالہ نہایت مقبول ہوا، اور ہر عمر کے قارئین میں پسندیدگی کی سند حاصل کر گیا۔ محسن ملت فرمایا کرتے تھے کہ معصوم کو چھوٹے بچوں سے زیادہ بڑے شوق سے پڑھتے ہیں۔

آغاز اور مقبولیت

ماہنامہ معصوم کی اشاعت 1995 میں شروع ہوئی اور یہ رسالہ مسلسل آٹھ سال تک ہر ماہ شائع ہوتا رہا۔ تاہم، 2002 میں کچھ وجوہات کی بنا پر اس کی اشاعت روک دی گئی۔ اس عرصے میں معصوم نہ صرف بچوں بلکہ بڑوں میں بھی یکساں مقبول رہا۔ لوگ اس کے نئے شمارے کا بے صبری سے انتظار کرتے تھے، اور اگر کسی مہینے اس کی اشاعت میں تاخیر ہو جاتی تو بچوں کے خطوط کا سلسلہ شروع ہو جاتا، جن میں وہ رسالے کے جلد از جلد پہنچنے کا اصرار کرتے۔

ماہنامہ معصوم اسلام آباد سے شائع ہوتا تھا اور اس کی ماہانہ اشاعت تقریباً 3000 کاپیاں تھی۔ یہ رسالہ دو مراکز سے تقسیم کیا جاتا تھا: ایک اسلام آباد، جہاں سے 1500 کاپیاں تقسیم ہوتیں، اور دوسرا کراچی، جہاں مزید 1500 کاپیاں بھیجی جاتیں۔ ان آٹھ برسوں کے دوران تقریباً 288,000 کاپیاں قوم کے نونہالوں تک پہنچیں، جو اس کی غیرمعمولی مقبولیت کا واضح ثبوت ہے۔

اہم خصوصیات

ماہنامہ معصوم کا ایک نمایاں حصہ معروف ادیب محمد علی سید کا مستقل مضمون ” اپنی بات“ تھا، جو ”ایڈیٹر انکل“ کے کردار کی شکل میں پیش کیا جاتا تھا، جو بچوں میں بے حد مقبول تھا۔ بچے اس مضمون کے ساتھ اپنی محبت کا اظہار کرتے اور بعض اوقات اصرار کرتے کہ ایڈیٹر انکل اپنی تصویر بھی شائع کریں تاکہ وہ انہیں دیکھ سکیں۔ آج بھی، کئی سابق قارئین اگر یہ مجلہ دیکھ لیں تو مسکرائیں گے کہ اب تو وہ خود انکل بن چکے ہیں۔، بلکہ کچھ لوگوں نے محمد علی سید کو خطوط بھی لکھے ہیں کہ اب تو ہم خود انکل بن چکے ہیں اور ہمیں ابھی تک وہ زمانہ یاد ہے کہ جب ہم اڈیٹر انکل ولا مضمون بڑی دلچسپی سے پڑھا کرتے تھے۔

مواد کی ترتیب اور دلکشی

معصوم کے صفحات میں بچوں کی دلچسپی کو مدنظر رکھتے ہوئے تصویری کہانیاں شامل کی جاتی تھیں، جن میں تبلیغی اور تربیتی موضوعات کو مؤثر انداز میں پیش کیا جاتا تھا۔ ان کہانیوں میں سبق آموز پہلو نمایاں ہوتے تھے، جو بچوں کی ذہنی نشوونما میں اہم کردار ادا کرتے۔

ہر ماہ ایک کوئز کا اہتمام بھی کیا جاتا تھا، جس میں بچوں کی شرکت حیران کن حد تک زیادہ ہوتی تھی۔ قرعہ اندازی کے ذریعے جیتنے والے پہلے تین بچوں کو نقد انعامات، اور ان کے بعد پانچ بچوں کو اسٹیشنری، کتابیں، یا کھلونے دیے جاتے تھے، جوان کی حوصلہ افزائی کا ذریعہ بنتے تھے۔

بچوں کی شرکت

ماہنامہ معصوم میں بچوں کی تحریریں اور تصاویر بھی شائع کی جاتی تھیں۔ جن بچوں کے مضامین شائع نہ ہو پاتے، ان کے نام شامل کر دیے جاتے تاکہ ان کی دل شکنی نہ ہو۔ اگر کسی بچے کا نام رہ جاتا تو وہ خط لکھ کر شکوہ کرتے، اور ان کا نام اگلے شمارے میں ضرور شامل کیا جاتا۔

خصوصی مواقع جیسے 14 اگست یا دیگر اہم دنوں کے لیے بچوں کو اپنی تخلیقی تصاویر اور تحریریں بھیجنے کی دعوت دی جاتی تھی، جو رسالے میں شائع ہوتیں۔ تقریباً 40 فیصد مواد بچوں کی تحریروں اور تصاویر پر مشتمل ہوتا تھا، جس کے ساتھ ان کے نام اور علاقے کا ذکر بھی کیا جاتا۔

تعلیمی و تخلیقی کردار

ماہنامہ معصوم نے نہ صرف بچوں کی تعلیم و تربیت میں اہم کردار ادا کیا بلکہ ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو نکھارنے کے لیے ایک بہترین پلیٹ فارم فراہم کیا۔ یہ رسالہ آج بھی ان قارئین کی یادوں میں زندہ ہے، جنہوں نے اپنے بچپن کے سنہری دن اس کے ساتھ گزارے۔

ماہنامہ معصوم محض ایک رسالہ نہیں، بلکہ ایک نسل کی یادوں کا حصہ اور ان کی تعلیم و تربیت کا ضامن تھا۔ اس کی اہمیت اور مقبولیت کو آنے والے دنوں میں بھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔

الکوثر علمی و تحقیقی مجلہ

الکوثر علمی و تحقیقی مجلہ اسلامی علوم اور معاصر مسائل پر تحقیق کے لیے ایک معتبر پلیٹ فارم ہے، جو علمی معیار اور تحقیقی اصولوں کی پاسداری کے ذریعے ایک نمایاں مقام رکھتا ہے الکوثر علمی و تحقیقی مجلہ کا قیام 2020 میں اسلامی تحقیق کے فروغ اور علمی معیار کو بلند کرنے کے عزم کے ساتھ عمل میں آیا۔ اس کا مقصد اسلامی تعلیمات کی روشنی میں معاصر مسائل کا تحقیقی تجزیہ اور ان کے قابلِ عمل حل پیش کرنا ہے۔ یہ مجلہ جدید اور کلاسیکی موضوعات پر تحقیقاتی مقالات کی اشاعت کا اہم ذریعہ ہے۔

یہ مجلہ محققین کو علمی دیانتداری، تحقیقی اصولوں کی پاسداری، اور موضوعاتی جدت کو اپنانے کی ترغیب دیتا ہے، تاکہ ان کے کام میں معیاری تحقیق نمایاں ہو۔ مزید برآں، یہ امت مسلمہ کو درپیش چیلنجز کے حل کے لیے تحقیقی بنیادوں پر رہنمائی فراہم کرتا ہے، اور اسلامی تعلیمات کے عملی نفاذ کے ذریعے معاشرے میں مثبت اور دیرپا تبدیلیوں کا ذریعہ بنتا ہے۔

معاصر حیثیت اور تحقیقی مقام

الکوثر علمی و تحقیقی مجلہ اپنی معیاری تحقیق اور علمی جدت کی بنا پر آج اسلامی علوم کے تحقیقی حلقوں میں ایک ممتاز مقام رکھتا ہے۔ یہ مجلہ اسلامی علوم، معاصر مسائل، اور سماجی موضوعات پر تحقیقاتی مقالات کے لیے ایک منفرد پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے۔

اس کی اشاعت کا معیار، مقالہ جات کی موضوعاتی گہرائی، اور ادارتی شفافیت اسے علمی دنیا میں ایک اہم اور قابلِ اعتماد حوالہ بناتی ہیں۔ جامعہ الکوثر کے زیرِ انتظام، یہ تحقیقی مجلہ محققین، طلباء، اور اساتذہ کے لیے ایک مثالی ذریعہ علم بن چکا ہے۔

مقالہ جات کی نوعیت اور موضوعات

الکوثر علمی و تحقیقی مجلہ میں شائع ہونے والے مقالات کا دائرہ کار وسیع اور متنوع ہے، جو اسلامی علوم، معاصر مسائل، اور سماجی علوم کے مختلف پہلوؤں کا احاطہ کرتا ہے۔ یہ مجلہ تحقیقاتی معیار اور علمی جدت کو ترجیح دیتا ہے، تاکہ قارئین کو موضوعات کی گہرائی اور افادیت فراہم کی جا سکے۔

اہم موضوعات:

اسلامی علوم:فقہ، تفسیر، حدیث، تاریخ اسلام، اور اسلامی فلسفہ پر مبنی مقالات۔
معاصر مسائل: اسلامی بینکاری، معاشیات، بین المذاہب مکالمہ، اور عصری چیلنجز پر تحقیق۔
سماجی علوم: سماجیات، سیاسیات، انسانی حقوق، اور معاشرتی انصاف کے موضوعات پر تجزیے۔
خصوصی موضوعات: امیر المؤمنین حضرت علیG کی سیرت، اور سیدہ فاطمہ زہراء Eکی حیاتِ مبارکہ پر خصوصی شمارے۔

اہم اشاعتیں اور تفصیلات:

الکوثر علمی و تحقیقی مجلہ نے اپنےآغاز سے اب تک یہ ششماہی بنیادوں پر با قاعدگی سے شائع ہو رہا ہے۔ اب تک اس کے آٹھ شمارے شائع ہو چکے ہیں، جن میں تقریباً ساٹھ تحقیقی مقالات شامل ہیں۔ اس جرنل نے دو خصوصی اشاعتیں بھی پیش کی ہیں: ایک امیر المومنین حضرت علیG پر مشتمل، جس میں آٹھ تحقیقی مقالات شامل تھے، اور دوسری بی بی سیدہ فاطمہ زہرا Eکی حیات و سیرت پر مشتمل، جس میں دس تحقیقی مقالات شائع کیے گئے۔ یہ خصوصی اشاعتیں حضرت آیت اللہ شیخ محسن علی نجفی 7 کی دلی خواہش پر ترتیب دی گئیں۔ ہر شمارے میں سات سے آٹھ معیاری مقالات شامل کیے جاتے ہیں، جو تحقیق کی شفافیت اور علمی اصولوں کے مطابق ہوتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ یہ مجلہ علمی دنیا میں ایک ممتاز حیثیت رکھتا ہے۔

اہم تحقیقی جہات

الکوثر علمی و تحقیقی مجلہ اسلامی علوم، معاصر مسائل، اور امت مسلمہ کو درپیش چیلنجز کے تحقیقی تجزیے کے لیے ایک منفرد پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے۔ اس مجلہ کی تحقیقی جہات اور موضوعات کا دائرہ وسیع ہے، جو اسلامی تعلیمات کی گہرائی سے لے کر جدید سماجی اور سیاسی مسائل کے تجزیے تک پھیلا ہوا ہے۔ اس مقالہ کا مقصد نہ صرف علمی ورثے کو محفوظ کرنا بلکہ عصری مسائل کے اسلامی حل کی تلاش کے لیے تحقیق کو فروغ دینا بھی ہے۔

اسلامی علوم کا فروغ

الکوثر علمی و تحقیقی مجلہ اسلامی تعلیمات کے بنیادی اصولوں اور تاریخی ورثے کو اجاگر کرنے کے لیے تحقیقی مضامین کی اشاعت کرتا ہے۔ یہ مجلہ قرآن و سنت کی روشنی میں اسلامی فلسفہ، عقل، اور وحی کے تحقیقی مطالعے کے ذریعے اسلامی علوم کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

معاصر مسائل کا تجزیہ

مجلہ موجودہ دور کے سماجی، اقتصادی، اور سیاسی مسائل پر اسلامی نقطہ نظر سے تحقیق کو فروغ دیتا ہے۔ عدل و انصاف کی اہمیت، حکومت کی ضرورت، اور اسلامی ریاست کے اصول جیسے موضوعات پر تحقیق امت مسلمہ کے لیے رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔

معاصر چیلنجز اور خصوصی موضوعات

الکوثر علمی و تحقیقی مجلہ معاصر چیلنجز جیسے الحاد، خاندانی مسائل، جدید سائنس اور مذہب کے تعلق، کلوننگ، انسانی حقوق، اور بین المذاہب مکالمے پر تحقیقاتی مواد فراہم کرتا ہے۔ اس کے علاوہ، سیرت امیر المؤمنین علیG اور سیدہ فاطمہ زہرا Eپر خصوصی مقالات بھی شامل ہیں۔

مقالہ نگاروں کے لیے ہدایات

الکوثر علمی و تحقیقی مجلہ مقالہ نگاروں کے لیے واضح اور معیاری ہدایات فراہم کرتا ہے تاکہ اشاعت کے عمل میں شفافیت اور تحقیقی معیار کو یقینی بنایا جا سکے۔ ان ہدایات میں مقالہ کی تحریر، ترتیب، خلاصہ، کلیدی الفاظ، حوالہ جات، اور کتابیات کے اصول شامل ہیں۔ جو مقالہ نگاروں کو تحقیق کے بہترین معیارات پر عمل کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ یہ ہدایات نہ صرف مقالے کے علمی معیار کو بلند کرتی ہیں بلکہ اسلامی عقائد اور تحقیقی اصولوں کے مطابق مواد کی اشاعت کو یقینی بناتی ہیں، تاکہ قارئین اور محققین کو مستند اور معیاری علمی مواد فراہم کیا جا سکے۔

خصوصی اشاعتیں اور موضوعات

الکوثر علمی و تحقیقی مجلہ نے اپنی اشاعت کے دوران بعض خصوصی شمارے شائع کیے ہیں، جو اسلامی علوم کے اہم موضوعات اور شخصیات کے تحقیقی جائزے پر مبنی ہیں۔ ان اشاعتوں کا مقصد مخصوص موضوعات پر گہرائی سے تحقیق کرنا اور قارئین کو علمی مواد فراہم کرنا ہے۔

خصوصی اشاعتیں:

امیر المؤمنین حضرت علیG پر خصوصی شمارہ

امیر المؤمنین حضرت علیG پر شائع ہونے والے خصوصی شمارے میں امام علیG کی سیرت، حکومتی خدمات، اور اخلاقیات کے مختلف پہلوؤں پر تحقیقی مقالات شامل ہیں۔ اس شمارے میں ولایت، عدل و انصاف، اور اصحاب کی تربیت جیسے موضوعات پر گہرائی سے روشنی ڈالی گئی ہے۔ نمایاں موضوعات میں امام علیG کی حکومتی حکمت عملی، تعلیمات علوی میں کامیابی کا تصور، اور دوست و دشمن کے معیارات شامل ہیں۔ یہ شمارہ امام علیG کی شخصیت کے علمی و عملی پہلوؤں کو اجاگر کرنے کے لیے ایک قیمتی علمی کاوش ہے۔

سیدہ فاطمہ زہرا Eپر خصوصی شمارہ

سیدہ فاطمہ زہرا Eکی عظمت و سیرت پر مبنی اس خصوصی شمارے میں بی بی سیدہ کی حیات مبارکہ کے مختلف پہلوؤں پر 10 تحقیقی مقالات شامل ہیں۔ ان مقالات میں سیدہ کی شخصیت، تربیت اولاد کے عملی نمونے، اور عصری خاندانی چیلنجز جیسے موضوعات کا احاطہ کیا گیا ہے۔ نمایاں موضوعات میں خطبہ فدک میں معارفِ توحید، آداب بندگی و دعا، اور اہل سنت کی روایات میں سیدہ کی منزلت شامل ہیں۔ یہ شمارہ سیدہ کونین کی عظیم شخصیت کو خراج عقیدت پیش کرنے اور ان کی حیات طیبہ کے اسباق کو اجاگر کرنے کے لیے مرتب کیا گیا ہے۔

جرنل کی افادیت و اثرات

الکوثر علمی و تحقیقی مجلہ اسلامی علوم اور سماجی مسائل پر تحقیق کرنے والے طلباء، اساتذہ، اور محققین کے لیے ایک معیاری پلیٹ فارم ہے۔ یہ مجلہ اسلامی تاریخ، فلسفہ، اور تعلیمات کے اہم پہلوؤں پر تحقیقاتی کام کو محفوظ اور شائع کرکے علمی ورثے کو محفوظ کرنے کا فریضہ سرانجام دیتا ہے۔ اس کا مقصد تحقیق کی روایت کو مضبوط کرتے ہوئے علمی و تحقیقی معیار کو بہتر بنانا ہے۔ یہ مجلہ جدید دور کے سماجی، اخلاقی، اور علمی چیلنجز کے لیے اسلامی نقطہ نظر سے تحقیقاتی مواد فراہم کرتا ہے۔ امت کے اتحاد، عدل و انصاف، اور سماجی استحکام کے لیے موضوعاتی تحقیق کو آگے بڑھاتا ہے ۔

اسوہ جرنل آف ریسرچ (UJR)

محسن ملت7 علم و تحقیق کے فروغ کے معمار

محسن ملت آیت اللہ شیخ محسن علی نجفی 7 کی علمی و تحقیقی خدمات کا دائرہ بے حد وسیع اور متنوع تھا۔ آپ نے اپنی زندگی میں تحقیق اور علم کے فروغ پر خصوصی توجہ دی اور اپنے شاگردوں کو بھی اسی راہ پر گامزن کیا۔ آپ کے مضبوط نظریات اور علمی بصیرت نے تحقیق کو نئی جہتوں سے ہمکنار کیا۔ آپ کی قیادت میں کئی علمی اور تحقیقی ادارے قائم کیے گئے، جن میں اسوہ انسٹی ٹیوٹ آف ہائر ایجوکیشن، اسلام آباد ایک نمایاں مثال ہے۔

اسوہ انسٹی ٹیوٹ کے زیر اہتمام شائع ہونے والا اسوہ جرنل آف ریسرچ (UJR) سماجی اور انسانی علوم کے میدان میں تحقیق کی ایک معیاری اور معتبر پہچان بن چکا ہے۔

تحقیق اور ترقی کا پلیٹ فارم

تحقیق اور علم کی ترویج کسی بھی معاشرے کی ترقی کا بنیادی ستون ہے، اور اسوہ جرنل آف ریسرچ (UJR) اسی ضرورت کو پورا کرنے کی ایک نمایاں علمی کاوش ہے۔ یہ تحقیقی مجلہ اسوہ انسٹی ٹیوٹ آف ہائر ایجوکیشن کے زیر اہتمام شائع ہوتا ہے اور سماجی علوم اور انسانی علوم کے میدان میں تخلیقی اور تنقیدی سوچ کو فروغ دینے کے لیے ایک مضبوط پلیٹ فارم مہیا کرتا ہے۔

اسوہ جرنل آف ریسرچ: قیام اور معاصر حیثیت

اسوہ جرنل آف ریسرچ (UJR) نے 2021 میں اپنے پہلے شمارے کے ساتھ علمی دنیا میں قدم رکھا اور جلد ہی پاکستان میں اعلیٰ تحقیقاتی معیار کی ایک نمایاں مثال بن گیا۔ یہ مجلہ پاکستان کی ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) کے مقرر کردہ تمام اصولوں کی مکمل پیروی کرتا ہے اور تحقیق کے میدان میں اصولوں کی پاسدار ہے۔

یہ ایک باقاعدہ نظرثانی شدہ (peer-reviewed) تحقیقی مجلہ ہے جو ششماہی بنیادوں پر شائع ہوتا ہے۔ اس کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ یہ مقامی اور بین الاقوامی شہرت یافتہ ماہرین اور محققین کی سرپرستی میں کام کرتا ہے۔ ان ماہرین کی علمیت اور تجربہ اس مجلے کے مواد کو معتبر اور معیاری بناتے ہیں۔

UJR تحقیقاتی مقالات کی اشاعت کے ذریعے تنقیدی مکالمے اور علمی ترقی کو فروغ دیتا ہے، جس سے سماجی اور انسانی علوم کے میدان میں تحقیق کے نئے افق کھلتے ہیں۔ یہ مجلہ تخلیقی اور تنقیدی ذہن رکھنے والے محققین کے لیے ایک مضبوط پلیٹ فارم مہیا کرتا ہے جو علمی ترقی میں نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں۔

مقالہ جات کی نوعیت اور موضوعات

اسوہ جرنل آف ریسرچ میں شائع ہونے والے مقالات تعلیمی، سماجی اور انسانی علوم کے مختلف پہلوؤں پر محیط ہیں۔ اس کے موضوعات درج ذیل ہیں:

تعلیمی موضوعات: تحقیق، تدریس کے طریقے، اور تعلیمی ترقی وغیرہ۔
سماجی علوم: بین الاقوامی تعلقات، سوشیالوجی، بشریات، اور تاریخ وغیرہ۔
اسلامی علوم: قرآن، حدیث، اور اسلامی فلسفہ وغیرہ۔
معاشیات: اقتصادی ترقی، وسائل کی تقسیم، اور ماحولیاتی معیشت وغیرہ۔
سیاسیات: مقامی اور بین الاقوامی سیاسی مسائل کا تجزیہ وغیرہ۔

یہ تمام موضوعات تحقیق کے اعلیٰ معیار اور تخلیقی سوچ پر مبنی ہوتے ہیں۔ جنہیں HEC کے معیار کے مطابق پرکھا جاتا ہے۔

تحقیقی جہتیں اور شفافیت

اسوہ جرنل آف ریسرچ تحقیقاتی کاموں کو ان کی جدت، مضبوط علمی بنیاد، اور تعمیری نقطہ نظر کی بنیادپر تسلیم کرتا ہے۔ مجلہ کی پالیسی سرقہ (plagiarism) کے لیے عدم برداشت پر مبنی ہے اور اس کا مقصد ایسے مواد کی اشاعت ہے جو اقوام، مذاہب، یا نظریات کے مابین تعمیری مکالمے کو فروغ دے۔

آغاز، شمارے اور اشاعت

اسوہ جرنل آف ریسرچ نے اپنے سفر کا آغاز 2021 میں کیا اور اب تک اس کے 7 شمارے شائع ہو چکے ہیں۔ ہر شمارہ تقریباً 10 سے 15 مقالات پر مشتمل ہوتا ہے، اور اب تک کل 70 سے زائد تحقیقی مضامین اس مجلے میں شائع ہو چکے ہیں۔ یہ مقالات اپنی نوعیت کے لحاظ سے غیر مطبوعہ، اور اصل تحقیق پر مبنی ہیں۔

تحقیقی مقاصد اور اثرات

اسوہ جرنل آف ریسرچ کا بنیادی مقصد تحقیق کو ایسے انداز میں پیش کرنا ہے جو معاشرے کی ترقی اور انسانیت کی فلاح میں کردار ادا کرے۔ یہ مجلہ تخلیقی اور تنقیدی ذہن رکھنے والے محققین کو ایک ایسا پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے جہاں وہ اپنے خیالات، تجربات، اور تحقیق کو علمی اور سماجی ترقی کے لیے پیش کر سکیں۔

حرف آخر

اسوہ جرنل آف ریسرچ (UJR) آیت اللہ شیخ محسن علی نجفی 7 کے علمی وژن کی عملی تعبیر ہے۔ یہ مجلہ نہ صرف تحقیق کے معیار کو بلند کرتا ہے بلکہ پاکستان اور دنیا بھر کے محققین کے لیے ایک قابلِ اعتبار پلیٹ فارم مہیا کرتا ہے۔ اس کی اشاعت ایک ایسی علمی تحریک کی نشاندہی کرتی ہے جو تحقیق کو نہ صرف ایک تعلیمی سرگرمی بلکہ انسانیت کی خدمت کے لیے ایک ذریعہ سمجھتی ہے۔

Related Articles

Check Also
Close
Back to top button