گھروں کی تعمیر
مدینہ اہل بیت D
نادار افراد کے لیے تمام سہولتوں سے آراستہ رہائشی سکیم
مدینہ اہل بیت D، جو محسن ملت آیت اللہ شیخ محسن علی نجفی 7 کی غریب پروری کی صفت حسنہ کا عملی نمونہ ہے، 240 کنال کے وسیع رقبے پر محیط ہے۔ یہ کالونی ایک ایسی محفوظ پناہ گاہ کے طور پر قائم کی گئی جہاں مستحق اور بے سہارا خاندانوں کو رہائش، بنیادی تمام سہولتیں، اور معاشرتی تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔
تعمیرات کی تفصیل
مدینہ اہل بیت D بلتستان میں پہلی بار جدید نوعیت کی منظم ہاؤسنگ سکیم ہے جو کل 378 جدید سہولتوں سے آراستہ گھر وں پر مشتمل ہے۔ ہر گھر میں دو کمرے، باورچی خانہ، باتھ روم، اور دیگر بنیادی ضروریات شامل ہیں، تاکہ رہائشیوں کو ایک آرام دہ اور باوقار ماحول فراہم کیا جا سکے۔
اس وقت مدینہ اہل بیت میں 378 خاندان رہائش پذیر ہیں، جو اس منصوبے کی برکات سے مستفید ہو رہے ہیں۔ اس کے علاوہ، کالونی سے اب تک 403 خاندان استفادہ کر چکے ہیں، جن میں سے کئی خاندان اس کالونی کی سہولیات سے استفادہ کر کے اور اپنی آمدن کو محفوظ بناتے ہوئے خود کفیل ہو کر اپنی زندگیوں کو بہتر بنانے میں کامیاب ہوچکے ہیں۔
کالونی میں معیار زندگی
مدینہ اہل بیت Dکالونی میں رہائش پذیر خاندانوں کی زندگی میں مثبت تبدیلیاں دیکھنے کو ملی ہیں، جو محسن ملت آیت اللہ شیخ محسن علی نجفی 7 کی فکر اور خدمات کا عملی ثبوت ہیں۔ یہاں کے رہائشیوں کو نہ صرف محفوظ اور معیاری رہائش فراہم کی گئی ہے بلکہ ان کی زندگی کے مختلف پہلوؤں کو بہتر بنانے پر بھی خصوصی توجہ دی گئی ہے۔
کالونی کے رہائشی خاندانوں کو معیاری زندگی فراہم کرنے کے لیے مختلف سہولتیں مہیا کی گئی ہیں۔ ان میں صاف پانی، صحت کی سہولیات، معیاری خوراک، بچوں کے لیے دینیات سینٹرز، مسائل شرعیہ کی تعلیم، اور فری بجلی شامل ہیں۔ یہاں رہنے والے افراد کو بچوں کی تعلیم کے لیے بہترین تعلیمی ادارے مہیا کیے گئے ہیں، جو ان کی تربیت اور ترقی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
فوڈ سپلائی اور معاشی استحکام
محسن ملت آیت اللہ شیخ محسن علی نجفی 7 کی زیر قیادت اور ان کے فلاحی ویژن کے زیر اثر مدینہ اہل بیت کالونی میں رہائشیوں کو خوراک کی فراہمی اور معاشی استحکام کے لیے ایک منظم اور مؤثر نظام قائم کیا گیا ہے۔
کھانے کی فراہمی کا نظام
کالونی میں رہائشیوں کے لیے دن میں دو مرتبہ کھانا فراہم کی اجاتا ہے۔ دوپہر اور شام کے کھانے کے لیے تندور پر روٹی تیار کی جاتی ہے، اور ہر خاندان کو ان کے افراد کی تعداد کے مطابق ٹوکن فراہم کیا جاتا ہے، جس کے ذریعے روٹی تقسیم کی جاتی ہے۔ ناشتے کے لیے تمام رہائشی خاندانوں کو آٹا مہیا کیا جاتا ہے، تاکہ وہ اپنی ضروریات خود پوری کر سکیں۔
راشن کی تقسیم کا نظام
رہائشی خاندانوں کو مستقل بنیادوں پر راشن اور خوراک کی امداد فراہم کی جاتی ہے۔ روزانہ کے کھانے کے علاو ہ، رمضان المبارک کے دوران تمام مکینوں کو افطار پیکج اور خصوصی راشن فراہم کیا جاتا ہے۔ ورلڈ فیڈریشن کی طرف سے ہر ماہ 100 مستحق خاندانوں کے لیے راشن کا انتظام بھی کیا جاتا ہے۔
راشن کی تقسیم کو منظم اور منصفانہ رکھنے کے لیے ایک مربوط نظام قائم کیا گیا ہے۔
اجتماعی راشن: اجتماعی راشن تمام گھرانوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔
کٹیگریز کے مطابق تقسیم: اگر راشن محدود ہو، تو اسے درج ذیل کٹیگریز میں تقسیم کیا جاتا ہے:
کٹیگری A: بیوہ، یتیم، اور معذور افراد کو اولین ترجیح دی جاتی ہے۔
کٹیگری B: مزدور طبقے کو اس کے بعد راشن دیا جاتا ہے۔
کٹیگری C: دیگر رہائشیوں کو آخر میں فراہم کیا جاتا ہے۔
کمیونٹی کچن کا نظام
کالونی میں ایک کمیونٹی کچن بھی موجود ہے، جہاں محرم الحرام اور رمضان المبارک جیسے مواقع پر خصوصی کھانے تیار کیے جاتے ہیں۔ روزانہ تقریباً 300 کلو چاول سے 13 دیگوں پر مشتمل بہترین بریانی تیار کی جاتی ہے، جو بعد میں تمام گھرانوں میں ٹوکن کے ذریعے تقسیم کی جاتی ہے۔ یہ کچن اجتماعی تقریبات اور خاص مناسبتوں پر رہائشیوں کو اعلیٰ معیار کا کھانا فراہم کرتا ہے۔
صاف پانی کے منصوبے: کالونی میں صاف پانی کی فراہمی کے لیے اہم منصوبے مکمل کیے گئے ہیں، جن میں سات بورنگ پمپس کے لیے سولر سسٹم کی تنصیب، پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے لیے فلٹریشن پلانٹ کا قیام، اور فیز 3 اور فیز 4 کے لیے الگ الگ واٹر ٹینکیوں کی تعمیر شامل ہیں۔
تعلیم: مدینہ اہل بیت کالونی کی ترجیح
مدینہ اہل بیت کالونی میں بچوں کی تعلیم کے لیے خصوصی اور منظم اقدامات کیے گئے ہیں، جو پہلے یہاں موجود نہیں تھے۔ ان اقدامات کا مقصد بچوں کو معیاری تعلیم کے ساتھ اخلاقی اور سماجی تربیت فراہم کرنا ہے تاکہ وہ مستقبل میں معاشرے کے کارآمد افراد بن سکیں۔
تعلیمی نظام کی بہتری کے لیے اقدامات
کالونی میں بچوں کی تعلیم کے لیے اسوہ ایجوکیشن سسٹم کے تحت درج ذیل اقدامات کیے گئے ہیں:
ای سی ڈی (ECD) سیکشن: بچوں کی ابتدائی تعلیم کے لیے ایک الگ سیکشن قائم کیا گیا ہے۔
گرلز اور بوائز سیکشن: لڑکوں اور لڑکیوں کے لیے الگ الگ اسکول قائم کیے گئے ہیں۔
اساتذہ کی کلاس آبزرویشن: اساتذہ کی تدریسی صلاحیتوں کا جائزہ لینے کے لیے کلاس آبزرویشن کا نظام موجود ہے۔
کاپیوں اور پیپرز کی چیکنگ: تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کے لیے طلباء کی کاپیوں اور پیپرز کی کاؤنٹر چیکنگ کا سلسلہ بھی موجود ہے۔
والدین-اساتذہ ملاقاتیں (PTM): بچوں کی تعلیمی پیشرفت پر تبادلہ خیال کے لیے والدین اور اساتذہ کی ملاقاتوں کا انعقاد بھی ہوتا ہے۔
ماہانہ ٹیسٹ: طلباء کی تعلیمی پیشرفت کو جانچنے کے لیے با قاعدگی سے ماہانہ ٹیسٹ منعقد کیے جاتے ہیں۔
سپورٹس گالا اور نمائش: بچوں کی جسمانی نشوونما اور تخلیقی صلاحیتوں کو بڑھانے کے لیے سالانہ کھیلوں کے مقابلے اور نمائشوں کا اہتمام کیا جاتا ہے۔
اساتذہ اور طلباء کے لیے تربیتی سیشنز: تعلیمی ماحول کو بہتر بنانے کے لیے خصوصی سیشنز کا انعقاد ہوتا ہے۔
اچانک دورے: تعلیم کے معیار کو برقرار رکھنے کے لیے UDT کی طرف سے اچانک دورے بھی کیے جاتے ہیں۔
تعلیمی سہولیات : کالونی میں گرلز اور بوائز اسکول قائم کیے گئے ہیں، جہاں نرسری سے لے کر نویں جماعت تک تعلیم دی جاتی ہے۔ یہاں اس وقت 671 طلباء و طالبات زیر تعلیم ہیں، جنہیں وردی، کتابیں، کاپیاں، اور جوتے ورلڈ فیڈریشن کی جانب سے بلا معاوضہ فراہم کیے جاتے ہیں، جبکہ اساتذہ کی تنخواہیں ادارہ برداشت کرتا ہے۔
تعلیمی نتائج: یہاں کے طلباء نے شاندار تعلیمی نتائج حاصل کیے ہیں۔ پچھلے سال اسوہ گرلز اسکول کا نتیجہ 92 فیصد جبکہ اسوہ بوائز اسکول کا نتیجہ 96 فیصد رہا، جو اس تعلیمی نظام کی کامیابی کا مظہر ہے۔
تعلیمی مضامین: مدینہ اہل بیت کے تعلیمی اداروں میں مختلف تعلیمی مضامین کی تدریس کی جاتی ہے، جن میں جدید اور روایتی علوم کا بہترین امتزاج شامل ہے۔ یہ ادارے نہ صرف تعلیمی معیار کو بلند کرنے کی کوشش کرتے ہیں بلکہ طلبہ کو عملی زندگی کے لیے بھی تیار کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ، اسلامی تعلیمات اور اہل بیت Dکے عقائد پر بھی خصوصی توجہ دی جاتی ہے تاکہ بچوں کی اخلاقی تربیت بھی ہو سکے۔ مدینہ اہل بیت کے اسکولوں کا نصاب نیشنل فاؤنڈیشن کا تیار کردہ قومی نصاب، تعلیمات اہل بیتD اور اخلاقی تربیت پر مشتمل ہے۔
تعلیمی کامیابیاں
آغاز سے لے کے اب 2418 بچے یہاں سے اپنی تعلیم مکمل کر چکے ہیں۔ ان بچوں نے نمایاں تعلیمی کامیابیاں حاصل کی ہیں، جن میں آل بلتستان بورڈ کے سالانہ امتحانات میں اول پوزیشن حاصل کرنا شامل ہے۔ حال ہی میں مہرین بنت خورشید، جو کلاس ششم کی طالبہ ہیں، نے کیڈٹ کالج علی ٹرسٹ میں داخلہ کا ٹیسٹ کامیابی سے پاس کیا، جو اس کالونی کے تعلیمی معیار کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
نمایاں افراد اور کامیابیاں
مدینہ اہل بیت کالونی کے رہائشیوں نے مختلف شعبوں میں قابلِ فخر کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ دو ڈاکٹرز، تین آرمی کلرکس، اکیس پاک نیوی کے افسران، اور تینتالیس جی بی سکاوٹس اس کالونی کا سرمایہ ہیں۔ اس کے علاوہ ایک سرکاری فی میل استاد، پانچ پولیس اہلکار، چار اسٹیٹ لائف ایریا منیجرز، اور دیگر محکموں میں خدمات انجام دینے والے افراد نے اپنی محنت سے نمایاں مقام حاصل کیا۔
صحت کی سہولیات
مدینہ اہل بیت کالونی میں صحت کی سہولیات کو مکینوں کے لیے ایک اہم ترجیح کے طور پر قائم کیا گیا ہے۔ ان سہولیات کا مقصد رہائشیوں کو بنیادی صحت کی دیکھ بھال فراہم کرنا اور ان کے لیے صحت مند زندگی کی راہ ہموار کرنا ہے۔
ڈسپنسریاں اور دستیاب سہولیات
کالونی میں دو ڈسپنسریاں موجود ہیں جو مکینوں کو صحت کی بنیادی سہولیات فراہم کرتی ہیں۔ گورنمنٹ ڈسپنسری میں ایک ڈسپنسر موجود ہے جو ماہانہ بنیادوں پر دوائیاں فراہم کرتا ہے، اور یہاں تمام عام بیماریوں کے علاج کی سہولت دستیاب ہے۔ دوسری جانب، حاجی علی خان نادم میموریل ٹرسٹ ڈسپنسری معروف ڈاکٹر مہدی علی صاحب کے والد کے نام سے قائم کی گئی ہے، جہاں روزانہ شام 4 بجے سے 5 بجے تک فری چیک اپ اور ضروری دوائیاں فراہم کی جاتی ہیں۔ اس ڈسپنسری کا بنیادی مقصد مستحق افراد کو صحت کی مفت سہولیات مہیا کرنا ہے۔
دیگر سہولیات
فیملی پلاننگ دفتر: پاپولیشن ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے ایک دفتر قائم کیا گیا ہے، جہاں فیملی پلاننگ کے مشورے اور صحت سے متعلق آگاہی فراہم کی جاتی ہے۔
میڈیکل کیمپس : کالونی میں اب تک 30 سے زائد فری میڈیکل کیمپس کا انعقاد کیا جا چکا ہے، جن میں مختلف امراض کے علاج کے لیے خصوصی کیمپس شامل ہیں۔ معرفی فاؤنڈیشن کی جانب سے کئی کیمپس لگائے گئے، جبکہ ٹی بی کے علاج کے لیے تین اور آنکھوں کی بیماریوں کے لیے چار بار آئی کیمپس منعقد کیے گئے، جنہوں نے مکینوں کی صحت کے مسائل میں بہت اہم کردار ادا کیا۔ محدود وسائل کے باوجود بنیادی ادویات اور علاج کی سہولت مہیا کی جاتی ہے، جس سے مکینوں کو کافی حد تک ریلیف ملتا ہے۔
مدینہ اہل بیت کے رہائشیوں کے لیے شرائط و ضوابط
مدینہ اہل بیت کالونی میں رہائش حاصل کرنے کے لیے مخصوص شرائط اور ضوابط پر عمل کرنا لازمی ہے، تاکہ کالونی کا نظم و ضبط برقرار رہے اور مستحق افراد کو ان کا حق دیا جا سکے۔ یہ ضوابط محسن ملت شیخ محسن علی نجفی 7 کے وژن کے تحت تشکیل دیے گئے ہیں، جو اہل بیتD کی تعلیمات کے مطابق انسانیت کی خدمت کا عزم رکھتے تھے۔
رہائش حاصل کرنے کی شرائط
مدینہ اہل بیت میں رہائش حاصل کرنے کے لیے گلگت بلتستان کا رہائشی ہونا ضروری ہے، اور درخواست دہندہ کا غریب، بیوہ، یتیم، معذور، یا نادار ہونا لازمی ہے۔ درخواست فارم مدینہ اہل بیت کے دفتر سے حاصل کیا جاتا ہے، جسے مکمل کرنے کے بعد مقامی دو معتبر علمائے دین سے تصدیق کروائی جاتی ہے۔ دسمبر میں ایک خصوصی ٹیم درخواست دہندہ کے علاقے کا دورہ کرتی ہے اور امام جمعہ و دیگر معززین کی تصدیق کے بعد درخواست منظور کی جاتی ہے۔ اس طریقہ کار میں تمام مراحل، بشمول فارم جمع کروانے، تصدیق، اور تحقیق، کو با قاعدگی سے مکمل کیا جاتا ہے۔
تبلیغی سرگرمیاں
کالونی میں دین کی تبلیغ اور لوگوں کے روحانی شعور کو بلند کرنے کے لیے منظم اقدامات کیے گئے ہیں:
نماز باجماعت: تین وقت نماز باجماعت کا مستقل اہتمام۔
نماز کے بعد دروس: شرعی عقائد اور احکام پر مختصر دروس۔
دینیات سنٹر: بچوں اور بچیوں کو قرآن پاک، قرآنی قائدے، اور اسلامی تعلیمات سکھانے کے لیے خصوصی مراکز۔
عقائد و اخلاق کی کلاسز: قرآن مکمل کرنے والے بچوں کے لیے عقائد اور اخلاقیات کی خصوصی تربیت۔
دعائیہ اجتماعات: دعائے کمیل، دعائے توسل، اور دیگر دعاؤں کا باقاعدہ اہتمام۔
مجالس اور محافل: دینی مناسبتوں پر خصوصی مجالس اور محافل کا انعقاد۔
عوامی تاثرات
مدینہ اہل بیت کالونی کے پروجیکٹس نے نہ صرف یہاں کے مکینوں بلکہ وسیع تر کمیونٹی پر بھی مثبت اثرات ڈالے ہیں۔مستفید ہونے والے عوام محسن ملت کو دعائیں دیتے ہیں۔ یہ تاثرات ان کی بے لوث خدمت، غریبوں کے لیے شفقت، اور فلاحی کاموں کے عزم کی عکاسی کرتے ہیں۔
ایک مکین کی داستان
میں، غلام مرتضیٰ ربانی، 2005 میں اپنے والدین کے ہمراہ مدینہ اہل البیت کالونی میں منتقل ہوا۔ اس سے پہلے ہماری زندگی نہایت مشکل حالات سے گزر رہی تھی۔ کارگل جنگ کے بعد ہمارا خاندان بے گھر ہوا، اور ہم نے سکردو میں پناہ لی۔ وہاں ہمیں نہ مناسب رہائش میسر تھی اور نہ ہی زندگی کی بنیادی ضروریات۔ غربت کے باعث والد صاحب کا کام کرنا مشکل تھا اور وہ اکثر بیمار رہتے تھے۔ فطرہ اور چندے پر گزر بسر ہو رہی تھی، اور ہم ایک وقت کے کھانے کو ترس جاتے تھے۔
اسی دوران کسی نے ہمیں بتایا کہ مدینہ اہل البیت کالونی نامی ایک جگہ ہے، جہاں غریبوں کو مفت رہائش، بچوں کی تعلیم، اور دیگر سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔ ہم نے فوراً اس موقع سے فائدہ اٹھانے کی ٹھانی۔ فارم پر کرکے آفس میں جمع کرایا، اور چند دن کے اندر ہمیں مستحق قرار دے کر مدینہ اہل البیت میں رہائش فراہم کی گئی۔ جب ہمیں کوارٹر نمبر 45 الاٹ کیا گیا، تو ہماری خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا۔ صاف ستھرا گھر اور ایک ایسا ماحول جہاں علماء کرام کی رہنمائی تھی، ہمیں لگا جیسے ہماری زندگی بدل گئی ہو۔
میں سوچنے لگا کہ یہ ادارہ کس عظیم شخصیت کی دین ہے۔ بعد میں معلوم ہوا کہ یہ محسن ملت مفسر القرآن علامہ شیخ محسن علی نجفی7 اور الحاج میثم کاظم الکویتی دام عزہ کی عظیم خدمت ہے۔ یہ دونوں شخصیات غریبوں، یتیموں اور بیواؤں کا سہارا بنی ہوئی تھیں۔ ان کی بدولت ہمیں نہ صرف عزت کی زندگی ملی بلکہ ہم خود انحصاری کی طرف بھی بڑھے۔
مدینہ اہل البیت میں ہمیں ہر وہ سہولت ملی جس کی ہمیں ضرورت تھی، اور اس کے بدلے ہماری عزتِ نفس کو بھی ٹھیس نہ پہنچی۔ والد صاحب کو ادارے میں پانی سپلائی کرنے کا کام ملا، اور میں نے اپنی پڑھائی کے ساتھ ساتھ محنت مزدوری بھی شروع کی۔ چونکہ ضروریاتِ زندگی ادارے کی طرف سے فراہم ہوتی تھیں، ہم اپنی آمدنی کا بڑا حصہ بچا سکتے تھے۔ اس بچت کی مدد سے ہم نے سکردو میں زمین خریدی اور اپنا گھر تعمیر کیا۔ جب گھر کی تعمیر میں مالی مشکلات آئیں، تو میں نے حجۃ الاسلام والمسلمین علامہ شیخ انور علی نجفی دام عزہ سے مدد کی درخواست کی، جو انہوں نے بخوشی قبول کی۔
2013 میں مجھے اسی ادارے میں ملازمت ملی، اور یوں مجھے بھی خدمت کرنے کا موقع ملا۔ آج 2024 تک، تقریباً بارہ سال ہو گئے ہیں، اور جتنا بھی اس ادارے کی خدمت کروں، محسن ملت کے احسانات کا حق ادا نہیں کر سکتا۔ یہ انہی کی غریب پروری اور محبت کا نتیجہ ہے کہ آج میں ایک با عزت زندگی گزار رہا ہوں۔
میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ محسن ملت کے درجات بلند فرمائے، اور الحاج میثم کاظم الکویتی، علامہ شیخ انور علی نجفی، علامہ شیخ محمد اسحاق نجفی اور دیگر ڈونرز کو سلامت رکھے۔ اللہ ان کی توفیقات خیر میں اضافہ کرے۔ آمین۔