اوصاف و کمالات

شیخ محسن علی نجفی7 کاغلطیوں پر متوازن رویہ

شیخ محسن علی نجفی7 کا ایک اور اہم اصول یہ تھا کہ غلطیوں پر فوری سخت رویہ اپنانے کے بجائے ان کی نوعیت کو سمجھنے کی کوشش کرتے۔ آپ ماتحتوں کی غلطیوں کو ان کی نیت کے مطابق پرکھتے تھے اور یہ جاننے کی کوشش کرتے کہ غلطی عمداً کی گئی ہے یا سہواً۔ آپ ہمیشہ ایسے رویے اختیار کرتے جو غلطی کرنے والے کے اعتماد کو مجروح نہ کریں بلکہ اسے بہتر بنانے کی ترغیب دیں۔

شیخ محسن علی نجفی7 سختی کو صرف قوانین تک محدود رکھتے تھے، اپنے رویے میں نہیں۔ آپ کا عقیدہ تھا کہ قوانین مؤثر تبھی ہوتے ہیں جب انہیں سب پر یکساں لاگو کیا جائے اور یہ اصول سختی سے نافذ ہوں، مگر ان کی تطبیق میں نرمی کا دامن نہ چھوڑا جائے۔

نرمی کے اثرات اور شیخ محسن علی نجفی7 کی مدیریت

شیخ محسن علی نجفی7 کے نزدیک مدیریت کی کامیابی کا راز نرمی اور خوش اخلاقی میں پوشیدہ ہے۔ آپ جانتے تھے کہ تند مزاجی اور غیر ضروری سختیاں نہ صرف ماحول کو خراب کرتی ہیں بلکہ مسائل کو بڑھاتی ہیں۔ آپ نے اپنی عملی زندگی میں یہ ثابت کیا کہ محبت اور احترام کے ذریعے جو کام لیا جا سکتا ہے، وہ سختی سے ممکن نہیں۔

آپ کا ماننا تھا کہ تند مزاجی وقتی طور پر کام کی رفتار بڑھا سکتی ہے، مگر اس سے معیار پر منفی اثر پڑتا ہے اور لوگ مقررہ وقت سے زیادہ کام کرنے پر آمادہ نہیں ہوتے۔ شیخ محسن علی نجفی7 کی نرم گفتاری اور کشادہ روی نے نہ صرف افراد کی کارکردگی میں اضافہ کیا بلکہ ادارے کے مجموعی ماحول کو بھی خوشگوار بنایا۔

مولائے کائنات کے فرمان کے مطابق:

”محبت اور احترام کے ساتھ لیا گیا کام ہمیشہ دیرپا اور نتیجہ خیز ہوتا ہے، جبکہ سختی صرف وقتی اثر ڈال سکتی ہے۔“

شیخ محسن علی نجفی7 اس اصول کا جیتا جاگتا نمونہ تھے، جنہوں نے محبت، نرمی، اور حکمت عملی کے ذریعے اپنی مدیریت کو کامیابی کی اعلیٰ مثال بنایا۔

خود پسندی سے پاک

شیخ محسن علی نجفی7 ایک مثالی مدیر تھے، جنہوں نے خود پسندی جیسی اخلاقی کمزوری سے نہ صرف اپنی ذات کو محفوظ رکھا بلکہ اپنے ماتحتوں کو بھی اس سے بچنے کی تاکید کی۔ آپ خود پسندی کے اثرات اور اس کے نقصانات کو ہمیشہ پیشِ نظر رکھتے تھے، کیونکہ آپ اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ خود پسندی ادارے کی پیش رفت کے لیے ایک سنگین رکاوٹ بن سکتی ہے۔

آپ کے مطابق، خود پسندی انسان کی شخصیت میں خامیوں کو چھپانے اور خوبیوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کا باعث بنتی ہے، جو بالآخر ادارتی ماحول کو نقصان پہنچاتی ہے۔ جب کسی مدیر میں یہ صفت پیدا ہوتی ہے تو ماتحت افراد اپنی کارکردگی کے بجائے مدیر کی تعریف و خوشامد کو اہمیت دینے لگتے ہیں، جو ادارے کے مقاصد کے حصول میں رکاوٹ بن جاتی ہیں۔

امیرالمومنینG کے فرمان کی روشنی میں مدیریت

شیخ محسن علی نجفی7 نے مدیریت کے دوران ہمیشہ امیرالمومنین حضرت علیG کے اس فرمان کو اپنے اصولوں کی بنیاد بنایا:

وَ اِیَّاكَ وَ الْاِعْجَابَ بِنَفْسِكَ وَ الثِّقَةَ بِمَا یُعْجِبُكَ مِنْهَا وَ حُبَّ الْاِطْرَآءِ۔

خود پسندی سے بچتے رہو، اور اپنی اچھی باتوں پر نہ اتراؤ، نہ ہی لوگوں کی خوشامدی اور مبالغہ آمیز تعریف کو پسند کرو۔

آپ اس فرمان کے عملی مصداق تھے، جو یہ باور کراتے تھے کہ مدیر کو اپنی ذات کی تعریف و توصیف پر انحصار کرنے کے بجائے اپنے اعمال اور ادارے کے مجموعی نتائج پر توجہ مرکوز رکھنی چاہیے۔ یہ اصول آپ کے ماتحتوں کے لیے ہمیشہ مشعلِ راہ رہا کہ کامیابی صرف عاجزی اور دیانت داری کے ذریعے حاصل کی جا سکتی ہے۔

خود پسندی کے نقصانات

شیخ محسن علی نجفی7 کے مطابق، خود پسندی مدیر کو حقیقت پسندی سے دور کر دیتی ہے۔ یہ رویہ ادارے میں خوشامدی کلچر کو فروغ دیتا ہے،۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ادارے کی مجموعی کارکردگی متاثر ہوتی ہے اور ترقی کا عمل رک جاتا ہے۔

آپ کا ماننا تھا کہ تعریف کے اصل مستحق وہ اعمال ہیں جو ادارے کی ترقی اور افراد کی حقیقی کارکردگی کی عکاسی کرتے ہیں۔

اچھے اور برے میں تمیز: ایک عظیم مدیر کی حکمت عملی

شیخ محسن علی نجفی7 ان مدیران میں شامل تھے جو کام کرنے اور نہ کرنے والے افراد کی کارکردگی میں واضح فرق کو سمجھتے تھے اور انہی بنیادوں پر فیصلے کرتے تھے۔ آپ کا ایمان تھا کہ بیکار اور کام چور افراد کبھی ان لوگوں کے برابر نہیں ہو سکتے جو اپنی محنت اور لگن سے اداروں کو ترقی کی منازل تک پہنچاتے ہیں۔

خدمات کو سراہنے کا منصفانہ اصول

شیخ صاحب ہمیشہ کارکردگی کی بنیاد پر افراد کو انعام و اکرام سے نوازتے تھے۔ آپ کبھی صرف زبانی تعریفوں یا خوشامد سے متاثر نہیں ہوتے تھے۔ آپ کے فیصلے مشاہدے اور تحقیق پر مبنی ہوتے تھے، اور آپ ذاتی طور پر معلوم کرتے تھے کہ کون اپنے کام میں مخلص ہے اور کون دو نمبری یا دکھاوے کے ذریعے آگے بڑھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہی وجہ تھی کہ کام چور افراد آپ کے قریب آنے کی ہمت نہیں کرتے تھے، جبکہ محنتی اور مخلص افراد آپ کے اعتماد کا مرکز بن جاتے تھے۔

اچھے اور برے میں فرق ختم ہونے کا نقصان

شیخ محسن علی نجفی7 کا یہ اصول ان مدیران سے مختلف تھا جو صرف باتیں کرنے والوں کو اہمیت دیتے ہیں اور اپنے اردگرد ایسے افراد کا حلقہ بنا لیتے ہیں جو صرف lip service کے ذریعے ان کا اعتماد حاصل کرتے ہیں۔ ایسے رویے اداروں کی تباہی کا سبب بنتے ہیں کیونکہ جب اچھے اور برے میں فرق مٹ جائے تو نیک لوگ اپنی نیکی سے مایوس ہو جاتے ہیں اور بد کرداروں کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔

امیرالمومنینG کے فرمان کا عملی اطلاق

شیخ صاحب کی زندگی میں کامیابی کا راز یہی تھا کہ آپ امیرالمومنین حضرت علیG کے اس فرمان کو اپنی مدیریت کے بنیادی اصول کے طور پر اپناتے تھے:

وَ لَا یَكُوْنَنَّ الْمُحْسِنُ وَ الْمُسِیْٓ‏ءُ عِنْدَكَ بِمَنْزِلَةٍ سَوَآءٍ، فَاِنَّ فِیْ ذٰلِكَ تَزْهِیْدًا لِّاَهْلِ الْاِحْسَانِ فِی الْاِحْسَانِ، وَ تَدْرِیْبًا لِّاَهْلِ الْاِسَآءَةِ عَلَى الْاِسَآءَةِ، وَ اَلْزِمْ كُلًّا مِّنْهُمْ مَاۤ اَلْزَمَ نَفْسَهٗ۔

اور تمہارے نزدیک نیکو کار اور بدکردار دونوں برابر نہ ہوں۔ اس لئے کہ ایسا کرنے سے نیکوں کو نیکی سے بے رغبت کرنا اور بدوں کو بدی پر آمادہ کرنا ہے۔ ہر شخص کو اسی کی منزلت پر رکھو جس کا وہ مستحق ہے۔

آپ ہمیشہ اس اصول پر عمل پیرا رہے کہ ہر شخص کو اس کے کردار اور کام کی بنیاد پر پرکھا جائے۔ یہی وجہ تھی کہ شیخ صاحب کی زیر مدیریت کوئی بھی ادارہ زوال پذیر نہ ہوا، بلکہ ہمیشہ کامیابی کی راہ پر گامزن رہا۔

خداداد بصیرت اور اصول پسندی کا پیکر

شیخ محسن علی نجفی7 ایک ایسے باکمال اور عدل و انصاف کے پیکر مدیر تھے جنہوں نے اپنی مدیریت میں ہمیشہ محنت، دیانت اور حقیقی کارکردگی کو اہمیت دی۔ آپ کا یہ اصول تھا کہ جو انسان حقیقی کام کرتا ہے، اسی کو اس کا کریڈٹ دیا جائے اور کسی دوسرے کے کھاتے میں اس کے کارنامے ڈالنے کی کوئی گنجائش نہ ہو۔ آپ کبھی بھی صاحبِ حق کو محروم نہیں رکھتے تھے اور جانتے تھے کہ وقت کے ساتھ ہر فرد کی کارکردگی سامنے آجاتی ہے۔

جھوٹ اور تصنع کو بے نقاب کرنے کی صلاحیت

شیخ صاحب میں خداداد بصیرت تھی، جس کی بنیاد پر وہ فوراً پہچان لیتے تھے کہ کون جھوٹ یا دھوکہ دہی کا سہارا لے رہا ہے۔ جو شخص غلط بیانی سے اپنا مقام بنانے کی کوشش کرتا، آپ اس کے جھوٹ کو نہ صرف بے نقاب کرتے بلکہ ایسے افراد کو دوبارہ موقع دینے کے بھی قائل نہیں تھے۔ آپ ہمیشہ فرماتے:

”آپ کی کارکردگی آپ کی پہچان ہونی چاہیے، نہ کہ جھوٹے دعوے یا بناوٹی القابات۔“

قدر شناسی اور حوصلہ افزائی کا جذبہ

شیخ محسن علی نجفی7 قدر شناس مدیر تھے۔ آپ ہمیشہ ان افراد کو یاد رکھتے تھے جو خلوص نیت اور محنت کے ساتھ اپنا کام انجام دیتے تھے۔ آپ نہ صرف ان کی خدمات کو سراہتے بلکہ مشکل وقت میں ان کا ساتھ بھی دیتے تھے۔ آپ کی یہ صفت ایسے افراد کی مزید حوصلہ افزائی کا باعث بنتی تھی، اور وہ پہلے سے بہتر کارکردگی دکھانے کے لیے مزید پر عزم ہوجاتے تھے۔

اصول پسند طبیعت

شیخ صاحب کی اصول پسندی کی وجہ سے فراڈی اور نکمے افراد آپ کی قربت میں زیادہ دیر تک نہیں رہ سکتے تھے۔ آپ کے اردگرد ہمیشہ وہی لوگ نظر آتے تھے جو کام کو فوقیت دیتے تھے اور جو جھوٹے دعووں کے بجائے عملی نتائج پیش کرتے تھے۔

امیرالمومنینG کا فرمان: مدیریت کا مرکز

شیخ محسن علی نجفی7 اپنے مولا، امیرالمومنین حضرت علیG کے اس فرمان کو مدیریت کی روح اور بنیاد سمجھتے تھے:

اعْرِفْ لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ مَاۤ اَبْلٰى وَ لَا تُضِیْفَنَّ بَلَآءَ امْرِئٍ اِلٰى غَیْرِهٖ، وَ لَا تُقَصِّرَنَّ بِهٖ دُوْنَ غَایَةِ بَلَآئِهٖ،

جو شخص جس کارنامے کو انجام دے اسے پہچانتے رہنا، اور ایک کا کارنامہ دوسرے کی طرف منسوب نہ کر دینا، اور اس کی حسن کارکردگی کا صلہ دینے میں کمی نہ کرنا۔

یہی اصول شیخ صاحب کی کامیابی کا راز تھا۔ آپ ہمیشہ یہ یقینی بناتے تھے کہ ہر شخص کو اس کی محنت کا پورا صلہ ملے، اور کسی دوسرے کے کھاتے میں اس کا حق نہ جائے۔

احسان نہ جتانے کا اصول اور احترامِ انسانیت کا عملی نمونہ

شیخ محسن علی نجفی7 کی شخصیت احترام انسانیت، خلوص، اور بے لوث خدمت کی اعلیٰ مثال تھی۔ شیخ محسن علی نجفی7 کی کامیاب زندگی اور مدیریت کا ایک نمایاں اور اہم اصول یہ تھا کہ جو بھی نیکی یا خدمت انجام دی جائے، اسے احسان جتانے کا ذریعہ نہ بنایا جائے۔۔ آپ ہمیشہ انعامات اور خدمات صرف استحقاق کی بنیاد پر دیتے تھے اور کسی بھی صورت میں احسان جتانے کو انسانیت کے احترام کے منافی سمجھتے تھے۔ آپ کا یہ اخلاقی اور اصولی طرزِ عمل خدمتِ خلق کے بہترین تصور کی عملی تصویر تھا، جو انسانوں کے وقار اور عزت نفس کو محفوظ رکھتا ہے۔

احسان جتانے سے اجتناب: قرآنی تعلیمات کی روشنی

شیخ صاحب ہمیشہ قرآن مجید کی اس آیت کو دہراتے تھے:

قَوْلٌ مَعْرُوفٌ وَمَغْفِرَةٌ خَيْرٌ مِّن صَدَقَةٍ يَتْبَعُهَا أَذًى

اچھی بات کرنا اس خیرات سے بہتر ہے جس کے بعد احسان جتایا جائے۔

آپ فرماتے تھے کہ کسی کو کچھ دینے کے بعد اسے نہ یاد رکھا جائے اور نہ ہی کسی کو یاد دلایا جائے۔ آپ دوسروں کو بھی یہی نصیحت کرتے تھے کہ کسی پر کی گئی نیکی کو دل سے فراموش کر دیں تاکہ اس شخص کی عزت نفس پر کوئی حرف نہ آئے۔

انسانیت کا احترام اور مدد کا معیار

شیخ محسن علی نجفی7 ہمیشہ انسانیت کے احترام کو مقدم رکھتے تھے۔ آپ کے نزدیک کوئی کبھی ایسا عمل جو کسی کی عزت نفس کو مجروح کرے، قبیح اور غیر اخلاقی تھا۔ یہی وجہ تھی کہ آپ کی خدمت کا دائرہ صرف مدد فراہم کرنے تک محدود نہ تھا بلکہ آپ اس بات کا بھی خیال رکھتے تھے کہ مدد کرنے کے دوران اور بعد میں انسان کی عزت محفوظ رہے۔

آپ کی شخصیت کا یہ پہلو لوگوں کے دلوں میں آپ کے لیے خاص محبت اور اعتماد کا سبب تھا۔ ضرورت مند افراد مشکل وقت میں آپ کے پاس اس یقین کے ساتھ آتے تھے کہ آپ ان کی مدد کریں گے اور ان کے وقار کا تحفظ کریں گے۔

احسان جتانے کا نقصان

آج کے دور میں اکثر لوگ تھوڑی سی مدد کے بعد اسے اتنا بڑا احسان جتاتے ہیں کہ جس پر یہ احسان کیا گیا ہو، وہ یہ تمنا کرتا ہے کہ کاش اسے وہ مدد ملی ہی نہ ہوتی۔ شیخ صاحب ایسے رویوں کے سخت مخالف تھے اور سمجھتے تھے کہ ایسی مدد نہ صرف انسان کی عزت نفس کو ٹھیس پہنچاتی ہے بلکہ اس کے لیے مشکلات کا ایک نیا دروازہ بھی کھول دیتی ہے۔

معصومینD کی سیرت سے رہنمائی

شیخ محسن علی نجفی7 معصومینD کی تعلیمات سے گہرے طور پر متاثر تھے۔ آپ کو ان کی سیرت اور اصولوں کا بھرپور علم تھا، اور آپ نے ان کی روشنی میں اپنی مدیریت کو استوار کیا۔ آپ امیرالمومنین حضرت علیG کے اس فرمان کو اپنی زندگی اور رہنمائی کے اصول کے طور پر اپنائے ہوئے تھے:

وَ اِیَّاكَ وَ الْمَنَّ عَلٰى رَعِیَّتِكَ بِاِحْسَانِكَ، اَوِ التَّزَیُّدَ فِیْمَا كَانَ مِنْ فِعْلِكَ، اَوْ اَنْ تَعِدَهُمْ فَتُتْبِـعَ مَوْعِدَكَ بِخُلْفِكَ

اور رعایا کے ساتھ نیکی کر کے کبھی احسان نہ جتانا، اور جو اُن کے ساتھ حسن سلوک کرنا اسے زیادہ نہ سمجھنا، اور ان سے وعدہ کر کے بعد میں وعدہ خلافی نہ کرنا۔

شیخ صاحب کی عملی مثال

آپ ہمیشہ اس بات پر عمل کرتے تھے کہ نیکی یا خدمت کے بدلے انسان کو ذلت یا شرمندگی کا سامنا نہ ہو۔ آپ کے حسنِ اخلاق نے ایسے اصول قائم کیے جنہوں نے خدمت کو ایک اعلیٰ انسانی اور اخلاقی معیار تک پہنچا دیا۔ یہی وجہ تھی کہ آپ کے قریب آنے والے افراد آپ پر مکمل اعتماد کرتے اور اپنی مشکلات کے حل کے لیے آپ کو اپنی آخری امید سمجھتے تھے۔

با صلاحیت افراد کا انتخاب: کامیابی کی کلید

شیخ محسن علی نجفی7 کے نزدیک کسی بھی ادارے کی کامیابی کا انحصار اس کے افراد کے درست انتخاب پر ہوتا ہے۔ آپ کے خیال میں ایک مضبوط اور پائیدار ادارے کی بنیاد وہ افراد ہیں جو اپنی علمی اور عملی صلاحیتوں میں نمایاں ہونے کے ساتھ ساتھ اخلاقی طور پر بھی بہترین کردار کے حامل ہوں۔ شیخ صاحب7 کا نقطۂ نظر یہ تھا کہ صرف ظاہری قابلیت یا ڈگریاں کسی فرد کو ایک کامیاب ٹیم کا حصہ بنانے کے لیے کافی نہیں ہوتیں، بلکہ اس کے اخلاق، دیانت داری، وسیع سوچ، اور مستقل مزاجی زیادہ اہمیت رکھتی ہیں۔

وہ ہمیشہ اس بات کو یقینی بناتے تھے کہ آپ کی ٹیم میں شامل ہر فرد نہ صرف اپنے میدان میں مہارت رکھتا ہو بلکہ اپنے کام میں خلوص اور ایمانداری کا مظاہرہ بھی کرے۔ آپ کا ماننا تھا کہ اگر افراد اپنے کام سے مخلص ہوں اور اپنی قابلیت کو صحیح طور پر استعمال کریں تو کسی بھی ادارے کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنا نہ صرف آسان بلکہ ناگزیر ہو جاتا ہے۔

آپ کا یہ طریقہ عمل امیرالمومنینG کے فرمان ذی وقار کے تناظر میں تھا، جیسا کہ مولٰی فرماتے ہیں:

ثُمَّ اَلْصِقْ بِذَوِی الْاَحْسَابِ وَ اَهْلِ الْبُیُوْتَاتِ الصَّالِحَةِ، وَ السَّوَابِقِ الْحَسَنَةِ، ثُمَّ اَهْلِ النَّجْدَةِ وَ الشَّجَاعَةِ وَ السَّخَآءِ وَ السَّمَاحَةِ، فَاِنَّهُمْ جِمَاعٌ مِّنَ الْكَرَمِ، وَ شُعَبٌ مِّنَ الْعُرْفِ۔

پھر ایسا ہو نا چاہیے کہ تم بلند خاندان، نیک گھرانے اور عمدہ روایات رکھنے والوں اور ہمت و شجاعت اور جود و سخاوت کے مالکوں سے اپنا ربط ضبط بڑھاؤ، کیونکہ یہی لوگ بزرگیوں کا سرمایہ اور نیکیوں کا سر چشمہ ہوتے ہیں۔

صلاحیتوں کا ادراک اور قابلیت کا صحیح استعمال

شیخ محسن علی نجفی7 کا ایک نمایاں پہلو یہ تھا کہ وہ افراد کی صلاحیتوں کا درست اندازہ لگانے اور ان کی مہارتوں کو صحیح سمت میں بروئے کار لانے میں کمال رکھتے تھے۔ وہ جانتے تھے کہ ہر فرد کی منفرد خصوصیات ہوتی ہیں، اور ان خصوصیات کو ادارے کی ضروریات کے مطابق استعمال کرنا ہی کامیابی کی ضمانت ہے۔

افراد کے اخلاق اور کردار کی اہمیت

شیخ صاحب7 اس بات پر زور دیتے تھے کہ ایک کامیاب ادارہ صرف اس وقت وجود میں آ سکتا ہے جب اس کے افراد کا اخلاقی معیار بلند ہو۔ ان کے نزدیک ایک فرد کی سوچ کی وسعت، اس کی اصول پسندی، اور اس کا عملی کردار اس کی تعلیمی اسناد سے زیادہ اہمیت رکھتے ہیں۔ وہ فرمایا کرتے تھے کہ ”ایک مضبوط کردار کا حامل فرد ہی ادارے کی مضبوط دیواروں کی طرح ہوتا ہے، جس پر ترقی کی عمارت کھڑی کی جا سکتی ہے۔“

فکری اور علمی تربیت کا مثالی نظام

شیخ محسن علی نجفی7 کی مدیریت کا ایک اہم پہلو اپنے ماتحت افراد کی علمی اور فکری تربیت تھا۔ آپ نے ہمیشہ اس بات کو ترجیح دی کہ ان کے زیرِ نگرانی کام کرنے والے افراد نہ صرف علمی میدان میں مہارت حاصل کریں بلکہ ان کی فکری تربیت اور اخلاقی شخصیت بھی نکھاری جائے۔ آپ کی تربیتی حکمتِ عملی دین، اخلاق، اور پیشہ ورانہ مہارتوں کو ہم آہنگ کرنے پر مبنی تھی، جس کا مقصد افراد کو ان کی ذمہ داریوں کی انجام دہی میں نمایاں بنانا تھا۔

انتخاب اور مختصر مگر مؤثر تربیت

شیخ صاحب اپنے زیرِ سایہ آنے والے افراد کو پہلے منتخب کرتے اور پھر ان کی تربیت کے لیے مختصر لیکن مؤثر وقت صرف کرتے تھے۔ آپ کا تربیتی عمل طویل تو نہیں ہوتا تھا، لیکن آپ کی خداداد صلاحیت یہ تھی کہ آپ کم وقت میں وہ تمام بنیادی مہارتیں اور ضروری ہدایات فراہم کر دیتے تھے جو افراد کے لیے ان کی ذمہ داریوں کو بہتر طریقے سے ادا کرنے کے لیے لازمی ہوتی تھیں۔

خطرات سے آگاہی اور حکمتِ عملی

آپ نہ صرف افراد کو ان کی اہم ذمہ داریوں سے آگاہ کرتے بلکہ ممکنہ خطرات سے بھی خبردار کرتے تھے۔ ان خطرات سے نمٹنے کے لیے مؤثر حکمتِ عملیوں کی وضاحت کرتے تھے، تاکہ ہر فرد اپنی ذمہ داریوں کو بہتر انداز میں نبھا سکے اور مشکلات کا سامنا کرتے وقت پختہ رویہ اختیار کرے۔

کام کی خاموشی سے انجام دہی

شیخ صاحب کے نزدیک کام کی کامیابی کے لیے ضروری تھا کہ اسے شور و شرابے کے بغیر انجام دیا جائے۔ آپ فرمایا کرتے تھے:

”جتنے بھی اچھے کام ہیں، انہیں خاموشی سے انجام دو، ورنہ لوگ راہ میں رکاوٹیں کھڑی کر دیں گے۔“

آپ کے اس اصول کا مقصد یہ تھا کہ لوگ نتائج پر توجہ مرکوز رکھیں اور غیر ضروری تشہیر سے اجتناب کریں تاکہ کام کی تکمیل میں کوئی رکاوٹ نہ ہو۔

غیر ضروری توقعات سے گریز

آپ تربیت کے دوران یہ بھی نصیحت کرتے تھے کہ غیر ضروری توقعات کسی سے نہ رکھی جائیں، بلکہ ہر دن کا کام اسی دن مکمل کیا جائے۔ آپ فرمایا کرتے تھے:

”عذر تراشنے یا بہانے بنانے کی بجائے کام پر توجہ دو، کیونکہ عذر گناہ سے بھی بدتر ہے۔“

یہ اصول افراد کو اپنی ذمہ داریوں کے تئیں زیادہ سنجیدہ اور مستعد بناتا تھا۔

غلطیوں کے ساتھ رویہ

شیخ صاحب غیر عمدی غلطیوں کو معاف کرنے والے مدیر تھے۔ آپ ہمیشہ یہ کہتے تھے کہ کام کے دوران اگر کوئی غلطی ہو جائے تو اس سے سبق سیکھا جائے، لیکن کام کرنے کی نیت خالص اور عمل مستقل ہونا چاہیے۔

وقت کی پابندی اور معیاری کارکردگی

آپ کے نزدیک معیاری کام کو وقت کے اندر مکمل کرنا سب سے اہم شرط تھی۔ وقت کی پابندی آپ کی تربیت کا ایک بنیادی جزو تھی، اور آپ ہمیشہ اس بات کو یقینی بناتے تھے کہ ہر فرد وقت کی اہمیت کو سمجھے اور اس کی پاسداری کرے۔

امام علیG کے فرامین سے رہنمائی

آپ اپنی تربیت کے اصولوں میں امیرالمومنین حضرت علیG کے اس فرمان کو بنیاد بناتے تھے:

اَلزَمْ كُلًّا مِّنْهُمْ مَاۤ اَلْزَمَ نَفْسَهٗ، وَ لَا تُقَصِّرَنَّ بِهٖ دُوْنَ غَایَةِ بَلَآئِهٖ۔

ہر فرد کو اس کی قابلیت اور ذمہ داری کے مطابق اس کا حق دو، اور کسی کی کارکردگی کے صلے میں کمی نہ کرو۔

عدم مداخلت اور حوصلہ افزائی کا مثالی اصول

شیخ محسن علی نجفی7 کی شخصیت اور ان کی مدیرانہ حکمتِ عملی کا ایک نمایاں پہلو یہ تھا کہ آپ اپنے ماتحتوں کے کام میں غیر ضروری مداخلت سے گریز کرتے تھے۔ آپ انہیں ذمہ داری تفویض کرنے کے بعد مکمل آزادی دیتے تاکہ وہ خود اعتمادی کے ساتھ اپنے فرائض انجام دے سکیں۔ آپ کا یہ اصول افراد کی صلاحیتوں کو نکھارنے، ان کی حوصلہ افزائی کرنے، اور اداروں کی مجموعی کارکردگی کو بہتر بنانے میں بنیادی کردار ادا کرتا تھا۔

ذمہ داری کی تفویض اور مکمل اعتماد

شیخ محسن علی نجفی7 کا نظریہ تھا کہ ایک بار جب کسی فرد کو کسی ذمہ داری کے لیے منتخب کر لیا جائے، تو اس کے کام میں بار بار مداخلت کرنا عقلی اور منطقی طور پر غلط ہے۔ آپ فرمایا کرتے تھے:

”یا تو ہمیں خود نظام چلانا چاہیے یا جسے ذمہ داری دی ہے اسے آزادی سے چلانے دینا چاہیے۔ بار بار مداخلت کرنا عقل کے خلاف ہے اور ذمہ داری کے اصولوں کو توڑنے کے مترادف ہے۔“

یہی وجہ تھی کہ آپ کے زیرِ سایہ کام کرنے والے افراد مکمل انہماک اور اعتماد کے ساتھ اپنی ذمہ داریوں کو نبھاتے تھے۔

غلطیوں سے سیکھنے کا موقع

شیخ صاحب اپنے ماتحتوں کو نہ صرف آزادی دیتے تھے بلکہ انہیں یہ موقع بھی فراہم کرتے تھے کہ وہ اپنی غلطیوں سے سبق حاصل کریں۔ آپ کا ماننا تھا کہ غلطیوں کے بغیر سیکھنا ممکن نہیں، اور یہ کہ افراد کو فیصلے کرنے اور ان کے نتائج کا سامنا کرنے کا موقع دینا ان کی فکری اور عملی صلاحیتوں کو مضبوط کرتا ہے۔

مداخلت سے اجتناب

شیخ صاحب کے نزدیک کسی بھی ادارے یا نظام کو کامیاب بنانے کا ایک اہم اصول یہ تھا کہ ذمہ داری تفویض کرنے کے بعد اس میں بار بار مداخلت نہ کی جائے۔ آپ کا یہ رویہ آپ کے ساتھ کام کرنے والے افراد کو نہ صرف خود مختار بناتا تھا بلکہ ان میں خود اعتمادی بھی پیدا کرتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ آپ کے اداروں میں کام کرنے والے افراد مکمل اعتماد اور خود انحصاری کے ساتھ اپنے کام انجام دیتے تھے۔

فیصلوں پر یقین اور حمایت

شیخ صاحب ہمیشہ اپنے ماتحتوں کے فیصلوں کو اہمیت دیتے تھے اور ان پر یقین رکھتے تھے۔ آپ کے ساتھ کام کرنے والے افراد کو یہ یقین ہوتا تھا کہ شیخ صاحب کسی معقول وجہ کے بغیر ان کے فیصلوں پر اعتراض نہیں کریں گے اور نہ ہی ان کی پوزیشن کو خطرے میں ڈالیں گے۔ یہی اعتماد اداروں کی کامیابی کی بنیاد بنتا تھا۔

اداروں کی کامیابی کا راز

شیخ محسن علی نجفی7 کا عدم مداخلت کا اصول ان کے اداروں کی مسلسل کامیابی کی ایک بڑی وجہ تھی۔ آپ کے ماتحت کام کرنے والے افراد مکمل خود مختاری اور آزادی کے ساتھ کام کرتے تھے، اور یہی آزادی انہیں اپنے فیصلوں اور نتائج کا ذمہ دار بھی بناتی تھی۔

میرٹ کی بالادستی اور شفافیت کا اصول

شیخ محسن علی نجفی7 کی مدیریت میں میرٹ کو مرکزی حیثیت حاصل تھی۔ آپ ہمیشہ اس بات کو یقینی بناتے تھے کہ تمام فیصلے انصاف، شفافیت، اور قابلیت کی بنیاد پر کیے جائیں۔ چاہے معاملہ کسی عہدے پر تقرری کا ہو یا کسی منصوبے کی منظوری کا، ہر کام میں میرٹ کو اولین ترجیح دی جاتی تھی۔ آپ کے نزدیک میرٹ کی بالادستی نہ صرف ادارے کی کامیابی کی ضمانت ہے بلکہ اس کے استحکام اور ترقی کا بنیادی ستون بھی ہے۔

فیصلے میرٹ پر

شیخ صاحب ہمیشہ اس بات پر زور دیتے تھے کہ کسی بھی عہدے یا ذمہ داری پر تقرری کے لیے صرف قابلیت، اہلیت، اور پیشہ ورانہ مہارت کو معیار بنایا جائے۔ آپ سفارشی کلچر اور اقربا پروری کو ادارے کے لیے زہر قاتل سمجھتے تھے اور اس کے مکمل خاتمے کے لیے سرگرم رہتے تھے۔ آپ فرماتے تھے:

”ادارے کی کامیابی اور ترقی کا راز یہ ہے کہ ذمہ داریاں ان ہی افراد کو دی جائیں جو ان کے اہل ہوں۔“

یہی وجہ ہے کہ آپ کے ادارے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے تھے اور ان میں معیار کو ہمیشہ برقرار رکھا جاتا تھا۔

سفارشی کلچر کی مخالفت

آپ کے اصولوں کے مطابق، سفارش یا غیر ضروری مداخلت کے ذریعے نااہل افراد کو اہم ذمہ داریوں پر تعینات کرنا نہ صرف غیر منصفانہ تھا بلکہ یہ ادارے کی کارکردگی کو بھی نقصان پہنچاتا تھا۔ آپ کے نزدیک، سفارش کے ذریعے کسی کو کسی عہدے پر تعینات کرنا دیگر اہل افراد کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کے مترادف ہے۔

شفافیت اور اعتماد کا ماحول

شیخ صاحب کے فیصلے ہمیشہ واضح اور شفاف ہوتے تھے، اور ان میں کوئی جھول یا جانبداری نہیں ہوتی تھی۔ اس شفافیت نے آپ کے ماتحت کام کرنے والے افراد میں یہ یقین پیدا کیا کہ ان کی محنت اور قابلیت کا صلہ ضرور دیا جائے گا۔ یہ اعتماد ادارے کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتا تھا۔

معیار پر سمجھوتہ نہ کرنا

شیخ محسن علی نجفی7 کی مدیریت کا ایک اور اہم اصول یہ تھا کہ کسی بھی صورت میں معیار پر سمجھوتہ نہ کیا جائے۔ آپ ہمیشہ ادارے کی کارکردگی کو بہتر سے بہتر بنانے کی کوشش کرتے تھے اور اس کے لیے اہل افراد کی تعیناتی کو ضروری سمجھتے تھے۔ آپ فرماتے تھے:

”جب ادارے میں میرٹ کی بالادستی ختم ہو جائے تو زوال کا آغاز ہو جاتا ہے۔“

کامیابی کا راز

آپ کے اداروں کی کامیابی کا راز آپ کے یہی اصول تھے۔ میرٹ پر مبنی تقرریاں اور فیصلے نہ صرف ادارے کی کارکردگی کو بہتر بناتے تھے بلکہ اس میں اعتماد، انصاف، اور ترقی کا ماحول بھی پیدا کرتے تھے۔

کامیابی کے لیے جامع منصوبہ بندی کا اصول

شیخ محسن علی نجفی7 کے نزدیک کامیابی کا بنیادی راز جامع منصوبہ بندی میں مضمر تھا۔ وہ ہمیشہ اس بات پر زور دیتے تھے کہ کسی بھی کام کی انجام دہی سے پہلے مکمل اور بصیرت پر مبنی منصوبہ تیار کیا جائے۔ ان کے نزدیک بے ترتیب اور جلد بازی پر مبنی فیصلے نہ صرف نقصان دہ ہوتے ہیں بلکہ ادارے کی ترقی میں رکاوٹ بھی بنتے ہیں۔

جامع منصوبہ بندی کی اہمیت

شیخ محسن علی نجفی7 ہر کام کو شروع کرنے سے پہلے نہایت باریک بینی سے اس کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیتے تھے۔ ان کے منصوبہ بندی کے اصول درج ذیل نکات پر مشتمل تھے:

وقت کی پابندی: منصوبے کا ہر مرحلہ مقررہ وقت کے اندر مکمل کیا جائے تاکہ غیر ضروری تاخیر سے بچا جا سکے۔

وسائل کا مؤثر استعمال: دستیاب وسائل کو بہترین انداز میں استعمال کرنا اور فضول خرچی سے اجتناب کرنا۔

مستقبل کے ممکنہ مسائل کی پیشگی منصوبہ بندی: ہر منصوبے میں ممکنہ چیلنجز کا اندازہ لگا کر ان کے حل کے لیے پہلے سے تیاری کرنا۔

فائدے اور نقصان کا تجزیہ: کسی بھی کام کی ابتدا سے پہلے یہ جاننا کہ آیا یہ عمل فائدہ مند ہوگا یا نقصان دہ۔

بصیرت اور شعور کے ساتھ عمل

شیخ صاحب نے ہمیشہ بصیرت اور شعور کو عمل کا لازمی جزو قرار دیا۔ ان کے اس اصول کو بہترین انداز میں مولیٰ امیرالمومنینG کے اس فرمان مبارک میں بیان کیا گیا ہے:

فَالنَّاظِرُ بِالْقَلْبِ الْعَامِلُ بِالْبَصَرِ یَكُوْنُ مُبْتَدَاُ عَمَلِهٖۤ اَنْ یَّعْلَمَ: اَ عَمَلُهٗ عَلَیْهِ اَمْ لَهٗ؟! فَاِنْ كَانَ لَهٗ مَضٰی فِیْهِ، وَ اِنْ كَانَ عَلیْهِ وَقَفَ عَنْهُ۔

دل کی آنکھوں سے دیکھنے والے اور بصیرت کے ساتھ عمل کرنے والے کے عمل کی ابتدا یوں ہوتی ہے کہ وہ پہلے یہ جان لیتا ہے کہ یہ عمل اس کے لیے فائدہ مند ہے یا نقصان رساں۔ اگر مفید ہوتا ہے تو آگے بڑھتا ہے، اور اگر نقصان دہ ہوتا ہے تو ٹھہر جاتا ہے۔

ممکنہ مسائل کا پیشگی حل

شیخ صاحب کی منصوبہ بندی میں ہمیشہ ایک خاص پہلو یہ ہوتا تھا کہ وہ مستقبل کے مسائل کا نہ صرف اندازہ لگاتے بلکہ ان کے حل کے لیے پہلے سے حکمت عملی تیار کرتے تھے۔ آپ فرماتے تھے:

”ہر کام میں پیشگی سوچ و بچار اور حکمت عملی نہ صرف مسائل کو کم کرتی ہے بلکہ کامیابی کے امکانات کو کئی گنا بڑھا دیتی ہے۔“

عمل میں نظم و ضبط

آپ کی منصوبہ بندی کی خاصیت یہ تھی کہ آپ تمام افراد کو ان کی ذمہ داریوں کے حوالے سے واضح ہدایات جاری کرتے تھے۔ آپ کے اصولوں کے مطابق:

غیر ضروری جلد بازی یا بغیر منصوبہ بندی کے عمل سے اجتناب کیا جائے۔

ہر فرد کو اس کی ذمہ داری کے بارے میں واضح ہدایات دی جائیں تاکہ کسی قسم کی الجھن پیدا نہ ہو۔

کام کے دوران پیدا ہونے والی غیر متوقع صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار رہیں۔

ماتحت افراد کی کارکردگی پر مسلسل نظارت کا اصول

شیخ محسن علی نجفی7 کی مدیریت کا ایک نمایاں پہلو ماتحت افراد کی کارکردگی پر مسلسل نظارت اور ان کے ساتھ مؤثر رابطہ تھا۔ وہ ہمیشہ اپنے اداروں اور ذمہ دار افراد کے ساتھ مضبوط رابطہ رکھتے اور ان کی مشکلات، کامیابیاں، اور دیگر امور کے بارے میں با قاعدگی سے پوچھ گچھ کرتے تھے۔ اس اصول نے نہ صرف ان کے اداروں کی کامیابی کو ممکن بنایا بلکہ افراد کو بہتر انداز میں اپنی ذمہ داریاں نبھانے کی ترغیب دی۔

مستقل رابطے کی اہمیت

شیخ صاحب کے نزدیک کامیاب نظام کی بنیاد صرف کام تفویض کرنے تک محدود نہیں، بلکہ اس پر مسلسل نظر رکھنا اور ضروری رہنمائی فراہم کرنا بھی ہے۔

مشکلات کا فوری حل: شیخ صاحب اپنے ماتحت افراد کے مسائل پر فوری توجہ دیتے تھے اور ان کے حل کے لیے عملی اقدامات کرتے تھے۔

حوصلہ افزائی: کامیابیوں کو سراہنا اور افراد کی حوصلہ افزائی کرنا ان کا خاصہ تھا، جس سے افراد کی کارکردگی مزید بہتر ہوتی تھی۔

ذمہ داری کا احساس: مسلسل رابطے کی بدولت ہر فرد کو اپنی ذمہ داری کے بارے میں واضح رہنمائی ملتی تھی، اور وہ اپنی کارکردگی کو شیخ صاحب کی توقعات کے مطابق بہتر بنانے کی کوشش کرتا تھا۔

افراد کے انتخاب اور تربیت میں احتیاط

شیخ محسن علی نجفی7 کے نزدیک ہر فرد کی تعیناتی میں اس کی صلاحیت، اخلاق، اور قابلیت کا گہرا جائزہ لینا ضروری تھا۔ ان کا یہ اصول امیرالمومنینG کے اس فرمان پر مبنی تھا:

ثُمَّ انْظُرْ فِیْ حَالِ كُتَّابِكَ، فَوَلِّ عَلٰۤى اُمُوْرِكَ خَیْرَهُمْ، وَ اخْصُصْ رَسَآئِلَكَ الَّتِیْ تُدْخِلُ فِیْهَا مَكَآئِدَكَ وَ اَسْرَارَكَ بِاَجْمَعِهِمْ لِوُجُوْهِ صَالِحِ الْاَخْلَاقِ ۔

پھر یہ کہ اپنے منشیانِ دفاتر کی اہمیت پر نظر رکھنا، اپنے معاملات ان کے سپرد کرنا جو اِن میں بہتر ہوں، اور اپنے ان فرامین کو جن میں مخفی تدابیر اور رموز و اسرار درج ہوتے ہیں، خصوصیت کے ساتھ ان کے حوالے کرنا جو سب سے زیادہ اچھے اخلاق کے مالک ہوں۔

افراد کی کارکردگی کو بہتر بنانے کا اصول

شیخ صاحب ہمیشہ یہ یقینی بناتے کہ ہر فرد اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر اپنی ذمہ داریوں کو بہتر طریقے سے نبھائے۔

اخلاقی معیار: ان کے لیے اچھے اخلاق کے حامل افراد کا انتخاب انتہائی اہم تھا، کیونکہ شیخ صاحب سمجھتے تھے کہ اخلاقیات کامیابی کی بنیاد ہیں۔

رہنمائی اور تربیت: وہ ہر فرد کو ضروری رہنمائی فراہم کرتے اور انہیں تربیتی مواقع فراہم کرتے تاکہ وہ اپنی صلاحیتوں میں نکھار لا سکیں۔

احتساب اور جواب دہی: کارکردگی پر نظر رکھنے کا مقصد احتساب کو فروغ دینا تھا، تاکہ ہر فرد اپنی ذمہ داریوں کو پورے خلوص اور دیانت داری سے ادا کرے۔

ہر کام کو اہمیت دینے اور غریبوں کو فوقیت دینے کا اصول

شیخ محسن علی نجفی7 کی مدیریت کی ایک نمایاں خصوصیت یہ تھی کہ آپ کسی بڑے یا نئے کام کی اہمیت کے باوجود چھوٹے اور پرانے کاموں کو نظر انداز نہیں کرتے تھے۔ آپ کے نزدیک ہر ذمہ داری اہم تھی، اور ہر فرد یا ادارہ آپ کی توجہ اور رہنمائی کا مستحق تھا۔

تمام کاموں کی طرف مساوی توجہ

شیخ صاحب کے زیرِ سرپرستی بے شمار ادارے اور منصوبے تھے، لیکن کوئی بھی یہ شکایت نہیں کر سکتا تھا کہ انہیں کم توجہ دی جا رہی ہے۔

جامع توجہ کا اصول: آپ ہمیشہ ہر ادارے اور منصوبے کو اپنی نظروں میں رکھتے تھے اور کسی ایک کام کی وجہ سے دیگر امور کو نظرانداز نہیں ہونے دیتے تھے۔

مسائل کی پیشگی شناخت: اگر کسی فرد یا ادارے کو مشکلات یا پریشانی کا سامنا ہوتا، تو آپ خود انہیں فون کرکے ان کے مسائل جانتے اور ان کے حل کے لیے فوری اقدامات کرتے۔

غریبوں، نادار علماء اور چھوٹے اداروں کو ترجیح

شیخ محسن علی نجفی7 کا ایک اور نمایاں وصف یہ تھا کہ آپ دولت مند، شہرت یافتہ، اور بڑی شخصیات کے ساتھ تعلقات کے باوجود غریب اور نادار افراد کو زیادہ وقت دیتے تھے۔

چھوٹے اداروں کی سرپرستی: آپ چھوٹے اور کم وسائل والے اداروں کو زیادہ اہمیت دیتے اور ان کے کاموں میں ذاتی دلچسپی لیتے تھے۔

پرانے خدمت گزاروں سے وفا: آپ کبھی اپنے پرانے ساتھیوں، خدمت گزاروں، اور شاگردوں کو نہیں بھولتے تھے۔ ان کے ساتھ مضبوط تعلق برقرار رکھتے اور ان کی عزت افزائی کرتے تھے۔

عہدِ حاضر کے مدیروں کے لیے سبق

یہ اصول آج کے ان مدیروں کے برعکس ہے جو وقت اور حالات کے بدلنے کے ساتھ پرانے افراد اور اداروں کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ شیخ صاحب کا رویہ اس بات کا عملی مظاہرہ تھا کہ پرانے ساتھیوں اور کمزور افراد کے ساتھ وفاداری اور ان کی حوصلہ افزائی کسی بھی کامیاب مدیر کی پہچان ہے۔

امیرالمومنینG کی ہدایت پر عمل

شیخ محسن علی نجفی7 اپنی اس روش میں امیرالمومنینG کے اس فرمان کو اپنی عملی زندگی کا حصہ بنائے ہوئے تھے:

وَ كُلٌّ قَدِ اسْتُرْعِیْتَ حَقَّهٗ، فَلَا یَشْغَلَنَّكَ عَنْهُمْ بَطَرٌ، فَاِنَّكَ لَا تُعْذَرُ بِتَضْیِیْعِكَ التَّافِهَ لِاِحْكَامِكَ الْكَثِیْرَ الْمُهِمَّ. فَلَا تُشْخِصْ هَمَّكَ عَنْهُمْ، وَ لَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لَهُمْ.

تم ان سب کے حقوق کی نگہداشت کے ذمہ دار بنائے گئے ہو۔ لہٰذا تمہیں دولت کی سرمستی ان سے غافل نہ کر دے، کیونکہ کسی معمولی بات کو اس لئے نظر انداز نہیں کیا جائے گا کہ تم نے بہت سے اہم کاموں کو پورا کر دیا ہے۔ لہٰذا اپنی توجہ ان سے نہ ہٹانا اور نہ تکبر کے ساتھ ان کی طرف سے اپنا رخ پھیرنا۔

احتساب مدیریت کا ایک اہم اصول

شیخ محسن علی نجفی7 نہ صرف ایک عظیم عالم دین، مفسر قرآن، اور استاد العلماء تھے بلکہ ایک مثالی مدیر بھی تھے۔ ان کی مدیریت کے بنیادی اصولوں میں سے ایک نمایاں اصول احتساب تھا۔

خود احتسابی اور دوسروں کا محاسبہ

شیخ محسن علی نجفی7 اپنی ذات میں خود احتسابی کی بہترین مثال تھے۔ وہ ہمیشہ اپنی نگرانی میں چلنے والے اداروں اور افراد کا محاسبہ کرتے تھے تاکہ ہر سطح پر شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔

مالی معاملات میں امانت داری

آپ کی مدیریت میں کسی کو مالی امور میں گڑبڑ کی اجازت نہ تھی۔ آپ نہایت امین تھے اور مالی معاملات میں سختی سے اصولوں کی پابندی کرتے تھے۔

غریبوں، یتیموں، ناداروں، طلباء، علماء، اور سادات کے حقوق کی حفاظت آپ کی ترجیح تھی۔

مخیر حضرات کی طرف سے ملنے والے پروجیکٹس کو ان کی تکمیل تک پہنچانا آپ اپنے اوپر فرض سمجھتے تھے۔

آپ ہمیشہ یہ جائزہ لیتے کہ:

کتنے وسائل استعمال ہو چکے ہیں؟

کتنے باقی ہیں؟

منصوبے کس حد تک مکمل ہوئے ہیں؟

دیانت داری اور انصاف کا عملی مظاہرہ

آپ ایک امانت دار مدیر تھے اور کسی قسم کے ذاتی تصرف کا تصور بھی نہیں کرتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ آپ دوسروں سے بھی اسی معیار کی توقع رکھتے تھے۔ اگر کسی پر کرپشن یا بے ضابطگی ثابت ہوتی تو فوری کارروائی کرتے تھے۔

اسلامی اصولوں کے مطابق احتساب

آپ کا طرز عمل قرآن و سنت کے اصولوں کا عکاس تھا، جیسا کہ نہج البلاغہ میں امام علیG فرماتے ہیں:

ثُمَّ اَكْثِرْ تَعَاهُدَ قَضَآئِهٖ‏ وَ افْسَحْ لَهٗ فِی الْبَذْلِ مَا یُزِیْلُ عِلَّتَهٗ، وَ تَقِلُّ مَعَهٗ حَاجَتُهٗ اِلَى النَّاسِ، وَ اَعْطِهٖ مِنَ الْمَنْزِلَةِ لَدَیْكَ مَا لَا یَطْمَعُ فِیْهِ غَیْرُهٗ مِنْ خَاصَّتِكَ، لِیَاْمَنَ بِذٰلِكَ اغْتِیَالَ الرِّجَالِ لَهٗ عِنْدَكَ، فَانْظُرْ فِیْ ذٰلِكَ نَظَرًۢا بَلِیْغًا۔

پھر یہ کہ تم خود ان کے فیصلوں کا بار بار جائزہ لیتے رہنا، دل کھول کر انہیں اتنا دینا کہ جوان کے ہر عذر کو غیر مسموع بنا دے اور لوگوں کی انہیں کوئی احتیاج نہ رہے۔ اپنے ہاں انہیں ایسے باعزت مرتبہ پر رکھو کہ تمہارے دربار رس لوگ انہیں ضرر پہنچانے کا کوئی خیال نہ کر سکیں، تاکہ وہ تمہارے التفات کی وجہ سے لوگوں کی سازشوں سے محفوظ رہیں۔ اس بارے میں انتہائی بالغ نظری سے کام لینا۔

شیخ نجفی7 کی مدیریت کا عملی سبق

شیخ محسن علی نجفی7 کا یہ اصولی اور شفاف طرز عمل نہ صرف ان کے زمانے میں کامیابی کی ضمانت تھا بلکہ آج بھی ایک مثالی نمونہ ہے۔ ان کی شخصیت احتساب، دیانت داری، اور عدل و انصاف کی بہترین تصویر تھی، جو رہنماؤں اور منتظمین کے لیے ایک روشن مشعل راہ ہے۔

حوصلہ افزائی اور تعریف مدیریت کا امتیازی پہلو

شیخ محسن علی نجفی7 کی مدیریت کا ایک نمایاں اصول یہ تھا کہ وہ اچھے کام کرنے والوں کی بھرپور حوصلہ افزائی اور تعریف کرتے تھے۔ ان کی یہ عادت نہ صرف انفرادی سطح پر افراد کی ترقی کا باعث بنتی بلکہ اجتماعی سطح پر اداروں کی کارکردگی کو بھی بلند کرتی۔

اچھے کام کرنے والوں کی قدر

شیخ محسن علی نجفی7 ہر اس فرد کو سراہتے جو کسی بھی اچھے کام میں حصہ لیتا۔ آپ:

اچھے کام کرنے والوں کا احترام کرتے۔

ان کے استقبال میں خصوصی توجہ دیتے۔

مالی معاونت اور انعامات کے ذریعے ان کی کارکردگی کو تسلیم کرتے۔

ہر فورم پر ان کی تعریف کرتے تاکہ ان کی خدمات کو عوامی سطح پر بھی سراہا جائے۔

حوصلہ افزائی کی عملی مثالیں

آپ کی تعریف اور حوصلہ افزائی محض الفاظ تک محدود نہ ہوتی بلکہ آپ عملی اقدامات بھی کرتے تھے۔

کسی کی کامیابی کو سلیبریٹ کرنا آپ کا معمول تھا، چاہے وہ چھوٹی کامیابی ہو یا بڑی۔

چھوٹے کارناموں کو اہمیت دینا آپ کا خاصہ تھا، کیونکہ آپ انہیں بڑی کامیابیوں کا پیش خیمہ سمجھتے تھے۔

اگر کسی نے کوئی اہم کامیابی حاصل کی تو آپ فوراً مبارکباد دیتے، ان سے ذاتی طور پر ملتے، اور سب کے سامنے ان کی تعریف کرتے۔

تعریف کا نفسیاتی اثر

آپ کے ان اقدامات سے کام کرنے والے افراد کا حوصلہ بڑھتا اور وہ مزید لگن کے ساتھ کام کرتے۔ آپ کا ماننا تھا کہ تعریف اور حوصلہ افزائی افراد کی امیدوں میں وسعت پیدا کرتی ہے اور ان کے عزم کو مضبوط بناتی ہے، جیسا کہ امام علیG نے فرمایا:

فَافْسَحْ فِیْۤ اٰمَالِهِمْ، وَ وَاصِلْ فِیْ حُسْنِ الثَّنَآءِ عَلَیْهِمْ، وَ تَعْدِیْدِ مَاۤ اَبْلٰى ذَوُو الْبَلَآءِ مِنْهُمْ،

ان کی امیدوں میں وسعت و کشائش رکھنا، انہیں اچھے لفظوں سے سراہتے رہنا اور ان کے اچھے کارناموں کا تذکرہ کرتے رہنا۔

چھوٹی کامیابیوں کی اہمیت

شیخ نجفی7 کے نزدیک ہر کامیابی کی اپنی اہمیت تھی۔ آپ چھوٹے کارناموں کو بڑے عزائم کی بنیاد سمجھتے اور اس پر افراد کو مزید محنت کرنے کی ترغیب دیتے۔ بعض اوقات ایسا ہوتا کہ کسی کی کامیابی پر خود شیخ محسن علی نجفی7 کو زیادہ خوشی ہوتی اور وہ فوری طور پر ان کی حوصلہ افزائی کے لیے عملی اقدامات کرتے۔

مدیریت میں کامیابی کا راز

شیخ محسن علی نجفی7 کا یہ اصول کہ افراد کی خدمات کو تسلیم کیا جائے اور انہیں بھرپور سراہا جائے، ان کی مدیریت کی کامیابی کا ایک اہم راز تھا۔ ان کی یہ عادت ایک ایسی تحریک پیدا کرتی تھی جس سے افراد مزید جوش و خروش کے ساتھ اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے۔ ان کا طرز عمل آج کے منتظمین کے لیے ایک مشعل راہ ہے۔

بروقت سزا و ایکشن لینا مدیریت کا ایک غیر معمولی پہلو

شیخ محسن علی نجفی7 کی مدیریت میں جہاں اچھے کام کرنے والوں کی بھرپور حوصلہ افزائی کی جاتی تھی، وہیں ان میں قوتِ بازدار کی بھی ایک خاص مثال نظر آتی تھی۔ آپ کا اصول واضح تھا: ذمہ داریوں میں کوتاہی، فراڈ، یا اخلاقی اصولوں کی خلاف ورزی کسی صورت قابل قبول نہیں۔

سزا میں برابری اور بے لاگ انصاف

شیخ محسن علی نجفی7 کے ہاں سزا دینے میں کوئی رعایت یا امتیاز نہیں ہوتا تھا۔ آپ نہ کسی کے حسب نسب کو دیکھتے، نہ کسی کی ذاتی قربت کو۔ اگر کوئی فرد غلطی کا مرتکب ہوتا تو آپ فوری اور سخت ایکشن لیتے۔ آپ کا یہ قولی اور عملی رویہ اس بات کا غماز تھا کہ:

”دنیا میں کی جانے والی غلطیوں کی سزا آخرت میں بھی ملے گی، اس لیے دنیاوی معاملات میں انصاف اور اصلاح کو ترجیح دینا ضروری ہے۔“

فوری اقدام اور شفافیت

آپ سزا دینے میں کسی قسم کی تاخیر کو قبول نہیں کرتے تھے۔ اگر کسی کے خلاف شکایات موصول ہوتیں تو آپ جلد از جلد تحقیقات مکمل کرتے اور ضروری کارروائی کرتے۔ آپ کی مدیریت کی تاریخ ایسے حیران کن فیصلوں سے بھری ہوئی ہے جو صرف ایک خوف خدا رکھنے والا اور دیانت دار مدیر ہی کر سکتا ہے۔

کرپٹ افراد کے لیے بے لچک رویہ

آپ کے انصاف پسندانہ اصولوں کی وجہ سے:

کرپٹ افراد آپ سے دور رہتے۔

ایسے افراد جلد ہی اپنی راہیں جدا کر لیتے یا آپ خود انہیں نظام سے الگ کر دیتے۔

یہ رویہ ادارے کے ماحول کو پاکیزہ اور موثر بنانے میں اہم کردار ادا کرتا۔

اصولی رہنمائی

شیخ محسن علی نجفی7 کے اس طرز عمل کو نہج البلاغہ کے ان اصولوں سے تقویت حاصل ہوتی ہے جو خیانت اور بدعنوانی کے سدباب کے بارے میں ہیں:

امیر المومنین حضرت علی ابن ابی طالبG فرماتے ہیں:

وَ تَحَفَّظْ مِنَ الْاَعْوَانِ، فَاِنْ اَحَدٌ مِّنْهُمْ بَسَطَ یَدَهٗ اِلٰى خِیَانَةٍ، اجْتَمَعَتْ بِهَا عَلَیْهِ عِنْدَكَ اَخْبَارُ عُیُوْنِكَ، اكْتَفَیْتَ بِذٰلِكَ شَاهِدًا، فَبَسَطْتَّ عَلَیْهِ الْعُقُوْبَةَ فِیْ بَدَنِهٖ، وَ اَخَذْتَهٗ بِمَاۤ اَصَابَ مِنْ عَمَلِهٖ، ثُمَّ نَصَبْتَهٗ بِمَقَامِ الْمَذَلَّةِ، وَ وَسَمْتَهٗ بِالْخِیَانَةِ، وَ قَلَّدْتَّهٗ عَارَ التُّهَمَةِ.

خائن مدد گاروں سے اپنا بچاؤ کرتے رہنا۔ اگر ان میں سے کوئی خیانت کی طرف ہاتھ بڑھائے اور متفقہ طور پر جاسوسوں کی اطلاعات تم تک پہنچ جائیں تو شہادت کیلئے بس اسے کافی سمجھنا، اسے جسمانی طور پر سزا دینا اور جو کچھ اس نے اپنے عہدہ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے سمیٹا ہے اسے واپس لینا، اور اسے ذلت کی منزل پر کھڑا کر دینا، اور خیانت کی رسوائیوں کے ساتھ اسے روشناس کرانا، اور ننگ و رسوائی کا طوق اس کے گلے میں ڈال دینا۔

مدیریت میں کامیابی کا راز

شیخ محسن علی نجفی7 کا یہ اصول کہ سستی، خیانت، اور غیر اخلاقی رویے کو ہرگز برداشت نہ کیا جائے، ان کی مدیریت کو کامیاب اور شفاف بناتا تھا۔ ان کی یہی بے باک اور بے لاگ انصاف پسندی آج کے دور کے منتظمین کے لیے ایک سبق آموز مثال ہے۔ ان کی شخصیت اس بات کا عملی نمونہ تھی کہ ایک منصف مدیر نہ صرف ادارے کو کامیابی کی طرف لے جاتا ہے بلکہ افراد کی اصلاح اور تربیت میں بھی کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔

حسن ظن کامیاب مدیر کی اصل و اساس

شیخ محسن علی نجفی7 کی شخصیت اپنے ہم عصر مدیروں کے مقابلے میں کئی انفرادی خصوصیات کی حامل تھی، جن میں سے ایک نمایاں خوبی ماتحتوں پر غیر معمولی حسنِ ظن تھا۔ آپ کی مدیریت میں کام کرنے والے افراد کبھی بھی بے جا شک و شبہات کی زد میں نہیں آتے تھے، بلکہ آپ ان کی صلاحیتوں کو آزمائش اور تربیت کے بعد نہ صرف تسلیم کرتے بلکہ ان کی حوصلہ افزائی بھی فرماتے تھے۔

یہ رویہ آج کے کئی مدیروں سے بالکل مختلف تھا، جو اکثر ماتحتوں کے ہر عمل کو مشکوک نظروں سے دیکھتے ہیں، اور اپنے علاوہ کسی کو بھی ادارے کا مخلص نہیں سمجھتے۔ ایسے افراد غیر ضروری سوالات اور اعتراضات سے کام کے ماحول کو دشوار بنا دیتے ہیں اور ادارے میں ایک غیر صحت مند فضا قائم کر دیتے ہیں۔

شیخ محسن علی نجفی7 کا طرزِ عمل اس کے برعکس تھا۔ وہ اپنے ماتحتوں کو ادارے کا حصہ سمجھتے تھے، ان میں اپنائیت کا احساس بیدار کرتے اور یہ باور کراتے کہ ادارے کی کامیابی میں ان کا کردار کلیدی ہے۔ آپ کی یہ مثبت سوچ ان کے ماتحتوں کے لیے نہ صرف حوصلہ افزائی کا ذریعہ بنتی، بلکہ ان میں یہ احساس بھی پیدا کرتی کہ شیخ صاحب کا اعتماد ایک بڑی ذمہ داری ہے، جس پر پورا اترنے کے لیے انہیں ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے۔

شیخ محسن علی نجفی7 کا یہی حسنِ ظن، اعتماد، اور حوصلہ افزائی کا انداز ان کی قیادت کو منفرد بناتا تھا، اور ماتحتوں کو بہترین کارکردگی کے لیے ترغیب دیتا تھا۔ یہی وہ اصول ہیں جو ایک کامیاب اور خوشگوار ادارہ جاتی ماحول کی بنیاد بنتے ہیں۔

آخر میں اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ شیخ محسن علی نجفی رحمۃ اللہ کو جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائیں۔

آمین یا رب العالمین

Related Articles

Back to top button