شیخ محسن علی نجفی7 اور عقیدت با جناب سیدہ فاطمۃ الزہراءE
شیخ محسن علی نجفی7 کی حیات مبارکہ عشق اہل بیتD اور بالخصوص جناب سیدہ فاطمۃ الزہراء Eکی محبت سے عبارت ہے۔
آپ کی شخصیت میں عشق اہل بیتD خون کی طرح رگوں میں دوڑتا تھا، خاص طور پر آپ جناب سیدہ فاطمۃ الزہراءE سے بے پناہ عقیدت و محبت رکھتے تھے۔ ان کی زندگی میں ہمیں یہ عقیدت جا بجا نظر آتی ہے، جس کی زندہ مثالیں ان کی علمی، دینی، اور معاشرتی خدمات میں ملتی ہیں:
تفسیر الکوثر: شیخ محسن علی نجفی7 کی علمی کاوش کا شاہکار
شیخ الجامعہ 7 کی جناب سیدہ E سے محبت کے عملی شواہد میں ایک آپ کی مایہ ناز تفسیر ہے جسے آپ نے جناب سیدہ کونین حضرت فاطمہ زہراE کے نام مبارک سے موسوم کیا۔ تفسیر الکوثر شیخ محسن علی نجفی7 کی تصنیف کردہ ایک غیر معمولی اور منفرد علمی کاوش ہے، جس نے علمی دنیا میں اپنی گہری تاثیر اور وسعتِ فکر کے باعث ایک نمایاں مقام حاصل کیا ہے۔ یہ تفسیر نہ صرف قرآن فہمی کے حوالے سے ایک نیا باب کھولتی ہے بلکہ اردو تفسیری ادب میں ایک ممتاز مقام کی حامل ہے۔ شیخ محسن علی نجفی7 کی زندگی بھر کی محنت اور ان کی قرآن سے بے پناہ عقیدت اس تفسیر میں بھرپور انداز میں جھلکتی ہے۔ تفسیر الکوثر کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کے علمی اور فکری مطالب ہیں جو انتہائی گہرائی کے ساتھ بیان کیے گئے ہیں۔ شیخ صاحب نے اس تفسیر میں قرآن کریم کے معانی اور مفاہیم کو نہایت جامع انداز میں پیش کیا ہے، جو قاری کو قرآن کی اصل روح تک پہنچانے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ تفسیر الکوثر میں شیخ صاحب نے روایتی تفسیری اصولوں کے ساتھ ساتھ عصرِ حاضر کے تقاضوں کو بھی مدنظر رکھا ہے، جس سے یہ تفسیر قدیم اور جدید علمی معیارات پر پورا اترتی ہے۔
تفسیر الکوثر میں قرآن کے ہر سورہ اور آیت کی وضاحت انتہائی سلیس اور عام فہم انداز میں کی گئی ہے، تاکہ قارئین کو قرآن کے پیغام کو سمجھنے میں کسی قسم کی دشواری نہ ہو۔ ہر آیت کا گہرائی سے تجزیہ کیا گیا ہے اور اس کے معانی کو منطقی اور فکری پہلوؤں سے واضح کیا گیا ہے۔ یہ تفسیری انداز قرآن کے پیچیدہ مضامین کو سہل بناتا ہے اور قارئین کو قرآن کے حقیقی پیغام سے روشناس کراتا ہے۔
تفسیر الکوثر کی ایک اور اہم خصوصیت اس کی عبارت کی روانی اور سلاستِ بیان ہے۔ شیخ محسن علی نجفی7 نے اپنے علمی اور ادبی ذوق کا بھرپور استعمال کرتے ہوئے اس تفسیر کو نہایت خوبصورتی سے تحریر کیا ہے۔ الفاظ کا چناؤ، جملوں کی ساخت، اور مفاہیم کی وضاحت اس قدر سلیقے اور مہارت کے ساتھ کی گئی ہے کہ قاری بغیر کسی رکاوٹ کے پوری تحریر میں ڈوبتا چلا جاتا ہے۔ تفسیر الکوثر میں شیخ صاحب نے اپنی علمی مہارت کے ساتھ ساتھ ادبی حسن کا بھی بھرپور مظاہرہ کیا ہے۔
تفسیر الکوثر کا ایک منفرد اور قابل ذکر پہلو یہ ہے کہ شیخ صاحب نے اس تفسیر میں اہل بیت Dکی عظمت اور ان کی تعلیمات کو بھی واضح طور پر بیان کیا ہے۔ آپ نے قرآن کریم کی تشریح و توضیح کرتے ہوئے اہل بیتD کے فرامین اور روایات کو بھی شامل کیا، جو قرآن فہمی کے حوالے سے ایک نیا زاویہ فراہم کرتی ہیں۔ شیخ صاحب کا اہل بیتD سے عشق اور ان کی تعلیمات سے گہرا تعلق تفسیر الکوثر میں جا بجا نظر آتا ہے۔
تفسیر الکوثر کی ایک اور اہم خصوصیت یہ ہے کہ شیخ محسن علی نجفی7 نے اس میں عصرِ حاضر کے مختلف مسائل کا حل بھی پیش کیا ہے۔ قرآن کریم کو صرف ایک تاریخی کتاب کے طور پر نہیں بلکہ ایک زندہ اور ہمہ گیر رہنما کے طور پر پیش کیا گیا ہے جو ہر دور اور زمانے کے مسائل کا حل پیش کرتا ہے۔ شیخ صاحب نے اس تفسیر میں معاشرتی، اخلاقی، اور دینی مسائل کا ذکر کیا ہے اور ان کا حل قرآن کی نورانی تعلیمات کی روشنی میں پیش کیا ہے۔
روایتی تفسیروں کے مقابلے میں تفسیر الکوثر کی ایک اہم خوبی یہ ہے کہ اس میں شیخ صاحب نے قرآن کی تفہیم کو عام فہم بنانے کے ساتھ ساتھ علمی گہرائی کو برقرار رکھا ہے۔ دیگر تفسیری کتابوں میں اکثر مشکل اور پیچیدہ اصطلاحات کے استعمال کی وجہ سے عام قاری کو فہم میں دشواری پیش آتی ہے، لیکن تفسیر الکوثر میں یہ پہلو انتہائی سادگی اور شائستگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ اس میں مشکل مسائل کو بھی عام فہم انداز میں بیان کیا گیا ہے، تاکہ ہر طبقے کے افراد اس تفسیر سے مستفید ہو سکیں۔
تفسیر الکوثر نے علمی دنیا میں ایک نیا معیار قائم کیا ہے۔ اس کتاب نے جہاں قرآن فہمی میں ایک نمایاں کردار ادا کیا، وہیں یہ علماء اور طلبہ کے لیے ایک قیمتی علمی خزانہ بھی ثابت ہوئی ہے۔ تفسیر الکوثر کی مقبولیت اور علمی اثرات صرف برصغیر تک محدود نہیں بلکہ عالمی سطح پر اس کی پذیرائی ہوئی ہے۔ اس کتاب کی منفرد خصوصیات اور شیخ محسن علی نجفی7 کی علمی بصیرت نے اسے اردو تفسیری ادب میں ایک نمایاں مقام عطا کیا ہے۔
جامعہ الکوثر
شیخ محسن علی نجفی کی گرانقدر علمی خدمات میں ایک عظیم کارنامہ
”جامعہ الکوثر“ کا قیام ہے۔ اس درسگاہ کی بنیاد جناب سیدہE کے اسم مبارک پر رکھی گئی، جو اس کے لیے برکت اور عظمت کا ذریعہ ہے۔ یہ ادارہ جناب سیدہE کی مقدس شخصیت سے وابستہ تعلیمات اور روحانی اثرات کا آئینہ دار ہے۔ جامعہ الکوثر نہ صرف اپنے اعلیٰ تعلیمی معیار کے لیے مشہور ہے بلکہ اپنی منفرد دینی خدمات کے باعث برصغیر اور دنیا بھر میں ایک مثالی کردار ادا کر رہا ہے۔
یہ ادارہ برصغیر کی ایک نمایاں اور معتبر دینی درسگاہ کے طور پر اپنی منفرد شناخت رکھتا ہے، جو علمِ دین، اخلاقیات، اور روحانی تربیت کے میدان میں اپنی مثال آپ ہے۔ جامعہ الکوثر کا بنیادی مقصد دینی علوم کو فروغ دینا اور ایسے مخلص اور باصلاحیت علماء و فکری رہنما تیار کرنا ہے، جو اسلام کی حقیقی روح کو سمجھ کر اس کی خدمت انجام دیں۔
یہ علمی مرکز علم و معرفت کا سرچشمہ بن کر معاشرے میں اخلاص، محبت، اور عدل و انصاف کی اقدار کو عام کر رہا ہے۔ جامعہ الکوثر بلاشبہ وہ روشن مینار ہے جو علم کی روشنی سے انسانی قلوب و اذہان کو منور کرتا رہے گا۔
خطبہ فدک کا اردو ترجمہ
شیخ محسن علی نجفی7 وہ پہلی شخصیت تھے جنہوں نے جناب سیدہE کے معروف خطبہ فدک کا سادہ اور سلیس اردو ترجمہ کیا، جو اسلامی معارف اور صداقتِ سیدہE کا ایک لازوال خزانہ ہے۔ آپ نے اس خطبے کو کتابی شکل میں شائع کیا اور جہاں ضرورت محسوس کی، وہاں اس کی تفسیر و تشریح بھی کی۔ یہ کتاب متلاشیان حق کے لیے قیامت تک ایک مشعل راہ ہے۔
ایام فاطمیہ کی روایت
پاکستان میں ایام فاطمیہ منانے کی روایت کے پیچھے بھی مرحوم شیخ صاحب کی شبانہ روز کاوشیں ہیں۔ ایران و عراق میں ان ایام کو اہتمام سے منایا جاتا تھا، لیکن پاکستان میں یہ روایت موجود نہ تھی۔ شیخ صاحب نے ہادی ٹی وی اور اپنے شاگردوں کے ذریعے اس پیغام کو عام کیا کہ ایام فاطمیہ عاشورہ کی طرح منائے جائیں، تاکہ جناب سیدہE کی مظلومیت اور فضائل لوگوں تک پہنچیں۔ ان کی شخصیت کا یہ پہلو اتنا نمایاں تھا کہ ایام فاطمیہ کی ابتدا انہی کی کاوشوں سے ہوئی، جو آج ملک بھر میں عظیم جوش و خروش کے ساتھ منایا جاتا ہے۔ یہ سعی و جدوجہد ان کے عشق اہل بیتD کی ایک زندہ مثال ہے، جو انہوں نے نہ صرف زبانی بلکہ عملی طور پر بھی دکھایا۔
حق کی تلاش کا راستہ
شیخ محسن علی نجفی7 نے اپنی حیات میں جناب سیدہE کے حوالے سے ایسے سوالات اٹھائے، جو ہر ذی شعور کو سوچنے پر مجبور کرتے ہیں۔ آپ نے اس حقیقت کو بیان کیا کہ جناب سیدہE نے دربارِ خلافت میں کھڑے ہو کر مسلمانوں سے یہ سوال کیوں کیا کہ ان کی ہمدردیاں کہاں چلی گئیں؟ آپ نے اس بات کی نشاندہی کی کہ رسول اللہ ] کی بیٹی کو رات کی تاریکی میں دفن کیوں کیا گیا؟ یہ سوالات آج بھی فکر و غور کرنے والوں کے لیے حق کی جستجو کا دروازہ کھولتے ہیں۔
جامعہ الکوثر اور جناب سیدہE سے منسوب کامیابیاں
شیخ محسن علی نجفی7 جب جامعہ الکوثر کے بارے میں گفتگو کرتے تھے، تو طلبہ کو ہمیشہ جناب سیدہ فاطمۃ الزہراءE کی عظمت کا احساس دلاتے تھے۔ وہ فرماتے تھے کہ ”آپ کوثر والے بہت کچھ کرسکتے ہیں کیونکہ جس ادارے میں آپ تعلیم حاصل کرتے ہیں، وہ رسول اللہ ] کی دختر، امیرالمومنین علیG کی زوجہ اور حسنینF کی والدہ محترمہ جناب فاطمہ الزہراءE کے نام سے منسوب ہے۔“ ان کا ایمان تھا کہ جامعہ الکوثر کی ہر کامیابی اور ہر ترقی جناب سیدہE کے نام کی برکت اور ان کے صدقے سے ہے۔
سیرتِ فاطمۃ الزہراءE سیمینار
شیخ صاحب کی جناب سیدہE سے محبت کا ایک اور عظیم اظہار اُس وقت ہوا جب جامعہ الکوثر میں سیرتِ فاطمہE کے موضوع پر ایک سیمینار منعقد کیا گیا۔ اس سیمینار کے لیے طلبہ کی کثیر تعداد نے مقالہ نویسی کے مقابلے میں شرکت کی اور اعلان کیا گیا کہ جو بہترین مقالہ لکھے گا، اسے انعام سے نوازا جائے گا۔ لیکن بعد میں شیخ صاحب نے ایک منفرد اعلان کیا کہ جن طلبہ نے جناب سیدہE کے نام پر مقالہ لکھا ہے، انہیں بھی انعام دیا جائے گا۔ ان کا فرمانا تھا کہ”جناب سیدہE کا نام اتنا عظیم ہے کہ اس پر جتنا بھی فدا کیا جائے، وہ کم ہے۔“
اس فیصلے میں شیخ صاحب کی بے پناہ عقیدت اور جناب سیدہE کی عظمت کا بھرپور اظہار ہوتا ہے۔ بعد ازاں، تمام طلبہ کو انعامات سے نوازا گیایہ عمل اس بات کی تصدیق کرتا ہےکہ شیخ صاحب کے لیے جناب سیدہE کا نام ہی سب سے بڑی میراث اور فخر تھا۔
شیخ محسن علی نجفی7 کی یہ تعلیمات اور طرز فکر ان کی جناب سیدہE سے عقیدت اور لازوال محبت کی گواہ ہیں، جو انہوں نے ہمیشہ اپنے شاگردوں میں منتقل کرنے کی کوشش کی۔
علمی مجلہ ”الزہراءE“
جب شیخ صاحب عراق سے پاکستان تشریف لائے تو آپ نے علمی اور تحقیقی مجلے ”الزہراءE“ کا آغاز کیا۔ یہ مجلہ جناب سیدہE سے آپ کی بے پناہ عقیدت کا عملی ثبوت تھا، اور آپ کی علمی خدمات کی ایک اور درخشاں مثال۔ اسی طرح آپ کی تصنیفات میں آخرین تصنیف بھی جناب سیدہ Eکے بارے تھی۔ یوں پاکستان تشریف لانے کے بعد آپ کے تحقیقی و علمی سفر کا آغاز مجلہ الزہرا ءEسے شروع ہوا اور اختتام فاطمہ سیدۃ نساء العالمینE کتابچہ پر ختم ہوا۔ یہی آپ کی خاتون جنت سے محبت کی نشانی اور دلیل ہے۔
شیخ محسن علی نجفی7 کی محبت اور عقیدت جناب سیدہ فاطمۃ الزہراءE سے لازوال تھی، اور آپ کی تمام تر کامیابیاں انہی کے نام اور فیض سے منسوب ہیں۔