محسن ملت آیۃ اللہ شیخ محسن علی نجفی 7 کی غریب پروری: ایک بے مثال نمونہ
تعارف
استاد العلماء و شیخ الجامعہ، آیت اللہ محسن علی نجفی 7 ایک ایسی ہمہ جہت شخصیت تھے جن کی علمی و دینی خدمات کے ساتھ ساتھ انسانیت سے محبت اور خدمت خلق کے میدان میں ان کی بے لوث محنت کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ آپ کی شخصیت میں بے شمار صفات تھیں، جن میں غریب پروری اور محتاجوں کی مدد سب سے نمایاں اور دل کو چھو لینے والی تھیں۔ شیخ محسن علی نجفی 7 کی زندگی مومنین اور عام لوگوں کی ضروریات پوری کرنے اور ان کے مسائل حل کرنے میں گزری۔ گو کہ آپ ”خیر الناس من ینفع الناس“ کے عملی پیکر تھے، آپ کی یہ خصوصیت آپ کو ”محسن ملت“ کے لقب سے مشہور کرتی ہے۔
آپ کی شخصیت کا یہ پہلو انہیں ہزاروں دلوں میں ہمیشہ کے لئے زندہ رکھتا ہے، اور تاریخ کے اوراق میں آپ کا نام سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔
شیخ محسن علی نجفی 7: غریب پروری کا عملی نمونہ
شیخ محسن علی نجفی 7 کی غریب پروری ان کی زندگی کا ایک نمایاں پہلو تھی۔ ان کی زندگی کا ہر لمحہ، دن رات مومنین کی فلاح و بہبود، ان کے مسائل کے حل اور ضرورت مندوں کی مدد میں گزرا۔ آپ جب بھی کسی ضرورت مند کے بارے میں سنتے، تو فوراً اس کی مدد کرتے۔ آپ کی سخاوت اور مدد کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جب بھی کوئی بیمار شخص آپ سے رابطہ کرتا تو آپ نہ صرف اس کے علاج کے لیے بہترین ڈاکٹر سے رجوع کرتے بلکہ اس کے علاج کے اخراجات حتی الامکان خود برداشت کرتے تھے۔
جیسا کہ ایک سید عالم کا کہنا ہے، تقریباً دس سال قبل ہمارے گاؤں کے ایک بزرگ سید بیمار تھے، جو مستقل علاج کے محتاج تھے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ توفیق دی کہ میں ہر ماہ شیخ صاحب 7 سے دوائی کی رقم لے کر اسلام آباد سے دوائیاں خرید کر گاؤں بھیجتا تھا۔ ایک مرتبہ کچھ ذاتی مصروفیات کی وجہ سے میں ان سے رقم لینے میں تاخیر کر بیٹھا، تو جب شیخ صاحب 7 سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا: ”آپ ابھی آئے ہیں؟ وہ بے چارہ سید کس حالت میں ہوگا؟“ یہ شیخ صاحب 7 کی بے لوث محبت اور غریب پروری کا ایک زندہ ثبوت تھا۔
شیخ صاحب 7 کی بے لوث خدمت
شیخ محسن علی نجفی 7 کی غریب پروری کی داستانیں بہت زیادہ ہیں، جنہیں الفاظ میں سمیٹنا مشکل ہے۔ آپ نہ صرف ایک عظیم علمی شخصیت تھے بلکہ ایک درد دل رکھنے والے انسان بھی تھے جو ہر وقت غریبوں اور محتاجوں کی مدد کے لئے تیار رہتے تھے۔ آپ کے پاس ہر روز بہت فون کالز آتی تھیں، جن میں مومنین اپنے مسائل اور مشکلات بیان کرتے تھے۔ لیکن آپ کبھی بھی کسی کو مایوس نہیں کرتے، ہر ایک کا مسئلہ فوری طور پر حل کرتے، اور عملی اقدامات اٹھاتے۔ آپ کبھی اپنا موبائل بند نہیں رکھتے، اور جب بے وقت فون کالز کی وجہ سے لوگ مشورے دیتے تھے، کہ فون سائلنٹ پر رکھیں تو آپ فرماتے تھے، نہیں ایسا کرنا درست نہیں سمجھتا کیونکہ ہو سکتا ہے کہ کسی کی ایمرجنسی کال ہو، اور وہ بے چارہ زیادہ پریشان ہوجائے، یا کوئی مسئلہ شرعی پوچھنا چاہ رہا ہو، اور بر وقت جواب نہ ملنے کی صورت میں کہیں معصیت کا مرتکب نہ ہوجائے۔
آپ نے ہمیشہ غریب پروری کو اپنے اوپر فرض سمجھا اور کبھی بھی کسی اور کے حوالہ نہیں کیا، اپنی زندگی کے آخرین لمحات تک خود ہی غریب پروری کرتے رہے، اور بار بار امیرالمومنینG کی غریب پروری کی صفت کو بیان فرماتے، اور کہتے تھے کہ جب خلافت ظاہری امیرالمؤمنینG کو ملی تو آپG نے غریب پروری کا شعبہ کسی کے حوالہ نہیں کیا، اور خود ہی اپنی شہادت تک بطور احسن اسے نبھاتے رہے۔ شیخ صاحب 7 بھی اسی سیرت علوی پر گامزن رہے، اور حتی الامکان غریب پروری مخفیانہ طور پر کرتے تھے، تاکہ اس غریب کی بے احترامی نہ ہو۔
یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ شیخ صاحب 7 کی غریب پروری زبانی ہمدردی تک محدود نہیں تھی۔ آپ عملی طور پر ہر غریب اور مجبور انسان کی مدد کرتے تھے۔
انبیاء و اوصیاء D کی سنت کا عملی اظہار
شیخ محسن علی نجفی 7 کی غریب پروری صرف ایک ذاتی فعل نہیں تھا، بلکہ یہ انبیاء و اوصیاء Dکی سنت کا عملی اظہار تھا۔ آپ کی زندگی ہمارے لیے ایک روشن مثال ہے، جو ہمیں یہ درس دیتی ہے کہ ہم کس طرح اپنے معاشرے میں دوسروں کی مدد کر سکتے ہیں۔ ایک غیر معصوم شخصیت جب اپنی زندگی کو اخلاص، ایمان اور عمل سے مزین کرتی ہے، تو وہ مثالی بن جاتی ہے۔ شیخ محسن علی نجفی 7 کی زندگی اس کا بہترین نمونہ تھی۔
شیخ صاحب 7 کا کہنا تھا کہ غریبوں اور محتاجوں کی خدمت کرنا صرف ایک مذہبی فریضہ نہیں، بلکہ یہ انسانیت کی بنیاد ہے۔ آپ ہمیشہ اس بات پر زور دیتے کہ مومنین کو اپنی دولت اور وسائل سے دوسروں کی مدد کرنی چاہیے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کی زندگی ایک ایسی روشنی ہے جو آج بھی ہمارے لیے مشعل راہ ہے۔
کشمیر و مانسہرہ میں فلاحی خدمات
شیخ محسن علی نجفی 7 نے دور دراز علاقوں میں بھی غریب اور ضرورت مند لوگوں کی فلاح و بہبود کے لیے بے شمار خدمات انجام دیں۔ کشمیر اور مانسہرہ جیسے علاقوں میں آپ نے بے شمار فلاحی منصوبے شروع کیے، جن سے ہزاروں لوگ مستفید ہوئے۔ آپ نے ہمیشہ اس بات کا خیال رکھا کہ آپ کی مدد ہر اس شخص تک پہنچے جسے اس کی ضرورت ہے، چاہے وہ دنیا کے کسی بھی کونے میں ہو۔
مدینہ اہلبیت: غریبوں کے لئے رہائشی منصوبہ
شیخ محسن علی نجفی 7 کی غریب پروری کا ایک اور اہم کارنامہ مدینہ اہلبیت کا قیام ہے۔ سکردو شہر کے قلب میں قائم یہ رہائشی منصوبہ غریب مومنین کے لیے ایک پرسکون اور محفوظ مسکن ہے۔ ہزاروں نادار اور بے سہارا افراد آج مدینہ اہلبیت میں رہائش پذیر ہیں، جہاں انہیں بہترین سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔ یہ منصوبہ اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ شیخ صاحب 7 نے ہمیشہ غریبوں اور ضرورت مندوں کی مدد کو ترجیح دی۔
غریب پروری کی تعلیمات
شیخ محسن علی نجفی 7 کی زندگی ہمیں عملی طور پر غریب پروری اور خدمت خلق کی بے مثال تعلیمات دیتی ہے۔ ان کی شخصیت میں کئی خوبیاں تھیں جنہوں نے انہیں ایک منفرد مقام پر فائز کیا، اور ان کی غریب پروری کا جذبہ سب سے نمایاں تھا۔ وہ نہ صرف خود غریبوں کی مدد کرتے تھے بلکہ دوسروں کو بھی اس عظیم فریضے کی طرف راغب کرتے تھے۔ ان کے نزدیک غریبوں کی خدمت نہ صرف ایک انسانی فرض بلکہ عین بندگی تھی، جس میں اللہ کی رضا پوشیدہ ہوتی ہے۔
عزت نفس کا تحفظ: غریبوں کے وقار کا خیال
شیخ محسن علی نجفی 7 ہمیشہ اس بات کا خاص خیال رکھتے تھے کہ غریبوں کی عزت نفس مجروح نہ ہو۔ آپ اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ مدد کرتے وقت غریب کے وقار اور خودداری کا تحفظ ضروری ہے۔ کسی کی مدد کرنا ایک نیکی ہے، لیکن اس مدد کے بعد احسان جتانا یا اس پر فخر کرنا اس نیکی کی روح کو ختم کر دیتا ہے۔ شیخ صاحب 7 نے کبھی بھی اپنی غریب پروری کو شہرت کا ذریعہ نہیں بنایا، بلکہ ہر کام اخلاص اور اللہ کی رضا کے لئے کیا۔
یہی وجہ تھی کہ آپ کی مدد پانے والے افراد کبھی بھی خود کو محتاج یا بے وقعت محسوس نہیں کرتے تھے۔ آپ انہیں اس طریقے سے مدد پہنچاتے تھے کہ وہ خود کو باعزت اور خودمختار محسوس کریں۔ یہ آپ کی شخصیت کی عظمت اور انسان دوستی کا ایک بے مثال نمونہ تھا۔
غریب عیال اللہ: خدمت کی حقیقی روح
شیخ محسن علی نجفی 7 ہمیشہ یہ تعلیم دیتے تھے کہ غریب عیال اللہ ہے، یعنی اللہ کے خاص بندے ہیں۔ ان کی خدمت دراصل اللہ کی خدمت ہے، اور اس خدمت کے ذریعے بندہ خدا کی خوشنودی حاصل کرتا ہے۔ آپ فرمایا کرتے تھے کہ غریبوں اور محتاجوں کی مدد کرنا دنیاوی کام نہیں بلکہ عین عبادت ہے، جو دل کو سکون اور روح کو طہارت عطا کرتی ہے۔
شیخ صاحب 7 ہمیشہ اس بات پر زور دیتے کہ غریبوں کی خدمت کو دل سے کیا جائے، اس میں کوئی دنیاوی مفاد نہ ہو، نہ شہرت کی طلب اور نہ کسی قسم کی دنیاوی تعریف کی امید۔ آپ کی غریب پروری کی بنیاد خالصتاً اللہ کی رضا اور بندوں کی فلاح تھی۔
احسان جتانے سے پرہیز: نیکی کی اصل روح
شیخ محسن علی نجفی 7 کی غریب پروری میں جو نمایاں خصوصیت نظر آتی ہے وہ احسان جتانے سے پرہیز کرنا تھی۔ آپ غریبوں کی مدد روزانہ کی بنیاد پر کرتے تھے، لیکن کبھی بھی اس مدد کو اپنی شہرت کا ذریعہ نہیں بنایا۔ آج کے دور میں جہاں اکثر لوگ نیکیاں کرتے ہوئے اپنی تصاویر سوشل میڈیا پر پوسٹ کرتے ہیں، وہاں شیخ صاحب 7 نے ہمیشہ اس سے گریز کیا۔
آپ کے پاس نہ تو سوشل میڈیا کی کوئی ٹیم تھی، نہ ہی آپ کے اردگرد کوئی ایسا گروہ تھا جو آپ کی مدد کی تشہیر کرتا۔ شیخ صاحب 7 کا یہ اصول تھا کہ نیکی خاموشی سے کی جائے، تاکہ اللہ کی خوشنودی حاصل ہو۔ آپ کی یہی خاموشی اور اخلاص آپ کو غریبوں کے دلوں میں زندہ رکھتی تھا۔ غریب لوگ جانتے تھے کہ شیخ صاحب 7 کی مدد خالصتاً اللہ کے لیے ہوتی ہے، اور اس میں کوئی دنیاوی غرض شامل نہیں ہوتی۔
حقیقی معنوں میں خدمت خلق
شیخ محسن علی نجفی 7 کی زندگی سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ حقیقی خدمت خلق وہی ہے جو خاموشی سے کی جائے اور جس کا مقصد صرف اور صرف اللہ کی رضا ہو۔ آپ نے نہ صرف اپنے عمل سے اس بات کو ثابت کیا بلکہ دوسروں کو بھی ہمیشہ اس راستے پر چلنے کی نصیحت کی۔ ان کے نزدیک غریبوں کی مدد صرف مالی امداد تک محدود نہیں تھی، بلکہ آپ ان کے مسائل سنتے، ان کے لئے دعائیں کرتے، اور ان کی زندگی کو بہتر بنانے کے لئے عملی اقدامات کرتے۔
آپ ہمیشہ اس بات کا خیال رکھتے تھے کہ مدد لینے والا شخص خود کو مجبور یا کمتر محسوس نہ کرے۔ آپ کی مدد کا انداز اس قدر نرمی اور محبت سے بھرپور تھا کہ لوگوں کو نہ صرف مالی مدد ملتی بلکہ ان کے دلوں کو سکون اور امید کی روشنی بھی ملتی۔
بغیر تشہیر کے نیکی: دلوں میں بسنے کا راز
آج کے دور میں جہاں لوگ ہر نیک عمل کو سوشل میڈیا پر پوسٹ کرکے دوسروں کو دکھانے کا رجحان رکھتے ہیں، شیخ محسن علی نجفی 7 نے ہمیشہ اس سے پرہیز کیا۔ آپ نے کبھی بھی اپنی غریب پروری کی تشہیر نہیں کی۔ نہ آپ کے پاس میڈیا ٹیم تھی، نہ ہی آپ نے کبھی اپنی مدد کی تصویریں بنوائیں۔ آپ کا یہ عمل اس بات کی علامت تھا کہ حقیقی نیکی وہی ہے جو دکھاوے سے پاک ہو۔
یہی وجہ تھی کہ آپ کا نام لوگوں کے دلوں میں بسا ہوا ہے۔ آپ نے اپنی نیکیوں کا اجر صرف اللہ سے چاہا، اور اسی خاموشی نے آپ کو لوگوں کے دلوں میں ہمیشہ کے لیے جگہ دے دی۔
نتیجہ:
شیخ محسن علی نجفی 7 کی زندگی سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ غریب پروری اور خدمت خلق ایک عظیم فریضہ ہے، جسے خلوص، اخلاص اور عاجزی کے ساتھ ادا کیا جائے۔ آپ نے اپنی زندگی میں جو تعلیمات دی ہیں، وہ ہمارے لیے مشعل راہ ہیں۔ آپ کی غریب پروری کا طریقہ ہمیں یہ درس دیتا ہے کہ مدد کرتے وقت عزت نفس کا تحفظ، اخلاص اور نیکی کی تشہیر سے پرہیز انتہائی اہم ہیں۔
شیخ صاحب 7 کی غریب پروری کا حقیقی راز ان کا دل سے کیا ہوا اخلاص تھا، جو انہوں نے کبھی دنیاوی نمود و نمائش کا حصہ نہیں بنایا۔ آپ کی شخصیت اور عمل ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ نیکی اور خدمت خلق کا اصل مقام وہی ہے جہاں بندہ اپنے رب کی رضا کے لئے کام کرتا ہے، بغیر کسی غرض کے، اور یہیں سے انسان دلوں میں بس جاتا ہے۔
اللہ تعالی، بحق محمد و آل محمد، آپ کے درجات بلند فرمائے اور آپ کی خدمات کو ابد تک یاد رکھا جائے۔
آمین۔