اوصاف و کمالات

حضرت آیۃ اللہ شیخ محسن علی نجفی 7 کا عشق با خدا

شیخ محسن علی نجفی 7ایک ایسی عظیم شخصیت تھے جن کی زندگی کا ہر پہلو عشقِ الٰہی سے معمور تھا۔ ان کا ہر عمل اور ہر قدم خدا کی محبت اور رضامندی کے لئے تھا۔ آپ نے اپنی زندگی کو صرف عبادت اور خدمت کے لئے وقف نہیں کیا، بلکہ آپ کی زندگی میں نظر آنے والے عملی نمونے انسانیت کے لیے ایک مشعل راہ ہیں۔ ان کی ذات محبتِ الٰہی کا مجسمہ تھی، جس کی بدولت وہ نہ صرف روحانی اعتبار سے ایک بلند مقام پر فائز تھے، بلکہ ان کی عملی زندگی بھی اسی عشقِ خدا کی گواہی دیتی ہے۔

عشق الٰہی کی بنیاد: خلوص اور تقویٰ

شیخ محسن علی نجفی 7 کی زندگی کی بنیادی خصوصیت ان کا عشقِ خدا تھا، جو نہایت خلوص اور تقویٰ پر مبنی تھا۔ آپ کی تمام سرگرمیاں خدا کی رضا کے لئے تھیں، اور آپ نے ہمیشہ دکھاوے اور ریاکاری سے اجتناب کیا۔ یہ بات آپ کی زندگی میں نمایاں تھی کہ آپ کسی عمل کو محض دنیاوی مفادات کے لیے انجام نہیں دیتے تھے بلکہ ہر عمل کے پیچھے اللہ کی خوشنودی کو مدنظر رکھتے تھے۔

آپ کے نزدیک ہر نیک عمل کی اصل قیمت تب ہے جب وہ اللہ کی رضا کے لئے ہو، نہ کہ لوگوں کی تعریفوں کے لئے۔ آپ فرمایا کرتے تھے کہ دنیا کی تعریفیں انسان کو خود پسندی میں مبتلا کر سکتی ہیں، اور یہ تعریفیں آخرت میں انسان کے لئے باعثِ ذلت بن سکتی ہیں۔ آپ نے ہمیشہ لوگوں کو اس بات سے خبردار کیا کہ وہ تعریفوں کے پیچھے نہ بھاگیں بلکہ خالص اللہ کی رضا کے لئے نیکیاں کریں۔

عملی زندگی میں عشقِ الٰہی کے مظاہر

شیخ محسن علی نجفی 7 کی زندگی میں عشقِ الٰہی کے متعدد عملی مظاہر نظر آتے ہیں، جنہوں نے نہ صرف ان کی شخصیت کو نمایاں کیا بلکہ لوگوں کے لیے ایک عملی سبق فراہم کیا۔ آپ کی زندگی میں کئی ایسی خدمات شامل ہیں جو براہ راست خدا کی محبت اور اس کے کلام کے فروغ کے لیے تھیں۔

شیخ محسن علی نجفی 7 اور تعمیرِ مساجد: عشقِ الٰہی کا عملی اظہار

شیخ محسن علی نجفی 7 کی زندگی خدا کی محبت اور دینِ اسلام کی خدمت سے عبارت تھی۔ ان کی محبت الٰہی کا ایک اہم اور نمایاں پہلو مساجد کی تعمیر میں ان کا کردار تھا۔ مساجد کو خدا کا گھر کہا جاتا ہے، اور شیخ محسن علی نجفی 7 نے اس حقیقت کو اپنی زندگی کا حصہ بنایا۔ ان کے تعاون سے پاکستان کے مختلف علاقوں میں سینکڑوں مساجد تعمیر کی گئیں، اور نہ صرف پاکستان بلکہ بیرون ملک بھی کئی مساجد کی تعمیر میں ان کا اہم کردار رہا۔ خدا کا گھر وہی شخص تعمیر کرتا ہے جس کا دل محبتِ الٰہی سے سرشار ہو اور جو اپنی دنیاوی خواہشات سے بالاتر ہو کر دین کی خدمت کا ارادہ رکھتا ہو۔ ان کے نزدیک مساجد کی تعمیر صرف ایک عمارت بنانے کا عمل نہیں تھا، بلکہ یہ ایمان کی مضبوطی اور اسلامی معاشرت کے قیام کی کوشش کا ایک عملی نمونہ تھا۔

مساجد کی تعمیر: دین کی خدمت

مساجد ہمیشہ سے اسلامی معاشرت کا مرکز رہی ہیں۔ یہ نہ صرف عبادت کا مقام ہیں، بلکہ یہ مسلمانوں کی روحانی تربیت، علمی گفتگو، اور معاشرتی اصلاح کا ذریعہ بھی ہیں۔ شیخ محسن علی نجفی 7 اس بات کا بخوبی ادراک رکھتے تھے اسی لیے مساجد کی تعمیر کو اپنی زندگی کا اہم مقصد بنایا۔ آپ کی کوششوں سے پاکستان کے طول و عرض میں سینکڑوں مساجد وجود میں آئیں، جو آج بھی مسلمانوں کے دینی اور روحانی تربیت کے مراکز کے طور پر خدمات انجام دے رہی ہیں۔

ملک سے باہر مساجد کی تعمیر

شیخ محسن علی نجفی 7 کی خدمات صرف پاکستان تک محدود نہیں رہیں، بلکہ ان کی محنت اور عشقِ الٰہی کا دائرہ بیرون ملک تک پھیلا ہوا ہے۔ دنیا کے مختلف ممالک میں بھی ان کی رہنمائی اور تعاون سے مساجد تعمیر کی گئیں، جو بین الاقوامی سطح پر مسلمانوں کے لیے دینی مراکز بن گئیں۔ ان مساجد کا قیام صرف عمارتوں کی تعمیر نہیں تھا، بلکہ یہ عالمی سطح پر دینِ اسلام کی خدمت اور اس کی ترویج کا ایک ذریعہ تھیں۔

آپ کی خدمات کا تسلسل

شیخ محسن علی نجفی 7 کے اس عظیم مشن کو آج بھی جاری رکھا جا رہا ہے۔ ان کے تربیت یافتہ افراد اور ادارے ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے مساجد کی تعمیر اور دینی خدمات کو فروغ دے رہے ہیں۔

بلاغ القرآن: کلام الٰہی کی ترویج کا اہم ذریعہ

شیخ محسن علی نجفی 7 کا عشقِ الٰہی کا ایک اور عظیم مظہر آپ کا اردو زبان میں قرآن مجید کا ترجمہ بلاغ القرآن ہے، جو پچاس سے زائد مرتبہ شائع ہو چکا ہے۔ یہ ترجمہ خدا کے کلام کو عام کرنے اور لوگوں تک اس کا صحیح مفہوم پہنچانے کی ایک بے مثال کوشش ہے۔ قرآن مجید کا ترجمہ وہی شخص کر سکتا ہے جس کے دل میں خدا کی محبت اور اس کے کلام کی اہمیت ہو۔

بلاغ القرآن کی مقبولیت اس بات کی گواہ ہے کہ شیخ صاحب 7 کا ترجمہ انتہائی عمیق مطالعے اور روحانی تفکر کا نتیجہ ہے۔ آپ کا یہ کارنامہ قرآن کے ساتھ آپ کی محبت اور عقیدت کی ایک زندہ مثال ہے، جو آپ کے عشقِ الٰہی کو مزید واضح کرتا ہے۔

الکوثر فی تفسیر القرآن: عشقِ قرآن کا علمی شاہکار

شیخ محسن علی نجفی 7 نے نہ صرف قرآن کا ترجمہ کیا بلکہ دس جلدوں پر مشتمل ایک مفصل تفسیر بھی تحریر کی جس کا نام الکوثر فی تفسیر القرآن ہے۔ یہ تفسیر قرآن کے طالب علموں کے لیے ایک نعمت عظمیٰ سے کم نہیں ہے۔ یہ سالہا سال کی محنت اور قرآن کے مفاہیم پر گہرے غور و فکر کا نتیجہ ہے۔

شیخ صاحب 7 کی یہ تفسیر اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ آپ قرآن مجید کی تفہیم اور اس کے پیغامات کو عام کرنے کے لیے کتنے پر عزم تھے۔ ان کی یہ علمی خدمت عشقِ الٰہی کا ایک بے مثال نمونہ ہے، جو آپ کی گہری دینی بصیرت اور قرآن سے محبت کو ظاہر کرتی ہے۔

توحید کی حفاظت کے لیے جدوجہد

ملک پاکستان میں اور دنیا بھر میں الحاد اور غیر اسلامی نظریات کے بڑھتے ہوئے رجحان کو دیکھتے ہوئے شیخ محسن علی نجفی 7 نے دار التحقیق للرد علی شبہات الملحدین“ قائم کیا۔ اس ادارے کا مقصد اسلام کی بنیادی تعلیمات، خصوصاً توحید کی حفاظت اور فروغ تھا۔ شیخ صاحب 7 ہمیشہ اس بات پر زور دیتے تھے کہ توحید کی خاطر وہ کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے، حتیٰ کہ اگر ضرورت پڑی تو توحید کی حفاظت کے لیے جامعہ الکوثر بھی فروخت کرنے کے لئے تیار ہوں گے۔

یہ شیخ صاحب 7 کے عشقِ الٰہی اور دین اسلام کے ساتھ ان کی گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ آپ کی زندگی کا مقصد ہمیشہ توحید کا پرچم بلند رکھنا اور اسلام کے خلاف اٹھنے والی تحریکوں کا مقابلہ کرنا تھا۔

شیخ محسن علی نجفی 7 اور اصلاحِ منبر

آپ کا ایک عظیم مشن منبر حسینی کی اصلاح اور اس کے تقدس کی حفاظت تھا۔ شیخ محسن علی نجفی 7 کا یہ نظریہ تھا کہ منبر کو امام حسینG کے پیغام اور دینِ اسلام کی خالص تعلیمات کے فروغ کا ذریعہ بننا چاہیے، اور اس پلیٹ فارم سے ہمیشہ توحید اور معارفِ الٰہی کی تبلیغ ہونی چاہیے۔

منبر کا تقدس اور دینی ذمہ داری

منبر ایک مقدس اور بابرکت مقام ہے۔اور یہ اسلامی تعلیمات کی نشر و اشاعت کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ شیخ محسن علی نجفی 7 نے اس بات پر زور دیا کہ منبر سے کی جانے والی گفتگو ایک بھاری دینی ذمہ داری ہے، اور اس پر بیٹھنے والا شخص یہ سمجھ لے کہ وہ ایک مقدس مقام پر موجود ہے، جہاں سے اس کے الفاظ دلوں پر اثر کرتے ہیں۔ آپ نے بارہا خطباء اور واعظین کو تلقین کی کہ وہ منبر پر آتے ہوئے اپنی گفتگو میں قرآن و سنت کو پیش نظر رکھیں اور ایسی باتیں کریں جو مسلمانوں کی روحانی تربیت کا باعث بنیں۔ منبر حسینی کو امام حسینG کے ساتھ منسوب کیا گیا ہے، جو کربلا کے میدان میں دینِ اسلام کی بقا ء اور توحید کے اصولوں کی حفاظت کے لیے عظیم قربانی دینے والے عظیم رہنما تھے۔ منبر کو اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔

آپ فرماتے تھے کہ منبر کا اصل مقصد دینِ اسلام کے بنیادی اصولوں یعنی توحید، رسالت، اور قیامت کی تعلیمات کو عام کرنا ہے۔ اس لیے منبر کو ان اقدار کی تبلیغ کا ذریعہ بنانا چاہیے، نہ کہ ایسے نظریات کا، جو دین کی بنیادی تعلیمات کے مخالف ہوں۔

شرک اور غلو آمیز خطابت کی مذمت

شیخ محسن علی نجفی 7 نے ہمیشہ شرک اور غلو کی مذمت کی اور خطیبوں کو اس سے بچنے کی تلقین کی۔ آپ فرماتے تھے کہ منبر کو کبھی بھی شرک یا غلو آمیز عقائد کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے، کیونکہ یہ اسلام کے حقیقی پیغام کو دھندلا کر دیتے ہیں۔ شیخ محسن علی نجفی کے نزدیک ایسی باتیں جو توحید کے عقیدے کو متاثر کرتی ہیں، منبر کی حرمت کو پامال کرتی ہیں۔

آپ کے نزدیک، منبر کو ذاتی شہرت یا واہ واہ کے لیے استعمال کرنا ایک سنگین غلطی ہے اور اس سے دین کی اصل روح مجروح ہوتی ہے۔ شیخ صاحب 7 نے فرمایا کہ امام حسینG نے اپنی قربانی توحید کی حفاظت اور دینِ اسلام کی بقاء کے لیے دی، اس لیے منبر سے امام حسینG کے حقیقی پیغام کو عام کیا جانا چاہیے، جو دینِ اسلام کی بقا ءاور توحید کی سربلندی ہے۔

پیغامِ کربلا اور توحید

شیخ محسن علی نجفی 7 کے نزدیک کربلا کا واقعہ اور امام حسینG کی قربانی دینِ اسلام کی حفاظت اور اس کی توحید پر مبنی تعلیمات کے تحفظ کے لیے تھی۔ آپ فرماتے تھے کہ منبر حسینی کا اصل مقصد یہی ہے کہ اس سے امام حسینG کا پیغام، جو کربلا میں دیا گیا تھا، لوگوں تک پہنچایا جائے۔

شیخ محسن علی نجفی اس بات کے قائل تھے کہ امام حسینG کا پیغام دینِ اسلام کی بقا ءاور توحید کی سربلندی تھا۔ اس لیے منبر کو ایسی باتوں کے لیے استعمال کرنا جو دین کے اصولوں سے متصادم ہوں یا جو لوگوں کو شرک یا غلو کی طرف مائل کریں، ایک بہت بڑا جرم ہے۔ آپ نے ہمیشہ خطیبوں کو اس بات کی تلقین کی کہ وہ منبر سے ایسی باتیں کریں جو لوگوں کو توحید اور دینِ اسلام کی صحیح روح کی طرف مائل کریں۔

فہم دین سمپوزیم: توحید کا فروغ

شیخ محسن علی نجفی 7 نے کلمہ توحید کی سر بلندی اور حقیقی اسلامی عقائد کو عام کرنے کے لئے فہم دین سمپوزیم کے عنوان سے کانفرنسز کا اہتمام کیا۔ آپ نے دسیوں جگہوں پر یہ کانفرنسز منعقد کیں تاکہ لوگوں تک دینِ اسلام کی حقیقی روح اور پیغامِ توحید پہنچایا جا سکے۔

یہ کانفرنسز نہ صرف علمی حلقوں میں مقبول ہوئیں بلکہ عوام الناس تک بھی توحید کا پیغام پہنچانے کا ایک اہم ذریعہ بنیں۔ آپ کا یہ عمل عشقِ الٰہی کا ایک اور عملی ثبوت ہے، جس نے آپ کو دنیا بھر میں ایک روحانی رہنما کے طور پر متعارف کرایا۔

انسان اور کائنات میں اللہ کی تجلی، اور محاضرات عصریہ

آپ کی خدا سے محبت کے عملی مظاہر میں دو اہم کتابیں نمایاں ہیں، جن میں سے ایک اردو زبان میں اور دوسری عربی زبان میں تصنیف کی گئی ہے۔ ان کتابوں میں عقیدۂ توحید کو انتہائی مدلل اور مؤثر انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی، توحید اور اس سے متعلق اعتقادی نظریات پر کیے جانے والے اعتراضات کا عقلی اور منطقی بنیادوں پر ایسا شاندار جواب دیا گیا ہے کہ دین مخالف افکار کی بنیادیں ہل جاتی ہیں۔ یہ دونوں تصانیف آپ کی فکری گہرائی اور ایمان کی پختگی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔

نتیجہ: عشقِ الٰہی کا عظیم درس

شیخ محسن علی نجفی 7 کی زندگی کا ہر پہلو عشقِ الٰہی سے عبارت تھا۔ ان کی مساجد کی تعمیر، قرآن کے ترجمے اور تفسیر کی خدمات، اور دینِ اسلام کی حفاظت کے لئے ان کی کاوشیں اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہیں کہ ان کا ہر عمل محبتِ خدا اور دین کے فروغ کے لئے تھا۔

آپ کی زندگی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ عشقِ الٰہی صرف زبانی دعووں کا نام نہیں ہے بلکہ عملی جدوجہد کا تقاضا کرتا ہے۔ شیخ صاحب 7 نے اپنی پوری زندگی کو دین اور توحید کی خدمت کے لئے وقف کر دیا، اور یہ عشقِ خدا کا ہی نتیجہ تھا کہ ان کے ہر عمل میں اخلاص اور خلوص جھلکتا تھا۔

ان کی خدمات اور تعلیمات ہمارے لئے مشعل راہ ہیں، جو ہمیں اللہ کی محبت اور اس کی عبادت کی اصل روح سے آشنا کرتی ہیں۔

Related Articles

Back to top button