اوصاف و کمالات

آیۃ اللہ شیخ محسن علی نجفی7 ایک عظیم انسان ساز شخصیت

محسن ملت شیخ الجامعہ رضوان اللہ تعالی علیہ کی شخصیت واقعی اسم بامسمی تھی۔ آپ کی خدمات کا دائرہ نہ صرف ملکی سطح تک محدود نہ تھا بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی آپ کی گراں قدر خدمات نے نمایاں مقام حاصل کیا۔ آپ کی تمام جدوجہد انسانیت کی خدمت اور انسان سازی پر مرکوز تھی۔ رنگ، نسل، زبان یا کسی تعصب کے بغیر آپ نے ہمیشہ انسانیت کے لیے کام کیا۔ آپ کی زندگی کا محور دکھی انسانیت کی بے لوث خدمت تھا، جس میں تنگ نظری کا شائبہ تک نہ تھا۔ آپ کا مقصد ایک ایسا معاشرہ تشکیل دینا تھا جو بلند اقدار اور اعلیٰ انسانی اصولوں پر استوار ہو۔

انسانیت کی خدمت اور انسان سازی کا مشن

شیخ الجامعہ کا مشن انسان کو ایک پسماندہ اور پسے ہوئے معاشرے سے نکال کر ایک مثالی اور مہذب معاشرے کی تعمیر کرنا تھا۔ آپ کی شخصیت اسلام کی ان تعلیمات کا عملی مظہر تھی جن کا مقصد امن و آشتی، اخوت اور اتحاد بین المسلمین ہے۔ آپ نے اس سلسلے میں ایسے اقدامات کیے جن کی نظیر نہیں ملتی۔ اتحاد اور اتفاق کا فروغ آپ کی زندگی کا خاص مشن تھا، اور اس حوالے سے آپ کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ آپ کا اخلاص اور انسانیت کی خدمت کا جذبہ اس قدر نمایاں تھا کہ ہر طبقہ آپ کی خدمات کا معترف تھا۔

حیات طیبہ کا اصول

آپ اکثر ‘‘حیات طیبہ’’ گزارنے کی تلقین کرتے تھے اور یہ بھی فرماتے تھے کہ اپنی زندگی کے ایسے آثار چھوڑ جائیں جن سے نہ صرف مذہب بلکہ انسانیت کو بھی فائدہ ہو۔ آپ طلبہ کو خاص طور پر نصیحت کرتے تھے کہ وہ اپنی زندگی کو علم و برکت سے معمور کریں اور ایسے علمی و عملی کارنامے انجام دیں جو معاشرے کی ترقی اور فلاح میں معاون ثابت ہوں۔ آپ کے نزدیک کامیاب زندگی وہ ہے جو انسانیت کی خدمت اور ایک مہذب معاشرے کی تشکیل کے لیے وقف ہو۔

جامعۃ الکوثر اور دیگر ادارے

آپ کی خدمات کا ایک عظیم الشان ثبوت جامعۃ الکوثر کا قیام ہے، جو پاک و ہند میں ایک مثالی تعلیمی ادارے کے طور پر جانا جاتا ہے۔ اس ادارے نے سینکڑوں طلبہ، علماء، اور مختلف شعبوں میں پی ایچ ڈی کرنے والے ماہرین کو معاشرے کے لیے تیار کیا، جو آج بھی انسانیت کی خدمت کے مختلف میدانوں میں مصروف عمل ہیں۔ جامعۃ الکوثر کی مقبولیت اور اثر پذیری روز روشن کی طرح عیاں ہے۔

اس کے علاوہ آپ نے مدارس اہل بیت کے قیام، یتیم خانوں، ہسپتالوں، سکولوں، کالجوں، اور دیگر فلاحی اداروں کے ذریعے معاشرتی فلاح و بہبود کے لیے ناقابل فراموش خدمات انجام دیں۔ یہ تمام ادارے آپ کے اس عظیم مشن کے عکاس ہیں جس کا مقصد دکھی انسانیت کی خدمت اور ایک مہذب معاشرے کی تشکیل ہے۔

انسانیت کا درد رکھنے والی شخصیت

آپ کی شخصیت ایک حقیقی مربی کی تھی، جس میں انسانیت کا درد نمایاں تھا۔ آپ نے ہمیشہ خدمت کے دوران یہ خیال رکھا کہ مدد کرنے سے کسی کی عزت نفس مجروح نہ ہو۔ ایک واقعہ جو اس بات کا عملی ثبوت ہے، وہ یہ ہے کہ جب طلباء آپ کے پاس اپنی مشکلات لیکر جاتے تھے تو آپ عزت نفس مجروح کئے بغیر حسب استطاعت معاونت فرماتے تھے۔ جیسا کہ ایک عزیز طالب علم کا بیان ہے کہ میں جامعۃ الکوثر میں زیر تعلیم تھا، تو ایک دن مجھے اچانک اپینڈکس کا آپریشن کروانا پڑا۔ مالی مشکلات کی وجہ سے آخری امید کے طور پر شیخ صاحب 7 کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے مالی مشکلات کے باوجود نہ صرف میری مدد کی بلکہ میرا حوصلہ بھی بڑھایا۔ آپ کا ہمدردانہ رویہ ایسا تھا کہ میری عزت نفس بھی برقرار رہی اور میرا مسئلہ بھی حل ہوا۔ یہ واقعہ آپ کی بے لوث خدمت کا عملی ثبوت ہے۔

مردہ پرست معاشرے کا المیہ

بدقسمتی سے ہمارا معاشرہ مردہ پرستی کا شکار ہے۔ ہم ایسی عظیم شخصیات کی قدر ان کی زندگی میں نہیں کرتے، بلکہ اگر قدر کرنی بھی ہو تو ان کی رحلت کے بعد۔ حالانکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ان شخصیات کو ان کی زندگی میں ہی ان کی خدمات کے مطابق عزت و احترام دیں اور ان کے مشن کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔

مشن کی بقا اور عزائم

شیخ الجامعہ کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ان کے مشن کو جاری رکھا جائے۔ آپ کا مشن صرف دکھی انسانیت کی خدمت نہیں تھا بلکہ ایک مثالی اور باوقار معاشرے کی تشکیل بھی تھا۔ آپ کی زندگی واقعی اس حدیث کا عملی مظہر تھی کہ بہترین انسان وہ ہے جو دوسروں کے لیے سب سے زیادہ فائدہ مند ہو۔

ایک انجمن کی مانند شخصیت

اگر آپ کی خدمات کو ایک جملے میں سمیٹا جائے تو آپ کو خدمتِ انسانیت کی ایک ”انجمن“ کہنا مناسب ہوگا۔ آپ کی زندگی اور خدمات رہتی دنیا تک یاد رکھی جائیں گی، اور آپ کے قائم کردہ ادارے آپ کے مشن کو آگے بڑھانے کا ذریعہ بنے رہیں گے۔ آپ کی شخصیت واقعی ایک ایسی نعمت تھی جس کا شکر یہی ہے کہ آپ کے مشن کو زندگی کی آخری سانس تک جاری رکھا جائے۔

شیخ الجامعہ رضوان اللہ تعالی علیہ کی شخصیت اور خدمات ہمارے لیے مشعل راہ ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے انسانیت کی خدمت کو اپنی زندگی کا مقصد بنائیں اور ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیں جو اسلام کی حقیقی تعلیمات کا آئینہ دار ہو۔

اختتامیہ

شیخ الجامعہ رضوان اللہ تعالی علیہ ایک عظیم شخصیت تھے جنہوں نے اپنی زندگی انسانیت کی خدمت کے لیے وقف کی۔ آپ کی خدمات کا دائرہ بہت وسیع تھا، اور آپ نے اپنے کردار اور عمل سے ایک اعلیٰ مثال قائم کی۔ آپ کی زندگی ہمیں یہ درس دیتی ہے کہ ہم بھی اپنے وسائل اور صلاحیتوں کو انسانیت کی فلاح کے لیے وقف کریں اور ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیں جو امن، محبت، اور اخوت کا گہوارہ ہو۔

Related Articles

Back to top button