اوصاف و کمالات

انڈیا سے جنگ کے نتیجے میں بے گھر ہونے والے مہاجرین اور شیخ محسن علی نجفی7 کی خدمات

جنگوں سے بے گھر افراد کا عالمی مسئلہ

دنیا کے تمام ممالک میں جنگوں کی وجہ سے بے گھر ہونے والے افراد کی بحالی اور تعمیر نو ایک سنگین مسئلہ ہے۔ یہ مسئلہ نہ صرف ترقی پذیر بلکہ ترقی یافتہ ممالک کے لیے بھی ایک چیلنج رہا ہے۔ جنگوں کے نتیجے میں لوگوں کو اپنے گھر بار چھوڑنا پڑتے ہیں، اور وہ بنیادی ضروریاتِ زندگی سے محروم ہو جاتے ہیں۔

پاکستان اور ہندوستان کے درمیان جنگوں کا پس منظر

پاکستان اور ہندوستان کے درمیان کئی جنگیں ہو چکی ہیں، جن میں بلتستان کے انڈیا بارڈر کے قریب رہنے والے ہزاروں افراد براہ راست متاثر ہوئے۔ خاص طور پر 1999 کی کارگل جنگ کے دوران لوگوں کو اپنی زمینیں، گھر اور مال و متاع چھوڑ کر محفوظ مقامات کی طرف ہجرت کرنی پڑی۔ ان مہاجرین میں سے بیشتر نے سکردو شہر کا رخ کیا، لیکن وہاں پہنچنے کے بعد انہیں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، جن میں سب سے بڑا مسئلہ رہائش کا تھا۔

ریاست کی ذمہ داری اور شیخ محسن علی نجفی7 کا کردار

ایسے حالات میں یہ ریاست کی اولین ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ جنگ سے متاثرہ افراد کو فوری مدد فراہم کرے اور ان کے لیے بنیادی سہولیات فراہم کرے۔ ایسے میں شیخ محسن علی نجفی7 نے آگے بڑھ کر ان مہاجرین کی مدد کا بیڑا اٹھایا۔ انہوں نے اپنی حب الوطنی اور انسانیت کی خدمت کے جذبے کے تحت بے گھر افراد کی بحالی کے لیے عملی اقدامات کیے۔

برولمو کالونی کی تعمیر

شیخ محسن علی نجفی7 نے ان بے گھر مہاجرین کی مشکلات کو محسوس کرتے ہوئے ان کے لیے ایک مستقل رہائشی منصوبہ شروع کیا۔ ان کی قیادت میں ”برولمو کالونی“کے نام سے ایک رہائشی کالونی تعمیر کی گئی، جہاں میں دسیوں مہاجر خاندانوں کو مستقل رہائش فراہم کی گئی۔ یہ کالونی نہ صرف ان کے لیے ایک چھت فراہم کرتی ہے بلکہ ان کی زندگیوں میں سکون اور استحکام کا باعث بھی بنی ہوئی ہے۔

حب الوطنی کی جاگتی تصویر

یہ خدمات شیخ محسن علی نجفی7 کی پاکستان سے محبت اور انسانیت کی خدمت کا واضح ثبوت ہیں۔ اگر وہ کسی دوسرے ملک میں ہوتے تو انہیں ان خدمات کے عوض اہم سول اعزازات سے نوازا جاتا۔ لیکن پاکستان میں، ان کے ساتھ ناانصافی یہ ہوئی کہ انہیں فورتھ شیڈول میں شامل کیا گیا۔ اس کے باوجود، ان کی حب الوطنی میں کوئی کمی نہ آئی، اور انہوں نے اپنی خدمات جاری رکھیں۔

شیخ محسن علی نجفی7 کی یہ خدمات رہتی دنیا تک یاد رکھی جائیں گی۔ ان کا طرزِ عمل اس بات کا مظہر ہے کہ حقیقی رہنما وہ ہوتا ہے جو آزمائش کی گھڑی میں اپنی قوم کے ساتھ کھڑا ہو، اور انسانیت کی خدمت کو اپنا مقصد بنائے۔ ان کی زندگی اور کارنامے نوجوان نسل کے لیے ایک مشعل راہ ہیں۔

Related Articles

Back to top button