شیخ محسن علی نجفی7 کا پیغام
شیخ محسن علی نجفی7 کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ تحقیق کا مقصد علم کی روشنی میں رہنمائی فراہم کرنا ہونا چاہیے، نہ کہ ذاتی مہارت یا دلچسپی کو نمایاں کرنا۔ ان کی مقصدیت پر مبنی تحقیق آج بھی طلبہ، محققین، اور علماء کے لیے ایک روشن مثال ہے، جو انہیں کامیابی کے لیے علمی دیانت اور فکری وضاحت کا سبق دیتی ہے۔
تحقیقی اور تالیفی میدان میں وسعتِ نظری
شیخ محسن علی نجفی7 کی شخصیت کا ایک اہم اور منفرد پہلو ان کی وسعتِ نظری تھی، جو ان کے علمی کاموں اور تحریروں میں نمایاں طور پر جھلکتی ہے۔ ان کی تحقیق میں ہمیشہ مختلف مکاتب فکر اور نظریات کا احترام پایا جاتا تھا، اور وہ کبھی بھی اپنے خیالات کو کسی مخصوص عقیدے یا محدود نظریاتی دائرے میں قید نہیں کرتے تھے۔ ان کا یہی اندازِ فکر ان کے کاموں کو ہر مکتبِ فکر کے لیے قابلِ قبول اور مفید بناتا تھا۔
قرآن کے ترجمے میں وسعتِ نظری
شیخ محسن علی نجفی7 کی وسعتِ نظری کی ایک بہترین مثال ان کا قرآن کا ترجمہ ہے۔ جب وہ قرآن کا سلیس ترجمہ کرنے کے لیے سرگرم ہوئے تو انہوں نے مختلف مکاتبِ فکر کے تراجم کا گہرائی سے مطالعہ کیا۔ ہر ترجمے میں جہاں بھی کوئی ایسا نکتہ پایا جو حقائق کے قریب اور مفید ہو، اسے نہ صرف قبول کیا بلکہ حوالوں کے ساتھ ذکر بھی کیا۔ اس عمل میں ان کی دیانتداری اور انصاف پسندی جھلکتی ہے، کیونکہ انہوں نے ہر مکتبِ فکر کے مثبت پہلو کو تسلیم کیا اور اس کی تعریف کرنے میں بھی کبھی بخل سے کام نہیں لیا۔
فکرِ معصومینD کی پیروی
شیخ محسن علی نجفی7 کی وسعتِ نظری کا محور معصومینD کا یہ فرمان تھا:
”لا تنظر الی من قال، انظر ما قال“
یہ نہ دیکھو کہنے والا کون ہے، بلکہ یہ دیکھو کہا کیا ہے۔
اسی اصول پر عمل کرتے ہوئے وہ کسی بھی اچھی بات کو محض کہنے والے کے عقیدے، نسل، یا فکر کی بنیاد پر مسترد نہیں کرتے تھے۔ ان کے لیے یہ اہم تھا کہ بات معقول اور حقائق پر مبنی ہو۔
جامع تحقیق کا اصول
شیخ محسن علی نجفی7 اپنی تمام تصانیف اور تالیفات میں موضوع سے متعلق تمام ماہرین، چاہے وہ مسلمان ہوں یا غیر مسلم، متقدمین ہوں یا متاخرین، سب کے افکار کا گہرائی سے مطالعہ کرتے تھے۔ وہ ایک معتدل اور جامع نظریہ پیش کرتے تھے جو حقائق پر مبنی ہوتاتھا۔
کتب میں وسعتِ نظری کی جھلک
ان کی مختلف تصانیف، جیسے:
تجلیات
نونہالانِ اسوہ
محنت کا اسلامی تصور
تفسیر الکوثر
یہ کتابیں ان کی وسعتِ نظری کی واضح دلیل ہیں۔ ان میں مختلف ادیان و مذاہب کے محققین اور مصنفین کے اقوال اور نظریات شامل کیے گئے ہیں، جو ان کے علمی رویے اور تحقیق کی جامعیت کو ظاہر کرتے ہیں۔
غیر تعصبی رویہ
شیخ محسن علی نجفی7 کے نزدیک علم کسی ایک عقیدے یا نظریے کی ملکیت نہیں تھا۔ جب بھی انہیں کسی نئی کتاب کے بارے میں بتایا جاتا، وہ فوراً کہتے:
”کتاب لے آئیں، دیکھنا چاہوں گا۔“
انہوں نے کبھی یہ سوال نہیں کیا کہ مصنف ان کاہم عقیدہ ہے یا نہیں، بلکہ صرف کتاب کے موضوع اور اس کی علمی اہمیت پر توجہ دیتے تھے۔
وسیع النظری کی عملی اہمیت
شیخ محسن علی نجفی7 کا یہ اندازِ فکر ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ تحقیق اور علم کا مقصد حقیقت کو سامنے لانا اور معاشرے کو فکری رہنمائی فراہم کرنا ہے، نہ کہ تعصب یا نظریاتی بندش کے ذریعے حقائق کو محدود کرنا۔ ان کی وسعتِ نظری کا یہ عملی مظاہرہ آج کے محققین اور طلبہ کے لیے مشعلِ راہ ہے۔
شیخ محسن علی نجفی7 کی وسعتِ نظری ان کی کامیابی کا ایک اہم راز تھا۔ ان کی تحریریں، ان کا طرزِ تحقیق، اور ان کا غیر تعصبی رویہ یہ واضح کرتا ہے کہ علم کے حصول اور تقسیم میں تعصب اور محدود نظریات کی کوئی جگہ نہیں۔ ان کی زندگی کا یہ پہلو تحقیق کے شعبے میں کام کرنے والوں کے لیے ایک رہنما اصول فراہم کرتا ہے، جس پر عمل کرتے ہوئے معاشرے کو حقیقی علم اور رہنمائی فراہم کی جا سکتی ہے۔
عزم و وابستگی (Commitment)
شیخ محسن علی نجفی7 کی شخصیت میں ان کا عزم اور کام سے گہری وابستگی ایک نمایاں پہلو تھا۔ ان کی زندگی کا ہر لمحہ ان کے علم، تحقیق، اور تالیف کے ساتھ غیر متزلزل وابستگی کی گواہی دیتا ہے۔ وہ کبھی بھی اپنی راہ سے نہیں ہٹے اور ہمیشہ اپنے کام کو اپنی زندگی کا اولین مقصد بنایا۔ ان کی یہ بے مثال وابستگی نہ صرف ان کی کامیابی کا ایک بڑا راز تھی بلکہ ان کے چاہنے والوں کے لیے آج بھی ایک روشن مثال ہے۔
تحقیق سے اخلاص اور وقت کی قدر
شیخ محسن علی نجفی7 کی یہ عادت تھی کہ وہ ہر تحقیقی کام کو انتہائی ترجیحی بنیادوں پر انجام دیتے تھے، اس کے لیے وقت نکالتے اور خود کو مکمل طور پر اس میں مصروف رکھتے۔ وہ ہمیشہ فرماتے:
”وقت انہی کاموں کی وجہ سے با برکت ہوتا ہے۔ اگر یہ وقت ان کاموں پر صرف نہ کیا جائے تو پھر اس وقت کو قیمتی کہنا ہی غیر معقول ہے۔“
شیخ محسن علی نجفی7 کا ماننا تھا کہ وقت زندگی کا سب سے بڑا سرمایہ ہے، اور ایک عاقل انسان وہی ہے جو اس سرمایہ سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھائے۔ ان کے مطابق وقت کی وہی قدر ہے جو قیامت کے لیے مفید ہو، اور جو وقت انسان کو جنت کے حصول کی جانب لے جائے، اسے کسی کم قیمت پر ضائع کرنا دانشمندی نہیں۔
وقت کی برکت کو عمل سے ثابت کرنا
شیخ محسن علی نجفی7 نے ان باتوں کو صرف لفظی نصیحتوں تک محدود نہیں رکھا بلکہ اپنی زندگی میں عملاً ان اصولوں پر کاربند رہے۔ ان کے قول و فعل میں کوئی تضاد نہیں تھا۔ وہ فرماتے تھے:
”وہی وقت قیمتی ہے جو قیامت کے لیے نفع بخش ہو۔“
یہی وجہ تھی کہ شیخ محسن علی نجفی7 نے مشکل ترین حالات میں بھی اپنے علمی کاموں کو نہیں چھوڑا۔ وہ جانتے تھے کہ علم کو فائدہ پہنچانا عبادت کے درجہ میں ہے، جیسا کہ معصومینD کا فرمان ہے:
عالم ینتفع بعلمہ افضل من سبعین الف عابد.
وہ عالم جو اپنے علم سے دوسروں کو فائدہ پہنچائے، ستر ہزار عبادت گزاروں سے افضل ہے۔
محسن ملت 7کی شخصیت تعلیمات آئمہ اطہار D کی روشنی میں
شیخ نجفی7 اس حدیث پر بھی عمل پیرا رہے:
اذا مات ابن آدم انقطع عملہ الا عن ثلاثۃ: ولد صالح یدعو لہ، والعلم ینتفع بہ من بعدہ، والصدقۃ الجاریۃ.
جب انسان فوت ہو جاتا ہے تو اس کے اعمال کا سلسلہ منقطع ہو جاتا ہے سوائے تین چیزوں کے: ایک نیک اولاد جو دعا کرے، دوسرا وہ علم جس سے لوگ فائدہ اٹھائیں، اور تیسرا جاری صدقہ۔
ان تعلیمات کی روشنی میں وہ نہایت دلی وابستگی کے ساتھ اپنے تحقیقی امور کو پایہ تکمیل تک پہنچاتے تھے، کیونکہ ان کے نزدیک علم کا تسلسل انسان کی ابدی زندگی کا حصہ ہے۔
مشکل حالات میں عزم کا مظاہرہ
شیخ محسن علی نجفی7 نے اپنی زندگی میں کبھی بھی مشکل حالات کو بہانہ نہیں بنایا۔ ان کا ماننا تھا کہ انسان کو اپنے عزم اور وابستگی کے ساتھ ہر حال میں آگے بڑھنا چاہیے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے کاموں میں پختگی، گہرائی، اور تسلسل نظر آتا ہے۔ ان کے نزدیک عزم و استقامت ہی وہ عوامل تھے جو کامیابی کی ضمانت بنتے ہیں۔
علمی وراثت
شیخ محسن علی نجفی7 نے اپنی علمی زندگی میں ایسی بے مثال میراث چھوڑی جو آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ ان کی تالیفات اور تصنیفات نہ صرف علم کا خزانہ ہیں بلکہ اس بات کی بھی شہادت دیتی ہیں کہ عزم و وابستگی کے ساتھ کیے گئے کام ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔ ان کی خدمات علمی دنیا میں ایک روشن ستارے کی مانند ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔
وقت کی بہترین منصوبہ بندی
شیخ محسن علی نجفی7 کی کامیابی میں وقت کی منصوبہ بندی کا اہم کردار تھا۔ وہ وقت کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ سب سے قیمتی سرمایہ سمجھتے تھے اور اس کا بہترین استعمال کرتے تھے۔ ان کی زندگی میں تحقیق، تصنیف، تدریس، اور دیگر ذمہ داریوں کی بھرمار تھی، لیکن انہوں نے ہر کام کو متوازن انداز میں انجام دیا۔ ان کی وقت کی منصوبہ بندی اور نظم و ضبط ان کی کامیابی کی بنیاد بنے۔
تحقیق اور تصنیف کے لیے وقت مختص کرنا
شیخ محسن علی نجفی7 کے معمولات میں دسیوں مصروفیات شامل تھیں، لیکن ان کے تحقیقی اور تصنیفی کاموں کے لیے ہمیشہ وقت مختص ہوتا تھا۔ وہ ان اوقات میں مداخلت کو پسند نہیں کرتے تھے، سوائے اس کے کہ کوئی علمی یا تحقیقی مسئلہ ہو۔ ان کی زندگی کا اصول یہ تھا کہ وقت کو ضائع کرنا علم اور تحقیق کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
ان کا کہنا تھا:
”ہم علم کی دنیا میں رہتے ہیں، لیکن اگر سال بھر میں ایک بھی کتاب نہ لکھ سکیں، تو یہ سب سے بڑی بدقسمتی اور سستی ہوگی۔“
وقت کا ضیاع: شیخ محسن علی نجفی7 کی نظر میں
شیخ محسن علی نجفی7 طلباء سے جب یہ سنتے کہ ‘‘وقت نہیں ملتا’’ تو وہ نہایت حیرت اور افسوس کا اظہار کرتے۔ ان کا جواب ہوتا:
”اگر علم اور تحقیق کے لیے وقت نہیں تو باقی کاموں کے لیے وقت کہاں سے آتا ہے؟ یہ صرف تنظیم الاوقات کی کمی اور غیر سنجیدگی ہے۔“
طلباء کو وقت کی قدر کا درس
طلباء اور علمی حلقوں سے ان کی اکثر یہ نصیحت ہوتی:
زندگی کو منظم انداز میں گزاریں۔
تحقیق اور تصنیف کے لیے روزانہ وقت نکالیں۔
نئی چیزیں سیکھنے اور دریافت کرنے کے لیے وقت مختص کریں۔
ایسا کام کریں جو رہتی دنیا تک آپ کو یاد رکھنے کا سبب بنے، اور یہ کام تحقیق اور تصنیف کے علاوہ کچھ نہیں ہوسکتا۔
وقت کی قیمت
محسن ملت7 ہمیشہ فرماتے:
”جو وقت کی قیمت نہیں جانتا، وہ ناکامی کی زندگی گزارے گا۔“
ان کے نزدیک وقت کی قدر کرنا کامیاب زندگی کی کنجی ہے، اور وہ طلباء کو اس بات پر زور دیتے کہ وہ تحقیق و تعلیم کے راستے میں حائل غیر ضروری رکاوٹوں سے بچیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ابھی علم حاصل کرنے اور تحقیق کرنے کا وقت ہے، اور دولت و عزت زندگی کے ساتھ خود بخود آتی رہے گی۔