آیۃ اللہ شیخ محسن علی نجفی7 اور جذبہ حب الوطنی
وطن سے محبت انسانی جذبات میں سے ایک اہم اور فطری جذبہ ہے۔ انسان کی زندگی کی حسین یادیں، اس کے بچپن کے خواب، اس کی کامیابیاں اور اس کے عزیز و اقارب کا وجود، سب کچھ اس کے وطن سے جڑا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انسان اپنے وطن سے قدرتی طور پر محبت کرتا ہے۔ لیکن جیسے جیسے انسان ترقی کرتا ہے، اور خاص طور پر جب دنیاوی دولت آنا شروع ہوتی ہے، تو اکثر لوگوں کی ترجیحات بدل جاتی ہیں۔ بہت سے افراد بیرونِ ملک کی رنگین دنیا کی طرف مائل ہو جاتے ہیں اور اپنے وطن کو پیچھے چھوڑ دیتے ہیں۔
ایسے حالات میں، وہ شخصیات جو وطن کی محبت کو اپنی زندگی کا محور بناتی ہیں، واقعی قابلِ تقلید ہیں۔ ایک ایسی ہی نمایاں شخصیت شیخ محسن علی نجفی7 کی ہے، جنہوں نے اپنی زندگی کا ہر لمحہ وطن عزیز پاکستان کی خدمت کے لیے وقف کر دیا۔ ان کی زندگی کا مقصد وطن کی ترقی، خوشحالی، اور فلاح و بہبود تھا، جو ان کی غیر متزلزل حب الوطنی کا مظہر ہے۔
حب الوطنی کی بنیاد: فطری جذبہ یا ایمان کا تقاضا؟
وطن سے محبت محض فطری جذبہ نہیں بلکہ اسلامی تعلیمات میں بھی اس کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا ہے۔ حدیثِ مبارکہ میں آتا ہے:
حُبُّ الوَطَنِ مِنَ الإِیمَانِ
وطن سے محبت ایمان کا حصہ ہے۔
شیخ محسن علی نجفی7 نے اس حدیث کے عملی مظاہرہ کے طور پر اپنی حیات مبارکہ میں ہمیشہ اپنے وطن کی تعمیر و ترقی کے لیے کام کیا۔ ان کے لیے وطن سے محبت محض جذباتی یا روایتی نہیں تھی، بلکہ یہ ان کے ایمان کا حصہ تھی۔
مشکلات کے باوجود ثابت قدمی
آپ نے پاکستان میں تعلیم، تحقیق، اور سماجی بہبود کے میدان میں نہایت نمایاں خدمات انجام دیں۔ آپ کی خدمات کسی ایک شعبے تک محدود نہیں تھیں بلکہ زندگی کے ہر شعبے میں آپ کی کوششوں کا ثمر نظر آتا ہے۔
آپ کو مختلف مشکلات اور رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا، حتیٰ کہ آپ کو غیر منصفانہ طور پر فورتھ شیڈول میں بھی شامل کیا گیا، جو کسی بھی محب وطن کے لیے ایک کڑی آزمائش ہوتی ہے۔ لیکن ان تمام مشکلات کے باوجود آپ کے جذبہ حب الوطنی میں کوئی کمی نہ آئی، بلکہ آپ نے اپنے وطن کی خدمت کا سفر جاری رکھا۔ یہی وجہ ہے کہ شیخ محسن علی نجفی7 کی شخصیت آج بھی قوم کے لیے ایک مشعل راہ ہے، جو ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ حب الوطنی محض ایک احساس نہیں، بلکہ ایک عزم اور ایک فریضہ بھی ہے۔
ہم شیخ محسن علی نجفی7 کی وطن عزیز پاکستان سے محبت اور والہانہ عقیدت کے چند نمایاں شواہد پیش کرتے ہیں، اور آپ پر چھوڑتے ہیں کہ ایسے محب وطن کتنے نظر آتے ہیں:
پاکستان میں فروغِ تعلیم کے سلسلے میں شیخ محسن علی نجفی7 کی خدمات
وطن عزیز پاکستان میں شرح خواندگی کو بین الاقوامی معیار تک لانا حکومت کی ذمے داری ہے، مگر بین الاقوامی اداروں کے ساتھ کیے گئے وعدوں کے باوجود، آج تک مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کیے جا سکے۔ اس کے نتیجے میں معیاری تعلیم یا تو ناپید ہے یا پھر صرف اشرافیہ تک محدود ہے، جبکہ غریب عوام کے لیے کوئی مناسب تعلیمی سہولیات موجود نہیں ہیں۔
اسوہ ایجوکیشن سسٹم و مدارس اہلبیتD کا قیام
شیخ محسن علی نجفی7 نے اس اہم مسئلے کو بخوبی درک کیا اور اس کا حل تلاش کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے ایک طرف مدارس علمیہ کی بنیاد ڈالی، جہاں ہزاروں بچے اور بچیاں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ دوسری طرف، انہوں نے ‘‘اسوہ ایجوکیشن’’ کے نام سے ملک بھر میں معیاری تعلیم کو یقینی بنانے اور عام آدمی کی رسائی کو ممکن بنانے کے لیے تعلیمی ادارے قائم کیے ہیں۔ ان اداروں سے ہزاروں طلباء فارغ التحصیل ہو چکے ہیں اور ہزاروں ابھی زیر تعلیم ہیں۔
یہ اقدام نہ صرف تعلیمی نظام کی بہتری کی جانب ایک اہم قدم ہے، بلکہ یہ وطن کی ترقی اور خوشحالی کے لیے ایک عزم کا بھی مظہر ہے۔ شیخ محسن علی نجفی7 کی یہ خدمات اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ حب الوطنی کا حقیقی مفہوم صرف جذباتی وابستگی نہیں بلکہ عملی اقدامات کے ذریعے اپنے وطن کی خدمت کرنا بھی ہے۔ ان کی کوششیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ محب وطن شخصیات اپنی قوم کی فلاح و بہبود کے لیے کس طرح اپنی زندگی وقف کرتی ہیں۔
ٹیکنیکل اور ووکیشنل انسٹیٹیوٹس کا قیام: شیخ محسن علی نجفی7 کی انقلابی خدمات
جدید دنیا کی تیز رفتار ترقی اور بدلتے ہوئے تقاضے اس حقیقت کو اجاگر کرتے ہیں کہ اکیڈمک تعلیم بذاتِ خود معاشرتی، معاشی اور صنعتی ترقی کے لیے ناکافی ہے۔ موجودہ دور میں وہ قومیں ترقی کی راہ پر گامزن ہیں جنہوں نے تعلیمی نظام کے ساتھ ساتھ اپنے شہریوں کو فنی اور پیشہ ورانہ مہارتوں سے آراستہ کیا ہے۔ ایسے ماہر اور ہنر مند افراد ہی قوم کے روشن مستقبل کی ضمانت ہوتے ہیں، جو نہ صرف اپنے ذاتی مسائل کو حل کرتے ہیں بلکہ ملکی ترقی میں بھی ایک اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
شیخ محسن علی نجفی7 نے ان حالات کی اہمیت اور ضروریات کو بروقت محسوس کرتے ہوئے ایک انقلابی قدم اٹھایا اور پاکستان کے مختلف علاقوں میں ٹیکنیکل اور ووکیشنل تربیتی ادارے قائم کیے۔ یہ ادارے نہ صرف جدید فنی مہارتیں فراہم کرتے ہیں بلکہ ان کے ذریعے ملک میں معیاری انسانی وسائل کی تخلیق بھی ممکن ہو رہی ہے۔ ان اداروں میں نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی، میکانیکل انجینئرنگ، الیکٹریکل ورک، اور دیگر پیشہ ورانہ تربیت فراہم کی جاتی ہے۔ اس کے نتیجے میں وہ نوجوان جو کبھی بے روزگاری کے باعث مشکلات کا شکار تھے، آج کامیاب کاروبار یا صنعتی شعبوں میں فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔
شیخ محسن علی نجفی7 کی یہ خدمت محض ایک تعلیمی اقدام نہیں بلکہ حب الوطنی کی عملی تصویر ہے۔ آپ نے صرف زبانی طور پر وطن سے محبت کا اظہار نہیں کیا بلکہ حقیقی معنوں میں اپنی کوششوں اور اقدامات کے ذریعے اس کا ثبوت دیا۔ ان اداروں کے قیام کے پس منظر میں آپ کا مقصد صرف افراد کی اقتصادی حالت کو بہتر بنانا نہیں تھا، بلکہ آپ نے ملک کی معاشی و صنعتی ترقی کو بھی مدنظر رکھا۔ آپ اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ اگر ملک کے نوجوان ہنر مند اور خود کفیل ہوں گے تو ملک بھی مضبوط بنیادوں پر کھڑا ہو گا۔
یہ ادارے نہ صرف معیاری تعلیم فراہم کرتے ہیں بلکہ ان میں اخلاقیات، محنت کی اہمیت، اور ذمہ داری کا شعور بھی اجاگر کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان اداروں کے فارغ التحصیل طلبہ نہ صرف اپنے پیشے میں ماہر ہیں بلکہ اعلیٰ اخلاقی اقدار کے حامل بھی ہیں، جو شیخ محسن علی نجفی7 کے وژن کا حقیقی مظہر ہیں۔
مختصراً، شیخ محسن علی نجفی7 کا یہ اقدام صرف وطن کے لیے ایک تحفہ نہیں بلکہ ایک ایسا انقلابی اقدام ہے جو موجودہ اور آنے والی نسلوں کو خود مختار اور بااختیار بنانے میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔ ان کی یہ کاوش بلاشبہ ایک قومی اثاثہ ہے، جو ان کی حب الوطنی اور عملی جدوجہد کا ناقابل فراموش ثبوت ہے۔
پاکستان انٹرنیشنل یونیورسٹی کا قیام
شیخ محسن علی نجفی7 نے اپنے عمل سے یہ ثابت کیا کہ ایک حقیقی محبِ وطن صرف الفاظ تک محدود نہیں رہتا بلکہ اپنے وطن کی تعمیر و ترقی کے لیے عملی اقدامات کرتا ہے۔ آپ کی تعلیمی خدمات، جو ملک کے مختلف حصوں میں مدارس، کالجز اور تربیتی اداروں کی صورت میں آج بھی موجود ہیں، اس بات کا ثبوت ہیں کہ آپ کی فکر کا مرکز و محور صرف مذہبی تربیت تک محدود نہیں تھا بلکہ آپ جدید اور اعلیٰ تعلیم کو بھی ترقی کا ایک بنیادی ذریعہ سمجھتے تھے۔
شیخ محسن علی نجفی7 کی حب الوطنی کا ایک بے مثال مظہر وہ عظیم یونیورسٹی ہے جس کی بنیاد آپ نے اپنی حیات مبارکہ میں رکھی۔ اس یونیورسٹی کو آپ نے ”پاکستان انٹرنیشنل یونیورسٹی“ کا نام دیا، جو نہ صرف آپ کی حب الوطنی کا واضح اظہار ہے بلکہ یہ نام عالمی سطح پر پاکستان کی شناخت اور وقار کو بلند کرنے کے عزم کی ترجمانی بھی کرتا ہے۔ آپ کا یہ اقدام یہ ظاہر کرتا ہے کہ آپ ایک ایسے تعلیمی ادارے کا قیام چاہتے تھے جو ملکی اور بین الاقوامی سطح پر معیاری تعلیم فراہم کرے اور دنیا بھر میں پاکستان کا نام روشن کرے۔
پاکستان انٹرنیشنل یونیورسٹی کے قیام کا مقصد نہ صرف اعلیٰ تعلیم کے مواقع فراہم کرنا ہے بلکہ یہ ایک ایسا پلیٹ فارم ہوگا جہاں تحقیق، ٹیکنالوجی، اور جدید علوم کے میدان میں ترقی کے دروازے کھلیں گے۔ یہ یونیورسٹی نہ صرف طلبہ کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرے گی بلکہ انہیں اخلاقیات، قیادت کی صلاحیتوں، اور قومی خدمت کے جذبے سے بھی سرشار کرے گی۔ اس ادارے سے فارغ التحصیل طلبہ نہ صرف اپنے ملک کے لیے سرمایہ ثابت ہوں گے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کا وقار بلند کرنے میں بھی کردار ادا کریں گے۔
شیخ محسن علی نجفی7 کی یہ کاوش درحقیقت ان کی وطن سے بے لوث محبت اور تعمیرِ وطن کے عزم کا ایک جیتا جاگتا ثبوت ہے۔ یہ یونیورسٹی نہ صرف تعلیمی میدان میں ایک انقلابی کردار ادا کرے گی بلکہ یہ آنے والی نسلوں کے لیے شیخ محسن علی نجفی7 کے عظیم وژن کا ایک دیرپا مظہر ہوگی۔ ان کی یہ خدمت بلاشبہ ایک قومی اثاثہ ہے، جو ہمیشہ ان کے اخلاص، محبت، اور عملی جدوجہد کی یاد دلاتی رہے گی۔
تعلیمی ترقی کے لیے قرض حسنہ، اور اسکالر شپ کا اجراء
شیخ محسن علی نجفی7 نے قوم و ملت کے ذہین اور با صلاحیت طلبا کو، جو کسی بھی ملک کا سب سے قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں، تعلیمی میدان میں آگے بڑھانے کے لیے قرضِ حسنہ اور اسکالرشپ کا نظام قائم کیا۔ اس اقدام کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ کوئی بھی ذہین طالب علم محض مالی مسائل کے باعث اپنی تعلیمی منزل سے محروم نہ رہ جائے۔ یہ بے مثال خدمت نہ صرف تعلیم کے فروغ کی علامت ہے بلکہ آپ کی حب الوطنی اور قوم سے محبت کا عملی ثبوت بھی ہے۔