اوصاف و کمالات

آیۃ اللہ شیخ محسن علی نجفی 7 کی زندگی میں اخلاص کی اہمیت

مقدمہ:

حضرت آیۃ اللہ شیخ محسن علی نجفی 7 کی زندگی کا ایک بڑا پہلو ان کا بے مثال اخلاص تھا۔ ان کی تمام تر جدو جہد اور محنت اللہ کی رضا کے لیے تھی۔ ان کی زندگی کا مقصد دنیا کی شہرت یا منفعت نہیں تھا، بلکہ ان کا ہر عمل صرف اور صرف اللہ کی رضا کے لیے تھا۔ ہم نے ہمیشہ انہیں ایک عظیم مجاہد کی طرح پایا جو علم و معرفت کے سمندر میں غوطہ زن ہوتے ہوئے اپنی ساری زندگی اللہ کی رضا کے لیے وقف کر دیتے تھے۔ ان کی زندگی میں ہر عمل، ہر قدم اور ہر کام میں ایک اَن دیکھے جذبے کی جھلک تھی، جو خدا کی رضا کے حصول کے لیے تھا۔

حضرت آیۃ اللہ شیخ محسن علی نجفی 7 کی شخصیت نہ صرف علمی لحاظ سے ممتاز تھی بلکہ ان کے اندر وہ خصائص بھی پائے جاتے تھے جو ہر انسان کی زندگی کو بہتر بنانے کی ترغیب دیتے ہیں۔ ان کی زندگی کا سب سے اہم پہلو ان کا اخلاص تھا، جس نے نہ صرف ان کی ذاتی زندگی کو نکھارا بلکہ امت مسلمہ کی بہتری کے لیے ان کی خدمات کو بھی اجاگر کیا۔

ہر انسان کی شخصیت، ایمان، اور اخلاص اس کی زندگی کے مشکل حالات میں نمایاں ہوتا ہے۔ آسانی کے اوقات میں بلند اخلاقی اقدار کو اپنانا اور ان پر عمل پیرا ہونا نسبتا آسان سمجھا جاتا ہے، لیکن اصل حقیقت اس وقت سامنے آتی ہے جب انسان سخت اور مشکلات کے دور سے گزرتا ہے۔ اس موقع پر انسان کے عمل اور کردار کا حقیقی پتہ چلتا ہے۔ اس وقت انسان میں چھپے ہوئے رویوں اور نیتوں کا راز افشا ہوتا ہے۔

حضرت آیۃ اللہ شیخ محسن علی نجفی 7 کی شخصیت میں اخلاص کی جو جھلک تھی، وہ ان کی زندگی کے مختلف مراحل میں واضح طور پر نظر آتی ہے۔ آپ کی زندگی کا ایک اہم پہلو ان کی انتہائی کٹھن اور دشوار حالات میں بھی اپنی نیت اور مقصد پر ثابت قدمی تھا۔

آپ کی زندگی کا سب سے اہم اور یادگار وقت وہ تھا جب حکومت پاکستان کی جانب سے آپ کا نام فورتھ شیڈول میں ڈال دیا گیا اور آپ کے تمام بینک اکاؤنٹس کومنجمد کر دیا گیا۔ یہ ان تعلیمی اور فلاحی اداروں کے لیے سنگین مسئلہ تھا جو آپ کی زیر سرپرستی چل رہے تھے۔ ان اداروں کو مالی امداد کی ضرورت تھی تاکہ وہ اپنا کام جاری رکھ سکیں، لیکن آپ اس مشکل صورتحال میں بھی اپنے مقصد سے پیچھے نہیں ہٹے۔

جب ایک موقع پر ان کی خدمت میں عرض کیا گیا کہ آغا صاحب ! پنجاب میں فہم دین سیمینار منعقد کر وا رہے ہیں تو اگر آپ اجازت دیں تو پورے پنجاب اور اس کے بعد رفتہ رفتہ پورے پاکستان کے اہم شہروں میں آپ کو فورتھ شیڈول میں ڈالے جانے کے خلاف احتجاج ریکارڈ کروائیں؟ تو آپ نے نہ صرف انکار کیا بلکہ اس پر اپنی گہری سوچ اور اصولی موقف کو واضح کیا۔ آپ نے فرمایا کہ”فہم دین سیمینار کا مقصد صرف اور صرف دین کی تعلیمات کا پھیلاؤ ہے، میں اسے اپنے ذاتی مفادات کے لیے استعمال نہیں کر سکتا۔“ یہ الفاظ ایک بہت بڑی سبق آموز حقیقت تھے۔

آپ کی یہ بات ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ حقیقی اخلاص انسان کو اپنی ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر صرف اور صرف اللہ کی رضا کے حصول کی کوشش کرنے کی تحریک دیتا ہے۔ آپ نے جو اخلاص کا مظاہرہ کیا، وہ صرف ایک فرد کا نہیں بلکہ ایک جماعت اور ایک پوری قوم کے لیے ایک راہنمائی کا باعث بنا۔

حضرت آیۃ اللہ شیخ محسن علی نجفی 7 کی زندگی کا یہ واقعہ ایک واضح مثال ہے کہ کس طرح انسان اپنی نیت اور مقصد میں استقامت اختیار کرتا ہے جب وہ اللہ کی رضا کے لیے کام کر رہا ہوتا ہے۔ آپ کا یہ اخلاص ہی وہ طاقت تھی جس نے آپ کو ان تمام مشکلات اور چیلنجز کا سامنا کرنے کی قوت دی۔ اور پھر اللہ تعالیٰ نے آپ کی زندگی میں ایسے برکتیں ڈالیں جو نہ صرف آپ کی ذاتی زندگی بلکہ پورے معاشرتی نظام پر اثرانداز ہوئیں۔

ان تمام صعوبتوں کے باوجود آپ کا دل مطمئن تھا اور آپ کبھی بھی اپنی راہ میں آنے والی مشکلات سے مایوس نہیں ہوئے۔ آپ کا ایمان اور اخلاص ہی تھا جو آپ کو ہر آزمائش میں سرخرو کرتا رہا۔ اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ جب انسان کا مقصد خالص اور نیت صاف ہو، تو اللہ کی مدد ہر لمحے اس کے ساتھ ہوتی ہے۔ یہی وہ راز تھا جس کی بدولت حضرت آیۃ اللہ شیخ محسن علی نجفی 7 نے اپنی زندگی میں کامیابیاں حاصل کیں۔

آپ کا اخلاص صرف اس بات تک محدود نہیں تھا کہ آپ نے اپنی ذاتی زندگی میں کسی قسم کی شہرت یا تعریف کو اہمیت نہ دی بلکہ آپ نے اپنی تمام تر توانائیاں لوگوں کی فلاح و بہبود میں لگا دیں۔ آپ کی زندگی کی سب سے بڑی کامیابی یہ تھی کہ آپ نے اپنے اعمال کو اللہ کی رضا کے لیے وقف کیا اور اس مقصد میں آپ کی محنت کبھی رائیگاں نہیں گئی۔

کامیابی کا راز اور اخلاص:

حضرت آیۃ اللہ شیخ محسن علی نجفی 7 کی کامیابی کا اصل راز ان کے اخلاص میں تھا۔ انہوں نے اپنی زندگی میں جو بھی کام کیا، وہ اللہ کی رضا کے لیے کیا۔ ان کی زندگی کا یہ اصول تھا کہ اگر انسان کا اخلاص سچا ہو، تو اللہ اس کی ہر کوشش کو کامیاب بناتا ہے۔ ان کا یہ ایمان تھا کہ اللہ کی رضا کے لیے کی جانے والی ہر کوشش کامیاب ہوتی ہے۔ ان کی زندگی کا مقصد صرف دنیاوی کامیابیاں نہیں تھیں، بلکہ وہ اپنی تمام تر توانائیاں اس بات کے لیے وقف کرتے تھے کہ انسانوں کی زندگیوں میں بہتری آئے اور اللہ کی رضا حاصل ہو۔

خود اعتمادی اور خود احتسابی:

حضرت آیۃ اللہ شیخ محسن علی نجفی 7 ہمیشہ اپنی ذات کے حوالے سے خود احتسابی کی اہمیت پر زور دیتے تھے۔ ان کے مطابق اگر انسان اپنے عمل میں اخلاص رکھے اور اللہ کی رضا کو مقدم رکھے، تو وہ کسی بھی قسم کی شکایت یا انتقاد سے پریشان نہیں ہو سکتا۔ وہ ہمیشہ اس بات پر ایمان رکھتے تھے کہ انسان کی کامیابی کی اصل کنجی اس کی اپنی ذات میں ہوتی ہے اور جب انسان اپنی ذات کا محاسبہ کرتا ہے، تو اللہ اس کی رہنمائی کرتا ہے۔

خدا کی مدد اخلاص سے مشروط:

ایک دفعہ ایک مومن جو کشمیر سے تعلق رکھتا تھا وہ شیخ صاحب سے مدد لینے کے لیے آیا اور اپنی مشکلات زندگی شیخ صاحب کے گوش گزار کرتا ہے، شیخ صاحب دھیان سے سنتے ہیں لیکن اپنی مشکلات کی وجہ سے مدد نہیں کرسکتے اور فرماتے ہیں، ”میرے پاس ابھی کوئی رقم نہیں ہے جسے آپ کو دے سکوں، مگر مجھے پورا یقین ہے کہ اللہ آپ کی مدد کرے گا۔ آپ کا کام رکنا نہیں چاہیے، امید خدا ہے کہ آپ کو مدد مل جائے گی۔“

اس دوران، دن ہنگو کے علاقے سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب جو ہمیشہ شیخ صاحب کو خمس دیا کرتے تھے، شیخ صاحب کی خدمت میں حسب معمول خمس ادا کرنے آتے ہیں، اور جیسے ہی خمس ادا کرنے لگتے ہیں تو شیخ صاحب کا چہرہ خوشی سے کھل اٹھتا اور فرماتے ہیں، ”جب اخلاص ہوتا ہے تو اللہ خود انسان کی مدد کرتا ہے۔“ پھر شیخ صاحب نے اس مومن سے کہا، ”میں آپ دونوں کے درمیان ایک رابطہ ہوں۔ میں نے آپ کے ایک ہاتھ سے خمس لیا اور دوسرے ہاتھ سے یہ رقم اس شخص کو دے دی۔“

یہ بات شیخ صاحب کی اتنی سادہ اور خلوص سے بھری ہوئی تھی کہ اس مومن پر اس کا گہرا اثر ہوا۔ وہ یہ سوچنے لگے کہ شیخ صاحب اپنی سادہ زندگی میں کتنی لوگوں کی مدد کرتے ہیں، اور وہ خود کتنی مشکل سے زندگی گزار رہے ہیں، مگر ان کی زندگی میں اخلاص کی اتنی طاقت تھی کہ وہ ہمیشہ دوسروں کے لیے کام کرتے رہے۔ انہیں یہ سمجھ میں آیا کہ اخلاص صرف ایک نیک عمل نہیں بلکہ ایک ایسی قوت ہے جو انسان کو اپنی مشکلات اور فقر کے باوجود دوسروں کی مدد کرنے کی صلاحیت دیتی ہے۔یہ فقط بطور نمونہ ایک مثال تھی وگرنہ آپ کی زندگی اس قسم کے ھزاروں واقعات سے بھری پڑی ہے۔

داد،تحسین اور حوصلہ شکنی پر رد عمل

کسی بھی محفل یا مجلس میں سامعین اور ناظرین کی جانب سے ملنے والی داد تحسین یا حوصلہ شکنی پر انسان کا ردعمل ایک اہم موضوع ہے۔ عموماً ہم داد تحسین کو خوشی کے طور پر اور حوصلہ شکنی کو دلی ٹوٹ پھوٹ کے طور پر لیتے ہیں، مگر حقیقت میں یہ دونوں صورتیں عارضی اور فانی ہیں۔ ہمیں اپنے عمل پر گہری نظر ثانی کرنی چاہیے تاکہ ہماری زندگی کا مقصد اور عمل اللہ کی رضا کے مطابق ہو۔

شیخ صاحب 7 جب مبلغین، واعظین اسی طرح جب محرم الحرام اور رمضان المبارک میں مختلف تربیتی ورکشاپ سے خطاب فرماتے تھے اور تاکید کیا کرتے تھے: یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ جب تک ہمارے عمل میں اللہ کی رضا اور اخلاص شامل نہ ہو، تب تک ہماری کامیابی کی کوئی حقیقت نہیں۔ اخلاص انسان کو نہ صرف دنیاوی کامیابیاں دیتا ہے بلکہ روحانی سکون اور اللہ کی قربت بھی فراہم کرتا ہے۔ اس لیے ہمیں اپنے تمام عملوں میں اللہ کی رضا کو مقدم رکھنا چاہیے، تاکہ ہم دنیا کی فانی تعریف یا تنقید سے متاثر نہ ہوں اور ہمیشہ اپنی نیت اور عمل کو خالص رکھیں۔ اخلاص اور رضا الٰہی کے اصول کو اپنی زندگی میں اپنانا ہی انسان کی اصل کامیابی ہے، کیونکہ جب انسان اللہ کی رضا کو اپنے عمل کا مقصد بنا لیتا ہے، تو پھر اسے کسی دنیاوی تعریف یا تنقید کی پرواہ نہیں رہتی۔

اختتامیہ:

حضرت آیۃ اللہ شیخ محسن علی نجفی 7 کی زندگی ہمارے لیے ایک مشعل راہ ہے۔ انہوں نے اپنی زندگی کو اللہ کی رضا کے لیے وقف کر دیا اور ہر عمل میں اخلاص کو اولین ترجیح دی۔ ان کی تعلیمات، ان کے اصول اور ان کی محنت آج بھی ہمارے دلوں میں زندہ ہیں اور ان سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ حقیقی کامیابی اللہ کی رضا اور انسانوں کی خدمت میں ہے۔ ان کی زندگی گواہی دیتی ہے کہ اگر انسان اللہ کے لیے خالص ہو، تو اس کا ہر عمل کامیاب ہوتا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ان کی بے مثال خدمات کا اجر دے اور ہمیں ان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق دے۔

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں بھی اپنے اعمال میں اخلاص کی توفیق دے اور ہم بھی حضرت آیۃ اللہ شیخ محسن علی نجفی 7 کی طرح اپنی زندگی میں اللہ کی رضا کو مقدم رکھتے ہوئے اپنے مقصد کی تکمیل کریں۔ آمین۔

Related Articles

Back to top button