پاکستان میں قومی آفات اور شیخ محسن علی نجفی7 کی خدمات
زلزلہ زدگان کی بحالی
2004 میں پاکستان میں آنے والے تباہ کن زلزلے نے کئی علاقوں کو برباد کر دیا، خاص طور پر کشمیر اور مانسہرہ مکمل طور پر تباہی کی زد میں آ گئے۔ یہ زلزلہ ایسے وقت میں آیا جب سردیوں کا موسم شروع ہو رہا تھا۔ شدید سردی اور بنیادی ضروریاتِ زندگی کی عدم دستیابی نے متاثرین کی مشکلات میں بے پناہ اضافہ کر دیا۔ ان نازک حالات میں شیخ محسن علی نجفی7 نے جذبۂ ایمان، حب الوطنی اور خدمت خلق کے عزم کے تحت بغیر کسی تفریق کے رنگ، نسل، قوم اور مذہب کے متاثرین کی مدد کے لیے نمایاں خدمات سر انجام دیں۔
فوری امداد اور بحالی کے اقدامات
شیخ محسن علی نجفی7 کی قیادت میں متاثرین زلزلہ کو فوری مدد فراہم کی گئی۔ ہزاروں بے سہارا افراد کو راشن، پینے کا صاف پانی، عارضی شیلٹرز اور دیگر بنیادی ضروریات مہیا کی گئیں۔ زلزلہ زدہ علاقوں میں خیمے نصب کیے گئے اور متاثرین کو سردی سے بچانے کے لیے گرم کپڑوں اور کمبلوں کی فراہمی یقینی بنائی گئی۔
مستقل بحالی کے منصوبے
شیخ محسن علی نجفی7 نے صرف فوری امداد پر اکتفا نہیں کیا بلکہ متاثرہ علاقوں کی مستقل بحالی کے لیے بڑے پیمانے پر اقدامات کیے۔ انہوں نے ہزاروں متاثرہ خاندانوں کے لیے گھروں کی تعمیر کروائی تاکہ وہ دوبارہ اپنے معمولاتِ زندگی کی طرف لوٹ سکیں۔ اس کے علاوہ، طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے عارضی اور مستقل میڈیکل کیمپس کا قیام عمل میں لایا گیا۔ ان کی کاوشوں کے نتیجے میں ہزاروں مریضوں کو علاج معالجے کی سہولیات فراہم کی گئیں۔
تعلیمی سہولیات کی فراہمی
شیخ محسن علی نجفی7 نے متاثرہ بچوں کی تعلیم کے لیے خصوصی اقدامات کیے۔ عارضی اسکول قائم کیے گئے اور طلبہ کو مفت کتابیں، کاپیاں اور دیگر تعلیمی وسائل فراہم کیے گئے تاکہ ان کے تعلیمی سلسلے میں تعطل نہ آئے۔ یہ اقدامات متاثرین کی نفسیاتی بحالی میں بھی مددگار ثابت ہوئے۔
خدمت خلق کی مثال
شیخ محسن علی نجفی7 کی یہ خدمات نہ صرف زلزلہ متاثرین کے لیے باعثِ رحمت بنیں بلکہ ان کے جذبۂ خدمت کو رہتی دنیا تک یاد رکھا جائے گا۔ ان کے اقدامات نے انسانیت کی خدمت کی اعلیٰ مثال قائم کی، جو آنے والی نسلوں کے لیے مشعل راہ ہیں۔ ان کی یہ خدمات اس بات کا ثبوت ہیں کہ حقیقی رہنما وہی ہوتا ہے جو آزمائش کی گھڑی میں قوم کے شانہ بشانہ کھڑا ہو۔
سیلاب زدگان اور شیخ محسن علی نجفی7 کی خدمات
گزشتہ برسوں میں جب سندھ، پنجاب اور بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیلاب کی وجہ سے شدید تباہی ہوئی، شیخ محسن علی نجفی7 نے ایک حقیقی رہنما اور خدمت گزار کی طرح متاثرین کی مشکلات کم کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ انہوں نے رنگ، نسل، ملت اور مذہب کی تمام امتیازات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے صرف انسانیت کی خدمت کو اپنا مقصد بنایا۔
بے گھر افراد کے لیے رہائش کی فراہمی
شیخ محسن علی نجفی7 نے ہزاروں بے گھر افراد کے لیے گھروں کی تعمیر کا انتظام کیا تاکہ وہ سیلاب کی تباہ کاریوں سے نکل کر دوبارہ اپنی زندگی کی تعمیر کر سکیں۔ ان گھروں نے متاثرہ خاندانوں کو نہ صرف چھت فراہم کی بلکہ انہیں دوبارہ معمولات زندگی کی طرف لوٹنے کا حوصلہ دیا۔
پانی کی فراہمی اور زرعی مسائل کا حل
سیلاب کے بعد پانی کی قلت اور زرعی زمینوں کی تباہی ایک بڑا مسئلہ تھا۔ اس مسئلے کے حل کے لیے انہوں نے مختلف علاقوں میں ٹیوب ویل لگوائے تاکہ متاثرین کو پینے کے صاف پانی کی سہولت بھی فراہم ہو سکے۔ یہ اقدامات متاثرہ دیہاتی علاقوں کے لوگوں کے لیے کسی نعمت سے کم نہ تھے۔
طبی سہولیات کی فراہمی
شیخ محسن علی نجفی7 نے موبائل میڈیکل سروسز کے ذریعے سیلاب زدہ علاقوں میں مفت طبی سہولیات فراہم کیں۔ ان طبی کیمپس کے ذریعے ان ہزاروں مریضوں کو علاج کی سہولت ملی، جنہیں شدید حالات میں کسی بھی قسم کی طبی امداد میسر نہیں تھی۔
بنیادی ضروریات کی تقسیم
شیخ محسن علی نجفی7 نے متاثرین میں مفت راشن، کپڑے، اور بسترے تقسیم کیے۔ ان اشیاء کی فراہمی نے سیلاب سے متاثرہ افراد کو فوری طور پر ریلیف فراہم کیا اور ان کے لیے زندگی کو کچھ حد تک آسان بنایا۔
خدمت اور حب الوطنی کی عملی مثال
اگرچہ یہ تمام اقدامات بنیادی طور پر ریاست کی ذمہ داری ہوتے ہیں، لیکن ایک فلاحی ریاست کی غیر موجودگی میں شیخ محسن علی نجفی7 نے جذبہ ایمانی اور حب الوطنی کے تحت دل کھول کر خدمات انجام دیں۔ ان کا طرزِ عمل ایک زندہ اور عملی مثال ہے کہ کس طرح حقیقی رہنما آزمائش کی گھڑی میں عوام کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔
ایمانداری اور سادگی کا مظاہرہ
ایسے حالات میں جب کچھ افراد کرپشن اور لوٹ مار کے ذریعے غریبوں کا حق چھیننے میں مصروف ہوتے ہیں، شیخ محسن علی نجفی7 نے اپنی زندگی سادگی سے گزارتے ہوئے متاثرین کا حق ایمانداری کے ساتھ ان تک پہنچایا۔ یہ ان کی دیانت داری اور خدمت خلق کا واضح ثبوت ہے، جسے آج بھی ان کے اقدامات کے ذریعے محسوس کیا جا سکتا ہے۔ ان کی یہ خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی اور انسانیت کے لیے مشعل راہ ثابت ہوں گی۔