اوصاف و کمالات

مفسر قرآن شیخ محسن علی نجفی 7 اور عشق با قرآن

شیخ محسن علی نجفی 7 کی زندگی عشقِ قرآن کا جیتا جاگتا مظہر تھی۔ آپ کی حیاتِ مبارکہ کا ہر پہلو قرآن اور اہل بیتD کی محبت میں رنگا ہوا تھا۔ آپ نے اپنی زندگی کو قرآن مجید اور رسول اللہ ] کے اہل بیت کی تعلیمات کے مطابق استوار کیا اور اسی روشنی میں اپنی حیات بسر کی۔

قرآن سے محبت کے دعویدار بہت لوگ نظر آتے ہیں، لیکن عملی میدان میں تعلیمات قرآن کو اپنی زندگی کا حصہ بنانے والے افراد نہ ہونے کے برابر۔ شیخ محسن علی نجفی 7 ان نابغہ روزگار علما میں شامل تھے جنہوں نے قرآن کو نہ صرف اپنی زندگی کا محور بنایا بلکہ اس کے عملی پیغام کو ہر ممکن طریقے سے عام کیا۔ ذیل میں ان کی قرآنی خدمات اور ان کے عشقِ قرآن کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی گئی ہے:

تلاوتِ قرآن: فہم و شعور کے ساتھ عشقِ قرآن کا عملی اظہار

شیخ محسن علی نجفی 7 کا قرآن سے تعلق محض رسمی یا روایتی نہیں تھا، بلکہ یہ گہرے شعور، فہم، اور عملی محبت پر مبنی تھا۔ آپ نہ صرف روزانہ کی بنیاد پر تلاوتِ قرآن کرتے تھے بلکہ اس تلاوت کے ساتھ قرآن کے ترجمے اور تفسیر کا بھی عمیق مطالعہ کرتے تھے۔ آپ کا یہ عمل صرف ذاتی عبادت تک محدود نہیں تھا بلکہ اس کا مقصد قرآن کے پیغام کو سمجھنا اور دوسروں تک پہنچانا بھی تھا۔

آپ قرآن کے معانی اور مفاہیم پر گہری نظر رکھتے تھے۔ جہاں کہیں کسی آیت کے ترجمے یا تفسیر میں معمولی سی بھی الجھن یا اختلاف محسوس ہوتا، فوراً درستگی کی جانب متوجہ ہوتے اور اپنے شاگردوں اور متعلقہ علما کو اس بارے میں آگاہ کرتے۔ اسی وجہ سے آپ ہر موضوع پر قرآنی آیات کے حوالہ جات بڑی روانی اور تسلسل کے ساتھ بیان کرتے تھے۔

آپ کی تقاریر اور خطبات میں قرآن کا حوالہ ہمیشہ نمایاں ہوتا تھا، اور آپ کی گفتگو میں آیاتِ قرآنی کا ذکر ایک لازمی جزو کی حیثیت رکھتا تھا۔ آپ کی یہ عادت آپ کے گہرے قرآنی علم اور قرآن سے حقیقی عشق کی عکاس تھی۔ یہ کہنا بجا ہوگا کہ شیخ محسن علی نجفی 7 کا تعلق قرآن سے ایک مفسر، مبلغ، اور عاشق کے طور پر تھا، جو اپنی زندگی کا ہر لمحہ قرآن کی روشنی سے منور رکھنے کی کوشش کرتے رہے۔

دروسِ قرآن: استقامت اور علم کی شمع روشن کرنے کی مثال

شیخ محسن علی نجفی 7 کی قرآنی خدمات میں درسِ قرآن کا سلسلہ ایک اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ آپ نے اپنی زندگی کے آخری لمحات تک قرآن کے دروس کا سلسلہ جاری رکھا اور کبھی اس ذمہ داری سے کنارہ کشی اختیار نہ کی۔ آپ کی ضعیف العمری اور صحت کے مسائل بھی آپ کے حوصلے کو متزلزل نہ کر سکے۔ ابتدائی طور پر آپ جامعہ اہل بیت میں مستقل طور پر درسِ قرآن دیا کرتے تھے، جہاں آپ قرآن کے معانی و مفاہیم کو نہایت سادگی اور گہرائی کے ساتھ پیش کرتے تھے۔

جامعہ الکوثر کے قیام کے بعد، آپ نے وہاں بھی درسِ قرآن کا سلسلہ جاری رکھا۔ مشکل حالات، سماجی دباؤ، اور حتیٰ کہ جان سے مارنے کی دھمکیوں کے باوجود آپ نے اپنے معمولات میں خلل نہیں آنے دیا۔ آپ روزانہ جامعہ الکوثر تشریف لاتے اور وہاں قرآن کے مفاہیم پر روشنی ڈالتے۔ آپ کا یہ عزم اور استقامت ایک روشن مثال ہے کہ دین کی خدمت کے لیے کس قدر قربانی اور لگن کی ضرورت ہے۔

شیخ محسن علی نجفی 7 نہ صرف ایک بلند پایہ مفسر تھے بلکہ ان کے دروسِ قرآن علمی و فکری گہرائی سے بھرپور تھے۔ یہ دروس اب مکتوب شکل میں بھی دستیاب ہیں اور آڈیو و ویڈیو فارمیٹس میں بھی محفوظ کیے گئے ہیں۔ ان کی یہ خدمات آج بھی دنیا بھر میں قرآن کے طلبہ اور محققین کے لیے رہنمائی کا ایک عظیم ذریعہ ہیں۔ آپ کی یہ قرآنی محنت نسلوں تک لوگوں کو قرآن کی روشنی سے منور کرتی رہے گی۔

بلاغ القرآن: قرآن کا سلیس اور فصیح ترجمہ

شیخ محسن علی نجفی 7 کی قرآنی خدمات میں بلاغ القرآن ایک عظیم الشان کارنامہ ہے، جو ان کے عشقِ قرآن کا عملی مظہر ہے۔ یہ ترجمہ اپنی زبان کی سادگی، فصاحت، اور وضاحت میں بے مثال ہے، جس نے قرآن کے مفاہیم کو عام فہم اور قابلِ فہم انداز میں پیش کرنے کا اہم فریضہ سرانجام دیا ہے۔

بلاغ القرآن میں قرآن کے ہر اہم موضوع کو مختصر مگر جامع حواشی کے ذریعے واضح کیا گیا ہے، تاکہ قاری نہ صرف آیات کا ترجمہ سمجھے بلکہ ان کے مفاہیم اور پس منظر سے بھی آگاہ ہو سکے۔ یہ ترجمہ ایک علمی شاہکار ہے جو صرف ایک مترجم کی محنت نہیں بلکہ ایک مفسر کے عمیق مطالعے اور فکری گہرائی کا نتیجہ ہے۔

اس ترجمے کا مقدمہ علومِ قرآن کے شائقین کے لیے ایک گراں قدر علمی سرمایہ ہے۔ اس میں قرآنی تاریخ، تدوین، اور تفہیم کے اصولوں پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ یہ مقدمہ خاص طور پر محققین اور طلبہ کے لیے نہایت مفید ہے، جو قرآنی علوم کی بنیاد پر مزید تحقیق کرنا چاہتے ہیں۔

یہ ترجمہ موجودہ صدی میں قرآن فہمی کے شائقین کے لیے یہ ایک قیمتی اثاثہ بن گیا۔ بلاغ القرآن نے ایک عام قاری سے لے کر محققین تک ہر طبقے کو قرآن کے قریب تر کرنے میں ایک انقلابی کردار ادا کیا ہے۔ یہ ترجمہ نہ صرف قرآن کے معانی کی سادگی اور روانی کو محفوظ رکھتا ہے بلکہ اس کی تعبیرات میں گہرائی اور دقتِ نظر بھی نمایاں ہے، جو اس کو دیگر تراجم سے ممتاز کرتی ہے۔

تفسیر الکوثر: معاصر تفاسیر میں نمایاں مقام

تفسیر الکوثر شیخ محسن علی نجفی 7 کی قرآن سے گہری محبت اور فکری گہرائی کا ایک شاندار مظہر ہے۔ یہ دس جلدوں پر مشتمل ایک جامع تفسیر ہے، جس میں آپ نے قرآنی آیات کے معانی و مفاہیم کو نہایت سلیقے اور عالمانہ انداز میں پیش کیا ہے۔ یہ تفسیر معاصر دور کی دیگر تفاسیر میں ایک منفرد مقام رکھتی ہے اور علمی حلقوں میں اسے ایک قابلِ قدر حوالہ سمجھا جاتا ہے۔

اس تفسیر کی تیاری کے دوران شیخ محسن علی نجفی 7 نے 20 سال شب و روز محنت کی، اور قرآنی تعلیمات کو جدید دور کے تقاضوں کے مطابق پیش کرنے کی بھرپور کوشش کی۔ انہوں نے آیات کی تفسیر میں فصاحت و بلاغت کے ساتھ ساتھ فقہی، کلامی، اور تاریخی نکات کو بھی بڑی خوبی سے شامل کیا۔ ہر آیت کی وضاحت میں قاری کو اس کے شانِ نزول، سیاق و سباق، اور اس کے عملی پہلوؤں سے روشناس کرایا گیا ہے، جس سے یہ تفسیر عام قارئین کے ساتھ ساتھ محققین کے لیے بھی نہایت مفید ہے۔

تفسیر الکوثر کی ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ صرف کتابی صورت تک محدود نہیں، بلکہ ڈیجیٹل دور کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ تفسیر آن لائن پلیٹ فارمز اور قرآنی ایپس کے ذریعے بھی دستیاب ہے۔ اس ڈیجیٹل رسائی نے اسے دنیا بھر کے طلبہ، علما، اور عام قارئین کے لیے آسان بنا دیا ہے۔

یہ تفسیر شیخ محسن علی نجفی 7 کی زندگی بھر کی علمی کاوشوں کا نچوڑ ہے، جو قرآن کے عاشقوں کے لیے ایک قیمتی تحفہ ہے۔ یہ نہ صرف تشنگانِ علم کے لیے ایک بہترین رہنما ہے بلکہ قرآنی معارف کی گہرائی تک پہنچنے کا ایک مضبوط ذریعہ بھی ہے۔

مدارسِ حفاظِ قرآن کا قیام: قرآنی خدمت میں سنگِ میل

شیخ محسن علی نجفی 7 نے دشمنانِ تشیع کے اس بے بنیاد اعتراض کا عملی جواب دیا کہ ‘‘شیعہ قرآن حفظ نہیں کرسکتے’’۔ آپ نے اس مسئلے کو محض زبانی رد نہیں کیا بلکہ عملی اقدامات کے ذریعے ثابت کیا کہ شیعہ قرآن سے گہری وابستگی رکھتا ہے۔ آپ نے پاکستان کے مختلف شہروں جیسے اسکردو، چنیوٹ، اور دیگر علاقوں میں دارالحفاظ قائم کیے، جو قرآن کی تعلیمات کو عام کرنے کا ایک تاریخی اقدام تھا۔

ان مدارس میں قرآن کو زبانی حفظ کرانے کے ساتھ ساتھ اس کے مفاہیم، معانی، اور تفاسیر کو جدید تدریسی انداز میں سکھایا جاتا ہے۔ یہ ادارے روایتی حفظ کے علاوہ طلبہ کو قرآن کے عملی پہلوؤں سے روشناس کراتے ہیں، تاکہ وہ نہ صرف قرآن کے الفاظ کو یاد کریں بلکہ اس کی روح اور پیغام کو بھی سمجھیں۔ ان مدارس میں سالانہ قرآنی پروگرامز کا انعقاد کیا جاتا ہے، جن میں طلبہ کی حوصلہ افزائی کے لیے مختلف تقریبات کا اہتمام کیا جاتا ہے۔

شیخ محسن علی نجفی 7 کے ان مدارس کی بدولت شیعہ معاشرے میں قرآن کے حافظین کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، اور یہ مدارس اب پورے ملک میں ایک تحریک کی صورت اختیار کر چکے ہیں۔ یہ اقدام نہ صرف ایک دینی خدمت ہے بلکہ امت مسلمہ میں شیعہ معاشرے کی قرآنی وابستگی کو مضبوط بنیاد فراہم کرنے کا ذریعہ بھی ہے۔ یہ مدارس آج بھی قرآن کے عاشقوں کو روشن مستقبل کی جانب رہنمائی فراہم کر رہے ہیں اور شیخ محسن علی نجفی 7 کی قرآنی خدمات کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔

حافظینِ قرآن کی عزت افزائی اور ان سے محبت

شیخ محسن علی نجفی 7 کے دل میں قرآن اور اس کے حافظین کے لیے بے حد محبت اور احترام تھا۔ خاص طور پر کم عمر حافظینِ قرآن کے ساتھ آپ کا رویہ محبت اور شفقت سے بھرپور ہوتا تھا۔ آپ نہ صرف ان کی قرآنی خدمات کو سراہتے بلکہ ان کی حوصلہ افزائی کے لیے عملی اقدامات بھی کرتے۔

ہر سال اسکردو کے دارالحفاظ سے قرآن کے ننھے حافظین کو آپ کی دعوت پر اسلام آباد، جامعہ اہل بیت میں لایا جاتا ہے۔ یہ دورہ نہ صرف ان بچوں کے لیے ایک اعزاز ہے بلکہ ان کے والدین اور اساتذہ کے لیے بھی حوصلہ افزائی کا سبب بنتاہے۔ شیخ محسن علی نجفی 7 خود ان بچوں کا استقبال کرتے اور ان کے ساتھ وقت گزارتے۔ ان کے قیام و طعام کا بہترین انتظام کرتے، ان کی ضروریات کا خاص خیال رکھتے، اور اپنی محفلوں میں انہیں خصوصی مقام دیتے۔

آپ ان بچوں کو ذاتی طور پر درسِ قرآن بھی دیا کرتے اور ان کے سوالات کے جوابات محبت بھرے انداز میں دیتے۔ آپ فرمایا کرتے تھے کہ ان حافظین کی موجودگی ادارے کی رونق اور برکت میں اضافے کا سبب بنتی ہے۔ ان کی معصومیت اور قرآن سے وابستگی دیکھ کر آپ کا دل مسرور ہو جاتا تھا۔

یہ محبت اور شفقت حافظینِ قرآن کی عزت افزائی کا ایک روشن باب ہے، جو نہ صرف شیخ محسن علی نجفی 7 کے قرآنی عشق کو ظاہر کرتا ہے بلکہ معاشرے میں قرآن اور اس کے حاملین کے مقام کو بلند کرنے کی ایک عملی کوشش بھی ہے۔ ان کایہ اقدامات آنے والی نسلوں کے لیے قرآن کی اہمیت اور احترام کا ایک زبردست پیغام ہے۔

بنت الہدیٰ حفظ القرآن ماڈل سکول: بچیوں کی قرآنی تعلیم کا بے مثال ادارہ

بنت الہدیٰ ماڈل سکول شیخ محسن علی نجفی 7 کی ایک بے مثال کاوش ہے، جو بچیوں کو قرآن کی تعلیم دینے اور انہیں اسلامی اور عصری علوم سے آراستہ کرنے کے مقصد سے قائم کیا گیا۔ اس ادارے کا بنیادی مقصد بچیوں کو قرآن پاک حفظ کروانے کے ساتھ ساتھ انہیں عصری تعلیم کے مواقع فراہم کرنا ہے تاکہ وہ دین اور دنیا دونوں میں کامیاب ہو سکیں۔ شیخ محسن علی نجفی 7 کی یہ دور اندیشی ملت کے مستقبل کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ہے، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ معاشرے کی تعمیر میں خواتین کا کلیدی کردار ہوتا ہے۔ اس سکول نے نہ صرف اسلامی اقدار کو فروغ دیا بلکہ جدید علوم کے ذریعے طالبات کو زندگی کے مختلف شعبوں میں آگے بڑھنے کے بہتر مواقع میسر ہوئے۔ اس ادارے نے بچیوں کو ایسے علمی اور روحانی ماحول میں پروان چڑھانے میں مدد دی ہے جہاں قرآن و سنت کی روشنی ان کی راہنمائی ملتی ہے۔

اختتامیہ

شیخ محسن علی نجفی 7 کی حیاتِ مبارکہ قرآن سے عملی محبت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ان کی کوششوں نے نہ صرف قرآن کی تعلیمات کو عام کیا بلکہ ان کے عشقِ قرآن نے ملتِ تشیع کے لیے ایک روشن مثال قائم کی۔ ان کی زندگی ہمارے لیے قرآن سے وابستگی کا عملی نمونہ ہے، جسے اپنانا ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے۔

آخر میں آپ کا عشق با قرآن کو آپ کے ہی الفاظ کے ذریعے بیان کرتے ہیں جو آپ7 نے بلاغ القرآن کے مقدمے میں تحریر کیے ہیں: قرآن حقائق کا ایک بحر بیکراں ہے۔ ہر طبقہ اور ہر نسل کو اپنی استعداد کے مطابق اس سے استفادہ کرنا چاہیے۔ چنانچہ حضرت امام رضاG سے منقول روایت میں حضرت امام صادقG سے سوال ہوا: کیا وجہ ہے کہ قرآن کو جس قدر بیان اور نشر کیا جاتا ہے نیز اس میں جس قدر غور و فکر کیا جاتا ہے، اسی قدر اس میں مزید تازگی آ جاتی ہے؟ آپ G نے فرمایا:

ان اللہ لم یجعلہ لزمان دون زمان و لناس دون ناس۔ فھو فی کل زمان جدید وعند کل قوم غض الی یوم القیامۃ۔

اللہ تعالیٰ نے قرآن کو نہ ایک زمانے کے ساتھ مخصوص فرمایا، نہ کچھ لوگوں کے ساتھ، بلکہ یہ ہر دور میں جدت اور ہر قوم کے لیے قیامت تک تازگی رکھتا ہے۔

دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ شیخ محسن علی نجفی7 کو شفاعت قرآن نصیب فرمائے اور آپ 7 کی قرآنی خدمات کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔

Related Articles

Back to top button