اوصاف و کمالات

آیت اللہ شیخ محسن علی نجفی7 بلند پایہ محقق و مصنف: تجزیہ و تحقیق

شیخ محسن علی نجفی7 ایک عظیم اسلامی اسکالر، محقق، اور مصنف تھے جنہوں نے اپنی علمی خدمات اور تحقیقی کاموں سے دنیا پر گہرے نقوش چھوڑے۔ آپ نے تحقیق و تصنیف کے میدان میں اعلیٰ معیار قائم کیا اور اپنی تخلیقی صلاحیتوں، عمیق مطالعے، اور غیر معمولی بصیرت سے علمی دنیا کو ایک قیمتی سرمایہ عطا کیا۔ جس میں قرآن کا ترجمہ ”بلاغ القرآن“، ”الکوثر فی تفسیر القرآن“، ”النہج السوی فی معنی المولیٰ والولی“،علی امام بنص صفاتہ وخصائص ذاتہ“ اور دیگر بہت ساری کتابیں شامل ہیں۔

آپ کی شخصیت میں ایک کامیاب محقق اور مصنف کے تمام اوصاف نمایاں تھے، جنہوں نے نہ صرف آپ کے علمی کام کو مستند اور معیاری بنایا بلکہ آپ کے کردار کو بھی ایک مثالی نمونہ قرار دیا۔ آپ نے علمی میدان میں رہتی دنیا تک یاد رکھے جانے والے نقوش چھوڑے۔

ذیل میں آپ کے بطور محقق، مصنف اور مولف 14 اہم اور نمایاں پہلوؤں کو اجاگر کیا گیا ہے۔

تخلیقی صلاحیات

شیخ محسن علی نجفی7 کی تخلیقی استعداد ان کے علمی کاموں میں ایک منفرد حیثیت رکھتی ہیں۔ انہوں نے اپنے عہد کے چیلنجز کو گہرائی سے سمجھتے ہوئے اسلامی تعلیمات کو جدید دور کے فکری اور عملی تقاضوں کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کی کامیاب کوشش کی۔ ان کی تصانیف نہ صرف اسلامی دنیا کے موجودہ مسائل کا احاطہ کرتی ہیں بلکہ ان کے ذریعے تحقیق کے نئے زاویے بھی متعارف کروائے گئے۔

تخلیقی انداز فکر اور موضوعات کا انتخاب

شیخ محسن علی نجفی7 نے ہمیشہ ایسے موضوعات پر قلم اٹھایا جو وقت کی اہم ترین ضرورت تھے۔ مثال کے طور پر، جب کمیونزم اپنے عروج پر تھا اور اسلامی دنیا کے نوجوان اس کے الحادی افکار سے متاثر ہو رہے تھے، تو انہوں نے اس کے فکری اور نظریاتی رد کے لیے ایک جامع کتاب تحریر کی۔ اس کتاب میں آپ نے کمیونزم کے بنیادی اصولوں کو عقلی دلائل، تاریخی شواہد، اور قرآن و سنت کی روشنی میں رد کیا۔ یہ تصنیف نہ صرف اُس وقت کے نوجوانوں کے لیے رہنمائی کا ذریعہ بنی بلکہ آج بھی جدید مسائل کے حل میں انتہائی مددگار ہے۔

جدید طرزِ تحریر

آپ کی تصانیف میں تخلیقی سوچ اور جدید طرزِ تحریر نمایاں طور پر جھلکتی ہے۔ آپ نے روایتی انداز کو اپنانے کے بجائے حالات اور زمانے کے تقاضوں کو پیش نظر رکھ کر اپنے کام کو ترتیب دیا۔ آپ کی کتب میں علم و تحقیق کا اعلیٰ معیار، فصاحت و بلاغت، اور مسائل کا گہرائی سے تجزیہ نظر آتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، آپ نے اسلامی عقائد کو ایسے منطقی اور سائنسی انداز میں پیش کیا جو عصرِ حاضر کی ذہنی سطح سے ہم آہنگ ہو۔

الحادی افکار کے خلاف علمی خدمات

جب جدید دور میں الحادی افکار اور نظریات نوجوان نسل میں پروان چڑھنے لگے اور دین، عقیدۂ توحید، نبوت، امامت اور دیگر اسلامی عقائد کے خلاف فکری تحریکیں جنم لینے لگیں، تو شیخ محسن علی نجفی7 نے اپنی دو عظیم تصانیف انفس و آفاق میں اللہ کی تجلی اور ”المحاضرات فی الالٰھیات“ تحریر کیں۔ ان کتابوں میں انہوں نے نہایت گہرائی سے الحاد کے فکری اور فلسفیانہ پہلوؤں کا جائزہ لیا اور اسلام کے عقائد کی مضبوط بنیادوں کو پیش کیا۔ ان تصانیف میں عقلی اور نقلی دلائل کی مدد سے یہ ثابت کیا گیا کہ دینِ اسلام ہی فطرت اور عقل کے عین مطابق ہے۔

دورِ جدید کے مسائل کا حل

شیخ محسن علی نجفی7 کی تخلیقی صلاحیتیں اور علمی خدمات صرف ماضی کے مسائل تک محدود نہیں تھیں بلکہ آج بھی ان کی کتب موجودہ نسل کے فکری بحرانوں کا علاج پیش کرتی ہیں۔ انہوں نے اسلامی علوم کو جدید فکر و فلسفہ کے ساتھ ہم آہنگ کیا اور یہ ثابت کیا کہ اسلام ہر دور کے انسان کی فکری اور روحانی ضروریات کا حل فراہم کرتا ہے۔

آپ کی تحریریں نہ صرف علمی دنیا کے لیے قیمتی اثاثہ ہیں بلکہ دین اسلام کے دفاع اور اس کے حقیقی پیغام کو عام کرنے کے لیے ایک مثالی نمونہ بھی ہیں۔ ان کے اسلوبِ تحقیق اور تخلیقی انداز فکر کو اپنانا آج کے علماء اور محققین کے لیے مشعلِ راہ ثابت ہو سکتا ہے۔

تنقیدی صلاحیت

شیخ محسن علی نجفی7 ایک غیر معمولی محقق اور دانشور تھے جن کی علمی اور تنقیدی صلاحیتوں نے اسلامی علوم میں گراں قدر خدمات سرانجام دیں۔ ان کی تحقیقی روش نہ صرف گہرائی اور باریک بینی پر مبنی تھی بلکہ ان میں موجودہ حالات اور مسائل کا شعور بھی نمایاں تھا۔ شیخ صاحب نے اپنی تصنیفات میں محض روایتی علم پر انحصار نہیں کیا بلکہ برصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں کے حالات اور ان کے نظریات کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی کتب کو تحریر کیا۔

ان کا انداز تحقیق منفرد تھا؛ وہ تقلیدی سوچ کے بجائے تحقیقی اور تنقیدی نقطہ نظر کو ترجیح دیتے تھے۔ انہوں نے کئی متنازع موضوعات کو تاریخی شواہد، نقلی ادلہ، اور عقلی دلائل کے ذریعے واضح کیا اور مذہبِ اہلِ بیتD کے صحیح نظریات کو مدلل انداز میں پیش کیا۔ مثال کے طور پر، جمع و تدوین قرآن کے بارے میں ان کی تحقیق بہت اہم ہے۔ شیخ محسن علی نجفی7 نے اس نظریے کو مؤثر دلائل سے رد کیا کہ قرآن خلفاء میں سے کسی کی طرف سے جمع کیا گیا۔ ان کا مؤقف تھا کہ مسلمانوں کے ہاتھوں میں موجود قرآن وہی ہے جو عصرِ رسالت] میں جمع کیا گیا تھا ۔

اسی طرح، انہوں نے دیگر کئی اہم مسائل کو تقلیدی انداز سے قبول کرنے کے بجائے منطقی اور تحقیقی روش اپنائی۔ ان کی کتاب تفسیر الکوثر اور مقدمہ قرآن میں ان کی یہ تحقیقی بصیرت بخوبی دیکھی جا سکتی ہے۔ ان کی تصانیف نہ صرف علماء کے لیے رہنمائی کا ذریعہ ہیں بلکہ عام قارئین کے لیے بھی دین اسلام کو سمجھنے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔ شیخ محسن علی نجفی7 کی یہ خدمات انہیں اسلامی علوم کی تاریخ میں ایک نمایاں مقام عطا کرتی ہیں۔

مخاطب شناسی: شیخ محسن علی نجفی7 کی فکری بصیرت

شیخ محسن علی نجفی7 کی شخصیت کی ایک نمایاں خصوصیت ان کی مخاطب شناسی تھی، جو ایک کامیاب مصنف، معلم، اور خطیب کے لیے نہایت اہم ہے۔ وہ اپنی تحریروں، تقریروں اور تدریسی کام میں ہمیشہ اپنے سامعین اور قارئین کے فکری، علمی، اور ذہنی معیار کو مدنظر رکھتے تھے۔ ان کی یہ خصوصیت نہ صرف ان کی کتب کی مقبولیت کا باعث بنی بلکہ ان کے مخاطبین کی فکری ضروریات کو مؤثر طور پر پورا کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوئی۔

علمی سطح کی شناخت اور تحریری اسلوب

شیخ محسن علی نجفی7 نے اپنی تصانیف میں ہر طبقے کے افراد کی فکری اور علمی استعداد کو مدنظر رکھا۔ ان کی کتب میں یہ تنوع واضح طور پر محسوس کیا جا سکتا ہے کہ وہ کس نوعیت کے قارئین کو خطاب کر رہے ہیں۔

عام قارئین کے لیے آسان اسلوب

مثال کے طور پر، جب ہم ان کے ترجمۂ قرآن کو دیکھتے ہیں، تو اندازہ ہوتا ہے کہ وہ عام قارئین کے لیے نہایت آسان اور روان زبان میں ترجمہ کرتے ہیں، تاکہ ہر طبقہ قرآن کے پیغام کو سمجھ سکے۔ ترجمے میں تسلسل، روانی، اور مقصد کی وضاحت کو اہمیت دی گئی ہے، جس سے قرآن کا مطالعہ آسان اور با مقصد ہو جاتا ہے۔

ماہرین اور محققین کے لیے تحقیقی انداز

اس کے برعکس، جب ہم ان کی تحقیقی تصانیف، جیسے علی امام یا ‘‘المحاضرات فی الالٰھیات’’ کا جائزہ لیتے ہیں، تو ہمیں محسوس ہوتا ہے کہ ان کا مخاطب علمی دنیا کے ماہرین اور محققین ہیں۔ ان کتابوں میں مستند حوالوں کی کثرت، علمی دلائل کی گہرائی، اور موضوع کی باریک بینی سے جانچ پڑتال یہ ظاہر کرتی ہے کہ یہ کتب تحقیقی ذہن رکھنے والے قارئین کے لیے لکھی گئی ہیں۔ ان کتب میں منطق، فلسفہ، اور اصولی مباحث کو نہایت مدلل اور منظم انداز میں پیش کیا گیا ہے، جو محققین کے لیے انتہائی قیمتی ہیں۔

تعلیمی مقاصد کے لیے جامعیت

طلبہ کے لیے لکھی گئی کتب، جیسے ان کے درسی مضامین اور تعلیمی رہنمائی کے لیے لکھی گئی تصانیف، میں جامع اور مانع انداز نظر آتا ہے۔ ان کی تصانیف کا مقصد طلبہ کو نہ صرف مواد فراہم کرنا تھا بلکہ ان کے ذہن کو منظم اور منطقی انداز میں فکر کرنے کی تربیت دینا بھی تھا۔ ان کی درسی کتب میں مشکل مباحث کو اس انداز میں پیش کیا گیا کہ وہ طلبہ کی فکری صلاحیتوں کو مزید نکھار سکیں۔

والدین اور بچوں کے لیے خاص توجہ

شیخ محسن علی نجفی7 نے نہ صرف علمی سطح کے قارئین بلکہ عام افراد، والدین، اور بچوں کے لیے بھی مواد فراہم کیا۔ ان کی تصنیف نونہالان اسوہ اس کی بہترین مثال ہے۔ یہ کتاب والدین کو یہ احساس دلاتی ہے کہ شیخ صاحب نے ان کی فکری ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے مواد فراہم کیا ہے تاکہ بچوں کی تربیت اسلامی اصولوں کے مطابق ہو سکے۔

تخاطب میں گہرائی اور مقصدیت

شیخ محسن علی نجفی7 کی مخاطب شناسی ان کے گہرے مطالعے اور فکری بصیرت کی عکاس ہے۔ وہ اس بات سے بخوبی واقف تھے کہ کس طبقے کو کس نوعیت کا مواد فراہم کرنا ضروری ہے۔ ان کی کتب صرف نظریات پیش کرنے تک محدود نہیں بلکہ ان میں مخاطب کو قائل کرنے کی طاقت بھی موجود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے قارئین ان کی تحریروں سے نہ صرف علمی استفادہ کرتے ہیں بلکہ اپنی فکری سطح پر ان کو بہترین رہنمائی بھی ملتی ہے۔

ادبی ذوق

شیخ محسن علی نجفی7 کی تصانیف نہ صرف علمی اور تحقیقی معیار پر پورا اترتی تھیں بلکہ ان میں ادبی ذوق اور حسنِ بیان کی جھلک بھی نمایاں تھی۔ ان کی نثر روانی اور دلکشی کا حسین امتزاج ہے، جو قاری کو اپنے سحر میں جکڑ لیتی۔ الفاظ کا چناؤ نہایت مہارت سے کیا جاتا ہے، اور اندازِ بیان ایسا کہ ہر جملہ قاری کے دل پر اثر کرے۔ ان کے تحریری اسلوب میں فکری گہرائی اور ادبی خوبصورتی کا امتزاج ان کی شخصیت کے علمی اور ادبی پہلوؤں کی عکاسی کرتا ہے۔

مصنفین کے لیے یہ ایک بڑا چیلنج ہوتا ہے کہ وہ اپنی کتب میں علمی مواد کو اس طرح پیش کریں کہ قاری کی دلچسپی برقرار رہے۔ شیخ محسن علی نجفی7 اس حقیقت سے بخوبی آگاہ تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی کتب میں جہاں فکر انگیز مواد موجود ہے، وہیں پر ادبی رنگ بھی نمایاں ہے۔ علمِ بیان، معانی اور بلاغت میں مہارت کی بدولت، وہ نہایت محتاط انداز میں الفاظ کا انتخاب کرتے تھے، جس کے نتیجے میں ان کی تحریریں علمی موضوعات کے ساتھ ساتھ ادبی ذوق رکھنے والوں کے لیے بھی سرمایۂ افتخار بن جاتی ہیں۔

مثال: النہج السوی فی معنی المولیٰ والولی

ان کی تصنیف ”النہج السوی فی معنی المولیٰ والولی“ اس ادبی اور علمی امتزاج کی ایک روشن مثال ہے۔ جب یہ کتاب فقیہ اہلِ بیت حضرت آیۃ اللہ بزرگ تہرانیؒ کی خدمت میں پیش کی گئی تو انہوں نے اس کتاب کی روانی، مطالب کی جامعیت اور متانت کی کھلے الفاظ میں تعریف کی۔ انہوں نے فرمایا کہ کتاب کی عمدہ عبارت آرائی اور معانی کی گہرائی نے انہیں اپنی جسمانی کمزوری اور بڑھاپے کے باوجود مطالعہ جاری رکھنے پر مجبور کیا۔ یہی خصوصیات شیخ محسن علی نجفی7 کی دیگر تصانیف میں بھی ملاحظہ کی جا سکتی ہیں، جو ان کی علمی و ادبی مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔

امانتداری اور ایمانداری

شیخ محسن علی نجفی7 کی شخصیت کا ایک اہم اور قابلِ ذکر پہلو ان کی بے مثال ایمانداری تھی۔ ان کی تحریریں اور تحقیق ہمیشہ حقیقت کی روشنی میں ہوتی تھیں۔ وہ نہایت دیانتداری کے ساتھ تحقیق کرتے اور ہر قسم کی مبالغہ آرائی یا ذاتی مفادات سے بالکل پاک رہتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا علمی کام معتبر، قابلِ اعتماد ہے جو تحقیق کے میدان میں ایک مشعل راہ بن چکا ہے۔

علمی دیانت اور تحقیق میں کمال امانت

شیخ محسن علی نجفی7 علمی معاملات میں اتنے ہی امانتدار تھے جتنے مالی امور میں۔ مخالف نظریات کا تجزیہ کرتے وقت وہ غیر مستند حوالوں یا خیالی مواد کا سہارا نہیں لیتے تھے بلکہ کامل امانتداری کے ساتھ مضبوط دلائل اور معتبر حوالہ جات پیش کرتے تھے۔ ان کی ہمیشہ یہ کوشش رہی کہ تحقیق کے لیے بنیادی مصادر و منابع کو ترجیح دی جائے اور غیر مستند نقل و روایت کو فروغ نہ دیا جائے۔

جب بھی کسی اہم موضوع یا مسئلے پر تحقیق کرتے تو پہلے خود گہرائی سے مطالعہ کرتے اور پھر متعلقہ شعبے کے ماہرین سے رجوع کرتے آپ اس وقت تک کسی روایت یا نظریے کو مسترد نہیں کرتے تھے جب تک مکمل اطمینان حاصل نہ کر لیتے۔ ان کی یہ خصوصیت علمی تحقیق کے شعبے میں ان کی بے مثال دیانتداری کو ثابت کرتی ہے۔ جیسا کہ حدیث اور رجال کے محقق علامہ آفتاب حسین جوادی کا کہنا ہے کہ شیخ محسن علی نجفی7 تحقیق کے کسی بھی مشکل پہلو میں مشاورت کے لیے ہمیشہ ماہرین سے رجوع کرتے اور اپنی تحقیق میں حقیقت پسندی کو ترجیح دیتے تھے۔

حوالے امانتداری کے ساتھ

شیخ محسن علی نجفی7 کی یہ خصوصیت بھی نمایاں تھی کہ اگر کسی عبارت، تحقیق یا مواد سے استفادہ کرتے تو اسے مکمل حوالہ جات کے ساتھ نقل کرتے اور کبھی اپنی طرف منسوب نہ کرتے۔ آج کے بعض شہرت طلب محققین کے برعکس، جو دوسروں کے کام کو اپنی تحقیق ظاہر کرکے علمی سرقہ کرتے ہیں، شیخ نجفی7 نے ہمیشہ تحقیقی اخلاقیات کی پاسداری کی۔ ان کی ہر کتاب، چاہے وہ ”علی امام بنص ذاتہ و خصائص صفاتہ“ ہو یا ”النہج السوی فی معنیٰ المولیٰ والولی“ ان کی امانتداری کی بہترین عکاس ہیں۔

کتب کے شواہد

ان کی کتب جیسے ”انفس اور آفاق میں اللہ کی تجلیاں“, ”فلسفۂ نماز“ اور دیگر تصانیف ان کی تحقیقاتی مہارت اور امانتداری کا عملی نمونہ ہیں۔ ان کی ہر تحریر میں علم و تحقیق کی شفافیت اور دیانت کا مظاہرہ ہوتا ہے۔

علمی دنیا کا چراغ

شیخ محسن علی نجفی7 کی زندگی اور ان کا علمی و تحقیقی کام ان تمام اوصاف کا مجموعہ ہے جو ایک عظیم محقق اور مصنف کے لیے لازم ہیں۔ ان کی تحریریں آج بھی علمی دنیا کے لیے مشعل راہ ہیں اور آئندہ بھی رہیں گی۔ ان کی شخصیت نہ صرف ایمانداری بلکہ علمی دیانت اور تحقیقی اصولوں کی پاسداری کا عملی نمونہ ہے۔

صبر و استقامت

شیخ محسن علی نجفی7 کی زندگی کے نمایاں پہلوؤں میں صبر و استقامت کو مرکزی مقام حاصل تھا۔ تحقیق اور تصنیف جیسے صبر آزما کاموں میں انہوں نے ہمیشہ تحمل اور تدبر کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں نبھائیں۔ ان کی تحریروں میں موجود گہرائی، تفصیل، اور منطقی تسلسل ان کے بے مثال صبر کی عکاسی کرتے ہیں۔ وہ جانتے تھے کہ علمی میدان میں کامیابی کے لیے صبر ایک لازمی شرط ہے، اور یہی وصف ان کے ہر تحقیقی کام میں جھلکتا ہے۔

تحقیق میں صبر کی عملی مثالیں

شیخ نجفی7 کی یہ روش تھی کہ جب تک کسی موضوع پر مکمل مواد جمع نہ کر لیتے، کسی بھی نتیجے پر پہنچنے یا جلد بازی میں کوئی تحقیقی کام انجام دینے سے گریز کرتے۔ ان کا اصول تھا کہ تحقیق کو وقت اور گہرائی کی ضرورت ہوتی ہے، اور جب تک ہر پہلو کا جائزہ نہ لیا جائے، نتیجہ اخذ کرنا ناقص ہو سکتا ہے۔

آپ ہمیشہ اپنے مسودے کو خود تحریر کرتے، پھر نظرثانی فرماتے اور تصحیح کے مرحلے کو بار بار دہراتے۔ کمپوزنگ کے بعد پروف ریڈنگ کے تمام مراحل میں ذاتی دلچسپی لیتے، اور جب تک تحقیق سے مکمل مطمئن نہ ہو جاتے، اشاعت کی اجازت نہ دیتے۔ یہ محنت اور صبر کی لازوال مثال ہے جو ان کے علمی کام کی پختگی اور معیار کو واضح کرتی ہے۔

قرآن کے ترجمے اور تفسیر کے لیے صبر

شیخ محسن علی نجفی7 کے صبر کی ایک نمایاں مثال قرآن پاک کے سلیس ترجمے اور تفسیر کا وہ عظیم منصوبہ ہے، جسے انہوں نے صرف اس وقت قبول کیا جب وہ چالیس سال کی عمر کو پہنچ گئے۔ ایک مومن عاشق قرآن نے نجف اشرف سے واپسی پر ان سے یہ درخواست کی، لیکن شیخ نے فرمایا کہ یہ کام میں اس وقت انجام دوں گا جب عقل و شعور میں مکمل پختگی حاصل ہو جائے، کیونکہ چالیس سال کی عمر وہ مرحلہ ہے جسے اسلامی روایات اور آیات نے انسان کی علمی اور فکری معراج کا وقت قرار دیا ہے۔

یہ فیصلہ ان کی دانائی، صبر اور دوراندیشی کا عکاس ہے۔ اگرچہ وہ اس وقت بھی بلند علمی مقام پر فائز تھے، جیسا کہ ان کے اساتذہ آیۃ اللہ سید ابو القاسم الخوئی7 اور آیۃ اللہ شہید سید محمد باقر الصدر7 کا ان پر اعتماد اور ان کی پاکستان میں وکالتِ مطلق کی اجازت ان کی قابلیت کا کھلا ثبوت ہیں۔ تاہم، شیخ نجفی7 نے تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے وقت کا انتظار کیا تاکہ یہ عظیم خدمت بہترین انداز میں انجام دی جا سکے۔

صبر کی قرآنی اور نبوی تعلیمات پر عمل

شیخ نجفی7 کا فرمان تھا کہ ہر چیز کے لیے ایک مقررہ وقت ہوتا ہے، اور اس وقت سے پہلے کوئی چیز وقوع پذیر نہیں ہوتی۔ وہ اکثر کہا کرتے:

”صبر کریں، وقت آنے پر اللہ تعالیٰ کی مدد شاملِ حال ہوگی۔“

آپ قرآن اور انبیائے کرام کی زندگیوں سے صبر کی تعلیم لیتے تھے۔ آپ کا کہنا تھا کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کا صبر آزماتا ہے، جیسا کہ انبیاء کو آزمایا گیا۔ انہوں نے حضرت ابراہیمG، حضرت ایوبG، اور حضرت محمد مصطفیٰ] کی صبر کی مثالوں کو ہمیشہ اپنی گفتگو اور تحریروں میں شامل کیا، تاکہ یہ واضح کر سکیں کہ کوئی بڑی کامیابی صبر و تحمل کے بغیر ممکن نہیں۔

شیخ محسن علی نجفی7 کی شخصیت کا علمی و عملی درس

شیخ محسن علی نجفی7 کی زندگی ان تمام اوصاف کا بہترین مجموعہ تھی جو ایک عظیم محقق اور مصلح میں ہونے چاہئیں۔ ان کا صبر، ان کی بصیرت، اور ان کی اصول پسندی آج کے دور کے لیے بھی مشعل راہ ہے۔ ان کی خدمات اس بات کا ثبوت ہیں کہ تحقیق اور تصنیف کا اصل جوہر صبر و استقامت اور دیانتداری میں پوشیدہ ہے۔ ان کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ ہر بڑی کامیابی کے پیچھے ایک طویل سفر، عزم، اور صبر کارفرما ہوتا ہے۔

جہد مسلسل و عزم صمیم

شیخ محسن علی نجفی7 کی زندگی کا ایک نمایاں اور قابلِ تقلید پہلو ان کی مسلسل جدوجہد تھی۔ انہوں نے کبھی تھکن یا مایوسی کو اپنے راستے کی رکاوٹ نہیں بننے دیا۔ ان کی ہر تحریر اور ہر تحقیقی کام ان کی انتھک محنت اور عزم کی گواہی دیتا ہے۔ تحقیق و تصنیف کے مشکل میدان میں ان کی کامیابیاں ان کے عزمِ مصمم اور جہدِ مسلسل کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔

تعلیم و تحقیق میں بے مثال جدوجہد

شیخ نجفی7 کا تعلیمی اور تحقیقی سفر ایک مستقل محنت اور قربانی کی کہانی ہے۔ عمر کے آخری حصے میں، جب اکثر لوگ آرام کو ترجیح دیتے ہیں، شیخ نجفی7 نے نہ صرف اپنے علمی کام جاری رکھے بلکہ مزید اہم کتابیں تصنیف و تالیف کیں۔ وہ کبھی یہ کہتے نہ سنے گئے کہ وہ تھک چکے ہیں یا اب مزید تحقیق نہیں کر سکتے۔ بلکہ ان کا عزم دوسروں کے لیے حوصلے کا باعث بنتا تھا۔

عمر کے آخری حصے میں بھی تحقیقی سرگرمیاں

شیخ محسن علی نجفی7 ہمیشہ کتابوں اور مطالعے میں محو رہتے تھے، چاہے عمر کا کوئی بھی مرحلہ ہو۔ ان کے عمر کے آخری چند سال ان کی علمی و تحقیقی صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ ان کی کئی اہم کتابیں انہی سالوں میں منظرِ عام پر آئیں، جیسے:

علی امام بنص ذاتہ و خصائص صفاتہ

نہالان اسوہ

انفس اور آفاق میں اللہ کی تجلیاں

دراسات العصریۃ فی الالٰہیات

یہ وہ عمر تھی جب عام طور پر لوگ اپنی یادداشت کو برقرار رکھنے کے لیے جدوجہد کرتے ہیں، لیکن شیخ محسن علی نجفی7 نے اس وقت میں بھی نئی کتابیں تصنیف کیں اور علمی دنیا کو اپنے کام سے مالا مال کیا۔

جدوجہد کی تاکید اور رہنمائی

شیخ محسن علی نجفی7 نہ صرف خود جہدِ مسلسل کا نمونہ تھے بلکہ دوسروں کو بھی یہی درس دیا کرتے تھے۔ وہ ان لوگوں کو خاص طور پر سراہتے جو مستقل مزاجی کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں انجام دیتے۔ ان کا فرمان تھا:

”اپنے کام کو جاری رکھیں، خدا ہر حالت میں آپ کی مدد کرے گا۔“

ان کے یہ الفاظ نہ صرف نصیحت تھے بلکہ ان کے ذاتی تجربات اور کامیابیوں کا نچوڑ بھی تھے۔

میدان ہائے کار میں کامیابی کا راز

شیخ محسن علی نجفی7 کی مسلسل محنت اور عزم نے انہیں ہر میدان میں کامیابی حاصل کرنے میں مدد دی۔ ان کی انتھک کوششوں نے انہیں ایک کامیاب مصنف، محقق، اور رہنما کے طور پر پہچان دلائی۔ ان کی زندگی تحقیق و تعلیم کے میدان میں محنت اور استقامت کا عملی نمونہ تھی، جو ہر اس شخص کے لیے مشعلِ راہ ہے جو اپنے مقصد میں کامیاب ہونا چاہتا ہے۔

Related Articles

Back to top button