اوصاف و کمالات

شیخ محسن علی نجفی7 ایک عالم باعمل

شیخ محسن علی نجفی7 نے اپنی زندگی میں جو کچھ کہا، اس پر عمل کرکے دکھایا۔ ان کی تصنیفات اور تالیفات اس بات کا ثبوت ہیں کہ وہ وقت کی منصوبہ بندی کے کس قدر پابند تھے۔ وہ نہ صرف اپنے کام کے لیے وقت نکالتے بلکہ دوسروں کو بھی وقت کے بہترین استعمال کی ترغیب دیتے۔

وقت کی برکت پر ایمان

شیخ محسن علی نجفی7 کا یقین تھا کہ وقت کو مفید کاموں میں لگانے سے برکت پیدا ہوتی ہے۔ ان کا کہنا تھا:

”وقت وہ سرمایہ ہے جس کی قیمت جنت سے کم نہیں، لہٰذا اسے معمولی چیزوں میں ضائع نہ کریں۔“

تحلیل و تجزیہ کی صلاحیت (Analytical Ability)

شیخ محسن علی نجفی7 کی شخصیت میں تحلیل و تجزیہ کی صلاحیت ایک نمایاں خوبی تھی، جو ان کے علمی کاموں کو منفرد بناتی تھی۔ ان کی تحریریں ان کے گہرے علمی مطالعے، باریک بینی، اور تجزیاتی مہارتوں کی واضح عکاس ہیں۔ وہ کسی بھی موضوع پر تحقیق کے دوران تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھتے اور ان کی گہرائی میں جا کر اصل حقائق تک پہنچنے کی کوشش کرتے تھے۔

اختلافی مسائل پر تجزیہ: جامعیت اور توازن

شیخ محسن علی نجفی7 کی تحریروں میں اختلافی موضوعات پر ان کی جامعیت اور توازن نمایاں نظر آتا ہے۔ وہ کسی بھی مسئلے میں صرف اپنے موقف کو پیش کرنے پر اکتفا نہیں کرتے تھے بلکہ مخالف آراء کو بھی مکمل دیانت داری سے بیان کرتے۔ وہ نہ صرف ان آراء کے اسباب اور وجوہات کا تجزیہ کرتے بلکہ ان کے ممکنہ اثرات اور عملی نتائج کو بھی واضح کرتے۔ اس کے بعد، عقلانیت کی بنیاد پر ایک معتدل اور مستند رائے پیش کرتے۔

ان کی مشہور تفسیر ”الکوثر“ میں آیت تطہیر، آیت مباہلہ، آیت ولایت، اور عدم تحریف جیسے موضوعات پر ان کا تجزیہ پڑھنے سے ان کی علمی مہارت کا اندازہ ہوتا ہے۔ وہ نہایت خوبصورتی سے ان مباحث کو پیش کرتے اور مخالفین کے دلائل کو معقول انداز میں رد کرتے ہیں، جس سے ان کی گہری فکری بصیرت کا اظہار ہوتا ہے۔

شوقِ مطالعہ اور تجزیاتی گہرائی

ایک محقق کی بنیادی خصوصیت علم کا شوق اور مطالعے کی لگن ہوتی ہے، اور یہ صفات شیخ محسن علی نجفی7 کی شخصیت میں بدرجہ اتم موجود تھیں۔ ان کی علمی پیاس انہیں دوسروں سے ممتاز کرتی تھی۔ وہ کسی بھی موضوع پر تحقیق کے لیے ہمیشہ نئے زاویے تلاش کرتے اور مزید گہرائی میں جانے کی کوشش کرتے۔ یہی شوق ان کی تحریروں کو مسلسل بہتر بناتا اور انہیں مزید مستند بناتا رہا۔

سوالات اور تجسس کی خصوصیت

شیخ محسن علی نجفی7 کی شخصیت کا ایک اور اہم پہلو ان کی سوال اٹھانے کی صلاحیت تھی۔ وہ ہمیشہ ہر موضوع پر گہرے سوالات کرتے اور نامعلوم پہلوؤں کو دریافت کرنے کی جستجو رکھتے تھے۔ ان کے نزدیک تجسس ایک محقق کی روح ہے، اور یہ صفت انہیں نئے علمی افق دریافت کرنے میں مدد دیتی تھی۔

علمی ورثہ: ایک مثال

شیخ محسن علی نجفی7 کی شخصیت میں تجزیہ و تحلیل کی یہ صلاحیت انہیں ایک عظیم محقق کے طور پر نمایاں کرتی ہے۔ ان کا تجزیاتی انداز نہ صرف ان کی تحریروں کو مستند بناتا ہے بلکہ قارئین کے لیے فکری رہنمائی کا ذریعہ بھی بنتا ہے۔ ان کی علمی خدمات ایک قیمتی اثاثہ ہیں، جو آنے والے محققین کے لیے مشعل راہ ہیں۔

شیخ محسن علی نجفی7 کا علمی سفر ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ تجزیہ و تحلیل کے بغیر تحقیق نامکمل ہے۔ ان کی زندگی علم کی گہرائی، مطالعے کی وسعت، اور تفکر کی روشنی کا عملی مظہر تھی، جو آج بھی علمی دنیا کے لیے ایک مثال ہے۔

یکسوئی اور ثابت قدمی (Perseverance, Focus)

شیخ محسن علی نجفی7 کی زندگی کا ایک نمایاں پہلو ان کی یکسوئی (Focus) اور ثابت قدمی (Perseve-rance) تھی، جو ان کے تحقیقی اور علمی کاموں کی بنیاد تھی۔ ان اوصاف نے انہیں علمی دنیا میں نہ صرف کامیاب بنایا بلکہ ایک مثالی شخصیت کے طور پر بھی متعارف کروایا۔

اہداف پر مکمل توجہ

شیخ محسن علی نجفی7 نے ہمیشہ اپنے اہداف پر مکمل توجہ مرکوز رکھی۔ وہ تحقیق کے دوران غیر ضروری سرگرمیوں سے کنارہ کش رہتے تھے تاکہ ان کے کام کا معیار اور گہرائی برقرار رہے۔ ان کی توجہ اور یکسوئی کا ثمر ان کی اعلیٰ درجے کی تصانیف اور تحقیقی کاموں میں صاف نظر آتا ہے۔

ثابت قدمی کی عملی مثال

تحقیق اور تصنیف کے دوران پیش آنے والی مشکلات یا چیلنجز انہیں کبھی ان کے راستے سے ہٹا نہیں سکے۔ شیخ محسن علی نجفی7 نے ہر مشکل کا ثابت قدمی اور صبر و استقامت کے ساتھ سامنا کیا۔ وہ فرماتے تھے:

”تحقیق میں کامیابی کا انحصار صبر اور یکسوئی پر ہے، اگر ان صفات کو ترک کر دیا جائے تو علم کی منزل تک پہنچنا ممکن نہیں۔“

ٹیم کے ساتھ یکجہتی

شیخ محسن علی نجفی7 نہ صرف خود یکسوئی اور ثابت قدمی کا عملی نمونہ تھے بلکہ اپنی ٹیم کو بھی انہی اصولوں پر عمل کرنے کی تلقین کرتے تھے۔ وہ اپنی ٹیم کے افراد سے باقاعدگی سے پروگریس رپورٹ طلب کرتے اور ان کی حوصلہ افزائی کرتے کہ وہ اپنے کام میں کسی قسم کی غفلت نہ برتیں۔

تحقیق میں تسلسل کا اصول

شیخ محسن علی نجفی7 کا یہ معمول تھا کہ وہ کسی تحقیقی کام کو شروع کرنے سے پہلے اس پر گہرے غور و فکر کے ساتھ وقت صرف کرتے۔ ایک بار کام کا آغاز ہو جاتا، تو وہ اسے مکمل یکسوئی اور مستقل مزاجی کے ساتھ جاری رکھتے، یہاں تک کہ اسے حسنِ اختتام تک پہنچا دیتے۔

مشکلات کے باوجود استقامت

شیخ محسن علی نجفی7 کا یقین تھا کہ تحقیق کے میدان میں مشکلات کا سامنا کرنا ہر محقق کی ذمہ داری ہے۔ وہ اپنی ذات کے ذریعے یہ ثابت کرتے تھے کہ تحقیق اور تصنیف میں آنے والی رکاوٹوں سے کبھی پیچھے نہیں ہٹنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا:

”تحقیق کی راہ میں آنے والی رکاوٹیں محض آزمائش ہیں، اور ان پر قابو پا کر ہی انسان ایک کامیاب محقق بن سکتا ہے۔“

اجتماعی کام کرنے کی صلاحیت

شیخ محسن علی نجفی7 کی کامیاب علمی زندگی میں تعاون (Collaboration) اور اجتماعی کام (Teamwork) نے اہم کردار ادا کیا۔ ان کی شخصیت میں یہ خوبیاں نہ صرف ان کے تحقیقی کاموں کو بلند معیار تک لے گئیں بلکہ ان کی قیادت میں علمی ٹیمیں منظم ہوکر باہمی تعاون کی بہترین مثالیں پیش کرتی رہیں۔

دوسروں کے ساتھ تعاون: ہم آہنگی کی بنیاد

شیخ محسن علی نجفی7 کا تحقیقی سفر ہمیشہ باہمی تعاون اور ہم آہنگی پر مبنی تھا۔ انہوں نے اپنے کاموں میں مختلف علمی شخصیات، اسکالرز، اور اداروں کو شامل کیا۔ اس عمل سے ان کی تحقیق میں نہ صرف گہرائی آئی بلکہ ان کے کام کو زیادہ مستند اور قابلِ قبول بنایا گیا۔ وہ یقین رکھتے تھے کہ علمی ترقی کے لیے باہمی تعاون ناگزیر ہے۔ ان کا کہنا تھا:

”مل جل کر کام کرنے میں برکت ہے، اور تنہا رہنے میں علم کی وسعت محدود ہو جاتی ہے۔“

ٹیم بلڈنگ کا عملی مظاہرہ

شیخ محسن علی نجفی7 اپنی تحقیقی ٹیم کے قیام اور اس کی تشکیل پر خصوصی توجہ دیتے تھے۔ وہ ایسے افراد کو اپنی ٹیم میں شامل کرتے جن میں مختلف مہارتیں اور خوبیاں پائی جاتیں۔ ان کی شخصیت کا یہ پہلو بہت نمایاں تھا کہ وہ علمی گوہر تلاش کرتے اور ان کی صلاحیتوں کو مزید نکھارتے تھے۔ وہ اپنی ٹیم کے ہر فرد کی نہ صرف حوصلہ افزائی کرتے بلکہ ان کے مشوروں اور تنقید کو بھی اہمیت دیتے تھے۔

گروپ ورک میں تنقید اور مشورے کی اہمیت

شیخ محسن علی نجفی7 اجتماعی کام کے فوائد سے بخوبی آگاہ تھے، لیکن وہ یہ بھی جانتے تھے کہ گروپ ورک کے دوران ”گروپ تھنکنگ“ جیسی خامیاں بھی پیدا ہو سکتی ہیں۔ لہٰذا، وہ اپنی ٹیم میں تنقید اور مشورےکے کلچرکو فروغ دیتے تھے۔ وہ ایسے افراد کو ترجیح دیتے جو بروقت تنقید کریں اور بہتر تجاویز پیش کریں، کیونکہ ان کے نزدیک یہی رویہ کام کے معیار کو بہتر بناتا تھا۔

تحقیقی کام میں اجتماعیت کی اہمیت

شیخ محسن علی نجفی7 اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ تحقیقی اور تصنیفی کام صرف ایک فرد کے بس کی بات نہیں، بلکہ یہ ایک اجتماعی کوشش کا متقاضی ہے۔ وہ فرمایا کرتے تھے:

”جب مختلف افراد مل کر کام کرتے ہیں تو کام کا معیار بلند ہو جاتا ہے، کیونکہ ہر ایک اپنی مخصوص مہارت کے ذریعے کمی کو پورا کرتا ہے۔“

ٹیم میں مختلف ماہرین کی شمولیت

شیخ محسن علی نجفی7 کی ٹیم میں مختلف شعبوں کے ماہرین شامل ہوتے تھے۔ وہ اس بات کو یقینی بناتے کہ ان کی تحقیق معاشرے کے لیے قابلِ فہم ہو۔ اسی لیے وہ ایسے افراد کو بھی شامل کرتے تھے جو عام عوام کی زبان اور مسائل سے بخوبی واقف ہوں۔ ان کی ٹیم میں سید اظہر رضویؒ اور سید غیور زیدی جیسے افراد شامل تھے جو یہ دیکھتے کہ تحقیق کے نتائج عام آدمی کے لیے کتنے مفید اور قابلِ فہم ہیں۔

اجتماعی کام کا علمی ورثہ

شیخ محسن علی نجفی7 کا اجتماعی کام کا جذبہ آج بھی علمی حلقوں کے لیے مشعل راہ ہے۔ ان کی ٹیم ورک کے ذریعے مسائل کو حل کرنے اور تحقیق کو منظم انداز میں انجام دینے کی روش آنے والے محققین کے لیے ایک بہترین مثال ہے۔ ان کی تعلیمات اور طرزِ عمل یہ ثابت کرتے ہیں کہ باہمی تعاون اور اجتماعی کام ہی علمی ترقی کی کنجی ہیں۔

خلاصہ

شیخ محسن علی نجفی7 ایک عظیم اور کامیاب محقق و مصنف تھے جنہوں نے اپنی گہری بصیرت، محنت، اور تخلیقی صلاحیتوں کے ذریعے علمی دنیا میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ ان کی شخصیت میں کئی اہم اوصاف موجود تھے جو انہیں دیگر محققین اور مصنفین سے ممتاز کرتے ہیں۔

آپ وقت کی منصوبہ بندی (Time Management) کے ماہر تھے اور اپنی زندگی کے ہر لمحے کو بہترین انداز میں استعمال کرتے تھے۔ تخلیقی صلاحیت (Innovation) اور حالات کے مطابق خود کو ڈھالنے کی قابلیت (Adaptability) نے انہیں تحقیق و تصنیف کے جدید تقاضوں کے مطابق کام کرنے کے قابل بنایا۔ یکسوئی (Focus)، ثابت قدمی (Perseverance)، اور مقصدیت (Commitment) ان کی کامیابی کے بنیادی عوامل تھے۔

شیخ محسن علی نجفی7 تحقیق میں اصلی ماخذ (Primary Sources) کے استعمال اور غیر جانبداری (Unbiasedness) پر زور دیتے تھے۔ ان کی تنقیدی و تجزیاتی صلاحیتیں (Analytical Ability) اور علم کی پیاس (Thirst for Learning) ان کے کام کو گہرائی اور جامعیت عطا کرتی تھیں۔ ٹیم ورک (Teamwork)، تعاون (Collaboration)، اور اعلیٰ ابلاغی مہارتیں (Communication Skills) ان کے علمی کام کو مزید مؤثر بناتی تھیں۔

ان اوصاف نے انہیں نہ صرف ایک ممتاز محقق اور مصنف بنایا بلکہ ایک ایسی علمی شخصیت کے طور پر نمایاں کیا جو آج بھی رہنمائی کا ذریعہ ہے۔

Related Articles

Back to top button