حضرت آیۃ اللہ شیخ محسن علی نجفی 7 اور توکل علی اللہ
شیخ الجامعہ حضرت آیۃ اللہ شیخ محسن علی نجفی 7 کی زندگی ایک نورانی درسگاہ تھی جو علم، تقویٰ اور توکل علی اللہ کے گہرے مفاہیم پر مشتمل تھی۔ ان کی حیات طیبہ میں وہ تمام عناصر موجود تھے جو ایک کامل مومن اور حقیقی عالم دین کی پہچان ہیں۔ حضرت آیۃ اللہ شیخ محسن علی نجفی 7 نے نہ صرف علمی میدان میں نمایاں کارنامے انجام دیے بلکہ اپنی عملی زندگی کے ذریعے اللہ پر بھروسہ اور توکل کا اعلیٰ ترین نمونہ پیش کیا۔ ان کی شخصیت ہر اس فرد کے لیے مشعلِ راہ ہے جو دینِ اسلام کی حقیقی روح کو سمجھنے اور اپنانے کا خواہشمند ہے۔
حضرت آیۃ اللہ شیخ محسن علی نجفی 7 کی زندگی کا مرکزی محور اللہ تعالیٰ کی ذات پر کامل ایمان اور بھروسہ تھا۔ ان کا عقیدہ تھا کہ علم صرف ایک ذریعہ ہے جس کے ذریعے انسان اللہ کی رضا حاصل کرسکتا ہے۔ ان کی تعلیمات میں بار بار اس بات پر زور دیا جاتا تھا کہ علم کو محض دنیاوی فوائد کے لیے استعمال نہ کیا جائے، بلکہ اس کا مقصد انسان کی روحانی بالیدگی اور اللہ کے قریب ہونے کا ذریعہ بنے۔ وہ فرمایا کرتے تھے کہ ‘‘جو اللہ پر بھروسہ کرتا ہے، اللہ اس کے لیے مشکلات کے وقت نکلنے کی راہیں ہموار کردیتا ہے اور رحمت کے دروازے کھول دیتا ہے۔’’ ان کے یہ الفاظ ان کی عملی زندگی میں واضح طور پر جھلکتے تھے۔
شیخ الجامعہ کی زندگی کا ایک اہم پہلو ان کی سادگی اور عاجزی تھی۔ وہ ہمیشہ اللہ کی نعمتوں پر شکر ادا کرتے اور ہر حال میں اللہ کی رضا پر راضی رہتے۔ وہ نہایت قناعت پسند تھے۔ ان کی زندگی کا ہر لمحہ اس بات کی گواہی دیتا تھا کہ ایک مومن کس طرح اللہ کی ذات پر مکمل توکل کے ساتھ زندگی گزار سکتا ہے۔ ان کے نزدیک توکل کا مطلب یہ تھا کہ انسان اپنی تمام تر کوششوں کے بعد اللہ کی مدد اور ہدایت پر بھروسہ کرے اور اس کی رضا پر سر تسلیم خم کرے۔
حضرت آیۃ اللہ شیخ محسن علی نجفی 7 نے اپنی زندگی کے مختلف مراحل میں شدید مشکلات اور آزمائشوں کا سامنا کیا، لیکن ہر بار اللہ پر مکمل بھروسے کے ساتھ ان آزمائشوں کو عبور کیا۔ انہوں نے ہمیں یہ سکھایا کہ آزمائشیں انسان کی زندگی کا حصہ ہیں، لیکن جو شخص اللہ پر توکل کرتا ہے، وہ ان آزمائشوں کو نہ صرف سہہ لیتا ہے بلکہ ان سے مضبوط اور ثابت قدم ہو کر نکلتا ہے۔ ان کی زندگی اس حقیقت کا عملی مظہر تھی کہ اللہ پر ایمان اور بھروسہ انسان کی روحانی قوت کو بڑھاتا ہے اور اسے دنیاوی مشکلات سے بے نیاز کر دیتا ہے۔
حضرت آیۃ اللہ شیخ محسن علی نجفی 7 کا پیغام آنے والی نسلوں کے لیے بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ وہ ہمیں سکھاتے ہیں کہ دین اور دنیا کو الگ نہ سمجھا جائے، بلکہ دنیاوی کاموں کو بھی اللہ کی رضا کے لیے انجام دیا جائے۔ ان کا نظریہ تھا کہ دینِ اسلام انسان کو ہر شعبۂ زندگی میں کامیابی کے اصول فراہم کرتا ہے، اور اس کا سب سے بڑا اصول اللہ پر بھروسہ اور اس کی رضا پر راضی رہنا ہے۔ ان کی حیاتِ طیبہ ہم سب کے لیے ایک درس ہے کہ کس طرح توکل علی اللہ اور اخلاص کے ساتھ اپنی زندگی کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔
شیخ الجامعہ حضرت آیۃ اللہ شیخ محسن علی نجفی 7 کی زندگی کا ہر پہلو ہمیں یہ درس دیتا ہے کہ علم، عمل اور توکل کا حسین امتزاج ہی ایک مسلمان کی کامیابی کا راز ہے۔ ان کی حیات کا مطالعہ ہمیں یہ سمجھاتا ہے کہ اللہ پر بھروسہ رکھنے والا شخص نہ صرف اپنی زندگی کو کامیاب بناتا ہے بلکہ دوسروں کے لیے بھی مشعلِ راہ بن جاتا ہے۔ یوں ان کی زندگی ہمیشہ کے لیے ایک روشن مثال اور کامل رہنمائی کا ذریعہ رہے گی۔
شیخ الجامعہ کی شخصیت: سادگی، عاجزی اور اللہ پر توکل
شیخ الجامعہ حضرت آیۃ اللہ شیخ محسن علی نجفی 7 کی شخصیت امتِ مسلمہ کے لیے ایک قابل تقلید نمونہ تھی، جو سادگی، عاجزی اور اللہ پر توکل جیسی اعلیٰ صفات سے مزین تھی۔ آپ کی پوری زندگی ان اخلاقی اقدار کا عملی مظہر تھی جو ایک مومن کے لیے مطلوب ہیں۔ توکل علی اللہ، سادگی اور عاجزی نہ صرف آپ کے اخلاقی پہلو کو ظاہر کرتی تھیں بلکہ یہ اس بات کی بھی علامت تھیں کہ آپ نے دنیاوی جاہ و جلال کو کبھی اپنی شخصیت پر حاوی نہیں ہونے دیا۔ آپ ہمیشہ اللہ کی رضا کو مقدم رکھتے تھے اور ہر فیصلہ اللہ پر مکمل توکل اور بھروسے کے ساتھ کیا کرتے تھے۔
حضرت آیۃ اللہ شیخ محسن علی نجفی 7 کی شخصیت کی نمایاں خصوصیت یہ تھی کہ آپ نے اپنے قول و فعل میں یکسانیت کو برقرار رکھا۔ آپ کا طرزِ عمل دوسروں کو یہ احساس دلاتا تھا کہ اللہ پر بھروسہ رکھنے والا شخص ہمیشہ مطمئن اور باوقار رہتا ہے۔ آپ کی زندگی اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ ایک مومن کو ہر حال میں اللہ کی رضا پر راضی رہنا چاہیے اور اسی میں حقیقی کامیابی کا راز مضمر ہے۔
توکل علی اللہ: ایک اصول
شیخ الجامعہ حضرت آیۃ اللہ شیخ محسن علی نجفی 7 کی زندگی کا بنیادی اصول توکل علی اللہ تھا۔ آپ کا ماننا تھا کہ اللہ پر توکل محض ایک نظریہ نہیں بلکہ ایک عملی حقیقت ہے جسے زندگی کے ہر پہلو میں اپنانا ضروری ہے۔ آپ نے اپنی زندگی میں اس اصول کو بارہا ثابت کیا اور اس کا عملی مظاہرہ ہر موقع پر کیا۔ چاہے وہ علمی اداروں کا قیام ہو، فلاحی منصوبوں کا آغاز ہو یا ذاتی آزمائشوں اور مشکلات کا سامنا، آپ نے ہر معاملے میں اللہ کی ذات پر کامل بھروسہ کیا اور ہمیشہ اپنی کامیابی کو اللہ کی رضا کے ساتھ جوڑا۔
آپ نے اس بات پر زور دیا کہ توکل علی اللہ نہ صرف انفرادی زندگی کے لیے اہم ہے بلکہ اجتماعی کامیابی کے لیے بھی یہ ایک لازمی عنصر ہے۔ آپ کے نزدیک توکل کا مطلب یہ تھا کہ انسان اپنی تمام تر کوششوں کے بعد نتیجہ اللہ کے سپرد کر دے اور اس کے فیصلے پر راضی ہو جائے۔ آپ کی زندگی کے مختلف پہلو ہمیں یہ سکھاتے ہیں کہ جب انسان اللہ پر بھروسہ کرتا ہے تو مشکلات خود بخود آسانیوں میں بدل جاتی ہیں اور کامیابی کے دروازے کھل جاتے ہیں۔
توکل علی اللہ: قرآن اور حدیث کی روشنی میں
توکل علی اللہ کے حوالے سے قرآن اور حدیث میں بے شمار تعلیمات موجود ہیں جو اس کے فلسفے اور عملی پہلوؤں کو واضح کرتی ہیں۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
”وَمَا تَوْفِيقِي إِلَّا بِاللَّهِ“
یہ آیت توکل علی اللہ کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے اور یہ درس دیتی ہے کہ انسان کی ہر کامیابی اور پیش رفت اللہ کی رضا اور اس کی مدد پر منحصر ہے۔ شیخ الجامعہ حضرت آیۃ اللہ شیخ محسن علی نجفی 7 نے اپنی زندگی کے ہر لمحے میں اس آیت کو عملی طور پر نافذ کیا اور اللہ کی مدد کو اپنی سب سے بڑی طاقت قرار دیا۔ اللہ پر بھروسہ رکھنے والا شخص کبھی محروم نہیں رہتا۔ وہ دنیاوی مشکلات کے باوجود روحانی سکون اور اطمینان کے ساتھ زندگی گزارتا ہے۔
شیخ الجامعہ نے اس حدیث کو اپنی زندگی میں نافذ کرتے ہوئے نہ صرف اپنی ذات کے لیے بلکہ امت مسلمہ کے لیے بھی راہنمائی فراہم کی۔ آپ کا یقین تھا کہ اللہ پر توکل کرنے سے انسان کی روحانی اور جسمانی ضروریات دونوں پوری ہوتی ہیں، اور یہی توکل انسان کو آزمائشوں اور مشکلات میں ثابت قدم رکھتا ہے۔
شیخ الجامعہ حضرت آیۃ اللہ شیخ محسن علی نجفی 7 کی زندگی اس بات کی عملی مثال ہے کہ توکل علی اللہ نہ صرف انسان کو دنیاوی چیلنجز سے نکالنے میں مددگار ہوتا ہے بلکہ اس کی روحانی بلندی کا ذریعہ بھی بنتا ہے۔ آپ کی حیاتِ طیبہ قرآن و سنت کے اصولوں پر مبنی ایک روشن چراغ ہے جو ہر دور کے مسلمانوں کے لیے مشعل راہ بنی رہے گی۔
شیخ الجامعہ کی تعلیمی خدمات: توکل علی اللہ کی عملی تفسیر
شیخ الجامعہ حضرت آیۃ اللہ شیخ محسن علی نجفی 7 کی تعلیمی خدمات بے نظیر ہیں، جنہوں نے علمی و روحانی ترقی کے میدان میں لازوال نقوش چھوڑے ہیں۔ آپ نے ایسے عظیم ادارے قائم کیے، جیسے جامعہ الکوثر اور جامعہ اہل البیت، اسوہ ایجوکیشن سسٹم ومدارس اہلبیتD جو آج بھی علم کی روشنی کو پھیلانے اور معاشرے کی فکری نشوونما میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
شیخ الجامعہ نے صرف تعلیمی میدان میں مہارت پیدا کرنے پر زور نہیں دیا بلکہ طلبہ کی روحانی اور اخلاقی تربیت کو بھی اولین ترجیح دی۔ آپ کا ماننا تھا کہ تعلیم کا مقصد صرف دنیاوی کامیابی حاصل کرنا نہیں بلکہ ایک ایسی شخصیت کی تعمیر ہے جو اللہ کی رضا کے حصول کو اپنی زندگی کا نصب العین بنائے۔ ان کی نظر میں ایک کامیاب انسان وہ ہے جو اخلاقی اقدار، روحانی شعور اور اللہ پر کامل یقین کے ساتھ اپنی زندگی بسر کرے۔ آپ کے یہ سارے ادارے آپ کے خدا کی ذات پر توکل کی عملی مثالیں ہیں۔
فلاحی خدمات: انسانیت کی خدمت اور توکل علی اللہ
شیخ الجامعہ کی فلاحی خدمات اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ توکل علی اللہ نہ صرف ذاتی بلکہ معاشرتی فلاح کے لیے بھی کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ آپ نے کئی فلاحی ادارے قائم کیے جن میں حسینی فاؤنڈیشن نمایاں ہے، جس کے ذریعے آپ نے لاکھوں ضرورت مند افراد کی زندگیاں بہتر بنانے کی کوشش کی۔
آپ کی تمام فلاحی سرگرمیاں اللہ پر مکمل بھروسے کی بنیاد پر تھیں۔ آپ کا یقین تھا کہ اللہ کی رضا کے لیے انسانیت کی خدمت کے دروازے کھلتے ہیں۔ آپ کے فلاحی منصوبوں کی کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ جب انسان اللہ پر توکل کرتا ہے تو مشکلات کے پہاڑ بھی آسان ہو جاتے ہیں، اور کامیابی انسان کے قدم چومتی ہے۔
شیخ الجامعہ کی قرآن کی خدمات
شیخ الجامعہ حضرت آیۃ اللہ شیخ محسن علی نجفی 7 نے قرآن کی تفسیر کے میدان میں بھی گرانقدر خدمات انجام دیں۔ آپ کی مشہور تصنیف تفسیر الکوثر ایک عظیم علمی کارنامہ ہے، جس میں قرآن کے عمیق مضامین کو آسان اور عام فہم انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ یہ تفسیر ایک ایسا علمی ورثہ ہے جو ہر طبقے کے افراد کے لیے یکساں طور پر فائدہ مند ہے۔
تفسیر الکوثر میں شیخ الجامعہ نے توکل علی اللہ کی تعلیمات کو نہایت خوبصورتی سے اجاگر کیا ہے۔ اس میں یہ پیغام دیا گیا ہے کہ جو شخص اللہ پر بھروسہ کرتا ہے، اللہ اس کے لیے مشکلات کو آسان اور کامیابی کو مقدر بنا دیتا ہے۔ ان کی اس تفسیر نے قرآن کے پیغام کو معاصر مسائل کے تناظر میں پیش کرنے کی منفرد صلاحیت کا مظاہرہ کیا۔
توکل علی اللہ کی عملی مثالیں
شیخ الجامعہ کی زندگی میں توکل علی اللہ کی کئی عملی مثالیں موجود ہیں جو ایک کامل یقین اور صبر کا مظہر ہیں۔ ایک یادگار واقعہ اس وقت پیش آیا جب آپ نے جامعہ اہل البیت اسلام آباد کی بنیاد رکھی۔ اس وقت وسائل کی شدید کمی کے باوجود، آپ نے اللہ پر مکمل بھروسہ کیا۔ اللہ کی مدد سے نہ صرف ادارہ قائم ہوا بلکہ آج یہ کامیابی کے ساتھ علم و ہدایت کی شمع روشن کیے ہوئے ہے۔
ایک اور اہم واقعہ اس وقت پیش آیا جب آپ کا نام شیڈول فور میں شامل کیا گیا اور آپ کے تمام بینک اکاؤنٹس منجمد کر دیے گئے۔ اس مشکل وقت میں بھی آپ نے اللہ پر کامل یقین رکھا اور صبر و تحمل کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا۔ بالآخر، اللہ کی مدد سے آپ نے اس آزمائش کا سامنا کیا اور کامیابی کے ساتھ اس سے نکلے۔
شیخ الجامعہ کی زندگی کے یہ واقعات توکل علی اللہ کی حقیقی روح کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی تحریک دیتے ہیں۔ آپ کی تعلیمی، فلاحی اور علمی خدمات اللہ پر بھروسے کی بنیاد پر تھیں، جو آنے والی نسلوں کے لیے ایک مشعلِ راہ ہیں۔
تبلیغ دین اور توکل علی اللہ کا تعلق
شیخ الجامعہ نے اپنی زندگی کو دین اسلام کی تبلیغ کے لیے وقف کر رکھا تھا اور اس راہ میں پیش آنے والی بے شمار مشکلات کے باوجود ہمیشہ اللہ کی ذات پر توکل کیا۔ نجف اشرف سے اسلام آباد منتقل ہونے کے بعد آپ نے انتہائی محدود وسائل کے ساتھ اپنے مشن کا آغاز کیا۔ ایک چھوٹی سی جھونپڑی سے درس و تدریس کی ابتدا کی، اور محنت، توکل علی اللہ اور ثابت قدمی سے جامعۃ الکوثر جیسے عظیم تعلیمی ادارے کی بنیاد رکھی۔ آپ نے حالات کے دباؤ اور مشکلات کے سامنے کبھی بھی ہمت نہیں ہاری بلکہ اپنے ہر عمل میں اللہ کی رضا اور بھروسے کو ترجیح دی۔
شیخ الجامعہ کا درس اخلاق: توکل اور ہمت
شیخ الجامعہ طلاب کو اخلاقیات اور زندگی کی رہنمائی دیتے وقت ہمیشہ توکل علی اللہ کو اہمیت دینے پر زور دیتے تھے۔ آپ نے بیان فرمایا کہ اللہ پر بھروسہ انسان کو نہ صرف مشکلات کا سامنا کرنے کی ہمت دیتا ہے بلکہ زندگی کے نشیب و فراز میں استقامت عطا کرتا ہے۔ آپ نے ایک یورپی جوڑے کا واقعہ بیان کیا جو اپنی چھوٹی سی ناکامی پر افسردہ ہو کر خودکشی کر بیٹھا۔ اس واقعہ کے ذریعے آپ نے وضاحت کی کہ اللہ پر توکل نہ رکھنے والا شخص معمولی مسائل کو بھی برداشت نہیں کر سکتا، جبکہ ایک مومن کو ہر حال میں صبر اور اللہ پر بھروسے کا درس دیا گیا ہے۔
زندگی میں توکل علی اللہ کا اثر: شیخ الجامعہ کی تعلیمات
شیخ الجامعہ کی زندگی توکل علی اللہ کے عملی مظاہر سے بھری ہوئی تھی۔ آپ کے اقوال و افعال سے ہمیشہ اللہ کی رضا کی جھلک نظر آتی تھی۔ آپ فرمایا کرتے تھے کہ جو شخص اللہ پر بھروسہ کرتا ہے، وہ کبھی بے یار و مددگار نہیں رہتا۔ اللہ اسے ہر مشکل سے نکالنے کا راستہ پیدا کرتا ہے اور کامیابی کی طرف گامزن کرتا ہے۔ آپ کی ان تعلیمات نے بہت سے افراد کو اللہ پر بھروسے کا شعور دیا اور ان کی زندگیوں میں مثبت تبدیلیاں پیدا کیں۔
توکل علی اللہ: زندگی کی مشکلات پر قابو پانے کی کلید
شیخ الجامعہ کا ماننا تھا کہ توکل علی اللہ زندگی کی مشکلات کو حل کرنے کا سب سے مؤثر طریقہ ہے۔ آپ نے کہا کہ اگر انسان اپنی تدابیر اور کوششوں کو اللہ کے سپرد کر دے، تو وہ ہر قسم کی پریشانی، چاہے وہ مالی ہو یا ذاتی، سے نکل سکتا ہے۔ یہ اصول آپ کی تعلیمات کا بنیادی حصہ تھا۔
توکل علی اللہ اور حسن ظن: ایک کامیاب زندگی کا راز
شیخ الجامعہ ہمیشہ اللہ پر حسن ظن رکھنے کی تلقین کرتے تھے۔ آپ کا کہنا تھا کہ جو شخص اللہ پر اچھا گمان رکھتا ہے اور اس کی رضا میں راضی رہتا ہے، اللہ اس کے لیے مشکلات کو آسان کر دیتا ہے اور کامیابی کے دروازے کھول دیتا ہے۔ آپ کی یہ تعلیمات طلاب اور عوام کی زندگیوں میں نہ صرف سکون کا باعث بنیں بلکہ انہیں کامیابی کی راہ پر گامزن کرنے میں معاون ثابت ہوئیں۔
شیخ الجامعہ کی دعاؤں میں اللہ پر بھروسہ
شیخ الجامعہ حضرت آیۃ اللہ شیخ محسن علی نجفی 7 کی دعائیں اللہ پر کامل بھروسے کا عملی مظہر تھیں۔ آپ ہمیشہ طلاب کو تاکید کرتے کہ اللہ پر توکل کرنے والا انسان کبھی بے سہارا نہیں رہتا۔ آپ فرماتے تھے کہ اللہ پر یقین اور بھروسہ انسان کے لیے ہر مصیبت کا حل اور ہر مشکل کا راستہ ہموار کر دیتا ہے۔ آپ کی دعائیں نہ صرف اللہ سے تعلق کی گہرائی کی عکاس تھیں بلکہ طلاب اور پیروکاروں کے لیے اللہ کی رحمت پر یقین کا پیغام بھی تھیں۔
نتیجہ
شیخ الجامعہ حضرت آیۃ اللہ شیخ محسن علی نجفی 7 کی زندگی ہمارے لیے روشنی کا مینار ہے، جو یہ سبق دیتی ہے کہ اللہ پر توکل انسان کو نہ صرف روحانی سکون عطا کرتا ہے بلکہ دنیا اور آخرت کی کامیابیوں کا ذریعہ بھی بنتا ہے۔ آپ کی حیات اور خدمات ہمیں یہ پیغام دیتی ہیں کہ جب انسان اپنے معاملات اللہ کے سپرد کر کے اس کی رضا میں راضی ہو جاتا ہے، تو دنیا کی کوئی مشکل اس کا راستہ نہیں روک سکتی۔
آپ کی شخصیت اور آپ کے پیغامات آج بھی ہمارے لیے ایک عظیم رہنما ہیں، جو ہمیں سکھاتے ہیں کہ علم، ایمان اور توکل علی اللہ کا امتزاج انسان کو نہ صرف مشکلات سے نکالتا ہے بلکہ کامیابی کی اعلیٰ منازل تک پہنچانے کا ذریعہ بھی بنتا ہے۔ شیخ الجامعہ کی تعلیمات اور خدمات رہتی دنیا تک ہمارے لیے مشعل راہ رہیں گی۔