آیۃ اللہ شیخ محسن علی نجفی7: ایک عہد ساز شخصیت اور معمار قوم
حرفِ آغاز
آیۃ اللہ شیخ محسن علی نجفی نور اللہ مرقدہ ایک ایسی ہمہ جہت اور نابغہ روزگار شخصیت تھے، جنہوں نے اپنی زندگی ملت کی تعمیری فکر، دینی و علمی خدمات اور سماجی فلاح کے لیے وقف کردی۔ وہ نہ صرف ایک عالم دین تھے بلکہ اپنی ذات میں ایک انجمن تھے۔ ان کی خدمات کسی خاص شعبے تک محدود نہیں تھیں بلکہ دینی مدارس، عصری تعلیم، سماجی فلاح و بہبود، علمی تحقیق، اور مساجد و امام بارگاہوں کی تعمیر سے لے کر صحت، پانی کی فراہمی، اور جدید تعلیمی اداروں کے قیام تک ہر میدان میں نمایاں کردار ادا کیا۔
آیۃ اللہ شیخ محسن علی نجفی7 ایک ایسے معمار تھے جنہوں نے ملت اسلامیہ کی فکری اور عملی تعمیر میں انمٹ نقوش چھوڑے۔ وہ علامہ اقبال کے اس قول کی عملی تعبیر تھے:
افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ
قوم کی نظریاتی سرحدوں کا تحفظ
شیخ محسن علی نجفی نور اللہ مرقدہ کی خدمات میں ملت کی نظریاتی سرحدوں کا تحفظ ایک بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے متعدد علمی، فکری اور تربیتی سرگرمیوں کا آغاز کیا، جو ملت جعفریہ کی فکری و نظریاتی بنیادوں کو مضبوط کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔
بشارتِ عظمیٰ کانفرنسز
آیۃ اللہ شیخ محسن علی نجفی7 نے ملک بھر میں ”بشارت عظمیٰ کانفرنسز“ کا انعقاد کیا، جن کا مقصد ملت کے افراد میں، عقیدہ توحید کی ترویج، کفر وشرک کے سد باب، عقیدہ نبوت کے حقیقی مفہوم کی وضاحت اور ولایتِ اہل بیت Dکے عقیدے کو تقویت دینا تھا۔ یہ کانفرنسز نہ صرف فکری و نظریاتی پہلوؤں پر روشنی ڈالتی تھیں بلکہ ملت کے اتحاد و اتفاق کو بھی فروغ دیتی تھیں۔
اتحادِ امت کے لیے سیمینارز
شیخ صاحب نے اتحادِ امت کے فروغ کو بھی اپنی اولین ترجیحات میں شامل رکھا۔ اس سلسلے میں انہوں نے مختلف مکاتب فکر کے علماء و دانشوروں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنے کے لیے متعدد سیمینارز کا انعقاد کیا۔ ان پروگرامز کا مقصد مختلف اسلامی مکاتب فکر کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنا اور بین المسالک اختلافات کو کم کرنا تھا۔
تربیتِ واعظین
آیۃ اللہ شیخ محسن علی نجفی7 نے واعظین اور خطباء کی علمی و فکری تربیت کے لیے پاکستان اور نجف اشرف میں خصوصی ادارے قائم کیے۔ ان اداروں کے ذریعے ایام عزا، رمضان المبارک اور دیگر اہم مواقع پر واعظین کو تربیتی ورکشاپس کے ذریعے علمی مواد، خطابت کی تکنیک، اور دینی مفاہیم کی وضاحت کے لیے تیار کیا جاتا تھا۔
خطبہ جمعہ کا نیٹ ورک
آیۃ اللہ شیخ محسن علی نجفی7 نے ملت کی نظریاتی سرحدوں کے تحفظ اور عوام تک دینی تعلیمات پہنچانے کے لیے ایک جامع اور منظم نظام کا آغاز کیا۔ اس نظام کے تحت فقہ جعفریہ سے تعلق رکھنے والے علماء کرام، جو مساجد میں تبلیغ دین کی خدمات انجام دیتے ہیں، کو خطبات جمعہ مکتوب شکل میں فراہم کیے جانے لگے۔ یہ سلسلہ آج تک جاری و ساری ہے اور اس کے ذریعے مختلف شہروں اور دیہی علاقوں میں امام جمعہ کو معیاری اور مستند مواد فراہم کیا جاتا ہے۔
اس اقدام نے نہ صرف خطبہ جمعہ کی معیاری اور موثر فراہمی کو یقینی بنایا بلکہ عوام میں اسلامی تعلیمات، قرآن و سنت کی روشنی، اور اہل بیت Dکے پیغام کو عام کرنے میں بھی کلیدی کردار ادا کیا۔ یہ عمل ملت کے فکری اور نظریاتی استحکام کے لیے ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔
سفیرانِ ہدایت: علماء کی معاونت
شیخ صاحب نے ”سفیرانِ ہدایت“کے تحت علماء کی مالی، علمی اور فکری معاونت کا ایک منظم نظام قائم کیا۔ اس پروگرام کے ذریعے علماء کو علمی مواد، تحقیقی کاموں کے لیے معاونت، اور مالی سپورٹ فراہم کی گئی تاکہ وہ ملت کے لیے اپنی خدمات کو بہتر طریقے سے انجام دے سکیں۔
رمضان اور ایامِ عزا میں خصوصی تربیت
رمضان المبارک اور ایامِ عزا کے مواقع پر آیۃ اللہ شیخ محسن علی نجفی7 نے واعظین اور مبلغین کے لیے خصوصی تربیتی ورکشاپس کا انعقاد کیا، جن میں انہیں خطاب، خطابت اور جدید مسائل کے حل کے لیے رہنمائی فراہم کی جاتی تھی۔
فکری محاذ کی حفاظت
شیخ صاحب کی یہ تمام سرگرمیاں ایک جامع حکمت عملی کا حصہ تھیں، جس کا مقصد ملت کی فکری بنیادوں کو مستحکم کرنا، نوجوانوں کو گمراہی سے بچانا، اور اہل بیت Dکی تعلیمات کی روشنی میں ایک مضبوط، خودمختار اور باعلم معاشرہ تشکیل دینا تھا۔
آیۃ اللہ شیخ محسن علی نجفی7 کی یہ خدمات ملت جعفریہ کے فکری تحفظ اور اتحادِ امت کے فروغ کے لیے ہمیشہ مشعل راہ رہیں گی۔ ان کی بصیرت اور محنت کی بدولت ملت کی نظریاتی سرحدیں مضبوط بنیادوں پر استوار ہوئیں۔
مدارسِ دینیہ کا قیام
1974 میں جامعہ اہل بیت اسلام آباد کا قیام شیخ صاحب کے خوابوں کی تعبیر تھی۔ ان کی زیر سرپرستی پاکستان کے مختلف شہروں میں بہت سارے دینی مدارس قائم کیے گئے، جنہوں نے سینکڑوں طلبہ کو دین اور دنیا دونوں میدانوں میں کامیاب بنایا۔
جامعہ الکوثر: عظیم تحفہ برائے قوم و ملت
اسلام آباد میں واقع جامعہ الکوثر ایک ایسا علمی مرکز ہے جہاں طلبہ قرآن و سنت کی تعلیم کے ساتھ ساتھ جدید علوم میں بھی مہارت حاصل کرتے ہیں۔ یہ ادارہ آیۃ اللہ شیخ محسن علی نجفی7 کی بصیرت اور ملت کے لیے ان کی محبت کا عملی نمونہ ہے۔
عصری علوم کے فروغ کے لیے اقدامات
شیخ صاحب نے دینی تعلیم کو عصری علوم کے ساتھ مربوط کیا۔ اس مقصد کے لیے اسوہ سکول سسٹم کا قیام عمل میں لایا گیا، جو کہ آج پاکستان کے 68 شہروں میں موجود ہے۔ ان سکولز میں دینی تعلیم کے ساتھ جدید سائنسی و ٹیکنالوجیکل تعلیم فراہم کی جا رہی ہے۔
اسوہ ایجوکیشن سسٹم
پاکستان میں اسوہ سکول سسٹم کے تحت جدید تعلیم کا آغاز ان کا ایک تاریخی کارنامہ ہے۔ اس سکول سسٹم کے ذریعے ملت کے نوجوانوں کو جدید علوم کے زیور سے آراستہ کیا گیا۔
اسوہ کالج اسلام آباد: ملت کے نوجوانوں کے لیے ایک شاندار علمی اور تربیتی ادارہ
اسوہ کالج اسلام آباد آیۃ اللہ شیخ محسن علی نجفی 7کی علمی و ملی خدمات کا ایک روشن باب ہے۔ یہ ادارہ ان کے اس وژن کا عملی مظہر ہے جس میں نوجوان نسل کو بہترین تعلیم و تربیت فراہم کی جا سکے۔
اسوہ کالج کا قیام اس نیت سے عمل میں لایا گیا کہ قوم کے نوجوانوں کو نہ صرف جدید سائنسی اور عصری علوم میں ماہر بنایا جائے بلکہ ان کے اخلاقی اور دینی پہلوؤں کو بھی سنوارا جائے۔ اس کالج میں طلباء کو دینی تعلیمات اور اہل بیت Dکے افکار سے روشناس کروایا جاتا ہے ۔
اسوہ کالج، یولتر، سکردو
سکردو میں اسوہ کالج کے قیام نے علاقے کے طلبہ کے لیے جدید تعلیم کے دروازے کھول دیے۔ یہاں کے فارغ التحصیل طلبہ آج مختلف میدانوں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہے ہیں۔
پاک پولی ٹیکنیک کالج، چنیوٹ:
اس کالج نے ٹیکنیکل ایجوکیشن کے شعبے میں نمایاں کردار ادا کیا اور ملت کے نوجوانوں کو معاشی طور پر خودمختار بنایا۔
اس کے علاوہ ملک کے طول و عرض میں دیگر دسیوں تعلیمی ادارے جو بلا تفریق قوم و مذہب تمام نسل نو کے لیے یکساں معیاری تعلیم فراہم کر رہے ہیں۔ جن سے اب تک ہزاروں طلباء فارغ ہوکر ملک و قوم کی خدمت میں مصروف عمل ہیں اور ہزاروں مصروف حصولِ علم ہیں۔
علمی و تحقیقی خدمات
آیۃ اللہ شیخ محسن علی نجفی7 کی علمی خدمات بھی بے مثال ہیں۔ ان کی تصانیف اور علمی کام آج بھی طلبہ و علماء کے لیے مشعل راہ ہیں۔
مشہور تصانیف
الکوثر فی تفسیر القرآن: قرآن پاک کی 10 جلدوں پر مشتمل یہ تفسیر ان کے علمی کارناموں میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔
ترجمہ قرآن مجید: ان کا ترجمہ قرآن پاک نہایت مقبول ہوا اور کئی ایڈیشنز میں شائع ہو چکا ہے۔
فلسفہ نماز: اس کتاب نے عبادات کے فلسفیانہ پہلوؤں کو اجاگر کیا۔
محنت کا اسلامی تصور: اس کتاب نے اسلامی تعلیمات میں محنت کی اہمیت کو بیان کیا۔
شرح و ترجمہ خطبہ جناب زہرا علیہا السلام: یہ کتاب اہل بیت Dکے خطبات کے پیغام کو عام کرنے کی ایک کوشش تھی۔
”النہج السوی فی معنی المولٰی و الولی“ یہ کتاب اسلامی عقائد کے اہم ترین موضوع، ”مولیٰ“ اور ”ولی“ کے مفہوم پر روشنی ڈالتی ہے۔ یہ کتاب محققین کے لیے ایک اہم ماخذ ہے۔
علی امام بنص ذاتہ و خصائص صفاتہ
یہ کتاب امام علیG کی امامت اور ان کے ذاتی اوصاف و فضائل پر ایک گہری تحقیق ہے۔ مصنف نے امیر المؤمنینG کی امامت کو نصوص قرآنی، احادیث نبوی، اور تاریخی شواہد کی روشنی میں ثابت کیا ہے۔ اس کے علاوہ، امام علیG کی منفرد صفات، جیسے ان کا علم، شجاعت، تقویٰ، اور عدل و انصاف، کو بھی تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ یہ کتاب عقیدتی تحقیق کا ایک اہم شاہکار ہے، جو امام علیG کی شخصیت اور مقام کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔ اس کے علاوہ بہت ساری کتابیں آپ کی تحقیقی اور علمی صلاحیتوں کا عملی ثبوت ہیں۔
سماجی و رفاہی خدمات
آیۃ اللہ شیخ محسن علی نجفی7 نے سماجی فلاح و بہبود کے میدان میں بھی شاندار کارنامے انجام دیے۔ انہوں نے غریبوں اور نادار افراد کی مدد کے لیے متعدد منصوبے شروع کیے، جن میں رہائشی اسکیمیں، صحت عامہ کے مراکز، اور پانی کی فراہمی کے منصوبے شامل ہیں۔
مدینہ اہل بیت رہائشی اسکیم
سکردو میں مدینہ اہل بیت رہائشی اسکیم ایک ایسا منصوبہ ہے جس نے ہزاروں غریب مومنین کو چھت فراہم کی۔ یہ منصوبہ ان کی غریب پروری اور انسانیت سے محبت کی واضح مثال ہے۔
صحت عامہ کے شعبے میں خدمات
عبداللہ ہسپتال، سکردو ان کی صحت کے میدان میں خدمات کا ایک نمایاں نمونہ ہے۔ اس کے علاوہ کوثر ریلیف کے تحت صحت عامہ اور دیگر رفاہی کاموں میں ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔
پانی کی فراہمی
پاکستان کے مختلف دیہی علاقوں میں صاف پانی کی کمی کو محسوس کرتے ہوئے شیخ صاحب نے واٹر سپلائی اسکیمز کا آغاز کیا، جس سے ہزاروں خاندان مستفید ہوئے۔
حرفِ آخر
آیۃ اللہ شیخ محسن علی نجفی7 کی خدمات کو الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے۔ وہ ایک ایسے معمار تھے جنہوں نے ملت جعفریہ کو فکری، تعلیمی، اور سماجی لحاظ سے ترقی کی راہوں پر گامزن کیا۔ ان کے قائم کردہ ادارے اور ان کی علمی و عملی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ آیۃ اللہ شیخ محسن علی نجفی7 کو جنت میں بلند مقام عطا فرمائے اور ہمیں ان کے مشن کو جاری رکھنے کی توفیق دے۔
آمین بحق محمد و آل محمد۔