پاکستان میں فروغ ِ امن کے لیے شیخ محسن علی نجفی7 کے عملی اقدامات
امن و امان کی اہمیت
کسی بھی ملک کی ترقی، خوشحالی اور استحکام امن و امان کے بغیر ممکن نہیں۔ امن کسی بھی ریاست کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، اور اس کے بغیر ترقی کی راہیں مسدود ہو جاتی ہیں۔ دوسری طرف، امن و امان کو یقینی بنانے میں علماء دین اور مذہبی طبقے کا کردار انتہائی اہم ہے۔ اگر یہی طبقہ معاشرے میں انارکی، شدت پسندی، انتہا پسندی، اور دہشت گردی کو فروغ دینے لگے تو وہ معاشرہ جہنم بن جاتا ہے، اور عوام نفسیاتی الجھنوں اور عدم تحفظ کا شکار ہو جاتے ہیں۔
شیخ محسن علی نجفی7 کا نظریہ امن
شیخ محسن علی نجفی7 اس حقیقت کو بطریق احسن سمجھتے تھے کہ ایک پُر امن معاشرہ ہی ترقی کی بنیاد رکھتا ہے۔ اسی لیے انہوں نے اپنی زندگی کے ہر مرحلے پر فرقہ واریت کے خاتمے اور مذہبی رواداری کے فروغ کے لیے عملی اقدامات کیے۔ نجف اشرف، عراق سے واپسی کے بعد سے لے کر اپنی وفات تک، انہوں نے وحدت ملی اور مذہبی ہم آہنگی کو اپنی زندگی کا نصب العین بنایا۔ ان کی کوششوں کا مقصد اسلامی مکاتبِ فکر کے درمیان محبت اور بھائی چارے کو فروغ دینا تھا۔
فرقہ واریت کے خلاف مؤقف
شیخ محسن علی نجفی7 نے ہمیشہ فرقہ واریت کے خاتمے کو اپنی بنیادی ترجیحات میں شامل رکھا۔ ان کا مؤقف واضح اور دو ٹوک تھا کہ صرف دو گروہوں سے اتحاد نہیں کر سکتے:
تکفیری اور ناصبی گروہ جو اہلبیت اطہارD اور پیروکارانِ اہلبیتD سے دشمنی رکھتا ہے اور دوسرے مسلمانوں کو کافر قرار دیتا ہے ۔
مشرک غالی گروہ جو دین اسلام کے اصولوں کو توڑ مروڑ کر غیر اسلامی عقائد کو فروغ دیتے ہیں۔
ان دو انتہا پسند گروہوں کے علاوہ، شیخ محسن علی نجفی7 نے ہمیشہ تمام اسلامی مکاتب فکر کے درمیان امن، اتحاد، اور ہم آہنگی کو فروغ دیا۔ ان کا نظریہ تھا کہ مسلمانوں کے درمیان اختلافات کو دور کرکے مشترکہ عقائد اور اصولوں پر اتفاق پیدا کیا جا سکتا ہے۔
عملی اقدامات
شیخ محسن علی نجفی7 کے عملی اقدامات اس بات کا ثبوت ہیں کہ وہ مذہبی رواداری کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہے۔ ان کے اقدامات درج ذیل ہیں:
علماء کے ساتھ مکالمے کا انعقاد:
انہوں نے مختلف اسلامی مکاتب فکر کے علماء کے ساتھ با قاعدگی سے مکالمے منعقد کیے۔ ان نشستوں کا مقصد ایک دوسرے کے نظریات کو سمجھنا اور اختلافات کو گفت و شنید کے ذریعے ختم کرنا تھا۔
تکفیریت اور غلو کے خلاف علمی کام:
شیخ محسن علی نجفی7 نے تکفیری نظریات اور غلو کے خلاف علمی سطح پر کام کیا۔ انہوں نے لوگوں کو قرآن و سنت کی روشنی میں ان انتہا پسند نظریات کے خطرات سے آگاہ کیا۔
تعلیمی اداروں میں رواداری کی تعلیم:
انہوں نے اپنے قائم کردہ تعلیمی اداروں میں ایسے نصاب اور تربیتی پروگرام متعارف کروائے جن میں مذہبی رواداری، اخلاقیات اور بھائی چارے کو بنیادی اہمیت دی گئی۔
میدانِ عمل میں بھائی چارے کی مثال:
مختلف مواقع پر انہوں نے عملی طور پر مسلمانوں کے درمیان بھائی چارے کی مثال قائم کی۔ شیخ محسن علی نجفی7 نہ صرف شیعہ سنی اختلافات کو ختم کرنے کی کوشش کرتے رہے بلکہ انہوں نے دیگر اسلامی مکاتبِ فکر کو بھی قریب لانے کے لیے کام کیا۔
وحدت امت کانفرنسوں کا انعقاد:
شیخ محسن علی نجفی7 کی حیات مبارکہ میں جب بھی کوئی اہم قومی یا مذہبی تقریب منعقد ہوتی، آپ ہمیشہ اس بات کا خاص خیال رکھتے کہ مختلف مکاتب فکر کے جید علماء اور قائدین کو مدعو کیا جائے۔ ان کانفرنسوں اور اجلاسوں میں تمام مکاتب فکر کے علماء اور مذہبی قائدین نہایت احترام کے ساتھ شریک ہوتے اور اتحاد بین المسلمین کا عملی مظاہرہ کرتے۔
آپ کی میزبانی میں ملی یکجہتی کونسل اور متحدہ مجلس عمل کے کئی اہم پروگرامز جامعہ الکوثر کے المصطفیٰ آڈیٹوریم میں منعقد ہوئے۔ ان اجتماعات میں علماء کرام نے اسلام کے پیغام امن و محبت اور اتحاد امت کو عام کرنے کے لیے اپنی کاوشیں پیش کیں۔ ان کانفرنسوں کا مقصد اختلافات کو کم کرکے مشترکہ مسائل پر توجہ مرکوز کرنا تھا، اور یوں آپ نے انتہا پسندی اور فرقہ واریت کے خاتمے میں ایک اہم کردار ادا کیا۔
اتحاد امت اور مشترکات پر مبنی لٹریچر کی نشر و اشاعت:
شیخ محسن علی نجفی7 کے قائم کردہ ادارے بلاغ المبین نے اتحاد امت کے فروغ کے لیے ایک اہم کردار ادا کیا۔ اس ادارے کی جانب سے ایسی کتب اور رسائل شائع کیے گئے جن میں مسلمانوں کے درمیان باہمی محبت، رواداری، اور مشترکہ اصولوں کو اجاگر کیا گیا۔ ان کتب کو مختلف مکاتب فکر کے علماء تک پہنچایا جاتا تھا تاکہ غلط فہمیوں کو دور کیا جا سکے اور ایک دوسرے کو بہتر طور پر سمجھا جا سکے۔
حضرت آیت اللہ محسنی7 کی کتاب ”اتحاد امت“ اور دیگر تقابلی جائزوں پر مشتمل کتب کی اشاعت اس بات کا ثبوت ہیں کہ شیخ محسن علی نجفی7 نے ہمیشہ علمی بنیادوں پر امت مسلمہ میں اتحاد پیدا کرنے کی کوشش کی۔ یہ اقدامات اس ملک پاکستان کو امن و آشتی کا گہوارہ بنانے کی عملی کوششیں تھیں۔
ہادی ٹی وی کے ذریعے اتحاد کا فروغ:
شیخ محسن علی نجفی7 نے ہادی ٹی وی کے ذریعے بھی اتحاد امت کے پیغام کو عام کرنے کا بیڑا اٹھایا۔ ہادی ٹی وی کے اسلام آباد مرکز سے نشر ہونے والے پروگرامز کے لیے آپ نے ایک اہم اصول وضع کیا کہ کوئی بھی ایسا مواد نشر نہ کیا جائے جو مسلمانوں کے درمیان اختلاف، انتشار، یا منافرت کا سبب بنے۔
آپ اس بات پر زور دیتے کہ اختلافی باتوں کو فروغ دینے کی بجائے ان موضوعات کو اجاگر کیا جائے جو محبت، بھائی چارے اور امن کے فروغ کا باعث بنیں۔ یہ عمل اس بات کی دلیل ہے کہ آپ اپنے ملک کی بقا اور استحکام کو کس قدر اہمیت دیتے تھے اور کسی بھی انتشار پھیلانے والے عمل کے سخت مخالف تھے۔
طلباء کی تربیت وحدت و اتفاق کے اصولوں پر:
شیخ محسن علی نجفی7 نے طلباء کی فکری اور روحانی تربیت کو ہمیشہ اپنی ترجیحات میں شامل رکھا۔ آپ ہمیشہ طلباء کو تاکید کرتے کہ وہ امن اور بقا کا پیغام دینے والے بنیں اور اختلاف و انتشار پھیلانے والوں کا حصہ نہ بنیں۔
آپ فرمایا کرتے:
”علم روشنی ہے، اور روشنی کا مقصد محبت، امن، اور رواداری کو فروغ دینا ہے، نہ کہ نفرت، دہشت، اور منافرت کے اندھیروں کو بڑھانا۔“
آپ افسوس کا اظہار کرتے کہ دین اسلام، جو سلامتی اور محبت کا پیغام ہے، اس کو دنیا میں غلط انداز سے پیش کیا گیا۔ آپ کہا کرتے کہ داعش، القاعدہ، لشکر جھنگوی اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کی شکل میں اسلام کو دنیا کے سامنے ایک دہشت گرد مذہب کے طور پر پیش کیا گیا، جو کہ اسلام کے اصل پیغام کے بالکل برعکس ہے۔
آپ طلباء کو نصیحت کرتے کہ اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر اسلام کے اصل پیغام کو دنیا تک پہنچائیں اور اس دین کی اصل تعلیمات کو اجاگر کریں تاکہ مغرب اور دیگر اقوام اسلام کو ایک امن دوست مذہب کے طور پر جان سکیں۔