شیخ محسن علی نجفی7: عشقِ اہل بیتD کا عملی نمونہ
شیخ محسن علی نجفی 7 کی زندگی عشقِ اہل بیتD سے لبریز تھی۔ ان کا یہ عشق صرف ایک جذباتی وابستگی تک محدود نہ تھا، بلکہ ان کی حیاتِ طیبہ میں یہ واضح نظر آتا ہے کہ اہل بیتD کی محبت ان کے ہر قول و فعل میں جھلکتی تھی۔
عشقِ اہل بیتD کی ترویج
شیخ محسن علی نجفی 7 نے نہ صرف اپنے لیے اہل بیتD کی محبت کو زندگی کا مقصد بنایا، بلکہ دوسروں کو بھی اس راہ پر گامزن کرنے کے لیے بھرپور کوشش کی۔ ان کی مختلف دینی و سماجی خدمات اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہیں:
عشقِ اہل بیتD کی روشن دلیلیں:
جامعہ اہلبیتD:
شیخ محسن علی نجفی 7 کی زندگی میں عشقِ اہل بیتD کی سب سے بڑی اور روشن دلیل ان کی جانب سے قائم کردہ عظیم درسگاہیں جامعہ اہلبیتD اسلام آباد،کلیۃ اہل البیت D چنیوٹ، مرکز اہل بیت D مانسہرہ ہیں جنہیں آپ نے اہل بیت اطہارD کے مبارک نام سے منسوب کیا۔ شیخ صاحب کا یہ اقدام اس بات کا غماز ہے کہ ان کے نزدیک اہل بیتD محض مذہبی شخصیات نہیں بلکہ حقیقی سرمایۂ حیات ہیں۔ انہوں نے دنیاوی نام و نمود کو پسِ پشت ڈالتے ہوئے یہ درسگاہ اہل بیتD کے نام سے منسوب کی تاکہ ان مقدس ہستیوں کا فیض ہمیشہ باقی رہے اور ان کا نام و پیغام لوگوں تک پہنچتا رہے۔ یہ صرف ایک ادارہ نہیں بلکہ شیخ صاحب کے دل میں بسنے والے عشقِ اہل بیتD کا عملی مظہر ہے، جو ان کی زندگی بھر کے فیصلوں اور خدمات میں نظر آتا ہے۔
آج کے دور میں، جہاں اکثر تعلیمی ادارے یا سماجی خدمات کے مراکز ان افراد یا اداروں کے نام سے منسوب کیے جاتے ہیں جنہوں نے مالی تعاون فراہم کیا ہوتا ہے، شیخ محسن علی نجفی7 نے دنیاوی مفادات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اہل بیتD کو اپنے کاموں کا مرکز اور محور بنایا۔ یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ شیخ صاحب نے مادی وسائل کو نہیں بلکہ اہل بیتD کی محبت اور ان کی خدمت کو اپنی زندگی کا حقیقی سرمایہ سمجھا۔
شیخ صاحب کی یہ سوچ اور عمل ان تمام افراد کے لیے ایک مثال ہے جو مادی دنیا کے عارضی تعلقات میں الجھے ہوئے ہیں۔ شیخ محسن علی نجفی7 نے ثابت کیا کہ اگر کوئی شخص اہل بیتD کے ساتھ حقیقی محبت رکھتا ہے تو وہ اپنی زندگی کے ہر گوشے کو انہی مقدس ہستیوں کے نام اور پیغام سے منور کر دیتا ہے۔ ان کا یہ ادارہ محض ایک علمی درسگاہ نہیں، بلکہ عشقِ اہل بیتD کا ایک ایسا مینارِ نور ہے جو قیامت تک علم و ہدایت کی روشنی پھیلاتا رہے گا۔
مدارس اہل بیتD: عشقِ آل محمدD کی ترویج کا عملی اظہار
شیخ محسن علی نجفی 7 نے علوم آل محمدD کی ترویج اور تبلیغ کے لیے برصغیر میں ایک مضبوط تعلیمی نیٹ ورک قائم کیا، جسے ”مدارسِ اہل بیتD“ کے نام سے منسوب کیا گیا۔ اس نیٹ ورک میں 29 سے زیادہ مدارس شامل ہیں جو مختلف شہروں میں تعلیماتِ محمد و آل محمدD کی روشنی پھیلانے کا فریضہ انجام دے رہے ہیں۔ یہ سب شیخ صاحب کے عشقِ اہل بیتD کا عملی ثبوت ہیں، جنہیں انہوں نے اپنے ابتدائی تعلیمی ادارے ”جامعہ اہل بیتD“ سے شروع کیا اور پھر اس مقدس مقصد کو پورے خطے میں پھیلایا۔
نام گزاری کی اہمیت: عشق کی علامت
شیخ محسن علی نجفی7 نے اپنے تعلیمی اداروں کے نام اہل بیتD کے مبارک ناموں سے منسوب کیے، جو صرف ایک روایتی عمل نہیں تھا بلکہ اہل بیتD سے ان کی گہری محبت اور والہانہ عقیدت کی علامت تھی۔ ناموں کی یہ اہمیت ہمیں تاریخ اسلام میں بھی نظر آتی ہے، جب دشمنانِ اہل بیتD نے علیG کے نام کو مٹانے کی کوشش کی۔ لیکن آل محمدD کے محبان نے اس دشمنی کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنے بچوں کے نام ”علی“ رکھنا اپنے لیے باعث عزت اور فرض سمجھا۔ نام گزاری کی اہمیت ائمہ اطہار Dکی نگاہ میں بہت زیادہ تھی، اس کا ایک شاہد یہ واقعۂ ہے کہ کربلا کے بعد، جب اہل بیتD کو قید کر کے کوفہ کے دربار میں ابن زیاد کے سامنے لایا گیا، تو اس وقت امام زین العابدینG شدید بیمار تھے اور زندہ بچ جانے والے چند افراد میں شامل تھے۔ دربار میں ابن زیاد نے امام سے ان کا نام پوچھا۔ امامG نے نہایت وقار کے ساتھ فرمایا:
”میرا نام علی ہے۔“
ابن زیاد نے طنزیہ انداز میں کہا، ”کیا علی کو کربلا میں قتل نہیں کر دیا گیا؟“
امام زین العابدینG نے جواب دیا، ”ہاں، میرے بھائی علی اکبر کو کربلا میں شہید کیا گیا، لیکن میں بھی علی ہوں۔“
ابن زیاد نے غصے میں کہا، ”تمہارے والد نے اپنے تمام بیٹوں کا نام علی کیوں رکھا؟“
اس پر امام زین العابدینG نے نہایت عزم اور فخر کے ساتھ فرمایا:
”میرے والد امام حسینG فرماتے تھے کہ اگر میرے سو بیٹے بھی ہوتے تو میں سب کا نام علی رکھتا۔“
عشقِ اہل بیتD کی دائمی علامت
شیخ محسن علی نجفی7 نے اپنے عشقِ اہل بیتD کو صرف ایک ذاتی تعلق تک محدود نہیں رکھا، بلکہ اس محبت کو عملی شکل دی اور علم کی دنیا میں پھیلایا۔ ”مدارس اہل بیتD“ کا قیام اور ان کا مقدس نام دراصل ان کی زندگی کا وہ پیغام ہے جو آنے والی نسلوں تک پہنچتا رہے گا۔ یہ نام گزاری اہل بیتD کی محبت کا ایک روشن استعارہ ہے جو زمانے کی تلخیوں اور مخالفین کی سازشوں کے باوجود زندہ رہے گا، اور تعلیماتِ محمد و آل محمدD کی روشنی پھیلانے کا ذریعہ بنے گا۔
شیخ محسن علی نجفی7 نے اپنی زندگی کے اس اہم کام کے ذریعے یہ ثابت کیا کہ عشقِ اہل بیتD محض ایک نظریہ نہیں بلکہ ایک عملی راہ ہے، جس پر چلتے ہوئے انسان دنیا و آخرت میں کامیابی حاصل کر سکتا ہے۔
عشقِ نبی اور آلِ نبی: ایک لازوال محبت کی گواہی
شیخ صاحب کی شخصیت عشقِ نبی ] اور آلِ نبی کی گہری محبت کی عملی مثال ہے۔ یہ محبت نہ صرف ان کے دینی اداروں کے قیام میں جھلکتی ہے بلکہ ان کی عصری تعلیم کے نظام میں بھی نمایاں نظر آتی ہے۔ شیخ صاحب نے جہاں اپنے مذہبی مدارس کا نام ”مدارسِ اہل بیت“ رکھا، وہیں عصری تعلیم کے نیٹ ورک کا نام ‘‘اسوہ’’ رکھا، جو در حقیقت اسوۂ رسول اکرم ] کی نمائندگی کرتا ہے۔
اسوہ کا انتخاب: عشقِ نبی کی علامت
عصری تعلیمی ادارے قائم کرتے وقت شیخ صاحب نے نام کے انتخاب میں جس بصیرت کا مظاہرہ کیا، وہ ان کی محبتِ رسول ] کا عکاس ہے۔ آج کل کے مادی دور میں، اکثر لوگ تعلیمی اداروں کے نام مغربی فکری رجحانات کی بنیاد پر رکھتے ہیں تاکہ خود کو فکری اعتبار سے وسیع اور جدیدیت پسند ثابت کر سکیں۔ تاہم، شیخ صاحب نے اس رجحان کے برعکس عشقِ نبی ] میں اپنی درسگاہوں کو اسوۂ رسول اکرم ] کے ساتھ جوڑا۔ یہ نہ صرف ان کی دینی بصیرت کا مظہر ہے بلکہ ان کی اس سوچ کا بھی غماز ہے کہ اصل کامیابی اور فکری انقلابیّت سیرتِ رسول ] کی پیروی میں ہے، نہ کہ مغربی فلاسفروں کی تقلید میں۔
”اسوہ“ کا نام ایک ایسی تعلیمی تحریک کی بنیاد ہے جو نبی کریم ] کی سیرت سے رہنمائی حاصل کرتے ہوئے مستقبل کی نسلوں کو اسلامی تشخص اور علم کی روشنی فراہم کر رہی ہے۔ اور ساتھ ساتھ نبی کریم ] کی سیرت طیبہ کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
کتابوں اور رسائل کی اشاعت: تعلیمات آلِ محمدD کو عام کرنے کے لیے انہوں نے مختلف کتابیں اور رسائل شائع کیے، جن میں ”صحیفہ سجادیہ“ اور ”دو مکاتب فکر کاتقابلی جائزے“ دوستی اہلبیتD کی نگاہ میں جیسی دیگر کتابیں شائع کیں۔
نتیجہ
مختصراً، شیخ محسن علی نجفی 7 نے اپنی پوری زندگی کو عشقِ اہل بیتD سے منور رکھا، اور اپنے عملی نمونے اور دینی خدمات کے ذریعے دوسروں کو بھی اس راہ پر گامزن کیا۔ ان کی زندگی اور خدمات آج بھی ہر اُس شخص کے لیے مشعلِ راہ ہیں جو دینِ محمد] و آلِ محمدD کی خدمت کا عزم رکھتا ہے۔