اوصاف و کمالات

آیۃ اللہ شیخ محسن علی نجفی7: قائدانہ صلاحیتوں اور مثالی کردار کے حامل عظیم رہنما

مقدمہ

شیخ محسن علی نجفی7 صرف مرجعیتِ علیا کے وکیلِ مطلق اور مفسرِ قرآن ہی نہیں تھے، بلکہ بے مثال قائدانہ صلاحیتوں کے حامل ایک عظیم رہنما بھی تھے۔ وہ ان نایاب شخصیات میں شامل تھے جنہوں نے اپنی ذات سے بالاتر ہو کر معاشرے کے محروم اور پسے ہوئے طبقے کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات بنایا۔ ان کی زندگی کا ہر لمحہ دوسروں کی بھلائی کے لیے وقف تھا۔ اپنی مشکلات کو پسِ پشت ڈال کر دوسروں کی پریشانیوں کا حل نکالنا ان کا شعار تھا۔

وہ مایوس دلوں میں امید کی شمع روشن کرتے، بے حوصلہ افراد کو ہمت دلاتے اور سست و کاہل لوگوں میں جدوجہد کا جذبہ پیدا کرتے تھے۔ مشکلات کا سامنا استقامت اور صبر سے کرتے اور دوسروں کو بھی یہی سبق دیتے۔ ان کے نزدیک مسائل ترقی کی راہ میں رکاوٹ نہیں، بلکہ ترقی کی بنیاد تھے۔

ہم یہاں ان کی شخصیت کی چند نمایاں قائدانہ خصوصیات پر روشنی ڈالیں گے۔

خود آگاہی: قیادت کی بنیاد

شیخ محسن علی نجفی7 ان عظیم علما اور رہنماؤں میں سے تھے جو خود آگاہی کی اعلیٰ مثال تھے۔ وہ اپنی رائے مسلط کرنے کے بجائے ہمیشہ متعلقہ شعبے کے ماہرین سے مشورہ لیتے اور پھر اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے فیصلے کرتے۔ خود آگاہی کا مطلب اپنی شخصیت، رویوں، جذبات اور کمزوریوں کی گہری سمجھ بوجھ رکھنا ہے، جو قیادت کے لیے ایک لازمی صفت ہے۔

ایک کامیاب رہنما وہی ہوتا ہے جو اپنی خوبیوں اور خامیوں کو پہچانتا ہو اور یہ بھی جانتا ہو کہ دوسروں کی نظر میں اس کا کردار کیسا ہے۔ گھر ہو یا کام کی جگہ، وہ اپنے طرزِ عمل سے دوسروں پر مثبت اثر ڈالتا ہے۔

احترام: قیادت کا لازمی جوہر

قائدانہ صلاحیت اور کردار رکھنے والے افراد کی ایک اہم خوبی مسلسل اور حقیقی احترام کا مظاہرہ ہے۔ احترام اختلافات اور تناؤ کو کم کرنے، اعتماد کو فروغ دینے اور تعلقات کو مضبوط بنانے کا ذریعہ بنتا ہے۔ یہ اقدار تنوع، مساوات اور شمولیت کی بنیاد رکھتی ہیں، اور ایک مثالی قیادت کے لیے ضروری ہیں۔

شیخ محسن علی نجفی7 کا طرزِ عمل اس وصف کی عملی تصویر تھا۔ وہ ہر فرد کی عزت و تکریم کے قائل تھے، چاہے وہ ان کے ہم عمر علماء ہوں، شاگرد ہوں یا عام افراد۔ ملاقات کے لیے آنے والوں کا نہ صرف اٹھ کر استقبال کرتے بلکہ الوداع کرتے وقت دروازے تک چھوڑنے جاتے اور دعاؤں کے ساتھ رخصت کرتے۔ ان کے لیے ہر شخص محترم تھا، اور یہی رویہ ان کی شخصیت کو دلوں میں زندہ رکھنے کا ذریعہ بنا۔

وہ چھوٹے طلبا کو محبت سے ”آغا“ کہہ کر بلاتے اور بڑی عمر کے افراد کے ساتھ بھی انتہائی احترام سے پیش آتے۔ ان کی شخصیت اس بات کی روشن مثال تھی کہ احترام کسی منصب یا مقام کی محتاج نہیں بلکہ خلوص اور عاجزی کا مظہر ہے۔

بدقسمتی سے آج ایسے افراد بھی موجود ہیں جو معمولی مقام ملنے پر خود کو دوسروں سے برتر سمجھتے ہیں اور اپنے ماتحتوں کی تحقیر کو اپنا حق جانتے ہیں۔ وہ نہ کسی کی تعریف کرتے ہیں، نہ حوصلہ افزائی، بلکہ معمولی غلطیوں پر سخت رویہ اپناتے ہیں۔

شیخ صاحب7 ان تمام منفی صفات سے پاک تھے۔ وہ دوسروں کی اچھائیوں کو کھل کر سراہتے اور ان کی غیر موجودگی میں بھی ان کی تعریف کرتے۔ حتیٰ کہ اچھا کام کرنے والوں کے اہلِ خانہ اور جاننے والوں کے سامنے بھی ان کی تعریف کرتے، جس سے ان کی عزت اور مقام مزید بلند ہو جاتا۔

یہی احترام اور حوصلہ افزائی کا جذبہ تھا جس نے ان کی قیادت کو منفرد اور ناقابلِ فراموش بنایا۔ کاش ایسے عظیم علما ہمیشہ زندہ رہتے تاکہ ان کی رہنمائی میں کام کرنے کا شرف بھی حاصل ہوتا۔

ہمدردی اور عملی اقدامات: شیخ محسن علی نجفی7 کی قیادت کا ایک روشن پہلو

ہمدردی محض زبانی اظہار یا مسائل سننے تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک فعال رویے اور عملی اقدامات کا تقاضا کرتی ہے۔ جب کوئی شخص اپنے مسائل بیان کرتا ہے تو وہ تب ہی مطمئن ہوتا ہے جب رہنما ان مسائل کو سنجیدگی سے لے کر عملی قدم اٹھائے۔ اس طرح کی ہمدرد قیادت اعتماد، تعاون، اور تنظیم میں افرادی قوت کے استحکام کا باعث بنتی ہے۔

شیخ محسن علی نجفی7 کی شخصیت میں ہمدردی کا یہ وصف نمایاں تھا۔ آپ نہ صرف لوگوں کے مسائل سنتے بلکہ ان کے حل کے لیے ہر ممکن عملی اقدامات کرتے تھے۔ جب کوئی بیمار، عالم دین، یا عام فرد آپ کے پاس آتا، تو آپ ذاتی طور پر متعلقہ ڈاکٹر سے رابطہ کرتے اور ان کی مدد کے لیے سفارش فرماتے۔ آپ کی شخصیت کا اثر اتنا گہرا تھا کہ آپ کی سفارش پر ڈاکٹر اور دیگر افراد پوری تندہی سے مسئلہ حل کرنے کی کوشش کرتے۔

غریبوں کی خدمت اور مساوات

شیخ صاحب7 کی ہمدردی صرف سفارش تک محدود نہیں تھی بلکہ غریبوں کی مدد کو حقیقی خدمت اور رضائے الٰہی کا ذریعہ سمجھتے تھے۔ آپ فرمایا کرتے تھے:

”غریبوں کی خدمت ہی حقیقی خدمت ہے، اور مومن کی خدمت سے بڑھ کر کوئی شرف نہیں۔“

آپ نے کبھی بھی مدد کے وقت کسی کی مالی حیثیت یا خاندانی پس منظر کو اہمیت نہیں دی۔

جامعہ اہل بیت میں خصوصی خدمات

شیخ محسن علی نجفی7 نے جامعہ اہل بیت میں ایک کمرہ خاص طور پر ان علما اور خدمت گزاران دین کے لیے مختص کر رکھا تھا جو کسی مجبوری کی وجہ سے مدد کے محتاج ہوتے تھے۔ آپ نہ صرف ان کے لیے قیام و طعام کا بندوبست کرتے بلکہ کھانے کے وقت خود بھی ان کے ساتھ شریک ہوتے اور روزانہ ان کی خیریت دریافت کرنا اپنا فرض سمجھتے۔

سید الاولیاءD کی سیرت کی پیروی

شیخ نجفی7 کی ہمدردی امیر المومنین حضرت علیG کی سیرت کی جھلک تھی۔ آپ دوسروں کے مسائل کو اپنی ذات کا مسئلہ سمجھتے اور ان کے حل کے لیے ہر ممکن کوشش کرتے۔ آپ کی وفات سے ضرورت مند افراد ایک ایسے رہنما سے محروم ہوگئے جو ان کے دکھوں کو بانٹنے والا اور عملی مدد فراہم کرنے والا تھا۔

شیخ محسن علی نجفی7 کی یہ روشن مثال آنے والی نسلوں کے لیے ہمدرد قیادت اور خدمت خلق کا نمونہ ہے، جو آج بھی مشعل راہ ہے۔

ویژنری قیادت: شیخ محسن علی نجفی7 کی بصیرت و خدمات

ویژن کا تصور

ویژن ایک ایسی تصوراتی رہنمائی ہے جو مستقبل کے لئے نہ صرف ایک امنگ بلکہ ایک واضح راستہ بھی فراہم کرتی ہے۔ ایک مؤثر رہنما کا بنیادی کام اپنی ٹیم اور پیروکاروں کو اس ویژن کے تحت متحرک کرنا اور ان کی مکمل وابستگی حاصل کرنا ہوتا ہے۔ کامیاب قیادت کا تقاضا یہ ہے کہ روزمرہ کے معمولات کو تنظیم کے مجموعی مقصد سے جوڑا جائے تاکہ کارکنان اپنے کام میں نہ صرف معنی تلاش کریں بلکہ اپنے اہداف کے حصول میں بھی مشغولیت، اعتماد اور کارکردگی کا مظاہرہ کریں۔

شیخ محسن علی نجفی7: ایک غیرمعمولی ویژنری شخصیت

شیخ محسن علی نجفی7 کی شخصیت کو اگر کسی ایک نمایاں وصف کے ذریعے بیان کیا جائے تو وہ ”ویژن“ ہوگا۔ آپ کی سوچ وہاں سے شروع ہوتی تھی جہاں عام افراد تو در کنار خاص افراد کی سوچ ختم ہو جاتی ہے۔ آپ ایک وسیع النظر اور دوراندیش شخصیت کے حامل تھے جنہوں نے زندگی کے ہر شعبے میں اپنی گراں قدر خدمات انجام دیں۔

عارضی رکاوٹوں سے دائمی کامیابی تک

شیخ محسن علی نجفی7 نے وقتی شہرت، مشکلات، مخالفتوں اور دیگر فوائد کو کبھی بھی رکاوٹ نہیں سمجھا بلکہ انہیں دائمی کامیابی، خوشی اور ترقی کی راہ میں ضروری مراحل تصور کیا۔ آپ کا ماننا تھا کہ جیسے جیسے انسان فکری اور علمی طور پر آگے بڑھتا ہے، مسائل بھی اسی تناسب سے بڑھتے ہیں۔ آپ فرماتے تھے کہ:

”جب تک آپ عام سوچ کے حامل ہیں، لوگ آپ کو برداشت کرتے ہیں، لیکن جب آپ غلطیوں اور برائیوں کو واضح کرنا شروع کریں گے، تو مخالفت سامنے آئے گی، اور یہ مخالفت اس بات کا ثبوت ہے کہ آپ صحیح سمت میں پیش رفت کر رہے ہیں۔“

طلبہ کی حوصلہ افزائی

طلبہ جب اپنے وقتی مسائل لے کر آپ کے پاس آتے تو آپ نہایت حکمت سے ان کی رہنمائی کرتے۔ آپ فرمایا کرتے تھے:

”میں آپ کا وہ شاندار مستقبل دیکھ رہا ہوں جس کا آپ کو ابھی اندازہ نہیں، لہٰذا ڈرنے کی ضرورت نہیں بلکہ آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔“

شیخ محسن علی نجفی7 کے ویژن کا عملی اظہار

آپ کی بصیرت کے عملی مظاہر آپ کی زیرِ نگرانی قائم شدہ ادارے ہیں، جن میں اسکول، کالجز، مدارسِ علمیہ اور پاکستان انٹرنیشنل یونیورسٹی شامل ہیں۔ یہ ادارے اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہیں کہ آپ نے صرف خواب نہیں دیکھے بلکہ انہیں عملی جامہ بھی پہنایا۔ آپ نے قوم کی اجتماعی ترقی کے لئے دوراندیشی کے ساتھ منصوبہ بندی کی اور آنے والے وقت کے چیلنجز کو پہلے سے بھانپ کر ان کا حل پیش کیا۔

عملی اقدامات: ویژن کی تکمیل کا ذریعہ

شیخ محسن علی نجفی7 کی ایک اور اہم خصوصیت یہ تھی کہ آپ ویژن رکھنے کے ساتھ ساتھ عملی اقدامات پر بھی زور دیتے تھے۔ آپ کی قیادت صرف نظریاتی نہیں بلکہ عملی بنیادوں پر قائم تھی، جو آپ کی کامیابی کا سب سے بڑا راز ہے۔

شیخ محسن علی نجفی7 کی شخصیت آج بھی ایک مثال ہے کہ کس طرح ایک ویژنری رہنما اپنی بصیرت، عزم اور عملی اقدامات سے قوموں کی تقدیر بدل سکتا ہے۔

اخلاص: قیادت کی بنیادی صفت

اخلاص قیادت کی ایک لازمی اور اہم خوبی ہے جو کسی بھی رہنما کی شخصیت کو نکھارتی ہے۔ ایک مخلص رہنما اپنے قول و فعل میں ہم آہنگی اور سچائی کے ساتھ خلوص کا مظاہرہ کرتا ہے، جس کے نتیجے میں پیروکاروں کے دلوں میں عزت و اعتماد پیدا ہوتا ہے۔

شیخ محسن علی نجفی7: اخلاص کا عملی نمونہ

شیخ محسن علی نجفی7 ایک برجستہ عالم دین اور مفسر قرآن تھے۔ آپ کی زندگی میں اخلاص کا عنصر نمایاں تھا۔ دنیاوی قائدین کے برعکس، آپ کی قیادت دکھاوے، خود نمائی یا شہرت طلبی سے مبرا تھی۔ دنیاوی قائدین عموماً اپنی ذات کی تشہیر اور دولت و شہرت کے پیچھے دوڑتے ہیں، جبکہ شیخ محسن علی نجفی7 جیسی الٰہی شخصیات کی نظر ہمیشہ آخرت کی کامیابی اور اللہ کی رضا پر مرکوز ہوتی ہے۔

دنیاوی و دینی قیادت کا فرق

دنیاوی قائدین کے لیے اکثر شہرت و نمود ایک اہم مقصد ہوتا ہے، جس کے لیے وہ دولت اور وسائل خرچ کرتے ہیں۔ اس کے برعکس، الٰہی قیادت کا مرکز قرآن و سنت اور تعلیماتِ اہل بیتD ہوتی ہیں۔ ایسی شخصیات کے لیے دنیا کی چند روزہ زندگی میں شہرت اور نمود کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی، بلکہ ان کا مقصد ہمیشہ اللہ کی خوشنودی اور آخرت کی فلاح ہوتا ہے۔

شیخ محسن علی نجفی7 کی عملی تعلیمات

شیخ محسن علی نجفی7 کے خلوص کی جھلک ان کی ہر بات اور عمل میں نظر آتی تھی۔ آپ اکثر فرمایا کرتے تھے:

”اچھے کام کرنا آسان ہے، لیکن ان کاموں کو مستقل اور خلوص کے ساتھ جاری رکھنا مشکل ہے۔“

آپ کبھی بھی کسی بھی کام پر اپنی تعریف یا اپنی کامیابیوں کا ذکر نہیں کرتے تھے۔ جب بھی کسی ادارے کی کامیابی یا کسی طالب علم کی ترقی کا ذکر ہوتا، تو خوشی کے ساتھ ساتھ یہ تاکید کرتے کہ کہیں یہ خوشی خود پسندی اور دکھاوے کی بیماری میں نہ بدل جائے۔

اخلاص کی میراث

آپ کا یہی خلوص و للہیت آج بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ ہے۔ آپ کی شخصیت ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ حقیقی قیادت کا جوہر خلوص اور اللہ کی رضا کے لیے کام کرنا ہے، نہ کہ دنیاوی شہرت و نمود کے پیچھے بھاگنا۔

شیخ محسن علی نجفی7 بلاشبہ اخلاص کی ایک روشن مثال تھے، جنہوں نے دنیاوی قائدین اور دینی رہنما کے درمیان واضح فرق کو اپنے عمل سے ثابت کیا۔ ان کی یاد اور تعلیمات آج بھی ہمارے لیے مشعلِ راہ ہیں۔

وسیع النظری: قیادت کی ایک عظیم صفت

وسیع النظری (Open-Mindedness) ایک ایسی صفت ہے جو دوسروں کے خیالات کو قبول کرنے اور نئے نظریات کو اپنانے کی صلاحیت کو ظاہر کرتی ہے۔ ایک وسیع النظر رہنما ہمیشہ مختلف آراء اور نقطہ نظر کا احترام کرتا ہے اور اپنی سوچ کو محدود نہیں رکھتا۔ اس صفت کی عملی مثال شیخ محسن علی نجفی7 کی شخصیت میں بخوبی نظر آتی ہے۔ آپ نہایت وسیع النظر انسان تھے اور با مقصد تنقید کو بے جا تعریف پر ترجیح دیتے تھے۔

تنقید اور تعریف میں متوازن رویہ

شیخ صاحب کو تعمیری اور حق پر مبنی تنقید پسند تھی، اور ایسے افراد جو مثبت اور اصلاحی تنقید کرتے تھے، ان کی عزت کرتے تھے۔ جب آپ یہ دیکھتے کہ کسی معاملے میں اختلافی رائے زیادہ بہتر اور موزوں ہے تو بغیر کسی جھجک کے اسے قبول کر لیتے تھے اور خوش ہو کر فرماتے:

”ماشاء اللہ! کتنی عمدہ رائے دی گئی ہے۔“

یہی وجہ ہے کہ وہ کبھی بھی اختلاف رائے رکھنے والے افراد کو اپنی مخالفت کے زمرے میں نہیں لاتے تھے، جیسا کہ تنگ نظر افراد کرتے ہیں۔

دوسروں کی کامیابی کو تسلیم کرنے کا جذبہ

شیخ صاحب کا ایک اور نمایاں پہلو یہ تھا کہ وہ دوسروں کی کامیابیوں کی دل کھول کر تعریف کرتے تھے۔ ان کے نزدیک کامیابی کا اصل مقصد کام کا انجام پانا تھا، نہ کہ ذاتی شہرت یا ناموری۔ وہ دوسروں کے کام کو خود سے منسوب کرنے کے بجائے ان لوگوں کو کریڈٹ دیتے تھے جنہوں نے اس پر عملدرآمد کیا ہوتا تھا، حالانکہ اصل فکر اور منصوبہ بندی انہی کی ہوتی تھی۔

امیرالمومنینG کے قول کی عملی تعبیر

شیخ صاحب کی وسعت نظری درحقیقت حضرت علیG کے اس فرمان کی عملی مثال تھی:

”آلۃ الریاسۃ سعۃ الصدر۔

یعنی قیادت کی کامیابی کی بنیاد دل کی وسعت میں ہے۔ تنگ نظری اور محدود سوچ کسی بھی بڑے ادارے یا منصوبے کی ناکامی کا سبب بنتی ہے، جبکہ وسیع النظری کامیابی کی ضمانت ہوتی ہے۔

دوسروں کی حوصلہ افزائی کا انداز

شیخ صاحب دوسروں کی معمولی کامیابی پر بھی اس قدر تعریف کرتے کہ وہ افراد مزید بہتر کام کرنے کے لیے پرجوش ہو جاتے۔ ان کا یہ رویہ نہ صرف ان کے اردگرد کے افراد میں خوداعتمادی پیدا کرتا تھا بلکہ انہیں مزید کامیابیوں کی طرف مائل بھی کرتا تھا۔

نتیجہ

شیخ محسن علی نجفی7 کی وسیع النظری ان کی کامیاب قیادت کی بنیاد تھی۔ ان کی شخصیت کا یہ پہلو نہ صرف ان کے اردگرد کے لوگوں کے لیے مشعل راہ تھا بلکہ ان کی کامیابیوں کا ایک اہم راز بھی۔ وسیع النظری کسی بھی انسان کو عظیم بنانے اور اداروں کو ترقی دینے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے، اور شیخ صاحب نے اس صفت کی ایک درخشاں مثال قائم کی۔

مؤثر روابط: قیادت کی بنیادی صفت

مواصلات و روابط (Communication) کسی بھی کامیاب قیادت کا ایک لازمی جزو ہے۔ ایک مؤثر رہنما زبانی اور تحریری دونوں ذرائع سے اپنے خیالات کو واضح انداز میں بیان کرتا ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ مخاطب کے پس منظر اور ذہنی سطح کو مدنظر رکھتے ہوئے بات کی جائے تاکہ پیغام صحیح طور پر سمجھا جا سکے۔ شیخ محسن علی نجفی7 میں یہ قائدانہ صلاحیت بطور خاص نمایاں تھی، اور آپ کی مؤثر مواصلات کی صلاحیت نے آپ کو کامیاب قیادت کے اعلیٰ مقام پر فائز کیا۔

زبانی اور تحریری روابط میں مہارت

شیخ صاحب کی گفتگو ہمیشہ واضح، مختصر اور غیر ضروری تشریحات سے خالی ہوتی تھی۔ آپ اپنی بات مخاطب کی ذہنی، فکری اور علمی سطح کے مطابق کرتے تھے، اور یہی وجہ تھی کہ جو بھی آپ سے گفتگو کرتا، وہ یہ محسوس کرتا کہ شیخ صاحب کی محبت سب سے زیادہ اسی کے ساتھ ہے۔

آپ کی گفتگو کا انداز جامع اور مربوط ہوتا تھا۔ آپ نہ صرف مخاطب کو مقصد کے مطابق بات سمجھاتے تھے بلکہ اسے کسی بھی قسم کی الجھن یا کنفیوژن میں نہیں رکھتے تھے۔ آپ کے خطبات مختصر اور جامع ہوتے تھے، جن میں معلومات، حکمت، اور مقتضائے حال کے تقاضے شامل ہوتے تھے۔

مختلف زبانوں پر عبور

شیخ صاحب کو اللہ تعالیٰ نے کئی زبانوں میں فصیح گفتگو کرنے کی صلاحیت عطا فرمائی تھی۔ آپ عربی، فارسی، اردو، اور بلتی زبانوں میں مہارت رکھتے تھے اور ان زبانوں میں بہترین انداز میں گفتگو کرتے تھے۔

سامعین کی ذہنی صلاحیت کو مدنظر رکھنا

شیخ محسن علی نجفی7 کی گفتگو کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ تھی کہ آپ ہمیشہ مخاطب کی ذہنی اور علمی صلاحیت کو مدنظر رکھ کر بات کرتے تھے۔ آپ کے الفاظ اور لہجہ مخاطب کے مطابق ڈھل جاتے، جس سے ہر سننے والا یہ محسوس کرتا کہ شیخ صاحب نے اپنی بات اس کی ذہنی سطح کے مطابق بیان کی ہے۔ یہی وجہ تھی کہ آپ کی بات ہمیشہ سامعین کے دل و دماغ پر اثر چھوڑتی تھی۔

تحریری اور زبانی خطاب کا امتزاج

آپ کی تحریر کردہ کتب، دروس، اور خطبات اس بات کی عملی مثال ہیں کہ آپ کی مواصلات کی صلاحیت کتنی مؤثر تھی۔ آپ کی تحریریں بھی اسی طرح جامع اور مؤثر ہوتی تھیں، جیسی آپ کی زبانی گفتگو۔ آپ کا انداز ہمیشہ واضح، بامقصد اور مؤثر ہوتا تھا، جو کسی بھی قسم کی غیر ضروری طوالت سے پاک ہوتا۔

شیخ محسن علی نجفی7 کی مؤثر مواصلات کی یہ صلاحیت ان کی قیادت کے عروج کی ایک اہم وجہ تھی۔ آپ کی زبانی اور تحریری دونوں اندازوں میں حکمت، مقصدیت، اور مقتضائے حال کے تقاضے نظر آتے تھے۔ مختلف زبانوں پر عبور اور مخاطب کی ذہنی سطح کو مدنظر رکھنے کی یہ خصوصیت آپ کو ایک منفرد اور کامیاب رہنما کے طور پر نمایاں کرتی تھی۔ مؤثر مواصلات کی یہی صفت کامیاب قیادت کا ایک بنیادی اصول ہے، اور شیخ صاحب نے اس کی ایک روشن مثال قائم کی۔

شوق ِ مطالعہ : قیادت کی بنیاد

مطالعہ اور سیکھنے کا شوق (Thirst for Learning) کسی بھی کامیاب قیادت کی بنیاد ہے۔ ایک عظیم رہنما ہمیشہ نئی چیزیں سیکھنے، جاننے، اور اپنی معلومات کو تازہ رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ صفت نہ صرف اس کے علم میں اضافہ کرتی ہے بلکہ اسے بدلتے ہوئے حالات میں مؤثر فیصلہ سازی کے قابل بھی بناتی ہے۔ شیخ محسن علی نجفی7 کی زندگی اس عظیم صفت کی عملی تصویر تھی۔ آپ کی علمی لگن اور سیکھنے کی جستجو آپ کی قیادت کی کامیابی میں کلیدی کردار ادا کرتی تھی۔

سیکھنے کا جذبہ

شیخ محسن علی نجفی7 اپنی ضعیف العمری کے باوجود علم حاصل کرنے کے شوق سے کبھی پیچھے نہیں ہٹے۔ آپ ہمیشہ نئی کتابوں، تحقیقاتی مضامین، اور علمی موضوعات میں گہری دلچسپی رکھتے تھے۔ اگر آپ کسی کتاب کا ذکر سنتے تو فوراً اس کا مطالعہ کرنے کی خواہش ظاہر کرتے۔ نئی کتابیں نیٹ پر دیکھتے ہی انہیں پرنٹ کرنے کے لیے کہہ دیتے، اور چند ہی دنوں میں نہ صرف کتاب کا مطالعہ مکمل کر لیتے بلکہ اس کا خلاصہ اور مؤلف کی علمی صلاحیت پر بھی جامع گفتگو فرماتے تھے۔

اہم موضوعات میں دلچسپی

زندگی کے آخری ایام میں آپ کی دلچسپی کے موضوعات میں توحید، امامت، عقل، اور تربیت اولاد شامل تھے۔ آپ کے دن کا کوئی ایسا لمحہ نہیں گزرتا تھا جب صحت اجازت دیتی اور آپ نے مطالعہ کو ترک کیا ہو۔ آپ کے نزدیک مطالعہ محض ایک شوق نہیں تھا بلکہ زندگی کا لازمی حصہ تھا۔

وقت کا بہترین استعمال

ایک بار آپ سے سوال کیا گیا کہ گرمیوں کی تعطیلات میں سکردو جانے کا ارادہ ہے یا نہیں، تو آپ نے فرمایا:

”ہمارا معاشرہ اکثر غیبت اور دیگر غیر ضروری باتوں میں وقت ضائع کرتا ہے، اور یوں زندگی کے قیمتی لمحات بغیر کچھ حاصل کیے گزر جاتے ہیں۔ اس لیے میں ایسی محفلوں سے دور رہ کر کتب کی صحبت کو ترجیح دیتا ہوں۔“

یہی وجہ تھی کہ آپ نے اپنی زندگی کا ہر لمحہ علم کے حصول میں صرف کیا اور اسے ضائع ہونے سے بچایا۔

نبی اکرم ] کے فرمان پر عمل

شیخ صاحب کی زندگی نبی اکرم ] کے اس فرمان کی عملی مثال تھی:

”اطلبوا العلم من المھد الی اللحد۔“

علم حاصل کرو ماں کی گود سے لحد تک

آپ نے سیکھنے اور سکھانے کا عمل اپنی زندگی کے آخری لمحات تک جاری رکھا۔ یہ تسلسل اس بات کا ثبوت تھا کہ آپ کے نزدیک علم حاصل کرنا نہ صرف ایک فریضہ ہے بلکہ زندگی کی ترقی کا زینہ بھی ہے۔

سیکھنے کی اہمیت

شیخ محسن علی نجفی7 کی زندگی اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ سیکھنے کا عمل ترک کرنا حقیقت میں زوال اور جمود کی نشانی ہے۔ ایک بہترین رہنما وہی ہوتا ہے جو ہر موقع سے کچھ نہ کچھ سیکھے اور نئے چیلنجز کا سامنا کرنے کے لیے خود کو تیار رکھے۔ آپ کی شخصیت ان تمام علماء اور قائدین کے لیے مشعل راہ ہے جو اپنی زندگی میں سیکھنے کے عمل کو جاری رکھتے ہیں۔

یوں خلاصۃً ہم کہہ سکتے ہیں: شیخ محسن علی نجفی7 نے اپنی زندگی میں سیکھنے کی صلاحیت کو اس قدر اہمیت دی کہ یہ نہ صرف ان کی شخصیت کا حصہ بن گئی بلکہ ان کے علم و قیادت کی بنیاد بھی بن گئی۔ آپ کی زندگی ہمیں یہ درس دیتی ہے کہ علم کا حصول عمر کے کسی بھی مرحلے پر ختم نہیں ہونا چاہیے۔ سیکھنے کی یہ لگن انسان کو کامیابی کے بلند ترین مقامات پر پہنچا سکتی ہے۔ آپ کا یہ پیغام آنے والی نسلوں کے لیے ایک رہنما اصول ہے کہ بہترین رہنما درحقیقت بہترین سیکھنے والے ہوتے ہیں۔

دیانت داری: قیادت کا ایک بنیادی اصول

دیانت داری (Integrity) قیادت کی وہ اہم صفت ہے جو ایمانداری، اخلاقی اصولوں پر عمل پیرا ہونے اور قابل اعتماد ہونے کی خصوصیات کو یکجا کرتی ہے۔ ایک اعلیٰ قائدانہ صلاحیت رکھنے والے رہنما کے لیے یہ خصوصیت ناگزیر ہے کیونکہ وہ قوم وملت کے مستقبل کا تعین کرتے ہیں۔ اس ضمن میں شیخ محسن علی نجفی7 ایک شاندار مثال ہیں، جن کی زندگی دیانت داری کے اصولوں کی عملی تصویر تھی۔

دیانت داری کے اعلیٰ معیار پر فائز

شیخ محسن علی نجفی7 اپنی ذات میں دیانت داری کا ایک نمونہ تھے۔ آپ نہ صرف خود دیانت داری کے اعلیٰ معیار پر فائز تھے بلکہ اس صفت کو فروغ دینے کے لیے بھی کوشاں رہتے تھے۔ آپ ہمیشہ ایسے افراد کو اپنی ٹیم میں شامل کرتے تھے جن میں دیانت داری کا عنصر نمایاں ہوتا۔ آپ کی دیانت داری کی بدولت آپ کو خداوند متعال کی جانب سے وہ توفیقات حاصل ہوئیں جو برصغیر پاک و ہند میں کسی اور کے نصیب میں نہیں آئیں۔

مخیر حضرات کا اعتماد اور مالی امور میں شفافیت

آپ کی دیانت داری کی وجہ سے مخیر حضرات آپ پر بے پناہ اعتماد کرتے تھے۔ امورِ خیر میں آپ کی صائب رائے اہلِ علم اور اہلِ خیر کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل تھی۔ آپ ہمیشہ مالی وسائل کو بغیر کسی کمیشن کے ان کے مقاصد کے لیے خرچ کرتے تھے اور حتی الامکان یہ کوشش کرتے تھے کہ ایک مصرف سے دوسرے مصرف میں امانتاً بھی کوئی رقم استعمال نہ ہو۔ غریبوں کے حقوق ان تک پہنچانے میں آپ کسی قسم کی کوتاہی کو ناقابلِ قبول سمجھتے تھے۔

قومی اور ملی امور میں دیانت داری

شیخ محسن علی نجفی7 کی دیانت داری صرف مالی امور تک محدود نہ تھی بلکہ قومی اور ملی معاملات میں بھی آپ دیانت داری کے اصولوں پر سختی سے کاربند تھے۔ آپ کبھی بھی مصلحتِ نوعی پر مصلحتِ شخصیہ کو فوقیت نہ دیتے تھے۔ اپنی تمام تر مشکلات اور مصائب کے باوجود قومی امور میں خلوص، وفاداری، اور دیانت کے ساتھ خدمات انجام دیتے رہے۔ آپ کا یہ طریقہ تھا کہ کسی بھی منصوبے کو پایۂ تکمیل تک پہنچائے بغیر سکون سے نہ بیٹھتے تھے۔

آپ کی رحلت کے بعد خلا

شیخ محسن علی نجفی7 کی رحلت کے بعد قومی امور میں ایک بہت بڑا خلا محسوس ہو رہا ہے، کیونکہ آپ جیسی دیانت دار شخصیت کی کمی پوری کرنا انتہائی مشکل ہے۔ آپ کی شخصیت نہ صرف قیادت کے لیے ایک مثال تھی بلکہ آئندہ آنے والے رہنماؤں کے لیے بھی مشعلِ راہ ہے۔

شیخ محسن علی نجفی7 کی زندگی اور کردار ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ دیانت داری صرف ایک اخلاقی قدر نہیں بلکہ قیادت کی بنیاد ہے، جو نہ صرف افراد کو بلکہ اقوام کو بھی کامیابی کے راستے پر گامزن کرتی ہے۔

شیخ محسن علی نجفی7: حوصلہ و جرات کا عملی پیکر

حوصلہ ایک ایسی صفت ہے جو رہنماؤں اور ان کے ماتحت افراد کو صحیح فیصلے کرنے اور جرات مندانہ اقدامات اٹھانے کی صلاحیت فراہم کرتی ہے۔ ایک حوصلہ مند رہنما کام کی جگہ پر ایسا ماحول پیدا کرتا ہے جہاں افراد بلا خوف اپنی رائے کا اظہار کر سکیں۔ نفسیاتی تحفظ کی یہ فضا ٹیم کے ہر رکن کو فعال بناتی ہے اور مسائل کے حل میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔

شیخ محسن علی نجفی7 عزم، حوصلہ، امید اور یقین کی بہترین مثال تھے۔ ان کی شخصیت میں یہ خوبی نمایاں تھی کہ وہ مشکل ترین حالات میں بھی اپنی ہمت نہیں ہارتے تھے اور ان حالات کو مواقع میں بدلنے کا ہنر رکھتے تھے۔ جب بھی قوم پر مایوسی کے بادل چھا جاتے یا پریشان کن حالات کا سامنا ہوتا، تو لوگ ان کے پاس امید کے ساتھ آتے۔ یہ ان کے حوصلے اور تدبر کا نتیجہ تھا کہ وہ قوم کو مایوسی سے نکال کر نئی امنگوں اور راستوں کی طرف لے جاتے تھے۔

مشکل حالات میں جرات مندانہ فیصلے

شیخ محسن علی نجفی7 ہمیشہ اللہ پر یقین رکھتے ہوئے جرات مندانہ اور حوصلہ افزا فیصلے کرتے۔ ان کے فیصلے قومی مشکلات کو حل کرنے میں معاون ثابت ہوتے۔ خود ان کی زندگی میں جب آزمائش کے مراحل آئے، جیسے حکومت وقت کی طرف سے غیر منصفانہ طور پر ان کا نام فورتھ شیڈول میں شامل کرنا، تو وہ نہ صرف ثابت قدم رہے بلکہ حالات کا مردانہ وار مقابلہ کیا۔

جب مختلف افراد نے ان سے نامعقول مطالبے کیے، تو انہوں نے واضح طور پر فرمایا:

”میں کسی کے سامنے جھکنے کے لیے تیار نہیں ہوں اور نہ ہی کسی ایسے فرد یا ادارے سے مدد لوں گا جس کے بعد مجھے ان کے احسانات کا بوجھ اٹھانا پڑے۔ میں اس سے بہتر سمجھتا ہوں کہ زندان کی زندگی گزاروں مگر اپنے اصولوں پر سمجھوتہ نہ کروں۔“

حوصلہ اور قیادت کی بلندی

ایسے حالات میں جب عام افراد تو درکنار، حوصلہ مند لوگ بھی ہمت ہار دیتے ہیں، شیخ محسن علی نجفی7 نہ صرف استقامت پر قائم رہے بلکہ مزید حوصلے اور عزم کے ساتھ اپنی منزل کی جانب بڑھتے رہے۔ ان کی زندگی اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ حقیقی قائد وہی ہے جو قوم کو مشکل حالات میں امید اور راستہ دکھائے۔

تحسین و عقیدت

آج بھی ان کے حوصلے، جرات اور قیادت کو خراج عقیدت پیش کیا جاتا ہے۔ ان کی شخصیت سے رہنمائی لینے والے افراد ان کے نقش قدم پر چلنے کی کوشش کرتے ہیں، اور ان کے افکار سے حوصلہ پاتے ہیں۔ شیخ محسن علی نجفی7 ایک عزم و حوصلے کے مینار کی حیثیت رکھتے ہیں، جن کی مثال ہمیشہ رہنمائی کے لیے پیش کی جاتی رہے گی۔

شکر گزاری: شیخ محسن علی نجفی 7 کی اہم ترین خصوصیت

شکر گزاری ایک ایسی اعلیٰ اخلاقی صفت ہے جو قیادت میں احسان مندی، دوسروں کی محنت کو سراہنے، اور ان کے کارناموں کی قدردانی کے ذریعے تعلقات کو مضبوط بنانے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ یہ صفت نہ صرف قیادت کو مؤثر بناتی ہے بلکہ ماتحتوں اور ساتھیوں کی کارکردگی کو بہتر بنانے میں بھی معاون ثابت ہوتی ہے۔

شکر گزاری کا عملی مظہر

شیخ محسن علی نجفی7 کی شخصیت شکر گزاری کی بہترین مثال تھی۔ آپ کی قیادت کا بنیادی اصول یہ تھا کہ آپ اپنے ساتھیوں اور ماتحتوں کی خدمات کو نہایت قدر کی نگاہ سے دیکھتے اور ان کی حوصلہ افزائی کرتے تھے۔ اگرچہ آپ جو خدمات لیتے تھے وہ دین کی خدمت کے لیے ہوتی تھیں، پھر بھی آپ ہر اچھے کام پر زبانی اور عملی طور پر شکریہ ادا کرنے میں کبھی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے تھے۔

آپ کا انداز ایسا تھا کہ آپ نہ تو لوگوں کے کاموں میں بے جا نقص نکالتے اور نہ ہی انہیں بے جا تنقید کا نشانہ بناتے۔ بلکہ آپ خوش دلی سے ان کے کام کی تعریف کرتے اور مکمل خلوص کے ساتھ ان کی کاوشوں کو سراہتے تھے۔ آپ نے ہمیشہ اس بات کو یقینی بنایا کہ آپ کے رویے سے دوسروں کو ان کی محنت کی اہمیت کا احساس ہو۔

عملی شکر گزاری اور حوصلہ افزائی

شیخ محسن علی نجفی7 عملی طور پر بھی شکر گزاری کے مظاہر پیش کرتے تھے۔ آپ کے لیے شکریہ صرف الفاظ تک محدود نہیں تھا بلکہ آپ اپنے امکانات کے مطابق دوسروں کی مدد کرتے اور انعام و اکرام سے نوازتے تھے۔ آپ اکثر یہ جملہ فرماتے:

”یہ ایک حقیر سا تحفہ ہے جو آپ کی عظیم خدمات کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں، لیکن میرے پاس اس وقت صرف یہی گنجائش ہے۔“

یہ جملہ نہ صرف آپ کی شکر گزاری کی گہرائی کو ظاہر کرتا تھا بلکہ آپ کے خلوص اور عاجزی کی عکاسی بھی کرتا تھا۔

شکر گزاری کی اہمیت اور عملی نتائج

شیخ محسن علی نجفی7 کے اس رویے نے سالوں تک لوگوں کو آپ کے ساتھ جوڑے رکھا۔ لوگ آپ کے ساتھ کام کرنے کو اپنے لیے فخر سمجھتے تھے۔ آپ کا انداز ایسا تھا کہ آپ ہر شخص کو اس کی محنت اور کام کی نوعیت کے مطابق سراہتے اور اس کی حوصلہ افزائی کرتے تھے۔ آپ عملی کام کرنے والوں اور صرف زبانی دعوے کرنے والوں کے درمیان واضح فرق رکھتے تھے اور ہمیشہ کام کرنے والوں کی تعریف کرتے تھے، جس سے ان میں مزید جذبہ پیدا ہوتا تھا۔

حدیث نبوی] کی عملی تشریح

آپ حدیث نبوی]من لم یشکر المخلوق لم یشکر الخالق“ کا حقیقی ادراک رکھتے تھے اور اکثر فرمایا کرتے تھے:

”بندگانِ خدا کا شکریہ ادا کرنا دراصل اللہ تعالیٰ کا شکریہ ادا کرنا ہے۔“

یہی وجہ ہے کہ آپ کی شکرگزاری نہ صرف ایک اخلاقی صفت تھی بلکہ ایک عملی طرزِ زندگی تھی جس نے آپ کو لوگوں کے دلوں میں ہمیشہ کے لیے زندہ رکھا۔

نتیجہ

شیخ محسن علی نجفی7 کی شخصیت میں شکر گزاری کا عنصر قیادت کی بہترین مثال ہے۔ آپ کی احسان مندی اور قدردانی نے نہ صرف لوگوں کے ساتھ آپ کے تعلقات کو مضبوط بنایا بلکہ آپ کے کردار کو ہمیشہ کے لیے یادگار بنا دیا۔

شیخ محسن علی نجفی 7 اور قوتِ فیصلہ

قوتِ فیصلہ کسی بھی قائد کے لیے سب سے اہم اور لازمی صفت ہے، جو نہ صرف اس کی قیادت کو مضبوط بناتی ہے بلکہ اس کی شخصیت کی گہرائی کو بھی ظاہر کرتی ہے۔ ایک قائد کے فیصلے اس کی بصیرت، حکمت اور قابلیت کا مظہر ہوتے ہیں، جو نہ صرف اس کی ٹیم یا قوم کے مستقبل کو متاثر کرتے ہیں بلکہ اس کی قیادت کی کامیابی کا تعین بھی کرتے ہیں۔

شیخ محسن علی نجفی7 کی شخصیت میں یہ صفت نمایاں طور پر نظر آتی تھی۔ آپ ہمیشہ بروقت اور دانشمندانہ فیصلے کرتے تھے۔ فیصلے سے پہلے آپ متعلقہ افراد سے مشاورت کرتے، ان کی آراء کو غور سے سنتے اور تمام پہلوؤں پر تفصیلی غور و فکر کے بعد فیصلہ کرتے تھے۔ آپ کے فیصلوں کی خاص بات یہ تھی کہ ایک بار فیصلہ کرنے کے بعد آپ کبھی پیچھے نہیں ہٹتے تھے۔

مشکل اور نازک حالات میں، جب فوری فیصلہ کرنے کی ضرورت ہوتی، آپ خدا پر کامل بھروسہ کرتے ہوئے قدم بڑھاتے۔ آپ ہمیشہ قوم اور ملت کے مفاد کو ترجیح دیتے، دشمنوں کی سازشوں کو بھانپ کر ان کا گہرائی سے تجزیہ کرتے اور ان کے ناپاک عزائم کو ناکام بنانے کے لیے فوری اور جرأت مندانہ فیصلے کرتے تھے۔

ملت کے لیے بے لوث قیادت

جب بھی ملتِ تشیع کو پاکستان میں چیلنجز کا سامنا ہوتا، آپ نے قائدانہ کردار ادا کرتے ہوئے ایسے فیصلے کیے جنہوں نے قوم کو سرخرو کیا۔ آپ کے فیصلے ہمیشہ ذاتی شہرت یا مفاد سے بالاتر ہوتے تھے۔ آپ پیچھے رہ کر تمام امور کی نگرانی کرتے اور عملی اقدامات پر توجہ دیتے۔ آپ نے کبھی شہرت طلبی کی ضرورت محسوس نہیں کی، بلکہ آپ کے اقدامات خالصتاً قوم و ملت کی خدمت کے لیے ہوتے تھے۔

دباؤ کی حالت میں فیصلے کرنے کی صلاحیت

شیخ محسن علی نجفی7 دباؤ کے تحت بھی جذباتی ہونے کے بجائے منطق اور حکمت سے کام لیتے تھے۔ آپ اس یقین کے ساتھ فوری فیصلے کرتے اور ان کے نتائج کو ہمت اور صبر کے ساتھ قبول کرتے تھے۔

اعتراضات اور تنقید کا سامنا

آپ کے فیصلے ہمیشہ قوم و ملت کے مفاد میں ہوتے تھے، اور آپ اعتراضات یا تنقید سے گھبراتے نہیں تھے۔ آپ جانتے تھے کہ قیادت میں ہر فیصلہ سب کے لیے قابل قبول نہیں ہوتا، لیکن آپ کا مقصد ہمیشہ قومی بہتری اور اجتماعی مفاد ہوتا تھا۔

قیادت کی حکمت عملی اور وژن

آپ کے فیصلے ایک واضح وژن اور حکمت عملی کے عکاس تھے۔ آپ کے دانشمندانہ فیصلوں کی بدولت ملت کو مشکلات سے نکلنے کا راستہ ملتا تھا ۔

آخر میں آپ کی اس قائدانہ صفت کے بارے میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں: قوتِ فیصلہ ایک قائد کی وہ صفت ہے جو اس کی قیادت کو کامیاب بناتی ہے۔ شیخ محسن علی نجفی7 کی شخصیت اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ ایک لیڈر کی کامیابی اس کے بروقت، درست اور حکمت سے بھرپور فیصلوں پر منحصر ہوتی ہے۔ آپ کے فیصلے، آپ کی جرأت، اور ملت کے لیے آپ کی خدمات ہمیشہ کے لیے ایک مثال رہیں گی۔

خلاصہ:

آیۃ اللہ شیخ محسن علی نجفی7 کی زندگی قیادت، خلوص، اور خدمتِ خلق کا بے مثال نمونہ تھی۔ ان کی شخصیت میں وسیع النظری، مؤثر روابط، مطالعے کا شوق، اور دیانت داری جیسی خوبیاں نمایاں تھیں، جنہوں نے انہیں ایک مثالی رہنما بنایا۔ آپ اختلافی آراء کو قبول کرتے اور تنقید کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے۔ آپ کی زبانی و تحریری گفتگو ہمیشہ واضح اور جامع ہوتی، جس نے آپ کے خیالات کو سامعین کے دلوں تک پہنچایا۔

آپ نے تعلیم کے میدان میں انقلابی اقدامات کیے، مدارس اور یونیورسٹیوں کی بنیاد رکھ کر قوم کو ترقی کی راہ دکھائی۔ آپ کا ماننا تھا کہ مشکلات مواقع میں بدلنے کا ذریعہ ہیں، اور آپ کے جرات مندانہ فیصلے ہمیشہ ملت کے مفاد میں ہوتے۔ دیانت داری آپ کی قیادت کی بنیاد تھی، جس نے آپ کے منصوبوں کو کامیاب بنایا۔

آپ کا خلوص اور ہمدردی نمایاں تھی، بیماروں کے علاج، ضرورت مندوں کی مدد، اور علما کے مسائل حل کرنے میں ہمیشہ پیش پیش رہے۔ آپ نے حقیقی قیادت کو خدمت اور اخلاص سے جوڑا اور عملی طور پر ثابت کیا کہ ایک رہنما کا مقصد صرف رہنمائی نہیں بلکہ دوسروں کی خدمت ہونا چاہیے۔ شیخ نجفی7 کی زندگی آج بھی ہمارے لیے مشعل راہ ہے۔

اللہ تعالیٰ سے دعا کہ وہ آپ کو جوار ِ معصؤمین Dجگہ عطا فرمائے۔

Related Articles

Back to top button