اوصاف و کمالات

آیت اللہ شیخ محسن علی نجفی7 کی مدیریت میں موفقیت و کامیابی کے عوامل و اسباب

دنیا کے کامیاب مدیروں اور منتظمین کے مطالعے سے یہ حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ ان کی کامیابی کا راز ان کے اصولوں اور منظم حکمت عملی میں پوشیدہ ہوتا ہے۔ انہی کامیاب شخصیات میں ایک نام شیخ محسن علی نجفی کا ہے، جنہوں نے اپنی قائدانہ صلاحیت اور دور اندیشی سے مختلف شعبہ جات میں نمایاں کامیابیاں حاصل کیں۔ ان کی مدیریت کے اصول ایک مکمل نظام کا خاکہ پیش کرتے ہیں، جو نہ صرف ادارتی استحکام کے لیے کارگر ہیں بلکہ انفرادی ترقی اور اجتماعی فلاح کی بھی ضامن ہیں۔

خوفِ خدا: ایک الٰہی مدیر کی بنیادی صفت

شیخ محسن علی نجفی7 عالمِ باعمل اور خوفِ خدا رکھنے والے مدیر تھے۔ آپ کے نزدیک کسی بھی عمل کی اصل اہمیت اللہ تعالیٰ کی رضا میں پوشیدہ تھی لہٰذا جب کبھی آپ کو یہ محسوس ہوتا کہ کسی عمل میں اللہ کی خوشنودی شامل نہیں، تو آپ اسے ترک کر دیتے، چاہے وہ عمل بظاہر کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو۔ آپ کے لیے لوگوں کی رائے یا دنیاوی مفادات کی اہمیت ثانوی تھی۔ آپ مولائے متقیان امیر المومنینG کے اس فرمان پر عمل پیرا تھے:

وَ اَنْ تُنَافِحَ عَنْ دِیْنِكَ، وَ لَوْ لَمْ یَكُنْ لَّكَ اِلَّا سَاعَةٌ مِّنَ الدَّهْرِ، وَ لَا تُسْخِطِ اللهَ بِرِضٰی اَحَدٍ مِّنْ خَلْقِهِ۔

اپنے دین کے لیے سینہ سپر رہنا، اگرچہ تمہیں ایک ہی گھڑی کا موقع حاصل ہو۔ اور مخلوق کو خوش کرنے کے لیے اللہ کو ناراض نہ کرنا۔

خوفِ خدا: ایک مدیر کی ضروری شرط

خوفِ خدا الٰہی مدیریت کی سب سے بنیادی اور ضروری شرط ہے۔ اس صفت کے ساتھ مدیر کو دو اقسام میں تقسیم کیا جاسکتا ہے:

اللہ پر ایمان اور یقین رکھنے والا مدیر

ماورائے طبیعت پر یقین نہ رکھنے والا مدیر

شیخ محسن علی نجفی7 ان مدیروں میں شامل تھے جو اللہ کی قدرت، طاقت اور عدالت پر گہرا ایمان رکھتے تھے۔ یہی ایمان آپ کو ہر فیصلے میں اللہ کی خوشنودی کو ترجیح دینے پر آمادہ کرتا تھا۔ آپ کے نظامِ مدیریت میں عدلِ الٰہی کو ہمیشہ پیشِ نظر رکھا جاتا تھا، اور سزا یا جزا کے حوالے سے آپ اپنی ذات کی بجائے اللہ کی رضا کو بنیاد بناتے تھے۔

قیامت کے دن کے حساب کا یقین

آپ کے دل میں یہ یقین ہمیشہ موجود تھا کہ ہر عمل کے بارے میں قیامت کے دن سوال ہوگا۔ یہی وجہ تھی کہ آپ کسی بھی ناانصافی یا نا مناسب اقدام سے اجتناب کرتے۔

عملی نمونہ

شیخ محسن علی نجفی7 کا کردار ایک عملی نمونہ تھا، جو یہ سکھاتا ہے کہ خوفِ خدا رکھنے والا مدیر اپنے نظام میں عدل، انصاف اور اللہ کی رضا کو اولیت دیتا ہے۔ آپ کے طرزِ عمل سے واضح ہوتا ہے کہ ایک مدیر کا اصل مقام اللہ کی خوشنودی اور اس کے سامنے جواب دہی کے شعور میں مضمر ہے۔

فکرِ آخرت: ایک مدیر کی لازمی صفت

شیخ محسن علی نجفی7 کی مدیریت میں فکرِ آخرت ایک اہم اور نمایاں صفت تھی۔ آپ شہرت، جاہ و منصب یا لوگوں کی ستائش کے خواہاں نہیں تھے بلکہ ہمیشہ آخرت کی فکر میں رہتے تھے۔ آپ کی شخصیت کی یہ انفرادیت تھی کہ اگر کوئی آپ کی تعریف کرتا تو آپ ناراض ہوجاتے اور فرماتے: ‘‘کہیں یہ تعریف ہمیں خود پسندی میں مبتلا نہ کر دے، جس کا نتیجہ آخرت کی بربادی کی صورت میں نکلے۔’’

آپ نے حضرت امیر المومنینG کے اس فرمان کو اپنی زندگی کا اصول بنایا:

”تمہاری خوشی صرف آخرت کی حاصل کی ہوئی چیزوں پر ہونی چاہیے۔“

خوشی اور غم کا توازن

خوشی انسانی فطرت کا تقاضا اور زندگی کی ضرورت ہے۔ ہر انسان خوش رہنا چاہتا ہے اور غم سے بچنے کی کوشش کرتا ہے۔ لیکن غم و اندوہ بھی زندگی کا حصہ ہیں، جنہیں قبول کرنا ضروری ہے۔ شیخ محسن علی نجفی7 نے یہ اصول واضح کیا کہ غم کا خوف بذاتِ خود غم سے زیادہ نقصان دہ ہے۔ جو شخص اس خوف میں مبتلا ہوجائے، وہ سکون اور خوشی سے محروم ہو جاتا ہے۔

مشکلات کے حل میں فکرِ آخرت کا کردار

آپ جانتے تھے کہ وسائل کی کمی کے باعث ہر مادی مشکل کو حل کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ تاہم، مشکلات کو محسوس کرنا اور ماتحتوں کے دکھ درد کو سمجھنا، ان مسائل کو کم کرنے کا ایک ذریعہ ہے۔ آپ ہمیشہ ایک خوشگوار ماحول فراہم کرنے کی کوشش کرتے، کیونکہ خوشگوار ماحول میں کامیابیاں زیادہ حاصل کی جاسکتی ہیں، جبکہ وحشت زدہ ماحول ناکامی کا سبب بنتا ہے۔

خوشی کا دائرہ اور حدود

آپ ادارے کی ترقی کے لیے خوشیوں سے بھرپور ماحول کے حامی تھے، لیکن ان خوشیوں کو عارضی اور غیر حقیقی بنیادوں پر استوار کرنے کے مخالف تھے۔ آپ نے خبردار کیا کہ ایسی خوشیاں، جو چاپلوسی، منافقت، رشوت یا دیگر گناہوں کے ذریعے حاصل ہوں، وقتی تو ہوسکتی ہیں مگر آخرت کے نقصان کا باعث بنتی ہیں۔ آپ کا اصول یہ تھا کہ حقیقی خوشیاں وہی ہیں جو اللہ کی رضا کے مطابق ہوں اور آخرت میں کامیابی کا باعث بنیں۔

توکل علی اللہ: مدیریت کی روحانی بنیاد

شیخ محسن علی نجفی7 کی مدیریت کا ایک اہم پہلو توکل علی اللہ تھا۔ آپ نہ صرف خود ہر معاملے میں اللہ پر کامل بھروسہ کرتے بلکہ اپنے ماتحتوں کو بھی اس کی تلقین کرتے۔ آپ امیرالمومنین حضرت علیG کے اس فرمان پر عمل پیرا تھے:

وَ اَنْ یَّنْصُرَ اللّٰهَ سُبْحَانَهٗ بِقَلْبِهٖ وَ یَدِهٖ وَ لِسَانِهٖ، فَاِنَّهٗ جَلَّ اسْمُهٗ قَدْ تَكَفَّلَ بِنَصْرِ مَنْ نَّصَرَهٗ، وَ اِعْزَازِ مَنْ اَعَزَّهٗ۔

اپنے دل، اپنے ہاتھ اور اپنی زبان سے اللہ کی نصرت میں لگے رہیں، کیونکہ خدائے بزرگ و برتر نے ذمہ لیا ہے کہ جو اس کی نصرت کرے گا، وہ اس کی مدد کرے گا اور جو اس کی حمایت کے لیے کھڑا ہوگا، وہ اسے عزت و سرفرازی عطا کرے گا۔

آپ ہمیشہ اس بات پر زور دیتے تھے کہ توکل علی اللہ کے نتیجے میں ناکامی کا خوف ختم ہو جاتا ہے اور کامیابی کی امید بڑھتی ہے۔ آپ کا یقین تھا کہ امید انسان میں مشکلات کا مقابلہ کرنے کی ہمت پیدا کرتی ہے اور زندگی کو ایک مقصد فراہم کرتی ہے۔

شیخ محسن علی نجفی7 کی نگاہ میں الٰہی و مادی مدیریت کا فرق

شیخ محسن علی نجفی7 کے نزدیک ایک مادی مدیر اور ایک الٰہی مدیر کے درمیان بنیادی فرق ان کے نظریات اور عمل میں ظاہر ہوتا ہے۔ مادی مدیر صرف دنیاوی وسائل پر انحصار کرتا ہے، جبکہ الٰہی مدیر اللہ پر توکل کرتے ہوئے نظام چلاتا ہے۔ آپ نے اپنی زندگی میں ہمیشہ اس بات کی مثال پیش کی کہ رب پر بھروسہ کرنے سے انسان مشکلات کا سامنا بہتر انداز میں کر سکتا ہے۔

نرمی و کشادہ روی: مدیریت کا انمول پہلو

شیخ محسن علی نجفی7 کی شخصیت کا ایک نمایاں وصف نرمی اور کشادہ روی تھا، جو آپ کی مدیریت کی اہم خصوصیات میں شامل ہے۔ آپ ہمیشہ اپنے ماتحتوں کے ساتھ شفقت اور محبت سے پیش آتے، جس کی وجہ سے لوگ آپ کے قریب ہونے اور آپ سے رہنمائی حاصل کرنے کے لیے بے تاب رہتے۔ آپ کی نرم گفتاری اور خوش اخلاقی نہ صرف کام کرنے کے جذبے کو دوبالا کرتی بلکہ افراد کو ذہنی سکون اور توانائی بھی فراہم کرتی تھی۔

آپ امیرالمومنین حضرت علیG کے اس فرمان کے عملی نمونہ تھے:

وَ أَلِنْ لَهُمْ جَانِبَكَ وَ اُبْسُطْ لَهُمْ وَجْهَكَ۔

ان کے لیے اپنے پہلو کو نرم کرو اور ان کے لیے اپنے چہرے کو کھلا رکھو۔

شیخ محسن علی نجفی7 کی نرمی کے سبب ماتحت افراد کو ہمیشہ یہ محسوس ہوتا کہ ان کی بات سنی جا رہی ہے اور ان کی رائے کا احترام کیا جا رہا ہے۔

Related Articles

Back to top button