حضرت آیۃ اللہ شیخ محسن علی نجفی 7 کا عشق با امیرالمؤمنین علی ابن ابی طالبG
مقدمہ:
شیخ محسن علی نجفی7 کی زندگی امیرالمومنین حضرت علیG سے عشق و محبت کی عملی تصویر تھی۔ یہ محبت صرف الفاظ تک محدود نہیں تھی بلکہ ان کے کردار، گفتار اور طرزِ زندگی میں جھلکتی تھی۔ یہ محبت محض زبانی یا جذباتی نہیں بلکہ عملی اور فکری بنیادوں پر استوار تھی۔ شیخ صاحب7 کی شخصیت میں علیG سے عشق کی تمام جہات نمایاں تھیں، جنہیں مختلف زاویوں سے بیان کیا جا سکتا ہے۔
علیG کے نام سے کیف و سرور
محبت کی پہچان یہ ہے کہ محبوب کا نام سن کر دل پر کیا کیفیت طاری ہوتی ہے۔ جب شیخ محسن علی نجفی7 کا ذکر آتا ہے تو ان کی شخصیت علیG کے عشق سے سرشار نظر آتی ہے۔ وہ علیG کے نام سے ایک عجیب سرور محسوس کرتے تھے۔ خود ایک واقعہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ وہ ایسے علاقے میں گئے جہاں لوگ علیG سے زیادہ محبت نہ رکھتے تھے۔ واپسی پر سفر کی تھکن کے باوجود جب ایک ملنگ نے گاڑی میں ”نعرہ حیدری“ بلند کیا تو ان کی خوشی دیدنی تھی اور تھکن جیسے ختم ہوگئی۔ یہ کیفیت اس بات کی عکاس تھی کہ ان کے دل میں علیG کی محبت کتنا خاص مقام رکھتی تھی۔
علیG کی معرفت کا شوق
محبت صرف جذباتی کیفیت کا نام نہیں بلکہ معرفت و علم کی متقاضی بھی ہے۔ جو شخص اپنے محبوب سے محبت کرتا ہے، وہ ہمیشہ اس کے بارے میں زیادہ سے زیادہ جاننے کی جستجو کرتا ہے۔ شیخ محسن علی نجفی7 کے عشقِ علوی کی دوسری نمایاں خصوصیت ان کا علیG کی شخصیت، فرامین اور تعلیمات سے گہرا تعلق تھا۔ وہ علیG کے فضائل اور خطبات کو بار بار پڑھتے اور اپنی زندگی میں ان کو شامل کرتے تھے۔ ان کے نزدیک علیG کا ہر قول رہنمائی کا سرچشمہ تھا۔ ان کا ہر درس اور ہر گفتگو علیG کی تعلیمات کے گرد گھومتی تھی۔ وہ ہمیشہ فرماتے: علیG سے مخلص ہو جاؤ، علیG سے مخلص ہو جاؤ، علیG سے مخلص ہو جاؤ۔
علیG کی سیرت کا عملی عکس
عشق کی سب سے بڑی علامت یہ ہے کہ انسان اپنے محبوب کی سیرت کو اپنی زندگی میں اپنانے کی کوشش کرے۔ شیخ محسن علی نجفی7 کی زندگی اس اصول پر قائم نظر آتی تھی۔ ان کی شخصیت میں امیرالمومنینG کی سیرت کے کئی پہلو جھلکتے تھے:
سادگی اور قناعت
شیخ محسن علی نجفی7 کی زندگی سادگی اور قناعت کا مظہر تھی، جو سیرت علوی کا اہم پہلو ہے۔ وہ اپنی ضروریات کو محدود رکھتے اور دنیاوی آسائشوں سے بے نیاز رہتے تھے۔
تقویٰ اور پرہیزگاری
عملی زندگی میں تقویٰ اور پرہیزگاری ان کا خاص وصف تھا۔ ان کے کردار سے یہ ظاہر ہوتا تھا کہ وہ علیG کے نقشِ قدم پر چلنے کی بھرپور کوشش کرتے تھے۔
وقت کی تنظیم اور یادِ آخرت
شیخ محسن علی نجفی7 کی زندگی میں وقت کی تنظیم اور یادِ آخرت کا خاص اہتمام نظر آتا تھا۔ وہ اپنی مصروفیات کو منظم رکھتے اور آخرت کی تیاری کو ہمیشہ پیشِ نظر رکھتے تھے۔
غریب پروری اور یتیم نوازی
امیرالمومنینG کی طرح شیخ محسن علی نجفی7 بھی غریبوں اور یتیموں کی مدد کو اپنی زندگی کا مشن سمجھتے تھے۔ ان کی سخاوت اور مہربانی کے بے شمار واقعات ہیں جو ان کے عشقِ علوی کے عملی ثبوت ہیں۔
تواضع اور انکساری
شیخ محسن علی نجفی7 کی عاجزی اور انکساری ان کی شخصیت کا ایک اہم حصہ تھی۔ وہ ہر ایک سے محبت اور شفقت سے پیش آتے، جو علیG کے کردار کا ایک خاص وصف ہے۔
صبر و تحمل
مشکلات اور مصائب میں صبر و تحمل ان کی زندگی کا ایک لازمی عنصر تھا۔ یہ صفت بھی سیرت علوی کی آئینہ دار تھی، کیونکہ علیG نے اپنی زندگی میں بے پناہ صبر کا مظاہرہ کیا۔
عشقِ علوی کا عملی نمونہ
شیخ محسن علی نجفی7 کی شخصیت عشقِ علوی کا جیتا جاگتا ثبوت تھی۔ ان کا دل علیG کی محبت سے سرشار تھا، ان کی زبان پر علیG کے فضائل رہتے، اور ان کا عمل علیG کی سیرت کا عکاس تھا۔ یہ عشق نہ صرف ان کے الفاظ بلکہ ان کے کردار سے جھلکتا تھا، جو ہر انسان کے لیے ایک مثال ہے۔
شیخ محسن علی نجفی7 نے اپنی زندگی میں عشقِ علوی کو اس خوبصورتی سے اپنایا کہ وہ دوسروں کے لیے ایک مشعلِ راہ بن گئے۔ ان کی زندگی سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ علیG سے محبت کے لیے صرف زبانی دعویٰ کافی نہیں بلکہ اس محبت کو علم، معرفت، اور عمل میں ڈھالنا ضروری ہے۔
ملاقات کا شوق اور موت کا ذکر
محبت کا ایک اہم معیار یہ بھی ہے کہ محبوب سے ملاقات کا کتنا شوق رکھا جائے اور اس کے لیے کتنی کوشش کی جائے۔ شیخ محسن علی نجفی7 کے دل میں امیرالمومنین حضرت علیG سے ملاقات کی شدید خواہش موجود تھی۔
وہ موت کو ایک نئے سفر کی طرح دیکھتے تھے، جو محبوب سے ملاقات کا ذریعہ ہے۔ ان کی آنکھوں کے آنسو اور لرزتی ہوئی آواز ان کے عشق کی گہرائی کو ظاہر کرتی تھی۔ ایک مرتبہ انہوں نے درس میں قرآن مجید کی آیت: کلُّ نفسٍ ذائقةُ الموت کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا:
”جو علیG سے محبت کرتا ہے، موت کا ذائقہ اس کے لیے شیرین ہو جاتا ہے، اور جو علیG سے بغض رکھتا ہے، اس کی زندگی اور موت دونوں تلخیوں سے بھر جاتی ہیں۔“
یہ بیان ان کے عشقِ علوی کے گہرے جذبات کی عکاسی کرتا ہے اور ان کی زندگی میں موت کا ذکر محبت علیG کے تناظر میں موجود رہتا تھا۔
شیخ محسن علی نجفی7 ہمیشہ نبی اکرم ] کے اس مشہور جملے کو دہراتے تھے:
”عنوانُ صحیفۃِ المومن حبُّ علی ابن ابی طالبG“
یعنی مومن کے نامہ اعمال کا عنوان علی ابن ابی طالبG کی محبت ہے۔
محبت علیG: ایمان کا مرکز
شیخ صاحب7 اس جملے کو بارہا دہرا کر علیG کی محبت کو ایمان کا بنیادی ستون قرار دیتے تھے۔ ان کے نزدیک علیG سے محبت نہ صرف روحانی کامیابی کا ذریعہ ہے بلکہ ہر مومن کی زندگی کے اعمال کا خلاصہ ہے۔ وہ فرماتے تھے:
”علیG کی محبت کے بغیر نہ کوئی عمل مقبول ہے اور نہ ایمان مکمل۔“
عشقِ علیG: ایک ہمہ جہتی محبت
شیخ محسن علی نجفی7 کی زندگی کا ہر پہلو علیG کی محبت سے جڑا ہوا تھا۔ ان کے الفاظ، عمل، اور نصیحتیں علیG کے عشق کا پرتو تھیں۔ ان کا عشقِ علیG اس قدر مضبوط اور بے لوث تھا کہ وہ دوسروں کو بھی یہی نصیحت کرتے رہتے:
”علیG کی محبت کو اپنی زندگی کا محور بناؤ اور اپنے اعمال کو علیG کی سیرت کے مطابق ڈھالو۔“
شیخ محسن علی نجفی7: علیG کے سیرت کا علمبردار
شیخ محسن علی نجفی7 کا عشقِ علیG محض ذاتی عقیدت تک محدود نہیں تھا بلکہ وہ اس محبت کو دوسروں تک پہنچانے اور علیG کی سیرت و فضائل کو عام کرنے میں بھی ہمیشہ پیش پیش رہتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ علیG کی شخصیت کو سمجھنا، ان کی تعلیمات کو اپنانا، اور دوسروں کو اس پر عمل کی تلقین کرنا ہی حقیقی نجات کا راستہ ہے۔
علیG کی سیرت دوسروں تک پہنچانے کا جذبہ
شیخ صاحب7 نہ صرف علیG کی سیرت خود پڑھتے اور اپناتے تھے بلکہ دوسروں کو بھی اس جانب متوجہ کرتے تھے۔ ان کا ہر درس، ہر بیان، اور ہر گفتگو علیG کی شخصیت کے گرد گھومتی تھی۔ وہ فرمایا کرتے تھے:
”علیG نبی اکرم ] کو خدا کی طرف سے دیا گیا دوسرا بڑا معجزہ ہیں، اور علیG تعلیماتِ نبوی کے حقیقی ترجمان ہیں۔“
سیرت علوی کا مطالعہ اور تعلیم
شیخ محسن علی نجفی7 کے نزدیک علیG کی سیرت کا مطالعہ انسان کی روحانی و اخلاقی تربیت کے لیے ضروری ہے۔ وہ اس بات پر زور دیتے تھے کہ علیG کی زندگی کو صرف ایک تاریخی شخصیت کے طور پر نہیں بلکہ ایک رہنما کے طور پر سمجھا جائے۔ وہ اکثر یہ بھی بیان کرتے تھے کہ:
”نبی اکرم ] دن میں دو یا ایک بار امیرالمومنینG کو خصوصی تعلیم و تربیت دیتے تھے، کیونکہ پوری امت ایک طرف تھی اور علیG کی ذاتِ گرامی دوسری طرف۔“
یہ بیان ان کے عشقِ علیG کی گہرائی اور سیرت علوی کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے
علیG: حق کا معیار اور نجات کا راستہ
شیخ محسن علی نجفی7 علیG کو ”حق کا معیار“ اور ”صراط مستقیم“ قرار دیتے تھے۔ ان کے نزدیک، علیG کی محبت اور ان کی سیرت پر عمل کے بغیر نجات ممکن نہیں۔ وہ فرمایا کرتے تھے:
”علیG حق اور باطل میں فرق کرنے والے ہیں، اور ان کی پیروی ہی انسان کو کامیابی کی راہ دکھا سکتی ہے۔“
ان کا یہ عقیدہ تھا کہ علیG کی سیرت پر چلنے والے ہی دنیا اور آخرت دونوں میں سرخرو ہو سکتے ہیں۔
سیرتِ علوی کی تبلیغ میں وقت اور توانائی کا استعمال
شیخ صاحب7 نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ علیG کی تعلیمات کو عام کرنے میں گزارا۔ ان کے خطبات، دروس، اور تحریریں سیرتِ علوی کے گہرے مطالعے کا ثبوت ہیں۔ وہ نہ صرف خود اس سیرت پر عمل کرتے بلکہ دوسروں کو بھی اس کی اہمیت سے آگاہ کرتے تھے۔
علیG کی محبت کا سفیر
شیخ محسن علی نجفی7 علیG کی محبت اور سیرت کے حقیقی سفیر تھے۔ ان کی زندگی اس بات کا عملی ثبوت تھی کہ علیG کی تعلیمات کو عام کرنا ایک دینی و اخلاقی ذمہ داری ہے۔ ان کی نصیحتیں اور تعلیمات آج بھی ہمیں یہ پیغام دیتی ہیں کہ اگر دنیا و آخرت میں کامیابی چاہتے ہو تو علیG کی سیرت کو اپناؤ اور ان کی تعلیمات کو اپنی زندگی کا حصہ بناؤ۔
شیخ محسن علی نجفی7 کی یہ کاوشیں ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ محبتِ علیG صرف زبانی دعوے کا نام نہیں بلکہ اس کے لیے معرفت، عمل، اور تبلیغ کا راستہ اختیار کرنا ضروری ہے۔ ان کی زندگی ہمارے لیے ایک مشعلِ راہ ہے، اور ان کی تعلیمات آج بھی ہمارے لیے رہنمائی کا ذریعہ ہیں۔
محبت علیG: شیخ محسن علی نجفی7 کا طلبہ سے عشق
شیخ محسن علی نجفی7 کی زندگی عشق علیG کے مختلف پہلوؤں سے مزین تھی۔ ان کی شخصیت کا ایک نمایاں پہلو یہ تھا کہ وہ ہر اس طالب علم سے بے پناہ محبت کرتے تھے جو نجف اشرف میں حصولِ علم کے لیے منتخب ہوتا۔ ان کے دل میں امیرالمومنینG کے جوار میں رہنے والوں کے لیے ایک خاص مقام تھا، اور وہ ان طلبہ کو مولا علیG کی محبت اور ان کی زیارت کی اہمیت کا بار بار احساس دلاتے تھے۔
شیخ محسن علی نجفی7 نجف اشرف جانے والے طلبہ کو خوش نصیب قرار دیتے تھے۔ ان کا کہنا تھا:
”آپ خوش نصیب ہیں کہ مولا علیG نے آپ کو اپنے جوار میں علم حاصل کرنے کے لیے منتخب کیا ہے۔“
یہ الفاظ ان کے دل میں علیG کی محبت اور ان طلبہ کے لیے احترام کو ظاہر کرتے تھے جو مولا کے شہر میں علم حاصل کرنے جاتے تھے۔
مولیٰ علیG کی زیارت کا اصرار
شیخ صاحب7 صرف علمی تعلیم کو کافی نہیں سمجھتے تھے بلکہ مولا علیG کی زیارت کو بھی لازم قرار دیتے تھے۔ وہ طلبہ سے فرماتے:
”نجف جاکر مولا علیG کے حضور حاضری لگوانی ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ وہاں کئی سال تعلیم حاصل کریں، لیکن مولا آپ کو اپنے ہاں حاضر نہ پائیں۔“
یہ جملے ان کے عشق علیG کی گہرائی کو ظاہر کرتے تھے، جہاں صرف زیارتِ علیG کو رسمی عمل نہیں بلکہ روحانی تعلق کا مظہر سمجھا جاتا تھا۔
زیارت کے حقیقی مفہوم کی وضاحت
شیخ محسن علی نجفی7 کے نزدیک، زیارت محض مزار پر حاضری نہیں بلکہ مولا علیG کی تعلیمات کو سمجھنا اور اپنی زندگی میں ان کے نقش قدم پر چلنا تھا۔ وہ طلبہ کو یاد دلاتے:
”صرف مولا کی زیارت کافی نہیں، بلکہ ان کی تعلیمات کو اپنانا ضروری ہے۔“
یہ نصیحت ظاہر کرتی ہے کہ وہ علیG کی محبت کو عملی طور پر اپنی زندگی میں شامل کرنے پر زور دیتے تھے۔
طلبہ کی اہمیت کو اجاگر کرنا
شیخ صاحب7 ان طلبہ کو علیG کے علم کے امین اور ان کے جوار میں رہنے کا اعزاز رکھنے والا سمجھتے تھے۔ وہ ان کی تربیت اور رہنمائی کے لیے ہمیشہ کوشاں رہتے اور ان کے اندر علیG کی محبت کو مزید گہرا کرنے کی کوشش کرتے تھے۔
عشق علیG کا ایک منفرد پہلو
شیخ محسن علی نجفی7 کی طلبہ سے محبت ان کے عشق علیG کا ایک منفرد پہلو تھا۔ وہ طلبہ کو نہ صرف علمی میدان میں کامیاب دیکھنا چاہتے تھے بلکہ ان کے دلوں میں علیG کی محبت کو زندہ رکھنے کی بھی فکر کرتے تھے۔
ان کا یہ پیغام آج بھی طلبہ اور علیG کے چاہنے والوں کے لیے ایک روشن مثال ہے کہ مولا کی محبت کو اپنی تعلیم، عمل، اور زندگی کا حصہ بنائیں۔ شیخ صاحب7 کی یہ نصیحت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ علیG کی زیارت صرف جسمانی حاضری نہیں بلکہ ایک روحانی تعلق کی مظہر ہے، جسے سمجھنا اور اپنانا ضروری ہے۔
النہج السوی فی معنی المولٰی والولی: ولایتِ علیG کی عظیم تحقیقی تصنیف
شیخ محسن علی نجفی7 کی امیرالمومنین علی ابن ابی طالبG سے محبت اور علمی لگاؤ کا ایک نمایاں ثبوت ان کی گراں قدر تحقیقی کتاب
”النہج السوی فی معنی المولٰی والولی“ ہے۔ یہ کتاب شیخ صاحب7 نے نجف اشرف میں تعلیم کے دوران لکھی، اور یہ آج بھی ولایتِ علیG پر لکھی گئی اہم ترین تحقیقی کتب میں شمار ہوتی ہے۔
بنیاد: لفظِ”مولی“ اور”ولی“ کی تحقیق
اس کتاب میں شیخ محسن علی نجفی7 نے لفظ”مولٰی“اور ”ولی“ کے معانی پر تفصیلی بحث کی اور ناقابلِ تردید شواہد اور دلائل کے ذریعے ان الفاظ کے حقیقی مفاہیم کو واضح کیا۔ انہوں نے یہ ثابت کیا کہ حدیثِ رسول اکرم ] میں لفظ ”مولٰی“ اور ”ولی“امامت، اولی بالتصرف، اور حاکمیت کے معانی میں استعمال ہوا ہے۔
آیۃ اللہ بزرگ تہرانی قدس سرہ کی تقریظ
شیخ محسن علی نجفی7 کی علمی صلاحیتوں اور ان کی تحقیق کی گہرائی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ وقت کے مشہور فقیہ حضرت آیۃ اللہ بزرگ تہرانیؒ نے اس کتاب کی تعریف میں تقریظ لکھی۔ یہ اعزاز نہ صرف اس کتاب کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے بلکہ شیخ صاحب7 کی علمی حیثیت کو بھی تسلیم کرتا ہے۔
کتاب کی اہمیت
”النہج السوی فی معنی المولی والولی“آج بھی ان نادر کتب میں شامل ہے جو امامت و ولایت پر مضبوط اور مستند تحقیقی بنیاد فراہم کرتی ہیں۔ اس میں بیان کردہ دلائل اور شواہد نے ولایت علیG کے مسئلے کو علمی اور تاریخی سطح پر ناقابلِ تردید بنا دیا ہے۔
ولایت علیG کا ایک عظیم علمی اثاثہ
شیخ محسن علی نجفی7 کی یہ تصنیف ان کے عشق علیG اور علمی گہرائی کی مظہر ہے۔ یہ کتاب نہ صرف ان کے عشق علیG کا عملی اظہار ہے بلکہ امت مسلمہ کے لیے ایک قیمتی علمی سرمایہ بھی ہے۔ شیخ صاحب7 کی یہ کاوش ہمیشہ یاد رکھی جائے گی اور ولایت علیG کے موضوع پر تحقیق کرنے والوں کے لیے مشعلِ راہ بنی رہے گی۔
علی امام بنص صفاتہ و خصائص ذاتہ: امامت علیG پر شیخ محسن علی نجفی7 کی علمی شاہکار کاوش
شیخ محسن علی نجفی7 کی امیرالمومنین علی ابن ابی طالبG سے محبت اور ان کی حقانیت کو ثابت کرنے کی ایک اور عظیم مثال ان کی مشہور کتاب ”علی امام بنص صفاتہ و خصائص ذاتہ“ ہے۔ یہ کتاب عربی زبان میں لکھی گئی۔ شیخ محسن علی نجفی7 نے اس کتاب میں نہایت باریک بینی سے امیرالمومنینG کی صفات، ان کے ذاتی کمالات، اور خدا کی طرف سے منتخب امام اور ولی ہونے کو احادیثِ نبوی اور مستند حوالوں کے ذریعے ثابت کیا۔ انہوں نے امیرالمومنینG کو نبی اکرم ] کا برحق وصی اور خدا کا منتخب کردہ امام قرار دینے کے لیے ہر پہلو پر تفصیلی بحث کی ہے۔
صحاح ستہ اور شیعہ راویوں کی روایات
شیخ صاحب7 نے اس کتاب میں صحاح ستہ میں موجود شیعہ راویوں اور ان سے نقل ہونے والی روایات کی تعداد کا بھی ذکر کیا، جن کی تعداد 15675 ہے۔ یہ تحقیق نہ صرف احادیث کے مستند ہونے کی دلیل ہے بلکہ شیعہ نقطہ نظر کے تاریخی جواز کو بھی مضبوط کرتی ہے۔
فکر و نظر کے لیے سوالات
کتاب کے ہر باب کے آخر میں شیخ صاحب7 نے ایک ”یڈنگ سوال“ چھوڑا ہے، جو قاری کو غور و فکر پر مجبور کرتا ہے۔ یہ سوالات قاری کے ذہن میں یہ واضح کرنے کے لیے ہیں کہ حقیقی طور پر امامت کے مستحق کون ہیں اور علیG کی امامت کو انکار کرنے والے کہاں کھڑے ہیں۔
مقتل خلفاء اور فلسفہ شہادتِ علیG
کتاب میں مقتل خلفاء کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جہاں شیخ صاحب7 نے یہ نکتہ بیان کیا کہ نبی اکرم ] نے صرف امیرالمومنینG کو ان کی شہادت کی پیشگی اطلاع دی، جبکہ دیگر خلفاء کے بارے میں ایسا کوئی ذکر نہیں ملتا۔ شیخ صاحب7 کے مطابق یہ حقیقت فلسفے اور مقصد سے خالی نہیں ہے، بلکہ علیG کے مقام اور ان کی شہادت کی اہمیت کو ظاہر کرتی ہے۔
اختتامیہ
شیخ محسن علی نجفی7 کی زندگی عشقِ علیG کی جیتی جاگتی تصویر تھی۔ علیG کے نام سے دل سرشار ہو جاتا، اور ان کی معرفت و سیرت شیخ کی شخصیت کا محور تھی۔ سادگی، تقویٰ، اور سخاوت ان کے کردار کے نمایاں پہلو تھے۔ انہوں نے طلبہ کو علیG کی محبت، زیارت، اور تعلیمات اپنانے کی ترغیب دی۔ اپنی تصانیف ”النہج السوی“ اور ”علی امام بنص صفاتہ“ کے ذریعے علیG کی ولایت و امامت پر مضبوط دلائل پیش کیے۔ ان کی حیات عشقِ علیG، معرفت، اور تبلیغ کا عملی مظہر تھی، جو ہر مومن کے لیے ایک روشن مثال اور رہنمائی کا چراغ ہے۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ آپ کو امیرالمومنینG کے ساتھ محشور فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔