
نکاح موقت ایک تحقیقی جائزہ
شیخ محسن علی نجفی نے اپنی تفسیر قرآن میں نکاح موقت (متعہ) کو ایک جائز عقد قرار دیا ہے، جو ایک خاص مدت کے لیے ہوتا ہے، اور اس میں وقت کی تعیین بنیادی شرط ہے۔ اس عقد میں نیت کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے، بشرطیکہ مدت کی وضاحت کی جائے۔
فقہ اسلامی میں رائے
انہوں نے مختلف مذاہب فقہ اسلامی کے مطابق نکاح موقت کی شرعی حیثیت کو واضح کیا۔ شیعہ اور سنی مکاتب فکر کے مابین اس مسئلے پر اختلافات کو بھی اجاگر کیا۔ کچھ علماء اسے جائز سمجھتے ہیں جبکہ دوسرے اس پر اعتراض کرتے ہیں۔
نیت کی اہمیت
شیخ صاحب نے اس بات پر زور دیا کہ نکاح موقت کی نیت میں کوئی عیب نہیں ہے، بشرطیکہ وہ باقاعدہ طور پر کی جائے اور اس کی مدت کی وضاحت کی جائے۔ نیت میں کوئی چھپاؤ نہ ہو تو اس نکاح میں شرعی طور پر کوئی حرج نہیں۔
اجتماعی تناظر
انہوں نے نکاح موقت کو سماجی اور معاشرتی تناظر میں بھی سمجھایا، جس میں فرد کی ضروریات اور مخصوص حالات میں اس عقد کی اہمیت پر زور دیا گیا۔ نکاح موقت بعض اوقات معاشرتی مسائل کو حل کرنے کے لیے ضروری ہو سکتا ہے۔
اسلامی تاریخ میں متعہ
شیخ صاحب نے اسلامی تاریخ کا حوالہ دیا، اور بتایا کہ ابتدائی اسلام میں متعہ کو جائز سمجھا گیا، اور حضرت عمر کے دور تک یہ عمل رائج تھا۔ بعد میں اس پر مختلف رائے پائی جانے لگی، لیکن شیخ صاحب نے اس کی تاریخی حیثیت کو تسلیم کیا۔
علماء کی مختلف آراء
انہوں نے مختلف اسلامی فقہاء کی آراء کو پیش کیا اور بتایا کہ بعض اہل علم اسے جائز سمجھتے ہیں جبکہ دوسرے اس پر اعتراض کرتے ہیں۔ اس حوالے سے شیخ محسن نے علمی دلائل پیش کیے۔
عورت کے حقوق
شیخ محسن نے اس بات پر زور دیا کہ نکاح موقت میں عورت کے حقوق کا مکمل خیال رکھا جائے، اور اس کی رضا مندی لازمی ہو۔ اس میں عورت کو کسی بھی طرح کے نقصان سے بچایا جائے۔
مذاہب میں فرق
انہوں نے نکاح موقت کے بارے میں سنی اور شیعہ علماء کے نظریات میں فرق کو بیان کیا، اور اس میں کوئی حرج نہ ہونے کی بات کی۔ یہ اختلافی مسئلہ رہا ہے، لیکن شیخ محسن نے اس میں اعتدال پسند رائے پیش کی۔
زنا سے بچاؤ
شیخ محسن نے نکاح موقت کو معاشرتی سطح پر زنا کی روک تھام کا ایک ذریعہ قرار دیا، خاص طور پر ان حالات میں جب طلاق کے بعد خواتین معاشرتی مشکلات کا سامنا کرتی ہیں۔ اس نکاح کو سماجی طور پر ایک متبادل سمجھا گیا ہے۔
ایسا نہیں کہ متعہ صرف لذت کے لیے ہو
انہوں نے یہ بھی کہا کہ نکاح موقت صرف جسمانی لذت کے لیے نہیں ہونا چاہیے، بلکہ اس میں ایک اخلاقی، روحانی اور معاشرتی مقصد شامل ہونا چاہیے۔ یہ ایک محدود مدت کے لیے جائز تعلق قائم کرتا ہے۔
اسلامی معاشرت میں اس کی ضرورت
شیخ محسن نے یہ واضح کیا کہ اس قسم کے نکاح کی موجودگی ایک ضرورت بن سکتی ہے، خاص طور پر ایسے معاشروں میں جہاں عورتوں کے حقوق کو مکمل طور پر تسلیم نہیں کیا جاتا۔ یہ ایک ایسا راستہ ہو سکتا ہے جو معاشرتی مسائل کے حل میں مددگار ثابت ہو۔
عورت کی رضامندی
شیخ محسن علی نجفی نے نکاح موقت میں عورت کی رضا مندی کو اہم قرار دیا، اور کہا کہ اس کی آزادی کو یقینی بنانا ضروری ہے۔ دونوں فریقین کی رضا مندی اس نکاح کی اساس ہے۔
مختلف مذاہب کے بیانات
انہوں نے کتاب میں مختلف اسلامی مذاہب کی تفصیلات پیش کی ہیں اور ان کی تفصیل سے وضاحت کی ہے کہ کیوں یہ مسئلہ ان کے درمیان اختلافی بنا ہوا ہے۔ یہ اختلافات فقہ کے مختلف مکاتب فکر میں ہیں۔
وقت کی اہمیت
انہوں نے نکاح موقت میں وقت کی تعریف اور اس کی وضاحت کو بہت اہمیت دی اور اس کے بغیر عقد کو غیرمؤثر سمجھا۔ نکاح کا وقت طے کرنا لازمی ہے، تاکہ دونوں فریقین کے حقوق محفوظ ہوں۔
اسلام میں تنوع
شیخ محسن نے یہ بات بھی کہی کہ اسلام میں مسائل کے حل میں تنوع پایا جاتا ہے، اور نکاح موقت بھی ان اختلافات کے تحت ایک جائز راستہ ہو سکتا ہے۔ مختلف مکاتب فکر کے علماء کا یہ اختلاف کسی حد تک قابل فہم ہے۔
اس کا مقصد معاشرتی استحکام ہے
شیخ محسن نے اس پر زور دیا کہ نکاح موقت ایک ایسی تدبیر ہو سکتی ہے جو معاشرتی استحکام اور فرد کی روحانیت کو بہتر بناتی ہے۔ یہ معاشرتی اور اخلاقی اعتبار سے فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔
متفقہ یا غیر متفقہ مسائل
ان کے مطابق، نکاح موقت کو جائز یا ناجائز سمجھنے کے حوالے سے امت کے اندر کچھ متفقہ اور غیر متفقہ مسائل موجود ہیں۔ شیخ محسن نے اس اختلاف کو علمی سطح پر سلجھانے کی کوشش کی۔
عہد و پیمان
شیخ محسن نے نکاح موقت کو ایک عہد و پیمان کے طور پر پیش کیا، جس میں دونوں فریقین اپنی ضروریات کے مطابق فیصلہ کرتے ہیں۔ یہ ایک معاہدہ ہے جس میں فریقین کے حقوق کا تحفظ کیا جاتا ہے۔
عورت کی مالی آزادی
شیخ محسن نے اس بات کو بھی اہمیت دی کہ نکاح موقت میں عورت کو مالی طور پر خودمختاری حاصل ہو، تاکہ وہ اس عقد کے تمام قانونی اور اخلاقی اثرات سے آگاہ ہو۔
علمی توثیق
انہوں نے اپنی تفسیر میں نکاح موقت کو مختلف علمی توثیقات کے ساتھ بیان کیا ہے، تاکہ یہ مسئلہ ایک علمی بحث کے طور پر کھل کر سامنے آئے۔ اس کے بارے میں مختلف رائے ہونے کے باوجود شیخ محسن نے اس پر ایک جامع اور تفصیلی نظر پیش کی۔
مستقبل میں استعمال کی اہمیت
آخر میں شیخ محسن علی نجفی نے نکاح موقت کی اہمیت کو مستقبل میں اسلام کے معاشرتی مسائل کو حل کرنے کی ایک اہم تدبیر کے طور پر بیان کیا۔




