نیمہ شعبان میں شادی خانہ آبادی کے لیے امداد پروگرام
محسن ملت7 کی شخصیت اپنے زمانے میں انسانیت کی خدمت، ضرورت مندوں کی کفالت، اور معاشرتی بھلائی کے لیے نمایاں تھی۔ انہی کے فلاحی ویژن کے تحت 1997 میں ”نیمہ شعبان میں شادی خانہ آبادی کے لیے امداد پروجیکٹ“ کا آغاز ہوا۔ اس پروجیکٹ نے نادار اور مستحق افراد کی مالی معاونت کے ذریعے نہ صرف ان کی مشکلات کو کم کیا بلکہ ان کی زندگیوں میں خوشیوں کے چراغ جلائے۔ اس پروجیکٹ کی ترقی اور کامیابی انہی کی بصیرت، ان کی غریب پروری اور عوام کے ساتھ گہری وابستگی کا نتیجہ ہے۔
پروگرام کی عمومی تفصیلات
”نیمہ شعبان میں شادی خانہ آبادی کے لیے امداد پروگرام“ 1997 میں محسن ملت7 کی فلاحی عزم و بصیرت کے تحت شروع کیا گیا۔ اس کا بنیادی مقصد دینی مدارس کے طلباء کی معاونت تھا تاکہ وہ اپنی ازدواجی زندگی کے آغاز میں مالی مشکلات سے بچ سکیں۔ تاہم، وقت کے ساتھ بڑھتی ہوئی ضرورتوں کے پیش نظر اس پروگرام کو دیگر مستحقین، نادار سادات، اور غیر سادات مومنین تک وسیع کر دیا گیا۔
ابتدائی طور پر اس پروجیکٹ کے تحت 70 سے 100 درخواستیں موصول ہوتی تھیں، مگر اب یہ تعداد بڑھ کر 1000 سے 1500 تک پہنچ گئی ہے۔ امداد کے خواہشمند افراد کی دو الگ فہرستیں مرتب کی جاتی ہیں: ایک دینی طلباء کے لیے اور دوسری عمومی مستحقین کے لیے۔ ہر علاقے میں افراد کی ضرورت اور معاشی حالات کا جائزہ لے کر امداد کی تقسیم کو منصفانہ بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔
امداد کی تفصیلات
شروع میں یعنی 1997 میں ہر خاندان کو 20,000 روپے کی نقد امداد فراہم کی جاتی تھی، جو وقت کے ساتھ بڑھا کر 2024 میں 120,000 روپے تک پہنچ چکی ہے۔ نقد امداد کے علاوہ اجتماعی شادیوں کے پروگرام بھی مختلف شہروں میں منعقد کیے جاتے ہیں، جہاں شادی کے تمام اخراجات اسی پروگرام کے تحت پورے کیے جاتے ہیں۔
اب تک ان اجتماعی شادیوں کے ذریعے تقریباً 2500 جوڑے رشتہ ازدواج میں منسلک ہو چکے ہیں۔ مانسہرہ، سکردو، اور میانوالی جیسے علاقوں میں ہر سال یا ہر دو سال بعد 15 شعبان کے موقع پر اجتماعی شادیوں کا اہتمام کیا جاتا ہے، جہاں ولیمہ کے اخراجات بھی اس پروگرام کے ذریعے فراہم کیے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ، سال بھر بھی کسی مستحق کی درخواست پر شادی کے اخراجات کی مد میں امداد فراہم کی جاتی ہے، خصوصاً دینی طلباء کو ترجیح دی جاتی ہے۔
شرائط و ضوابط
درخواست دینے کا عمل سہل ہے۔ مستحقین اپنی درخواست جامعہ الکوثر میں جمع کراتے ہیں، جس کے بعد ان کے مستحق ہونے تصدیق کی جاتی ہے۔ درخواست گزار کی مالی حیثیت اور رخصتی کے نیمہ شعبان کو ہونے کی خفیہ تحقیق کے بعد، مستحق افراد کی امداد کا انتخاب کیا جاتا ہے۔ امداد کی تقسیم عزت نفس کا خاص خیال رکھتے ہوئے کی جاتی ہے تاکہ کسی کو خبر نہ ہو۔ اس پروجیکٹ سے اب تک تقریباً 9000 خاندانوں کو امداد فراہم کی جا چکی ہے۔
پروجیکٹ کے اثرات
یہ پروجیکٹ حقیقی معنوں میں مستحق افراد کے لیے ایک نعمت ثابت ہوا ہے۔ ایسے بے شمار واقعات ہیں جو اس بات کا ثبوت دیتے ہیں کہ یہ امداد کئی افراد کے لیے مشکلات کے خاتمے کا ذریعہ بنی۔ اس امدای پروجیکٹ سے استفادہ کرنے والے اکثر خاندانوں کے بارے تصدیق کے بعد معلوم ہوا کہ شادی کے اخراجات نا ہونے کی وجہ سے کئی سال سے اس فریضہ کو انجام دینے سے قاصر تھے۔ اس پروجیکٹ کے ذریعے فراہم کردہ مدد نے ان کا خواب پورا کر دیا اور اپنے وظیفہ شرعی سے عہدہ بر آ ہونے کا موقع دیا، جو بصورت دیگر ممکن نہ ہو پاتا۔
”نیمہ شعبان میں شادی خانہ آبادی کے لیے امداد پروگرام“ نے نہ صرف دینی طلباء بلکہ دیگر مستحقین کے لیے شادی کے اخراجات کو ممکن بنایا۔
پروجیکٹ کی وسعت، شفافیت، اور منصفانہ تقسیم نے اسے ایک کامیاب فلاحی اقدام بنا یا ہے۔ اس پروگرام کے اثرات ان مستحق خاندانوں کی زندگیوں میں ایک نئی امید اور خوشحالی کی صورت میں واضح طور پر جھلکتے ہیں، جو اپنی مالی مشکلات کے باعث ازدواجی فرائض کی ادائیگی سے قاصر تھے۔
یہ امداد نہ صرف ان کے بوجھ کو ہلکا کرتی ہے بلکہ ان کے لیے ایک با عزت زندگی کے آغاز کا ذریعہ بھی بنتی ہے۔