سوانح حیات

حجۃ الاسلام والمسلمین علامہ شیخ محسن علی نجفی دام عزہ

عکسِ حیات نامور مصنف، مؤلف، مترجم، معلم، مفسر قرآن

علاقائی و خاندانی پس منظر

برف پوش پہاڑوں، سرسبز و شاداب وادیوں، گنگناتی آبشاروں اور اپنی گہرائیوں پر ناز کرتی ہوئی پر سکون جھیلوں کا دوسرا نام شمالی علاقہ جات ہے۔ پاکستان کے اسی علاقے میں واقع شہر سکردو کے مرکز سے 60 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع دور افتادہ، دشوار گزار مگر حسن فطرت سے مالا مال ایک گاؤں منٹوکھا مفسر قرآن علامہ شیخ محسن علی نجفی کی جائے ولادت ہے۔ خاندانی ریکارڈ کے مطابق آپ کا سنِ ولادت 1943ء ہے۔ آپ کے پر دادا جان کا اسم گرامی حسین حلیم، دادا جان کا نام عبد الحلیم اور والد صاحب کا نام نامی مولانا حسین جان ہے۔

آپ کے والد صاحب کو خدا نے تین بیٹے اور تین بیٹیوں سے نوازا اور بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹے ہونے کی وجہ سے والدین کا سب سے زیادہ لاڈ پیار آپ کے حصے میں آیا۔

1943ء میں سکردو کا یہ دور افتادہ گاؤں سادہ طرزِ زندگی کا حامل تھا یہاں کے سبھی لوگ کھیتی باڑی کرتے تھے، بھیڑ بکریاں پالتے تھے اور مقامی وسائل کو بروئے کار لا کر گزر اوقات کیا کرتے تھے۔

زندگی کے اہم واقعات

قیام پاکستان کے وقت آپ کی عمر مبارک پانچ سال جبکہ آزادی بلتستان کے وقت آپ کی عمر چھ سال تھی تاہم کم عمری کے باوجود اس وقت کے اہم واقعات آج بھی آپ کے ذہن پر پوری طرح نقش ہیں چنانچہ انھیں یاد ہے کہ اس وقت قائد اعظم محمد علی جناح کا نام زبانِ زد عام تھا اور علاقے کے مکینوں کی پاکستان میں شمولیت کے لیے رائے شماری کا شور و غوغا بھی ان کے کانوں میں پڑتا تھا اس کے علاوہ بلتستان کے بہادر اور غیور عوام نے بلتستان کی آزادی کے لیے جو عظیم جدوجہد کی اس حوالے سے بھی انھیں یاد ہے کہ جنگ آزادی بلتستان میں شرکت کرنے والے مجاہدین کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے ان کے گاؤں میں ایک تقریب ہوئی تھی اور اس تقریب میں ان کے والد صاحب نے مجاہدین کی جدوجہد کے حوالے سے اشعار پڑھ کر لوگوں سے زبردست داد پائی تھی۔ تقریب کے اختتام پر صدرِ محفل نے انکے والد صاحب کو دس روپے کا ہندوستانی سکہ بطور انعام دیا تھا (اسوقت تک پاکستانی کرنسی گردش میں نہ آئی تھی) دس روپے کا وہ سکہ ایک عرصے تک ان کے خاندان کے پاس بطور یادگار محفوظ رہا۔

آغاز تعلیم

علامہ صاحب کی عمر ابھی 14 سال تھی کہ ان کے والد صاحب کا انتقال ہو گیا اور شفقت پدری سے محرومی کے ساتھ ساتھ ان کی تعلیم کا سلسلہ بھی وقتی طور پر رک گیا ایسے میں ان کے گاؤں سے متصل ایک گاؤں تھا جو اب بھی آخوند گاؤں کہلاتا ہے۔ آخوند گاؤں قدیم شیعہ بستی تھی جبکہ ان کا سارا علاقہ نور بخشی تھا اور اس کے برعکس اس وقت وہ سارا گاؤں شیعہ تھا اس گاؤں کے ایک عالم دین مولانا حسین کے پاس انھوں نے دوبارہ تعلیم شروع کی اور صرف میر وغیرہ بھی وہیں پڑھی ان کے استاد اخوند حسین نے مقامی طور تعلیم حاصل کی تھی اس کے بعد علامہ سید احمد موسوی (جو کہ نجف کے فارغ التحصیل تھے) کے پاس وہ پڑھتے رہے اور ان سے خاطر خواہ تعلیم حاصل کی یہ مولانا صاحب ان کے گاؤں کی دوسری جانب واقع قریبی گاؤں میں رہتے تھے چنانچہ شرح لمعہ تک تعلیم انھوں نے علامہ سید احمد موسوی رحمۃ اللہ علیہ ہی سے حاصل کی۔

عالم مسافرت اور حصول علم

بلتستان سے باہر جانے اور مزید تعلیم کے لیے اداروں کی تلاش علامہ صاحب کا ذاتی فیصلہ تھا اور کسی نے انھیں یہ سوچ نہیں دی تھی کہ انھیں تعلیم کے لیے بلتستان سے باہر جانا چاہیے چنانچہ وہ از خود حصول علم کا شوق لیئے 1960ء میں بلتستان سے چلے تاہم تعلیمی اداروں کی بابت ضروری معلومات نہ ہونے کے باعث کراچی کا چکر لگا کر واپس بلتستان آ گئے اور حصول تعلیم کے لیے کوئی راہ نہ نکال سکے یہاں تک کہ پھر تین سال بعد یعنی 1963ء میں دوبارہ کراچی آئے اور حیدر آباد سندھ کے مدرسہ مشارع العلوم میں داخلہ لیا اس وقت وہاں مولانا ثمر حسن زیدی صاحب مدرسے کے پرنسپل تھے اور مولانا منظور حسین صاحب ان کے ادبیات کے استاد تھے مولانا ثمر حسن زیدی اور مولانا منظور حسین رحمۃ اللہ علیہم دونوں ہی ان کے پسندیدہ استاد تھے۔ مدرسہ مشارع العلوم حیدر آباد سندھ میں علامہ صاحب نے ایک سال گذارا۔ ابتدا میں انھیں اردو اچھی طرح نہیں آتی تھی لیکن جب وہ حیدر آباد میں رہے تو وہاں کیونکہ اردو بولنے کا رواج تھا اور مولانا ثمر حسن زیدی و مولانا منظور حسین، ان دونوں کی مادری زبان بھی اردو تھی اگرچہ وہاں سندھی طالب علم بھی تھے تاہم اردو کا غلبہ تھا اس لیے وہاں رہ کر انھوں نے بھی اردو سیکھ لی۔ مدرسہ مشارع العلوم سندھ میں شرح لمعہ سے نیچے تک تعلیم دی جاتی تھی چنانچہ انھیں بھی وہاں ایک سال تک شرح لمعہ سے نیچے تعلیم دی جاتی رہی لہٰذا انھیں مزید تعلیم کے حصول کی خاطر ایک سال بعد ہی یہ مدرسہ چھوڑنا پڑا البتہ عربی ادب میں وہاں پڑھائی جانے والی کتب اور اردو لکھنے بولنے کی مشق نے انھیں آئندہ زندگی میں بہت فائدہ پہنچایا۔

اس زمانے میں مدرسہ مشارع العلوم حیدر آباد سندھ ایک باقاعدہ مدرسہ تھا جس میں طلباء کو تمام سہولتیں میسر تھیں تاہم علامہ صاحب نے حصول علم کے لیے کیونکہ کبھی بھی سہولیات کی پرواہ نہیں کی لہٰذا اس باسہولت مدرسے کو چھوڑنے کی وجہ بھی محض یہ بنی کہ وہاں شرح لمعہ سے نیچے تک کی تعلیم تھی جبکہ وہ شرح لمعہ پہلے ہی سے پڑھ چکے تھے چنانچہ علامہ صاحب نے ایک سال بعد ہی مدرسہ مشارع العلوم چھوڑ دیا جبکہ ان دنوں خوشاب میں مولانا محمد حسین رحمۃ اللہ علیہ (آف سدھو پورہ) دارالعلوم جعفریہ خوشاب کے پرنسپل تھے علامہ صاحب نے جب ان کا نام سنا تو وہ ان کے پاس دارالعلوم خوشاب آگئے۔ علامہ صاحب نے اس مدرسہ میں سال سوا سال گزارا پھر انھیں معلوم ہوا کہ جامعۃ المنتظر لاہور میں حصول تعلیم کے بہتر مواقع ہیں چنانچہ وہ لاہور آگئے اور جامعۃ المنتظر میں مولانا حسین بخش جاڑا صاحب مرحوم اور مولانا سید صفدر حسین مرحوم سے تعلیم حاصل کی۔

نجف اشرف روانگی

علامہ صاحب پوری یکسوئی کے ساتھ لاہور میں زیر تعلیم تھے کہ یکایک ان کے دل میں ایک روشنی سی اتری اور چشم تصور میں انھیں حوزہ علمیہ نجف اشرف جگمگاتا دکھائی دینے لگا۔ علامہ صاحب کے والد صاحب تو اس دنیا سے رخصت ہو چکے تھے ایسے میں انہیں حصول علم کے لئے بہتر تعلیمی ادارے بتانے اور بہتر مستقبل کی جانب راہنمائی کرنے والا کوئی بھی نہ تھا یہاں تک کہ کسی نے نہ شوق دلایا اور نہ ہی کسی نے کوئی وسائل فراہم کئے بس بے سرو سامانی کے عالم میں وہ جگہ جگہ خود قیام کرتے تھے اور خدا پر توکل کرتے ہوئے اپنا ہر فیصلہ خود کرتے تھے۔ ان کے خیال میں ان کا اس وقت نجف اشرف جانے کا فیصلہ بروقت تھا چنانچہ انھوں نے جب لاہور سے نجف جانے کا ارادہ کیا تو ایک بار پھر کراچی میں اپنے چچا کے پاس پہنچے اس وقت ان کے چچا کے مالی حالات پورا کرایہ دینے کے تو نہ تھے البتہ انہوں نے تھوڑا سا کرایہ دے دیا جسے لے کر خدا کے سہارے علامہ صاحب اور ان کی اہلیہ کسی نہ کسی طرح نجف اشرف پہنچ ہی گئے۔

نجف اشرف میں قیام

نجف پہنچنے کے بعد حوزہ میں داخلے کا مسئلہ درپیش آیا وہاں ان دنوں لاہور کے مولانا صادق علی مرحوم، آیت اللہ حکیم رحمۃ اللہ علیہ کے دفتر میں کام کرتے تھے وہ ان کے پاس پہنچے اور ان سے کہا کہ وہ پاکستان سے آئے ہیں اگرچہ وہاں امتحان لے کر شہریہ دیا جاتا تھا تاہم کیونکہ علامہ صاحب مکاسب پڑھتے تھے اس لیے ان کا دو دینار یعنی (تقریباً) چالیس روپے شہریہ لگا دیا گیا۔

حوزہ علمیہ نجف میں ان دنوں زیادہ تر ہندوستان، پاکستان، افغانستان اور ایران کے طلباء ہوتے تھے جن میں ایرانی طلباء کی تعداد نسبتاً زیادہ تھی اور زیادہ تر اساتذہ بھی ایرانی تھے، صرف آیت اللہ حکیم عراقی مجتہد تھے اور وہی مرجع تقلید تھے وگرنہ تمام اساتذہ بھی عموماً ایرانی ہی تھے جو فارسی میں پڑھاتے تھے۔ جب علامہ صاحب نے درسی کتب ختم کرلیں تو اس کے بعد آیت اللہ خوئی کے درس خارج میں شرکت کرنے لگے آیت اللہ خوئی عربی میں درس خارج دیتے تھے، جبکہ وہاں عرب طلباء بھی ہوتے تھے اور ایرانی بھی اور اردو بولنے والے بھی، پھر آیت اللہ سید باقر الصدر نے بھی درس خارج شروع کیا تو ان کے درس میں بھی علامہ صاحب جاتے تھے ان دنوں آیت اللہ خوئی کا فقہ کا درس ہوتا تھا اور آیت اللہ باقر الصدر کا اصول کا درس ہوتا تھا۔

عربی کتاب کی تصنیف

دوران تعلیم آپ نے بعنوان ”النہج السوی فی معنی مولیٰ والولی“ عربی زبان میں ایک اہم کتاب لکھی۔ اس کتاب کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ اس کی تقریظ نامور عالم دین جناب بزرگ طہرانی نے لکھی جبکہ نجف اشرف کے اساتذہ و اہل فکر عربی دان طبقے میں اس کو بے حد پذیرائی ملی۔

نجف اشرف سے واپسی

علامہ صاحب نجف اشرف میں پوری یکسوئی اور دلجمعی کے ساتھ خرمن علم سے خوشہ چینی کر رہے تھے کہ یکایک عراق کے اندرونی حالات نے پلٹا کھایا اور صدام ملعون نے دینی مراکز پر شب خون مارنا روز کا معمول بنا لیا ایسے میں سلسلہ درس و تدریس رک گیا اور حوزہ علمیہ میں معمولات زندگی اجیرن بنا دیے گئے۔ چنانچہ بادل نخواستہ علامہ صاحب کو حوزہ علمیہ نجف اشرف کو خیرباد کہہ کر اسلام آباد آنا پڑا۔

اسلام آباد میں دینی مدرسے کا قیام

جب وہ پاکستان تشریف لائے تو انھیں اسلام آباد میں ایک مؤثر دینی ادارے کے قیام کی ضرورت شدت سے محسوس ہوئی۔ اس وقت ایسا کوئی دینی ادارہ بطور آئیڈئل ان کے ذہن میں نہیں تھا کہ وہ اسے سامنے رکھ کر کام کر سکتے اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ان کی حالت دوسروں سے بالکل مختلف تھی۔ مثلاً مولانا صفدر حسین صاحب قبلہ نے لاہور میں کام کیا تو جامعۃ المنتظر میں وہ برسوں سے پڑھا رہے تھے اور جامعۃ المنتظر ایک مضبوط ادارے کے طور پر پہلے سے قائم تھا یعنی اس کے لیے وسائل موجود تھے اور وہاں پڑھنے والے خود بھی مدرس بنے اور وہ آگے بڑھے وہاں ان کی جان پہچان کا ماحول تھا جبکہ علامہ صاحب کا حال ایسا نہیں تھا۔ وہ یہاں پر قطعی اجنبی تھے اور یہ تو سبھی جانتے ہیں کہ وہ اس علاقے کے بھی نہیں ہیں اور ان کے علاقے کے جو لوگ انھیں جاننے والے تھے وہ مالی اعتبار سے آسودہ نہ تھے لہذا سوائے خدا کے انھیں کسی کا کوئی آسرا نہ تھا پس ان کی یہ حالت لمبے عرصے تک رہی یہاں تک کہ خدا کے فضل و کرم سے وہ اسلام آباد میں دینی ادارہ قائم کرنے میں کامیاب ہوئے۔

عالم بے سرو سامانی میں آغاز کارِ خیر

علامہ صاحب کو وہ دن نہیں بھولے کہ جب اسلام آباد میں مدرسے کے لیے جگہ تو الاٹ ہو گئی تھی لیکن اس خالی جگہ پر اس وقت کوئی قابل ذکر عمارت وغیرہ نہیں تھی، ایسے میں علامہ صاحب نے اسی ویرانے میں ایک چھپر ڈالا اور چند طالب علموں کو لے کر بیٹھ گئے یوں سمجھئے کہ انتہائی بے سروسامانی کے عالم میں انھوں نے طلباء کو پڑھانا شروع کیا ایسے میں عراق سے ایک صاحب ان کا پتہ پوچھتے پوچھتے ان تک پہنچ گئے جبکہ وہ انہیں پہچانتے تک نہ تھے وہ اس وقت ان کا حال دیکھ کر بہت ناراض ہوئے اور کہنے لگے کہ بھلا اس بے سروسامانی کے عالم میں مدرسہ بنانے کی کیا پڑی تھی؟ علامہ صاحب نے کہا کہ یقیناً یہ بے سرو سامانی باعث ندامت ہے لیکن ہمیں اسی ندامت کے ساتھ کام کرنا ہے اس لیے کہ ہمیں یہ کام تو بہرحال کرنا ہے چاہے وسائل ہوں یا نہ ہوں۔ آج بھی علامہ صاحب اپنے ارادت مندوں سے اکثر یہی فرماتے ہیں کہ جب انسان کرنے پر آتا ہے تو اس کے لیے سب کچھ ممکن ہو جاتا ہے البتہ ان کا قطعاً دعویٰ نہیں کہ اب بھی انھوں نے کچھ کیا ہے بلکہ ان کی یہ حسرت ہے کہ کاش انھوں نے کچھ کیا ہوتا۔

تصنیف و تالیف کے مراحل

علامہ صاحب نے انہی دنوں ایک کتاب ”محنت کا اسلامی تصور“ لکھی اس کے علاوہ کچھ عربی کتابوں کے اردو ترجمے بھی کئے آپ نے پچاس سال کی عمر میں قرآن کی تفسیر کو شروع کیا پھر تفسیر روک کر ترجمہ اور حاشیہ لکھنا شروع کیا۔ ابتداء میں ان کا یہ خیال تھا کہ پہلے تفسیر ختم کریں گے اور اس کے بعد خلاصہ و حاشیہ بنانا شروع کریں گے لیکن جب ایسا کیا تو اس کام کو خاصا طولانی پایا چنانچہ انہوں نے ترجمہ قرآن کا آغاز کیا۔ اس وقت اس کام میں انہیں قدم قدم پر یہ احساس ہوا کہ کاش ان کے پاس وسائل کشادہ اور کام کرنے کی سازگار فضا ہوتی تو کیا ہی اچھا ہوتا اس لیے کہ موجودہ وسائل اور ماحول میں ترجمے کا حق ادا نہیں ہو رہا تھا۔ انہوں نے دوران ترجمہ نجانے کتنی مرتبہ اعادۂ نظر کیا اس دوران انہوں نے دیگر تراجم کا بھی بغور جائزہ لیا اور محسوس کیا کہ کچھ لوگوں نے عجلت سے کام لیا اور پوری طرح سے محنت نہیں کی اس کے علاوہ انہوں نے جب یہ کام کیا تو پھر اندازہ ہوا کہ آدمی خواہ کتنا ہی قابل کیوں نہ ہو پھر بھی اس قسم کے ہر کام کے لیے بہرحال حوصلہ وقت اور محنت درکار ہوتی ہے جبکہ وہ سمجھتے ہیں کہ ان میں اتنی قابلیت بھی نہیں تھی اور بالفرض اگر قابلیت ہوتی بھی تو اس کام کے لیے جتنا وقت درکار تھا وہ میسر نہ تھا بہرحال ترجمہ کیا گیا اور اس پر کئی بار اعادہ نظر بھی ہوا جس سے بہت سی باتیں سامنے آگئیں خدا کا شکر ہے کہ اس کام کی انجام دہی میں وہ کامیاب رہے۔

علامہ شیخ محسن علی نجفی قبلہ کے حلقہ ارادت میں ایک صاحب علم شخصیت چودھری منظور حسین کی بھی تھی جنہوں نے آپ کے ترجمہ قرآن کی تاریخ تکمیل کچھ یوں نکالی

شیخ محسن کرداز تائید ر
ترجمہ ہم حا شیہ قرآن رقم